
تحریر: ایس ایم صابر
فن کے اعتبار اور مقاصد کے لحاظ سے راجہ نتھانیئل گل کی حالیہ تصنیف ”مسیحی اور تحریک پاکستان” تاریخی کاوش ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں برملا یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے قیام کی عملی جدوجہد میں انفرادی واجتماعی حوالے سے مسیحی رہنمائوں کی قربانیاں بھی روشن ہیں جنہیں موجودہ دور کے تمام دانشوروں کو نئی نسل کو بتانے کی ازحد ضرورت ہے۔’
‘مسیحی اور تحریک پاکستان” میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان مسیحی کرداروں کو پیش کیا گیا ہے جو مختلف شعبوں میں رہتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کے شانہ بشانہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ مسیحی خواتین نے بھی پاکستان کی تکمیل میں قابل قدر کردارادا کیا جسے تاریخ نے پیش نہیں کیا۔

کتاب کے مصنف چونکہ بنیادی طور پر ایک قانون دان ہیں اور فوجی کے سپوت ہیں معاشرتی حالات وواقعات کابخوبی ادراک رکھتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں کبھی بھی مسیحیوں کو ان کے حقوق فراہم دینے میں فراخدلی کامظاہرہ نہیں کیاگیا۔
یہ کتاب تاریخی حوالے سے پڑھے جانے کے قابل ہے اور میری دانست میں تمام ذاتی آراء سے بالاتر اس کتاب کے مصنف کو ایک اہم اور اچھی کاوش پر مبارکباد ضرور ملنی چاہیے۔کتاب میں دیوان بہادر ایس پی سنگھا،سی ای گبن ،چندولعل ودیگرنامور شخصیات کی قیام پاکستان میں عملی کوششوں پرروشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ تشکیل پاکستان کے بعد ہرشعبہ زندگی میں مسیحیوں کی بے مثال خدمات کے بعد بھی ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں وزیادتیوں کا ذکرکیاہے۔

تحریر: ایس ایم صابر
