فیصل آباد (عظیم حیدر) تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے۔ روزانہ صبح تقریباآٹھ بجے یہ بچہ ڈھول کی بے ربط تال بجاتا ہوا میرے گھر کے سامنے سے گزرتا ہے۔ اس دوران اسکی عمر کے بچے گرمی کی چھٹیوں کے باعث قریبی گرائونڈ میں کھیل کودمیں مصروف ہوتے ہیں ۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ اسکی تصویر بنائوں،اخبارات میں بھیجوں، اور”داد” وصول کروں ۔مگراسکے ڈھول کی تھاپ سے میرے دماغ کی شریانیں چٹخنے لگتیں اور میںہر بار حوصلہ ہار جاتا۔ نو عمری کے باعث اسے ٹھیک سے ڈھول بجانا نہیں آتا یہ اسکی سروں سے بھی ناواقف ہے۔
یہ ڈم ڈما ڈم، بجاتا ہوا کہیں کھو جاتا ہے اور عجیب ڈم ۔۔ڈما ڈما ۔۔۔ ۔ڈما ۔۔۔ ۔پھر ڈم ۔۔۔۔ڈم ڈمابجاتاہے۔ غور کریںتو ہمارے معاشرے میں ہر کوئی اپنی ضروریات کا ڈھول بجا رہا ہے ۔ اسکے لئے کوئی ناچتا ہے ، کوئی گاتا ہے، کوئی لوگوں کو ہنساتا ہے ، وغیرہ وغیرہ۔ مگر مجھے لگتا ہے یہ بچہ فقط مجھے اذیت دینے کیلئے ڈھول بجاتا ہے۔دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں بچے فکر معاش سے بے خبر ہوتے ہیں۔
کھیل کود انکا بنیادی حق ہوتا ہے اور یہ قوموں کے روشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں ۔ ہمارا مستقبل اتنا مجبور اور مفلس کیوں ہے؟۔شائد ہم غیر ذمہ دار اور غیر مہذب قوم ہیں ۔جو خود غرضی کی عینک لگائے ”ڈنگ ٹپائو ”پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔اللہ جانتا ہے جب یہ بچہ اپنے کمزور ہاتھوں سے ڈھول پیٹ کر ”روٹی” کا تقاضہ کرتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ میری حکام بالا اورمخیر حضرات سے اپیل ہے۔ اس بچے کی مدد کریں۔شکریہ

