Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ماسٹر کی۔۔۔۔۔

September 1, 2019 0 1 min read
Children
Children
Children

تحریر : صفدر علی حیدری

بچوں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ بڑے نہیں ہوتے اور سب سے بری بات یہ کہ وہ بچے نہیں رہتے ۔اور اس سے بھی زیادہ بری بات یہ کہ وہ بڑی تیزی سے بڑے ہو جاتے ہیں۔جس میں سب سے بڑا ہاتھ ہم بڑو ں کا ہوتا ہے ۔کچھ بچوں کا بچپن غربت نگل لیتی توکچھ کا بڑوں کی جلد بازی ۔ چار پانچ سال کے ہو جائیں تو انہیں بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب وہ بچے نہیں رہے ”کچھ تو عقل سے کام لو،اب تم بچے نہیں رہے۔بڑے ہو گئے ہو ” ۔ایسے سخت جملے سنتے ہیں تو دل شکستہ سے ہو کرباہر سے بڑے لیکن اندرسے گھٹ کربونے ہوجاتے ہیں ۔پھرتمام عمر جب جب انکا سابقہ اس چیز سے پڑتا ہے جس کے ساتھ بڑے کا سابقہ جڑا ہو اہو انہیں ”بونی”ہی دکھتی ہے ۔ان کے اندر چھپے بونے سے بھی کہیں زیادہ بے قیمت ۔یہ ضروری نہیں کہ آپ لوگ میرے اس نظریے سے اتفاق کریں۔لیکن میں نے جو محسوس کیا ہے وہ بے کم و کاست آپکے حضور پیش کر دیا ہے۔ اور میرا دعوی ہے کہ اگر جرائم پیشہ عناصر کی نفسیاتی تحلیل کی جائے تو اکثر کیسز میں بچپن کی کوئی نہ کوئی محرومی ،حق تلفی یا تربیت میں کوئی کجی ،انکے مجرم بننے اور گناہ کی اس تاریک وادی میںگرنے کی وجہ نظر آئی گی۔

یہ سچ ہے کہ بچوں کو خود بھی بڑا بننے کا بڑا شوق ہوتا ہے ۔اور آپ نے اکثر انہیں اپنی عمر سے زیادہ بڑے کام کرنے کی کوشش کرتے، ٹھوکریںکھاتے اور زخم اٹھاتے اکثر دیکھا ہو گا۔پر مجال ہے جو کبھی باز آئیںاور چپکے بیٹھیں ۔”چوٹ نہیں تو سیکھنا نہیں”والی بات پرانکے پختہ یقین کی برابری کسی بڑے بڑوں کے بس سے باہرہے۔ہمیں انکے اس قصورکو کھلے دل سے معاف کر دینا چاہئے کہ ان بیچاروں کو یہ علم ہی کب ہوتا ہے کہ بڑے ہونے کے نقصانات بھی بہت بہت بڑے ہوتے ہیں ۔اگر ہم انہیں یہ تلخ حقیقت باور نہیں کرا سکتے تو کم از کم یہ کوشش تو کر ہی سکتے ہیںکہ انکا بچپن کچھ اور طویل ہو جائے یا کم از کم سکڑنے نہ پائے ۔لیکن جب ایسا نہیں ہو تا اور اکثر نہیں ہو تا تو ہم دیکھتے ہیں ہمارے بچے جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کرنے لگتے ہیں ۔اوراس دوران انہیں کچھ باتوں کا علم قوت سے بہت پہلے ہو جاتا ہے ۔یہ ‘ ‘ آگہی ” ا ن سے انکی معصومیت وقت سے کہیںپہلے اڑا لے جاتی ہے ۔ تب بڑوں کی بے بسی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ ویسے ان بڑوں پر مجھے بڑا ترس آتا ہے ۔بیچارے بڑے ،ہر وقت کسی نہ کسی بڑے مسئلے میں الجھے ہوتے ہیں۔”آپ بڑے ہو جائیں تو آپ کا مسئلہ کیوںچھوٹا رہ جائے” کے مصداق یہ مسائل انکے اپنے پیدا کردہ ہوتے ہیں جبھی تو اکثر حل نہیں ہونے میں نہیں آتے کہ مسائل حل کرنے ہوں تو اپنی” سطح”سے کچھ نیچے آنا پڑتا ہے اور بڑوں کیلئے یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ سو اس پر اکثر عمل نہیں ہو پاتاکہ بڑے اب ضرورت سے زیادہ بڑے ہو چکے ہوتے ہیں ۔جبھی تو کہا ہے بڑوں کے بھی بڑے مسائل ہوتے ہیں ۔

بچپن ہی سے بچے مجھے بڑے اچھے لگتے ہیں ۔اوراب تو جب سے گھر کے آنگن میں دو پھول کھلے ہیں ،یہ وابستگی اور بھی گہری ہو چلی ہے ۔ان کھلے اور خوشبو چھوڑتے پھولوں پر نظر پڑتی ہے تو سچی بات ہے، دل کی کلی کھلتی ہی نہیں کھلکھلا اٹھتی ہے ۔میرا احمداب خیر سے سوا دو سال کا ہو چلاہے اوراکثر والدین کی طرح مجھے بھی یہی خوش گمانی ہے کہ اپنی عمر کے سارے نہیں تو اکثر بچوں سے تو کہیں زیادہ ذہین،چالاک اور تیز ہے ۔بولنا بھی اس نے بہت جلد شروع کر دیا ہے ۔ اس کی معصوم باتوںکا مقابلہ د نیاکا بڑے سے بڑا ادیب بھی نہیں کر سکتا ۔اسکی قدرت بیان مجھے اکژششدر کر دیتی ہے۔اس کی گفتگومیں مفہوم نہیں پس پردہ چھپی محبت گونجتی ہے ۔پھر تو لفظ گویا فضا ء میں عارفانہ مستی پیدا کر دیتے ہیں۔جب وہ اپنی ”توتلی ” سرائیکی میں چند لفظوں سے وسیع مفہوم اور بڑی تاثیر پیدا کرتا ہے تو مجھے یہ تک بھول جاتا ہے کہ بیگم صاحبہ نے اسے اردو کی طرف لانے (بلکہ ورغلانے )کا ٹاسک دے رکھا ہے ۔کبھی کبھی تو مجھے اپنی بیوی کایہ” الزام”سچ میں بڑا عالمگیرسچ لگنے لگتا ہے کہ ماں بولی کا ”چسکا ”لینے کے چکر میں میری تمام تر کوششیں ”نورا کشتی ” ہیں ۔جی نہ چاہتا ہو تو دعا تک بے اثر ہو جاتی ہے۔جدید یت کی آڑ میں ہم لوگ اپنے بچوں کو اپنی ماں بولی سے دور کر کے گویا انکا فطری اورفکری اثاثہ تک ہتھیا لیتے ہیں ۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے؟مجھے تو یہ ظلم عظیم سے ہرگز کم نہیں لگتا۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی ؟آج مجھے آپ سے کچھ ذاتی قسم کا ”دکھ” شئیر کرنا ہے ۔اپنے بچوں کی فطری بے ساختگی بحال رکھنے اور ان کے بچپن کے ”اغوا”کی روک تھام میرا اولین مشن رہا ہے ۔میں نے شادی سے کافی پہلے یہ فیصلہ کرلیاتھا کہ مجھے یہ کام ضرور کرنا ہے ۔اور خدا گواہ ہے میںنے تمام تر بشری کمزوریوں کے باوجوداس سلسلہ میں کسی غفلت کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ آج مجھے یہ احساس ہوا کہ میں اس سلسلہ میں بری طرح ناکام رہا ہوں ۔میرا المیہ دیکھیں کہ میرا بچہ میری ہر ممکن کوشش کے باوجوداب بچہ نہیں رہا۔حسب دستور وہ اس کام میں بھی دوسروں پر سبقت لے گیا ہے۔صرف سوا دو سال میں اس نے ایک ایسی بڑی حقیقت”دریافت ”کر لی ہے جس کے بعد یہ تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ اس کا بچپن بھی بڑی جلدی اس سے چھین لیا گیا ہے ۔اوراس بات نے مجھے بجائے خوش کرنے کے ملول سا کر دیا ہے ۔مجھے لگتا ہے کہ یہ غم صرف میرا نہیں ہے۔جو پہلے ہی سے اس کا شکار ہیں،میری یہ کہانی ان کے لئے ڈھارس ثابت ہو گی( کہ وہ اس دکھ کے تنہا شکارہرگز نہیں)اور جوابھی بچے ہوئے ہیں ان کے کیلئے ایک ” ویک اپ کال” ۔کہانی پڑھے بغیر کوئی رائے مت دیجئے گا۔میری دعا ہے آپ کا شمار مجھ ایسوںمیں نہ ہو ۔۔۔۔کبھی بھی نہیں نہ ہو۔
” کہاں رہ گیا میرا احمد” ؟

میری بڑبڑاہٹ بامشکل میرے کانوں تک پہنچ پائی تھی ۔میرا گمان تھا اسے کوئی دوسرا نہیں سن پایا ہوگا ۔اچانک ایک خیال آتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگتی چلی گئی۔ کوئی میرے قریب ہوتا تو آواز بھی سنتا۔گھر میں اس وقت ہم دو ہی تھے ۔بیگم صاحبہ بمع بیٹی شاپنگ یاترا پر جانے سے پہلے اسے میری تنہائی” بانٹنے” کے خیال سے گھر میں چھوڑ گئی تھی اور خدا گواہ ہے اس نے مجھے ایک لمحے کیلئے بھی تنہا نہیںرہنے دیا۔اس کی تو گویا مراد بر آئی تھی ۔کئی دن بعداسے یہ موقع ہاتھ آیا تھا جسے اس نے ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔میرا خیال تھا باہر جانے کا سن کر وہ فوراًتیار ہو جائے گا لیکن جب اسکی ماں نے اس کے گھر پر رہنے کا حکم صادر فرمایا تووہ بڑی سعادت مندی سے سر ہلاتے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا۔آج چونکہ سنڈے تھاتو میرا ارادہ ایک آدھ افسانہ اور کالم لکھنے کا تھاجووقت کی قلت کے سبب کئی دن سے زیر التوا تھے۔اس کی موجودگی میں کچھ لکھنا آسان کام ہرگز نہیں تھااور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ کچھ لکھنا تو رہا ایک طر ف مجھے قلم تک کو ہاتھ لگانے کی مہلت نہ ملی۔ وہ اک فاتحانہ شان سے مجھ پر سوار ہوا تو اترنااسے یاد ہی نہ رہا۔میرے پیٹ پر وہ یوں پھدکتا اور اچھلتا رہا جیسے واقعاًوہ کسی گھوڑے کی پشت پر سوارہوکر دشمن کے لشکر میں گھسا تابڑتوڑ حملے کر رہا ہو۔اوپر سے اس کے ”رجز”(بار بار پوچھے گئے الٹے سیدھے سوالات )الگ حوصلہ پسپا کئے دیتے تھے ۔”بچوں کے ساتھ بچہ بننا بھی کتنا مشکل کام ہے ؟اور انہیں دیکھو لگتا ہے گھر کا راستہ بھول بیٹھی ہیں۔ان بیویوں نے بھی شوہروں کو تنگ کرنے کا ڈپلومہ کر رکھا ہوتا ہے۔

ایک سے ایک طریقہ ہوتا ہے ان کے پاس ہم مظلوموں کو تنگ کرنے کا”۔میں دل ہی دل میں جلتا کڑھتا رہا۔اورمیرا بیٹا میری کیفیت سے بے نیازمجھ پراچھلتا کودتا رہا۔ آج اسکی چونچالی اپنے جوبن پر تھی اور مجھے یقین ہو چلا تھا کہ آج وہی ”مین آف دی ڈے” ہے اور میری ایک بھی نہیں چلنے والی۔کبھی کبھی مجھے بائیک سمجھ کرککس لگاتا جیسے مٹرول حتم ہو گیا ہو اور مجھے اسٹارٹ کرنے میں سے شدید دشواری کا سامنا ہو۔گاہے گاہے انگلی میری ناف میں ڈال کراسے گماتاجیسے ٹینکی میں پٹرول ڈالنے کا ارادہ ہو۔اس وقت مجھے یوں لگتا تھا جیسے کوئی مالِ غنیمت ہوں جو تاتاریوں کے ہاتھ لگ گیا ہو۔ایک استاد کی زندگی بڑی دشوار ہوتی ہے اور وہ سرکاری بھی نہ ہو تو مشکلات دوچند ہوجاتی ہیں ۔بیچارے کے پاس اتنا وقت ہی نہیں بچتا کہ اپنے بچوں کو وقت دے سکے ۔پھر سکول کے فوراًبعد کوچنگ اور ہوم ٹیوشنسے فراغت کے بعدتھکا ہارا گھر آتا ہے تو اس کے الجھے ہوئے ذہن میں ایک سودا سمایا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔نیند ایک لمبی اور طویل نیند۔۔۔جس سے اس وقت تک بیداری نہ ہو جب تک نیند اس کے کٹے پھٹے وجود پر سکون آور مرہم رکھ کر اسے تروتازہ نہ کر چکی ہو۔ایسے میں بچے چھٹی یا فرصت کے دن کی تاک میں رہتے ہیں کہ ادھر سے موقع ملے اور ادھروہ لمحہ بھر بھی ضائع کئے بناپوری طرح چھاپ لیں۔آج میرے بیٹے کو بھی ایسا ہی ایک موقع ہاتھ آگیا تھا جو اس نے ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔ پھر کافی دیرمجھے بور کرنے کے بعدجب خود بور ہوا تو خود ہی کمرے سے نکل گیا ۔ میں نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے اخبار نظروں کے آگے تان لیاکہ اب میں صرف یہی عیاشی افورڈ کر سکتا تھا۔ جب کافی دیر گزر گئی اور وہ ظاہر نہ ہوااور نہ اسکی آواز سنائی دی تو فطری طورپر مجھے تشویش نے آن گھیرا۔ اخبار پڑھتے پڑھتے اچانک غیر معمولی خاموشی کے اس احساس نے مجھے چونکا دیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر اسکا پتہ کرتا، اسکی سوہنی صورت مجھے سرشار کر گئی۔میں نے مسکراتے ہوئے اسکی چمکدار آنکھوں میں جھانکا تو اسکی ڈبڈباتی آنکھیںمجھے بیقرار کر گئیں ۔

”کیا ہوا میری جان ۔کہاں رہ گئے تھے تم؟”
”ابو ۔۔۔ابو ۔۔ابو وہ ‘ ‘۔

ننھے منے احمد نے باہر کی طرف اشارہ کیا ۔اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر زور زور سے اپنی طرف کھینچنے لگا۔اب اٹھے بنا کوئی چارہ نہ تھا۔اس کا رخ مرکزی دروازے کی طرف تھا اور میں ظاہر ہے اس کا مقتدی ۔”پیچھے امام کے اللہ اکبر”۔

” یہ تید(چیز) نی دیتا ” ۔

باہر آ کراس نے گھر کے عین سامنے واقع ٹافیوں کی دکان پر بیٹھے دکاندارکی طرف اشارہ کرتے ہوئے منہ بسور کر کہا تومجھ پرکچھ بھی غیر واضح نہ رہا ۔

”بیٹا پیپے کہاں ہیں ”؟

”پیپے تو نی ہیں ”۔اس نے اپنی خالی ہتھیلیاں مجھے دکھاکر گویایہ یقین دلانا چاہا تھا کہ اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ۔ انداز رو دینے والا سا تھا۔سفید سفید آنکھوں میں موتی جگمگا اٹھے تھے۔ایک موتی پلکوں کی حد د توڑ کر گرنے کو تھا میں نے جلدی سے دس کا کرارا سا نوٹ اسے تھمایا تو دھوپ میں بارش کا منظر امر ہو گیا۔دکاندار نے مسکراتے ہوئے اسکے ایک ہاتھ میں اسکا موسٹ فیورٹ مونگ پھلی کا پیکٹ تھمایا اور دوسرے کی ہتھیلی پر پانچ کا سکہ رکھاتو بجائے خوش ہونے کے میں نے اسے حیرت زدہ پایا۔اسکی نظریں ہاتھ میں دبے پیکٹ سے پھسل کر ہتھیلی پر دھرے سکے پر رکیں اور پھر دوکاندار کے مسکراتے ہوتے چہرے پر جم سی گئیں۔چند لمحے کیا بیتے یوں لگا کئی سال گزر گئے ہوں ۔میں دم بخود تھا۔سانس گلے میںاٹک سی گئی تھی۔اچانک اسکا الٹا ہاتھ جس پہ چمکتا ہوا سکہ دھرا تھا مٹھی میں ڈھل گیااور گھر کی جانب مڑتے ہوتے سکے پر اسکی گرفت مزیدسخت ہو گئی تھی۔جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے میرے بیٹے کے ہاتھ میں سکے کی جگہ ”ماسٹر کی”دبی ہو ۔کہ آسائشوں اور خواہشوں پر پڑے اکثرتالے جس سے باآسانی کھل جا تے ہیں ۔ ۔۔۔

کیا میں کچھ غلط کہا تھا کہ بڑوں کے بھی بڑے مسائل ہوتے ہیں ۔صرف مسائل……………….

Safder Hydri
Safder Hydri

تحریر : صفدر علی حیدری

Share this:
Tags:
children feeling problems Safder Hydri truth احساس بچوں حقیقت سچ مسائل
Sad
Previous Post اب کے اس لمحہ بے درد کے بارے لکھنا
Next Post اسلام: پر امن اور سلامتی والا دین ۔٣
Kashmir War

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close