Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کھوئے ہوئے رشتے احساس کے

December 15, 2014 0 1 min read
Bribery
Bribery

تحریر :۔انجم صحرائی

یہ گذرے دنوں کا ذکر ہے جب راوی چین ہی چین اور امن ہی امن لکھتا تھا وہ اس لئے کہ دن کسی خوف کے بغیر گذ رتا تھا اور رات باہر گذاری جا سکتی تھی۔ ریلوے سٹیشن آباد اورشہر کی سڑکیں روشن ہوا کر تی تھیں ۔لوگ لوڈ شیڈنگ سے نا آشنا تھے اور بلیک اینڈ وائٹ پی ٹی وی پر میرے گا ئوں میں بجلی آ ئی ہے کے اشتہارات چلا کرتے تھے۔ یہ کو ئی صدیوں پہلے کی بات نہیں یہی کو ئی بیس پچیس سال پہلے کا قصہ ہے۔ پٹواری چھپ چھپا کے رشوت لیا کرتے تھے اور جج سا ئیکلوں پہ عدا لتوں میں جا یا کرتے تھے ۔ شیروانی اور جناح کیپ معزز لو گوں کا پہنا وا ہوا کرتا تھا ۔سودا سلف بیچنے کے لئے دوکاندار قسمیں کھا نا گناہ سمجھتے تھے ۔کھیلوں کے میدان آباد اور نو جواوں کا سڑک کنارے بیٹھنا اور کھلے گریبان راہ چلتے سگریٹ پینا معیوب سمجھا جا تا تھا۔

ناز سینما آباد ہوا کرتا تھا اور رات دیر دیت تک جا گنے والوں کی عیا شی اللہ دیا کے ہو ٹل کی چا ئے ہوا کرتے تھی ۔پڑھے لکھوں کی ادبی محفلیں سٹیشن کے پلیٹ فارم پر بنے ٹی سٹال یا پھر سٹیشن سے باہر سڑک کنارے بنے ہو ٹلوں کے سا منے رکھے ہما چوں پہ جما کرتی تھیں ۔ بلدیہ کی لا ئبر یری کتابیں پڑ ھنے والوں سے بھری ہو تی تھی اور بچوں کے رسا لے بھی بچے اور بڑے پڑھتے نظر آ تے تھے ۔ ہر گلی محلے میں لا ئبریاں ہو تی تھیں جہاں سے مطا لعہ کے شو قین ایک آ نا روزانہ پہ کتاب لیتے اور پڑھنے کی تشنگی دور کرتے ۔ شہروں اور گا ئوں کے عام گھروں میں دودھ بیچنا گناہ سمجھا جا تا تھا ۔ اور چا ٹی کی لسی میں مکھن ڈال کر پڑو سیوں کو دی جا تی تھی ۔ بازار میں سبزی والا سبزی کے سا تھ سبز دھنیا ، مر چیں اور ایک دو ٹماٹر مفت دیتا تھا ۔سب گھر میں پکنے والی ہا نڈی میں پڑو سیوں کا حصہ ہو تا تھا ۔سبھی بچے سب ما سیوں کے گھروں میں کھیلا کرتے تھے اور سب ما مووں سے ڈرا کرتے تھے ۔محلے کی چو پا لوں پر بزرگ با بوں کا راج ہوا کرتا تھا۔

مو نڈھووں پہ بیٹھے سفید براق جیسے کپڑے اور پگڑیاں پہنے اور حقے پیتے ان با بوں کی آ نکھیں بڑی عقا ب ہو تی تھیں جبھی تو سبھی دادیاں ، نا نیاں اور امیاں اس وقت پڑوس کے گھروں میں جا نے کے لئے نکلتیں جب یہ بابے نماز کے لئے مسجدوں میں چلے جاتے اور چو پال خا لی ہو تے ۔کس انجان بندے کا گھر کے دروازے پہ آ کے آواز دینا معیوب سمجھا جا تا چو پال میں بیٹھے با بے مہمان کو اپنے پاس بٹھا کر کسی بچے کو مطلوبہ شخص کے گھر سندیسہ بھیجتے اور جب تک میز بان چو پال پہ آتا مہمان چا ئے پا نی پی چکا ہوتا ۔مسا فر کو کھا نا کھلا نا عبا دت سمجھا جا تا تھا ۔با ہر سے آ نے والی با را تیں تین تین روز رہا کر تی تھیں اور سبھی گا ئوں والے گا ئوں کی بیٹی کی بارات کے میز بان ہوا کرتے تھے ۔ چا ندنی راتوں لڑکے اور لڑ کیاں اکٹھے کھیلا کرتے تھے مگر بہت کم سننے کو ملتا کہ وہ بھاگ گئی ہے اور وہ بگھا کر لے گیا ہے ۔ گا ئوں کی عزت سب کی عزت ہوا کرتی تھی۔

سبھی گا ئوں کے لوگ ذات برادری سے بڑھ کر گا ئوں کے رشتوں میں ایسے جڑے ہو تے تھے کہ چو ہد ریوں اور ملکوں کے بچے بھی مرا ثی اور مصلی جیسے کمی کمین لو گوں کو بھی چا چے اور ما موں کہتے تھے ۔ کسی کی کیا مجال کہ گا ئوں کے امام صاحب کے آ گے سر اٹھا ئے اور زبان چلا ئے ۔ سکول کا ما سٹر ،مسجد کے امام صاحب ، ڈاک خانہ کا ڈاکیا ،محکمہ زراعت کا انسپکٹر ،ریلوے سٹیشن کا با بو ، لال دوائی والا ڈاکٹر ، سفید لٹوں والا کھا نستا حکیم ،نمبردار اور چو کیدار یہ لوگ ہی وی وی آ ئی پی پی ہوا کرتے تھے گا ئوں کے ۔تھانہ کچہری کے نام تو لو گوں نے سن رکھے تھے مگر جب بھی تھانہ کچہری کا ذکر ہو تا لوگ کا نوں پہ ہا تھ رکھ کے کہتے کہ اللہ کسی کو نہ دکھا ئے ۔ رات کے سنا ٹے میں کنووں میں جتے بیلوں کے گلوں میں لٹکی گھنٹیوں کی آ وازیں اور کھیتوں میں پا نی لگاتے جوانوں کے ڈوہڑوں کی تا نیں جو مزہ دیتی ہیں اور جو اثر با ند ھتی ہیں اسے لفظوں میں بیان کر نا بہت مشکل ہے

چھو ٹی چھو ٹی دیواروں والے بڑے بڑے صحن کے کھلے کھلے گھر جہاں لگے ٹا لہی ، نیم ، سرس اور بیری کے درختوں نیچے بندھی بھینس ، گا ئے ، بکری بھیڑ یں اور ان کے ساتھ ایک گد ھا ۔ صبح کا ذب کے وقت ان گھروں میں دن کا آغاز ہو جا تا ، دادیاں اور نا نیاں نماز تہجد کے بعد ہا تھ کی چکی سے آٹا پیستیں اور بڑے بو ڑھے مسجد چلے جاتے۔ اذان ہو تے ہی امیاں ، خا لا ئیں چا چیاں اور سبھی چھو ٹے بڑے جاگ جا تے نماز فجر اور تلا وت قرآن مجید کے بعد گھر کی صفا ئی کی میں مصروف ہو جا تیں ۔ گھر کی دہلیز ضرور صاف کی جا تی ۔بچے قرآن پڑ ھنے بابا جی کے گھر چلے جا تے اور نو جوان دودھ دو ہنے کے بعد گدھا ریڑھی پہ سوار گھاس کا ٹنے نکل جا تے اور ہاں یہ بھی بتا تا چلوں نماز سبھی پڑھتے کہ اللہ میاں سے زیادہ با با کا ڈر ہو تا ۔ بزرگ نماز پڑھ کر واپس آ تے تو حقے کی چلم سلگا نے کے لئے صحن کے وسط میں بنے مٹی کے چو لہے میں آگ جلا تے۔

School
School

آ گ سلگا نے کے لئے اپلے استعمال کئے جا تے اور یہی سلگتی آگ چا ئے اور رو ٹیاں بنا نے کے کام آ تی ۔ کھا نا دو وقت کھا یا جا تا اور ڈٹ کے کھا یا جا تا ، چا ئے پیا لوں میں پی جا تی ۔ سکول خا صے فا صلے پر ہوتے تھے باپ بچے کو سکول میں بٹھا نے جا تا تو استاد صاحب سے یہ کہنا نہ بھو لتا کہ استاد جی یہ تمہارے ذمہ ، بس اس کی ہڈ یاں ہما ری اور گو شت آپ کا ۔بچے گروپوں کی شکل میں سکول جا تے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے سیاہ ملیشیا کی شلوار قمیض پہنے ایک ہا تھ میں سیاہ رنگ کے کپڑے کے کپڑے کے بستے میں ایک قاعدہ ایک سلیٹ ایک دوات ، چند قلمیں اور ایک پنسل لئے اور دوسرے ہا تھ سے تختی گھما تے ایک دو سرے کو مارتے اور بھا گتیدوڑتے سکول پہنچتے سکول کی دعا (اسمبلی ) اور پی ٹی کا پیرئیڈ بس مزیدار ایو نٹ ہو تے سکول میں سب سے زیادہ رعب پی ٹی ما سٹر کا ہوتا ہم سبھی اس بڑی بڑی مو نچھوں والے پی ٹی ما سٹر سے بہت ڈرا کرتے تھے ۔ادھی چھٹی میں ما مے کی دکان سے آ نے دو آ نے کی چیج کا فی ساری مل جا تی تھی ۔ دکان پہ سبھی بچے جا تے جس نے چیج لینی ہے وہ بھی اور جس کے پا س آنہ نہیں ہے وہ بھی۔

ماما دکا ندار سب کو سو دا دے کے کو نے میں کھڑے ایسے بچے کو دیکھتا تو اسے بھی چیج مل جا تی بغیر پیسوں کے ۔ سکول سے چھٹی ہو تی تو سبھی گھر سے رو ٹی کھا ئوں گا کی تکرا ر سننے کو ملتیں اور پھر تقریبا سبھی بچے ایک ہا تھ میں روٹی اور دوسرے ہا تھ میں گڑ کی ڈ لی لئے گھروں سے باہر کھیلنے کو دوڑ پڑ تے ما ئیں چیختی رہ جا تیں ہا تھ تو دھو لو کپڑے تو بدل لو مگر کس نے سننا ہو تا ۔ میلے کپڑوں کی بنی گیندیں اور لکڑیوں کے بلے اڑتی ریت اور دھکم پیل ۔ گھروں کے دروازوں کے سا منے گلیاں ہی کھیل کا میدان بن جا تیں ۔ میچ کا اختتام عمو ما لڑا ئی جھگڑے سے ہو تا ۔ اور بچے منہ بسورے روتے آ نسو بہاتے گھروں کو لو ٹتے ۔ ما ئیں انہیں گلے لگا تیں باپ ڈانٹتے ۔ اور کہتے کہ کھیلتے ہیں تو لڑا نہیں کر تے۔

بچہ با ر بار بتا تا مجھے اس نے مارا ہے مگر اسے یہی جواب ملتا کو ئی بات نہیں بیٹے وہ بھا ئی ہے نا کھیلو گے تو چوٹ تو لگے کی نا ۔ لوگ بچوں کے گلے شکووں پر لڑا نہیں کر تے تھے ۔ مرد اپنے اپنے کا موں پر ، جا نور ریوڑوں میںاوربچے جب سکو ل چلے جاتے تو خواتین برتن ، کپڑے دھوتیں اور جا نوروں کے گو بر سے اپلے تھا پتیں ۔ہا تھ کی مشینوں سے کپرے سیتیں ۔ خروشیئے کا کام کرتیں بڑی بو ڑھیاں نا لے بنتیں اور چنگیریاں بنا تیں ۔اسی وقفہ کے دوران کبھی کبھی سا س بہو ،نن د بھاوجوں ، دیورانیوں اور جٹھا نیوں میں تو تو میں میں بھی ہو جا تی رات کو یہ قصے نمک مرچ لگا کر اپنے اپنے گبھرووں کو سنا ئے بھی جا تے مگر نہ کبھی با ئیوں میں سر پھٹول ہو تی اور نہ نو جوان بیٹے اپنی بیویوں کا دکھ سن کر باپ اور ماں کو للکا رتے اور نہ بھا ئیوں کے کپڑے پھا ڑتے۔

رات کا کھا نا سر شام ہی کھا لیا جا تا رات کو دودھ پیا جا تا اور پھر دادی اماں گرم لحاف میں بچوں کو کہا نیاں سنا تیں اور چو پال میں بیٹھے بزرگ اور نو جوان چھو ٹے سے ریڈ یو پر گا نے ۔قوا لیاں اور خبریں سنتے ۔ رات 8 بجے بی بی سی کا سیر بین ضرور سنا جا تا اور پھر رات گئے تک خبروں پہ تبصرے ہو تے ۔ کبھی کبھی کو ئی صاحب ذوق آ جا تا تو پھر رات یو سف زلیخا اور عارفا نہ کلام سنتے سنا تے گذر جا تی ۔ پر دیس سے آ نے والوں سے بھی گا ئوں والوں کی تفصیلی ملا قات رات کو چو پال میں ہی ہوا کرتی تھی ۔ یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ کو ئی گا ئوں میں اا ئے یا گا ئوں سے جا ئے چو پال والے اس سے بے خبر ہوں۔

اگر گا ئوں کا بندہ ایک دو دن نظر نہ آتا چوپال کے سجنوں کی پر یشا نی بڑ ھنی لگتی آخر کسی کو غیر حا ضر بندے کے گھر بھیجا جا تا اور اس کی خیریت در یا فت کر ائی جا تی ۔مسجدیں تھوڑی سادہ اور کچی مگر آ باد ہوا کر تی تھیں ۔ گا ئوں کے بچوں کا پہلا مدر سہ یہی مسجدیں اور پہلا استاد مسجد کا امام ہوا کرتا تھا ۔ فقہی مسا ئل پہ بھی بات ہو تی ، اختلافات بھی ہو تے مگر فقہی اختلافات کبھی نفرت و عداوت کا سبب نہ بنتے ۔ایک دو سرے کے ساتھ مرنا جینا ختم نہیں ہوا کرتا تھا ۔محرم پہ دودھ اور میٹھے پا نی کی سبیلیں سنی لگا تے اور گیا رہویں شریف پہ قوا لیاں سننے شیعہ آ تے ۔عید آ تی تو اپنے ساتھ سا دگی کی سادہ خو شیاں لا تی ۔ بڑوں کے لئے پیٹیوں اور ٹرنکوں سے سپیشل جو ڑے نکا لے جا تے نو جوا نوں اور بچوں کے نئے کپڑے اور جو تے خریدے جا تے صبح صبح سویاں تیار ہو جا تیں اور ایک دو سرے کے گھروں میں بھیجنے کا عمل شروع ہو جا تا ۔ سب لوگ تیا رشیار ہو کر مساجد ، عید گا ہوں یا پھر کھلی جگہوں کا رخ کر تے۔

عید کے دن اونٹ گھوڑوں کو بھی خاص طور پر تیا ر کیا جا تااور ان پر بیٹھ کر نو جوان اور بچے عید نماز پڑ ھنے آ تے نماز عید کے بعد بو ڑھے چو پال میں اور نو جوان اور بچے بازاروں کا رخ کرتے ۔ سکول کے میدان میں میلہ سجا ہو تا میلے میں جلیبی اور لڈو ، کا ٹھ کے جھو لے ، آ نکھوں پہ دوربین لگاکر دیکھنے والی بارہ من کی دھوبن اور چڑیا گھر ، موت کا کنواں اور بہت کچھ میلے میں گیس والے غبارے بھی ہو تے اور نشا نہ لگا نے کے لئے چھروں والی بندوق لئے پٹھان بھی ہو تا ۔میلے میں بڑے سے کالے ڈبے والا کیمرہ لئے ا یک فو ٹو گرا فر بھی ہو تا اس کے پاس نقلی بندوق اور نقلی پستول بھی ہو تے نو جوان بندوق ہا تھوں میں لے کراور پستول کی خالی پیٹی گلے میں ڈال کر تصویریں بنواتے ۔ فو ٹو بنا نے والا فوٹو گرافر بڑے سے کا لے ڈبے میں سر ڈال کر پتہ نہیں کیا کر تا چند منٹوں میں تصویر بنوانے والے کے ہا تھ میں ہو تی ۔کشتیوں اور کبڈ یوں کے مقا بلے ہو تے

سجیلے گھبرو ڈھول اور تو طی کی آواز پر مستا نہ وار اکھا ڑوں اور میدانوں میں اتر تے تھپڑوں کی تڑ تڑ سے چہرے لا ل گلال ہو جا تے پسلیاں اوپر چڑھے پہلوان سے ٹو ٹنے کو ہو جا تیں مگر ہار جیت کے بعد کپڑے جھا ڑتے ہو ئے سبھی ایک دوسرے کے گلے لگ جا تے نہ دنگا نہ فساد ۔کہتے ہیں کہ رشتے خون کے نہیں احساس کے ہو تے ہیںمجھے اپنے ننھیالی گا ئوں میں ڈھول بجا نے والا فلک شیر جسے سبھی گا ئوں والے فلکو کہا کرتے تھے مجھے آج بھی یاد ہے یہ بر سوں پہلے کی بات وہ ہمارے گھر آ گیا میں بہت چھو ٹا تھا با با نے پو چھا فلکو چا چا کیسے آ نا ہوا فلکو نے اداس سی نظروں سے با با کو دیکھا اور کہنے لگا جی میں اپنی بیٹی سے ملنے آ یا تھا

میری بیٹی کی شا دی بھی یہاں کے ایک چک میں ہو ئی ہے واپسی پہ سوچا کہ اپنی بڑی بیٹی کے سسرال بھی ہو تا چلوں ۔ آپ کے گھر ہمارے گا ئوں کی بیٹی ہے نا جی اور آپ کا گھر بھی میری بیٹی کا سسرال ہے جی بھلایہ کیسے ہو سکتا تھا کہ میں ایک بیٹی سے ملوں اور دوسری کو بھول جا ئوں ۔ یہ کہتے ہو ئے اس نے اپنے ہا تھ میں پکڑی ہو ئی پو ٹلی با با کو دیتے ہو کہا جی اس میں خا ص گڑ ہے جی میووں والا خود بنایا تھا گھر والوں نے ۔مجھے اس وقت تو فلکو چا چے کی یہ بات سمجھ نہیں آ ئی مگر اب سو چتا ہوں یہ رشتے ہی کہیں کھو گئے ہیں تبھی تو خا ص گڑ اب کہیں سے نہیں آ تا میرے گھر ۔۔۔

Anjum Sehrai
Anjum Sehrai

تحریر : انجم صحرائی

Share this:
Tags:
railway station story vendor احساس اشتہارات دوکاندار رشوت ریلوے سٹیشن قصہ
Previous Post لاہور میں پتھرائو کے بعد میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی
Next Post پوریاں تلی جا رہی ہوں، حلوے کی خوشبو آ رہی ہے تو لاہور کھلا ہے، ہڑتال نہیں: پرویز رشید

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close