
تحریر : وقارانساء
اولاد خداوند کریم کا انمول تحفہ ہے جس کی قدر ان سے پوچھیں جواس نعمت سے محروم ہیں-والدین خوشحال ہوں یانہ ہوں اپنے جگر گوشوں کی کفالت کے لئے ہر سختی نرمی برداشت کرتے ہيں اور ان کی خوشیان دیکھنے کے خواہشمند بھی ہوتے ہیں
لیکن کسقدر ٹوٹ جاتے ہيں جب اس نعمت کو اپنے سامنے دنیا سے جاتے دیکھتے ہیں عوام کے علاج معالجے کے لئے شہروں اور دیہات مين ہسیتال اور ڈسپنسریاں قائم کی جاتی ہیں جن کا کردار ترقی کا اہم قدم ہے کیا کیا جائے اس کا جب یہ صرف ايک بے جان عمارت بنانے تک محدود رہے اور ريکارڈ میں لايا جائے کہ اتنے ہسیتال قائم کئے گئے
کارکردگی تو ڈاکٹرز تب دکھائیں جب وہ ہسیتال مین کام کر رہے ہوں اور جب ڈاکٹر علاقے اور ہسیتال کی مختص اسامیوں کے مطابق تعینات ہون اور اپنے فرائض انجام ديں منڈی بہاؤالدين کے ہسیتال ميں ايک ماہ مين سترہ بچے جان کی بازی ہار گئے یہان ہر روز ايک سو پچاس بچے علاج کے لئے آتے ہیں
اس ہسیتال ميں اکیاون اسامیاں ہيں جن پرصرف چودہ پر لوگ تعینات ہین ٹيکنیکل سٹاف کی عدم موجودگی سے لیبارٹری اور ایکسرے ڈیپارٹمنٹ بند پڑا ہے لوگ سارا سارا دن خوار ہوتے ہین چائلڈ سپیشلسٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان معصوموں کا علاج نہین ہو پاتا اس طرح ان کی زندگی کی شمعیں پھڑ پھڑا کر گل ہو جاتی ہيں

جہاں روزانہ آنے والے بچوں کی تعداد ایک سو پچاس ہے اور ديگر مریض بھی آتے ہيں وہاں تیس بیڈ ہيں جس ملک ميں والدین اپنی جمع پونجی بچون کی تعلیم پر لگائیں اور ان کو اعلی منزل پر ديکھنا چاھيں اور لوگ نوکری کے جوتیاں چٹخاتے پھریں وھاں اتنی آسامیان خالی ہوں ہو سکتا ہے ان ميں کتنے ان اسامیون پر کام کرنے کے اہل ہوں اور دن رات کا سکھ چین تباہ کرکے نوکری کی تلاش ميں سڑکون کی خاک چھانتے پھرتے ہوں

جہاں نوکری ملنا جوئے شیر لانا ہو جہاں تگڑی سفارش اور نوٹوں کی بورياں رشوت کی لگتی ہوں وہان خالی اسامیاں ! چہ معنی دارد؟ ان بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہسیتال کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار کون ہے کيا عوام کو ملازمتیں دينا متعلقہ محکمے کے افسران بالا کا کام نہین کیا اس غیر ذمہ داری کا نوٹس لینا حکومت کا کام نہیں؟ ان ہسپتالوں کے نظام کو دیکھیں اور ان بچونکی زندگی کی شمعوں کو بجھنے سے بچالین
تحریر : وقارانساء
