Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بچپن کی عید

June 6, 2019 0 1 min read
Childhood Eid
Childhood Eid
Childhood Eid

تحریر : ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی

جب سے ماہ ِ رمضان شروع ہوا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے ۔ بچوں کی تیاریاں اور شاپنگ عروج پر ہے۔ اپنے آبائی گاؤں میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ روایتی انداز میں عید منانا چھوٹے ، بڑوں سب کی خواہش اور خوشی ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں ماہ رمضان اور عید الفطر کے تہوار کی مناسبت سے بہت سارے روایتی ، خلوص سے بھر پوراور سادہ مگر خوشیوں سے مالا مال رسم و رواج معدوم ہو چکے ہیں ۔ آج میں اپنے بچپن کے دور کے ماہ رمضان اور عیدوں پر نظر دوڑ اتا ہوں تو ایک خوبصورت اورحسین ما ضی میںکھو جاتا ہوں۔

ُاُس زمانے میں موبائل فون کا تو تصور بھی نہ تھا ۔ دیہاتوں میں تو ٹیلی ویژن بھی شازو نادر ہی تھا۔معلومات کا واحد ذریعہ ریڈیوہوتا تھااور وہ بھی چند لوگوں کے پاس۔چنانچہ ماہ رمضان کا چاند لوگ کھلے میدان میں جاکر دیکھا کرتے تھے اور پھر مقامی مسجد سے اس کی تصدیق یا تردید ہوتی تھی۔تصدیق کی صورت میں ہر مسجد میں “نغارہ”بجایا جاتا تھا۔چونکہ اُس دور میں مسجدوں میں لاؤڈسپیکر نہیں تھے۔چنا نچہ ”نغارے”کو ماہ رمضان میں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔افطاری , تراویح اورسحری کیلئے مسجد کی چھت پر جاکر” نغارہ ”بجایا جاتا تھا (نغارہ ایک ڈھولکی نما چیز ہوتی تھی جس کے اوپر چمڑا چڑا ہوتا تھا اور دونوںہاتھوں میں دو ڈنڈیاں پکڑ کر اُسے پیٹا جاتا تھا اُس کی آواز تین چار کلومیڑ تک آرام سے سنی جا سکتی تھی)افطاری اور سحری میں میانوالی شہر میں نصب سائرن جنہیں ہم ” گُوگُو”کہتے تھے بھی بجائے جاتے تھے۔سحری کے وقت جگانے کیلئے گاؤں کا ڈھولچی بھی اونچی آواز میں کلام پڑھ کر ڈھول بجاتا ہوا مختلف گلیوں سے گزرتا تھا۔

گھر یلو خواتین ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی ” روڑی تتی”(مکھن سے دیسی گھی نکالنے کا عمل ) کر کے دیسی گھی اور سویاں خاص طور پر تیار کرکے ذخیرہ کر لیتی تھیں تا کہ سحری اور افطاری میں پکائی جا سکیں۔گھروں میں دو قسم کی سویا ں تیار کی جاتی تھیں۔دیسی سویاں لوہے کی مخصوص گھوڑی کے ذریعے تیار کی جاتی تھیں جو اکثر چارپائی کی پاندی والی سائیڈپر Fix کی جاتی تھی۔ایک طرف سے نیم گوندھا گندم کا آٹا ڈالا جاتا تھا اور اوپر لگا ہینڈل گھومانے پر دوسری طرف سے باریک سوراخوں سے سویاںتیار ہو کرنکلتیںجنہیں خشک کر کے رکھ دیا جاتا تھا۔دوسری قسم کی کچی سویاں ہوتی تھیں جو گھڑے یا بڑے کٹوے کی پشت پر ہاتھوں سے رگڑکر لمبی لمبی رسی کی طرح تیار کی جاتی تھیں۔دونوں قسم کی سویاں دیسی گھی اور دیسی گڑکی شکر میں بہت زبردست تیار ہوتی تھیں۔

ماہ رمضان شروع ہوتے ہی اپنے محلے کے موچی کو نئے جوتے یعنی ” کھیڑی”کا ناپ دینا اور رنگ برنگے بھڑکیلے نئے کپڑے خریدکر اپنے محلے کے درزی کو دینا ۔ عیدکی تیاریوں کا ضروری جزوسمجھا جاتا تھا۔گاؤں میں دو ہی موقعوں پر نئی جوتی اور نئے کپڑے سلوائے جاتے تھے۔ ایک عید پریا پھر انتہائی قریبی عزیز کی شادی کے مو قع پر۔

ماہ رمضان میںسحری کے وقت گاؤں میں بڑاپیارا منظر ہوتا تھا۔موجودہ دوروالے کچن کا کوئی تصور نہ تھا۔صحن میںدیواروں کے ساتھ مٹی سے بنے ” اوپن ائیر “چولہے ہوتے تھے۔تقریبا ہر گھر میں سحری کی تیاری کیلئے جلائی گئی آگ نظر آتی تھی ۔ سحری کیلئے خصوصی ایندھن ہوتا تھا جو جلد آگ پکڑتا تھا اور فورا چولہا گرم ہو جاتا تھا۔سویاں ، دہی ، پراٹھا (ستاپڑی )اور چائے مرغوب سحری ہوتی تھی ۔

افطاری بڑے سادہ طریقے سے کی جاتی تھی۔ اکثر لوگ گڑ کے شربت سے افطاری کرتے تھے۔ صرف کھاتے پیتے اور خوشحال لوگ کھجور اور پکوڑوں سے افطاری کرتے ۔ کسی کسی گھر میں فریج ہوتی تھی۔ اکثریت لوگوں کی شربت بنانے کے لیے برف خرید کر لاتے تھے ۔ گاؤں کے دو تین لوگ گدھا گاڑی پر برف کے کارخانوں سے لا کر گاؤں میں برف بیچتے تھے۔ کچھ لوگ نہر کے کنارے لگے نلکوں کا رخ کرتے تھے اور وہاں سے گھڑے اور بالٹیاں ٹھنڈے پانی کی بھر کر لا تے تھے ۔ افطار کے بعد اکثر لوگ گھر ہی میں نماز پڑھتے تھے(اُس زمانے میں مسجدوں میں صرف بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ ہی نظر آتے تھے ۔ آج کل میں نوجوان لوگوں کی اکثریت کو مسجدوں میں دیکھتا ہوں تو خوشگوار حیرت اور خوشی ہوتی ہے )پھر تراویح کے “نغارے “کا انتظار ہوتا ۔ شروع شروع میں تراویح پڑھنے والوں کا رش ہوتا ، تراویح میں کچھ شرارتی بچے شرارتیں بھی کرتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ رش کم ہو تا جاتا اور بزرگ رہ جاتے ۔جب تراویح کی نماز ختم ہوتی تھی تو مسجد میں سے نمازی نکل کر بلند آواز میں اللہ کا نام لیتے جسے “ھانگرہ “کہا جاتا ۔ “ھانگرے “کی آواز سے پتہ چل جاتا کہ اِس مسجد میں تراویح ختم ہو گئی ہے ۔ 8 تراویح پڑھنے والوں کے “ھانگر ے “پہلے اور 20 تراویح پڑھنے والوں کے “ھانگرے ” بعد میں لگتے تھے۔

ماہِ رمضان کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں عید کی تیاریاں زور پکڑ لیتیں ۔ بچوں میں جو چیز سب سے زیادہ مقبول اور خوشی کا باعث ہوتی وہ مخصوص جھولے ہوتے تھے جو گھر وں اور محلوں میں بنائے جاتے ۔ تین قسم کے اِن جھولوں کا نام
(١)پینگھ
(٢) چھتیر
(٣)چچینگل تھے۔
(١)۔ پینگھ : اکثر یت گھروں میں صحن میں موجود بڑے درخت کی ٹہنی کے ساتھ دورسیاں باندھ کر یہ پینگھ بنائی جاتی جیسے “پینگھ اڈراں “کہتے تھے اور اس پینگھ پر جھولے لیے جاتے تھے ۔
(٢)۔ چھتیر : یہ محلے میں ایک یا دو ہوتے تھے۔ یہ گھر کے صحن میں یا گھر سے باہر بنائے جاتے تھے۔ یہ پینگھ سے اِ س طرح مختلف تھے کہ لکڑی کے دو اُونچے اُونچے مضبوط پول لے کر اُن کو چار سے پانچ میٹر کے فاصلے پہ زمین میں گاڑھ دیا جاتا اور اُن کے اوپر والے سر ے ایک اور پول کے ذریعے آپس میںجو ڑ دیئے جاتے اور اُس سے مضبوط دورسیاں لٹکا کر جھولا بنا دیا جاتا ۔ لڑکا یا لڑکی پینگھ یا چھتیر پر بیٹھ کر خود جھولے کھاتا یا کوئی اور اُس کو جھولا جھلاتا ۔ اِس کو “جھوٹے”کہتے تھے اور اگر کوئی ان کے اوپر کھڑا ہو کر ِس جھولے کو تیزی سے جھلاتا اور بلندی تک لے جاتا تو اِس مخصوص جھولا جھولنے کو “مچانٹری چاڑنا”کہتے ۔ چھتیرپر اکثر محلے کے بچے ، بچیاں اور حتیٰ کہ بڑے لوگ پر” مچانٹریاں چاڑنے” اور مقابلہ ہوتا کہ کون چھولے کو زیادہ بلندی تک لے جاتا ہے ۔
ّّ(٣) چچینگل CHUCHEENGUL محلہ کے میدان یا بھورے (خالی پلاٹ جس پر بارش کی صورت میں باجرہ یا جوار وغیرہ کاشت کر دی جاتی ۔ ویسے وہ بچوں کے کھیلنے کے میدان کے طور پر استعمال ہوتا )میں لکڑی سے بنایا جاتا ۔ آج کے دور کے گول گھومنے والا جھولا اِس چچینگل کی ماڈرن شکل ہے ۔ زمین کے سنٹر میں لکڑی کا ایک پول مضبوطی سے گاڑھ دیا جاتا اور اُس کا اوپر والا سرا مخصوص شکل میں تراشہ جاتا ۔ لکڑی کا ایک دوسرا لمبا سا پول لے کر اُس کے درمیان میں گڑھا کھود ا جاتا تا کہ وہ زمین میں گڑھے پول پر فٹ آجائے ۔ اس لمبے پول کے دونوں سروں پر جھولے باندھ دیئے جاتے ۔ ایک شخص اِ س لکڑی کوگھماتا اور کونوں پر جھولوں میں بیٹھے جھولا جھولتے ۔ جھولے کی رفتار کو تیز کرنے اور موسیقی پیدا کرنے کے لیے سر سوں کا تیل اور لکڑی کے کالے انگارے دونوں پولوں کے درمیان لگا دیئے جاتے ۔

شام کے وقت ان چھتیروں اور چچینگلوں پر خوب رونق ہوتی ۔بچے اور بڑے لطف اندوز ہوتے اور بزرگ بیٹھ کر گپیں لگاتے اور یوں روزہ گزارتے ۔جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عید کی خوشبو اور قریب آجاتی ۔ آخری عشرے کی طاق شامیںاور راتیںنہ صرف مذہبی عقیدت سے منائی جاتیں بلکہ ان شاموں کو میٹھی ڈشیں بھی تیار کی جاتیں جو اکثر چاولوں کا زردہ اور حلوہ ہوتی تھیں۔

” اکویویں”ترویویں ” پنج ویویں اور ست ویویں ” ہر گھر سے بچے برتنوں میں ڈشیں لے کر اپنے رشتہ داروں ، پیر خانے اور پڑوسیوں کے گھروں میں جاتے اور یہ ” بخرے ” دیتے ۔

گاؤں کی بڑی مسجدوں میں موجودہ دور کی طرح ستائسویں کو ختم قرآن کی تقریب ہوتی ۔ ان مسجدوں میں اِ س دن کا فی رش ہوتا ۔ بزرگ عبادت اور ثواب کے لیے اور ہم بچے میٹھائی کے چکر میں اکثر لڈو اور دشیرینی پر مشتمل ہوتی تھی، مسجدمیں جاتے ۔ آخری تین چار سحریوں میں گاؤں کے بزرگ سحری کے وقت چاند کا سائز دیکھ کر اندازہ کر لیتے تھے کہ اس دفعہ عید 29یا 30روزوں کی ہو گی۔

آخری روزے کو شام کو لوگ کھیل کے میدانوں ، چوکوں اور اونچی جگہوں پر جا کر عید کا چاند دیکھنے کی کوشش کرتے اور جو دیکھ لیتا وہ ” ھانگرہ ” لگاتا اور باقی لوگوں کو دکھاتا اور یوں پھر اُس شخص کا چر چا رہتا کہ اُس نے سب سے پہلے عید کا چاند دیکھا ہے ۔ جونہی چاند نظر آتا ، خوشی سے ہوائی فائرنگ شروع ہو جاتی ۔ ڈھول چی جو تمام رمضان میں سحری میں لوگوں کو جگایا کرتا تھاڈھول بجاتا ہوا ہر دروازے پر آتا اور عیدی وصول کرتا۔ حلوہ بنانے والا اپنے ساز و سامان (کڑاھیا اور شپیتا )لے کر پہنچ جاتا اور حلوہ بناناشروع کر دیتا ۔ خاندانوں میں چھوٹی موٹی ناراضگیوں کی صلح بھی اکثر چاند رات کو ہو جاتی ۔ چونکہ عید کے بعد شادیوں کا سیزن شروع ہو جاتا ۔ چنانچہ شادی کی تاریخ پکی کرنے کی رسم جسے “دیہاڑے رکھنا ” کہتے تھے وہ بھی چاند رات کو کر لی جاتی ۔ جن بچیوں کی منگنیاں ہوئی ہوتی تھیں اُن کو سسرال کی طرف سے کپڑوں ، چوڑیاں ، مہندی اور سویاں وغیرہ کا گفٹ بھیجا جاتا جسے “وریڑاں “کہا جاتا ۔ ہر چہرے پر خوشی نمایاں ہوتی ۔

گھروں میں بڑی بہنیں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہاتھوں میں مہندی لگاتیں ۔ چاند رات خوشی کے مارے نیند نہ آتی تھی کہ صبح جلدی ہواور ہم نئے کپڑے پہنیں اور عیدی وصول کریں ۔ صبح اُٹھتے تو اکثر بچوں کے چہروں پر بھی مہندی لگی ہوتی (رات سوتے میں مہندی والے ہاتھ چہرے پر لگ جانے سے )عید کے دن ہر کوئی جلدی اُٹھتا نہا دھو کر نئے کپڑے پہنے جاتے ۔ تھوڑا سا حلوہ کھا کر مرد بچوں کے ساتھ مسجد نکل جاتے اور عورتیں چولہا سنبھال لیتیں ۔ عید کی تکبیریں اور پڑھنے کی ترکیب ۔ ہر دفعہ ہی آزمائش سے گزرنا پڑتا ۔ اکثر بچے غلطی کر جاتے ۔ عید پڑھنے کے بعد سب لوگ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ۔ تمام گھروں سے مرد ٹولیوں کی صورت میں نکل پڑتے اور تمام رشتہ داروں کے گھر عید مبارک کہنے جاتے ۔ عیدی دینے اور وصول کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔بچے برتنوں میں حلوہ اور عیدی لے کر یہ “بخرے “رشتہ داروں کے گھر پہنچاتے ۔

بخروں کی تقسیم سے فارغ ہونے کے بعد ہم بچے دوکانوں کا رخ کرتے ہر بچہ اُس دن “مالدار “بھی ہوتا اور “حاتم طائی “بھی۔ ہر دوکاندار نے اپنی دوکان خوب سجائی ہوتی ۔ بچوں کو متوجہ کرنے کے لیے نئے خوبصورت اور دلکش کھلونے اور دوسرے آٹمز رکھے ہوتے ۔ کہیں جلیبیاں تو کہیں گرم گرم پکوڑے تیار ہورہے ہوتے ۔ گھروں میں اور بیٹھکوں پر خوب رونق ہوتی ۔ جس گھر میں ماضی قریب میں کوئی ماتم ہوا ہو تا یا جو ان موت ہوئی ہوتی ، وہاں ماحول سوگوار ہوتا۔ تمام لوگ اُس گھر میں حاضری دیتے ۔

اِدھر گاؤں میں عید کی خوشیاں جو بن پر ہوتیں تو اُدھر گاؤں سے دور کچھ فاصلے پر ٹولیوں کی صورت میں کچھ لوگ بڑے” دھڑلے” سے جوا ء بازی کر رہے ہوتے ۔ بلکہ یہاں تک بعض سفید پوش اورشریف لوگوں نے بھی اِ س میں شغل کے طور پر شامل ہونا عید کی خوشیوں کا حصہ بنا رکھا تھا۔ عید کا یہ دِن ہسنتے کھیلتے ، بھاگتے دوڑتے ، کھاتے پیتے ، ملتے ملاتے آنکھ جھپکتے گزر جاتا ۔

آج جب میں بچوں کو چالیس پینتالیس سال پیچھے ماضی میں لے جاتا ہوں اور ماہِ رمضان اور عید کی تیاریوں کے بارے میں بتاتا ہوں تو بچے برے غور، تجسس اور حیرت سے سنتے ہیں ، موبائل ، انٹر نیٹ ، کمپیوٹر ، واٹس اپ ،ٹویٹر ، فیس بک ، 3Gاور 4G کے مشینی دور نے ایک ہی مکان اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والوں کو تنہا کر دیا ہے ۔ اپنے سکون کو غارت کر کے ہم سکون کی تلاش میں ہیں ۔ گاؤں کے پُر سکون ماحول ، خوبصورت رسم و رواج اور سادہ طرزِ زندگی کو اِس تیز رفتار ہوس زدہ مشینی دور نے نگل لیا ہے ۔ اس کے باوجود کہ پچھلے کئی سالوں سے عید کے موقع پر میرے گاؤں میں غضب کی شدید گرمی اور ناقابلِ برداشت لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور اس کے باو جود کہ میرے گاؤں سے بہت کم اچھی اور خیر کی خبریں آتی ہیں ۔ ان سب کے باو جود میرا گاؤں – اس کی گلیاں -اس کی دیواریں -میرا آبائی گھر -وہ کمرے اور صحن جہاں میرا بچپن گزرا -ماضی کی خوبصورت یادیں یہ سب مقناطیس کی طرح مجھے کھینچ رہی ہیں ۔ میرا گاؤں ، میری مٹی اور میری ثقافت ہی میری پہچان ہے ۔

اگرچہ بچوں کی تعلیمی اور جاب کی مصروفیات اپنی جگہ اہم اور موجود لیکن ماضی کی طرح اس سال بھی عید الفطر اپنے گاؤں شہباز خیل میں منانے کا پروگرام ہے ۔ انشاء اللہ ۔
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین

Dr. Tariq Masood Khan
Dr. Tariq Masood Khan

تحریر : ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی
سابق ایم۔ ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی

Share this:
Tags:
ramadan Shopping بچپن تہوار رمضان شاپنگ عید الفطر
Eid Al Fitr
Previous Post بچھڑوں نے جب ملنا نہیں، پھر عید کیا، تہوار کیا؟
Next Post عید کے دوسرے روز موج مستی کے بڑے پروگرام، تفریح گاہوں پر رش
Eid Celebrate

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close