Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شگاگو کے شہیدوں کو سلامِ عقیدت

May 1, 2021 0 1 min read
Labor Day
Labor Day
Labor Day

تحریر : ایم سرور صدیقی

اس کے جسم پر میلے کچیلے ،پھٹے پرانے کپڑے تھے، چہرہ حسرت و یاس کاایک نمونہ لگ رہاتھا اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے اس نے زندگی میں کبھی کوئی خوشی نہیں دیکھی۔۔۔وہ ایک گھنٹے سے ڈیوڈ اینڈ ڈیوڈ انجیرٔ نگ نامی کارخانے کے مالک سے ملنے کیلئے کوشش کررہاتھا اس کی چھوٹی بیٹی کافی دنوں سے بیمار تھی دوا کیلئے پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی وہ مالک سے کچھ رقم مانگنے کی درخواست کرنا چاہتا تھا لیکن منیجراس کی بات ہی نہیں مان رہا تھا وسیع و عریض دفترمیں ہنسنے اور نقرئی قہقہوںکی آوازیں اس کی کنپٹیوںپر مسلسل ہتھوڑے کی ضربوںکی مانند محسوس ہورہی تھی ۔۔۔اتنے میں دفترکا دروازہ کھلا کارخانے کامالک باہر جانے کیلئے نکلا عقب میں ایک حسین فتنہ بھی موجود تھا۔۔۔ وہ لپک کرآگے بڑھا اس کے سامنے جاکرہاتھ جوڑکر کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ مالک داڑھا۔۔ ایڈیٹ۔۔ تمہاری جرأ ت کیسے ہوئی میرے منہ لگنے گی۔۔ سر۔۔۔مزدور نے پھر کچھ کہنا چاہا ۔۔ لیکن اسی اثناء میں منیجرنے آگے بڑھ کر اسے دھکا دیا وہ لڑھک کر دور جاگرا اور مالک حسینہ کی باہوں میں باہیں ڈالے کار میں بیٹھ کر یہ جاوہ جا کیپ ٹائون کی ایک فیکٹری میں کئی مرد وزن مشینی اندازمیں کام کررہے تھے اس دوران کبھی بھی باتیں بھی کرتے فیکٹری میں اجرت کا کوئی باقاعدہ انتظام تھا نہ ڈیوٹی کے اوقات مقررتھے رات دن کی تمیز بھی نہیںتھی اکثر و بیشتر انہیں12 گھنٹے کام کرناپڑتا مالک اور ٹھیکیدار پھر بھی ناراض رہتے چھٹی کا تو تصور ہی نہیں تھابیماری کے دوران بھی کام کرنے کے بغیرکوئی چارہ نہ تھا کسی وجہ سے چھٹی کرنے پر اگلے دو روز کام جرمانے کے طورپر کرنا پڑتا کسی مزدور سے کوئی رعائت محال تھی آج مالکان نے اجرت دینے کا وعدہ کیا تھا اس لئے سب مزدور جوش و خروش سے کام کررہے تھے لیکن اکثریت سوچوںمیں غرق۔ ایک عورت شدید بخارکے عالم میں بھی سامان پیک کررہی تھی ایک مزدور سامان اٹھا اٹھا کر لارہاتھا اس کا پائوں دردسے سوجا ہوا تھا ایک اور مزدورکمر دردسے بے حال تھا پھر بھی پیسے ملنے کی آس میں کام کئے جارہا تھا وہ سب فکرمند تھے ایک ہفتہ قبل بھی اجرت دینے کا وعدہ کر کے 14 گھنٹے کام لیا گیا پھر ٹال دیا گیا 1844ء تک پوری دنیا میں ایسے واقعات روزکا معمول تھے سرمایہ دار مزدوروں کو اجرت کم اور کام زیادہ لیتے تھے ان کی کوئی عزت ِ نفس نہ تھی پھر آہستہ آہستہ مزدوروں کو حالات کی سنگینی کااحساس ہوا انہوںنے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کیا اور اجتماعی قوت سے اپنے مسائل حل کرنے کا فیصلہ کیا۔

1862 ء تک امریکہ میں کم وبیش20سے زائد مزدور تنظیمیں وجودمیں آگئیں تھیں جنہوںنے مشترکہ لائحہ ٔ عمل کیلئے آپس میں مشاورت کا آغازکیا 20اگست 1886ء کو77 مزدور تنظیموںنے ”نیشنل یونین آف لیبر”کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا جس نے اپنے یوم ِ تاسیس پرایک نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈکااعلان کرتے ہوئے دنیا میں پہلی بار مزدوروںکیلئے اوقات کار کا تعین کا مطالبہ کیا ان کا کہنا تھاہم دن رات کے ایک تہائی وقت یعنی آٹھ گھنٹے کام کریں گے کیونکہ کام کی زیادتی کے باعث ہر سال سینکڑوں مزدور ہلاک ہو جاتے ہیں سرمایہ داروں نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے کی بجائے انتفامی کارروائیاں تیزکردیں آخرکار یکم مئی 1886ء کو مزدوررہنمائوںنے پہلی مرتبہ ہڑتال کی کال دی جس کو ناکام بنانے کیلئے مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیاجس پردو دن بعدپھر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

امریکی شہر شگاگو۔۔ کو3مئی 1886ء میں مزدوروںنے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کیلئے مکمل ہڑتال کااعلان کیاشہر ومضافات کی تمام چھوٹی بڑی فیکٹریاں اور کار خانے بند تھے سینکڑوں مزدوروںنے اپنے حقوق کیلئے ایک بڑا جلسہ کیا پولیس نے اس جلسہ کو ناکام بنانے کیلئے طاقت کا بلا جواز اور بے دریغ استعمال کرتے ہوئے نہتے مزدوروں پرفائرنگ کردی 5مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے متعدد زخمی ہوئے سرمایہ داروںکے ایماء پر ڈاکٹروںنے ان زخمیوں
کا علاچ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس المناک واقعہ سے اگلے روز4مئی کو مزدوروںنے اپنے ساتھیوںکی تدفین کے موقعہ پرمارکیٹ چوک شگاگومیں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جس نے اختتام پر جلسہ کی شکل اختیار کرلی مقررین3مئی کو ہلاک ہونے والوںکو پر امن طریقے سے زبردست اندازمیں خراج ِ تحسین پیش کررہے تھے کہ ایک پولیس انسپکٹر کیپٹن بون پونے دوسو سے رائد سپاہیوں کو لے کرجلسہ گاہ میں داخل ہوااس نے نادرشاہی اندازسے جلسہ ختم کرنے کا حکم دیااس وقت آخری مقرر سیموئیول فلیڈن تقریر کررہے تھے اسی دوران جلسہ گاہ میں ایک دھماکہ ہوا جس میں چند پولیس اہلکار مارے گئے پو لیس انسپکٹر کیپٹن بون نے طیش میں آکرمزدوروںپر گولی چلانے کا حکم دیدیا تھوڑی دیر بعدجلسہ گاہ مقتل کا منظر پیش کررہا تھاپولیس کی بے ہنگم فائرنگ سے ایک عورت، ایک بچے سمیت11مزدور ہلاک ہوگئے ایک مزدور نے اپنی قمیص سیموئیول فلیڈن کے خون سے تر کرکے ہوا میں لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ آج سے یہ سرخ پرچم دنیا بھر کے مزدوروںکی جدوجہدکی علامت ہوگا۔۔اس کا کہا واقعی سچ ثابت ہواسرخ پرچم مزدوروں کی انقلابی مزاحمت کا نشان بن گیا۔

اس واقعہ کے بعد متعددمزدوررہنمائوں کوگرفتارکرلیا گیا ان پردہشت گردی کے مقدمات قائم کردئیے گئے عدالت نے بھی جانبداری کی انتہا کردی مزدوروں کو تشددپر اکسانے،شگاگو کا امن تباہ کرنے اور پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں 4 چوٹی کے مزدور رہنمائوں اے ڈی فشر، اسپائز،اینجل اوررابرٹ پرنسز کو پھانسی جبکہ تین کو عمر قیدبا مشقت کی سزا سنائی گئی یکم مئی 1887ء کوسب سے پہلے اے ڈی فشرکو پھانسی دی گئی جب اسے پھانسی گھاٹ لیجایا جارہاتھا اس نے استقامت سے جو الفاظ کہے وہ تاریخ بن گئے اس نے کہا” غریبوں کی آواز کوبلند ہونے سے روکا گیا توان کی تلواریں بلندہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔مزدور رہنما اینجل کوجب سولی پرلٹکایاجانے لگا اس نے واشگاف الفاظ میں چیخ چیخ کرکہا” تم لوگ ہمیں قتل کرسکتے ہو لیکن اب اس تحریک کو نہیں دبایا جا سکتا”۔۔۔رابرٹ پرنسز نے تو پھانسی کے پھندے کو چوم لیا اس کا کہنا تھا”تم اس آواز کو بندکرنے پر قادرہو لیکن وہ دن دور نہیں جب یہ خاموشی آوازسے زیادہ طاقتور بن جائے گی”۔۔۔مزدوررہنما اسپائزکو جب تختہ دارپر لٹکایا جانے لگااس کے الفاظ تھے” ہمیں اس پھانسی کا کوئی ملال نہیںخوشی اس بات کی ہے کہ ہم ایک اچھے مقصدکیلئے جان دے رہے ہیں” ان کا کہا حرف بہ حرف سچ ثابت ہواان کی قربانیاں آج محنت کشوںکے ماتھے کا جھومرہیں جس کی وجہ سے مزدوروں کو معاشی استحکام حاصل ہوا126سال گذرنے کے باوجودان کی قربانیاں آج بھی تروتازہ ہیں۔

یہ اے ڈی فشر، اسپائز،اینجل اوررابرٹ پرنسز کی جدوجہدکا ثمرہے کہ مزدوروں کی ڈیوٹی کے اوقات کار طے کئے گئے ان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرلیا گیا بلاشبہ شگاگو کے شہیدوں کی جدوجہد انسانی تاریخ کا درخشندہ باب ہے یکم مئی دراصل بنیادی انسانی حقوق اور محنت کی عظمت پر یقین رکھنے والوں کادن ہے اسی لئے دنیا بھرمیں شگاگو شہیدوںکی قربانیوںکو خراج ِ تحسین پیش کیا جاتاہے جنہوںنے مزدور حقوق کی جنگ میں ایک نئی روح پھونک دی۔۔۔ لیکن جب ہم آج کے حالات پر غورکرتے ہیں تو محسوس یوں ہوتاہے جیسے شگاگو کے شہیدوں کی قربانیاں ضائع ہوگئی ہوںآج دنیا بھر میں یکم مئی جوش و خروش سے منایا جاتاہے ،بڑے بڑے ہوٹلوں،ایڈیٹوریم ،یخ بستہ ہالوں میںمذاکرے،بحث و مباحثہ ،تقریریں اور بلندبانگ دعوے کئے جاتے ہیں اس کے برعکس سینکڑوں ہزاروں شخص مزدوروںکے حقوق کی بات کرکے سرمایہ داروں سے مک مکا کر لیتے ہیں۔

آج بھی ہر سطح پر مزدوروںکااستحصال جاری ہے ،کہیں مزدور یونینوں کے نام پر عہدیدار ،انکے عزیز واقارب اور ملنے جلنے والے اپنے ہی اداروں میں ڈیوٹی کرنا اپنی شان کے خلاف بات سمجھتے ہیں آجراس کے خلاف ایکشن لینے کا ارادہ کرے تو ان کا سب سے بڑا ہتھیارہڑتال کی دھمکی ہوتاہے اسی طرح زیادہ تر اداروں میں پاکٹ یونین کاقیام عمل میں لایا جاتاہے جو مالکان کی ملی بھگت سے صرف اپنے لئے آسودگیاں خریدتے رہتے ہیں اور عام مزدور کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔۔۔اسی طرح حکومت کے کرتا دھرتا اپنے مخصوص مفادات کیلئے ۔۔منافع بخش سرکاری اداروں کو پرائیویٹ سیکٹرکو فروخت کردیتے ہیں یا انہی اداروںمیں مختلف حیلوں بہانوںسے مزدوروں کی چھانٹی کی جاتی ہے۔۔۔کئی صنعتی اداروںمیں وقت پر تنخواہ نہیں دی جاتی یہ سب استحصال کی مختلف شکلیں ہیں طبقاتی نظام میں آج بھی محنت کشوںکوبہت سے مسائل کا سامناہے جن میں بھوک،افلاس، غربت، بیروزگاری،مہنگائی،بیماری اور جہالت سرفہرست ہیں جس کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔۔۔ہم مسلمان ہونے کے باوجود شگاگو کے شہیدوں کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کیلئے یکم مئی اس لئے مناتے ہیں کہ انہوںنے دنیا بھرکے انسانوںکو ظلم سے بچانے کیلئے اپنی جانوںکا نذزانہ پیش کیا بلاشبہ ان کا انسانیت پر بڑااحسان ہے ان کی قربانیوں کے اثرات ہررنگ،نسل،مذہب،زبان اور ملک پر مرتب ہوئے ہم سب پر شگاگو کے شہیدوںکا لہو قرض ہے آئیے!انسانیت پر احسان کرنے والے شگاگو کے مطلوموںکوعقیدت سے سلام پیش کریں۔

M Sarwar Siddiqui
M Sarwar Siddiqui

تحریر : ایم سرور صدیقی

Share this:
Tags:
Chicago devotion factory labor life violence تشدد زندگی شگاگو عقیدت فیکٹری مزدور
Fatah Makkah
Previous Post غزوہ فتح مکہ
Next Post پاکستان نے کورونا ویکسین کی 12 لاکھ خوراکوں کا آرڈر دیدیا
Corona Vaccine

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close