Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ننھے فرشتے‎

December 3, 2016 0 1 min read
Army Public School Tragedy
Army Public School Tragedy
Army Public School Tragedy

تحریر : عماد ظفر
حالات و واقعات اور سانحات معاشروں اور افراد کی زندگی میں ہر دم تعمیر و تخریب کا باعث بنتے ییں. کچھ واقعات خوشگوار ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر معاشرے پر ایک خوشگوار اثر چھوڑتے ہیں اسی طرح چند واقعات ناخوشگوار یا انندوہناک ہوتے ہیں اور معاشروں پر اپنے منفی اثرات صدیوں تک کے لیئے چھوڑ جاتے ہیں.ایسا ہی ایک المناک سانحہ دو سال قبل 16 دسمبر کو پیش آیا تھا جب پشاور میں آرمی پبلک سکول کے 145 بچوں کو بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا. جس بے رحمی سے معصوم کلیوں کو چن چن کر حیوان نما دہشت گردوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا اس کی مزمت کیلئے کوئی بھی الفاظ کافی نہیں ہو سکتے. وہ بچے جو پھولوں کی طرح نازک اور نفرتوں کی دنیا سے بالکل انجان تھے جنہیں یہ بھی پتا نہیں کہ ان کے معصوم وجودوں کو کیوں خون سے رنگا گیا. ملکی تاریخ بلکہ جدید انسانی تاریخ میں بھی شاید ہی اس بربریت کی کوئی مثال ملنا ممکن ہو. بزدل انتہا پرست دہشت گردوں نے بچوں کو اپنے مزموم مقاصد کا نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا کہ دہشت اور انتہا پسندی نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ یہ انسان کو ایک حیوان میں تبدیل کر دیتی ہے.

ایک برس ہونے کو آیا لیکن دل میں آج بھی اس سانحے کی پھانس چبھتی ہے. نہ جانے ان شہید بچوں کے والدین پر کیا بیتتی ہو گی اور پتہ نہیں وہ کونسی دلیل ہے جس سے وہ اپنے آپ کو مطمئن کر پاتے ہوں گے. اس انسانیت سوز واقعے نے آج بھی پورے معاشرے پر اپنے اثرات چھوڑے ہوئے ہیں.آج بھی جب ہمارے بچے سکول جاتے ہیں تو ایک نا معلوم سا خوف اور ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نہ جانے وہ واپس بھی آ پائیں گے کہیں دہشت گردی کا شکار تو نہیں ہو جائیں گے. اے پی ایس میں شہید ہونے والے سارے بچوں کی لاشوں کا بوجھ اگر آپ محسوس کریں تو ہم سب کے شانوں پر ہے. ایسا بوجھ جس سے رہائی پانا ناممکن ہے. ان بچوں کے والدین کی خالی آنکھیں اور سونے آنگن آج بھی نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات پر سوالیہ نشان ہیں.یقینا اے پی ایس کے بچوں نے اپنی ننھی منی جانیں قربان کر کے کم سے کم پالیسی سازوں کو اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق ختم کرنے پر مجبور کیا اور افوج نے ایک بھرپور کاروائی دہشت گردوں کے خلاف بھی کی لیکن شدت پسندانہ سوچ اور طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں سے ہمدردی رکھنے والے افراد آج بھی اس معاشرے کے ہر شعبے میں موجود ہیں.

جب تک یہ افراد اور ایسی سوچ کے حامل لوگ معاشرے میں موجود ہیں ان بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنا اور ان کی یاد میں تقریبات منعقد کرنا بےمقصد اور بے معنی ہیں. اگر اے پی ایس کے ان بچوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو اب پالیسی سازوں کو نفرت اور تشدد پر مبنی سوچ کے خاتمے کیلیے بھی ہنگامی بنیادوں پر ایک آپریشن شروع کرنا ہو گا. یہ بچے جو اس سانحے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ ہمارے جہادی بنانے کی پالیسی اور شدت پسندی کو قبول کرنے کی بزدلانہ سوچ کا نتیجہ ہیں. ایسی سوچ جس نے خود اپنا گھر جلا ڈالا اور جو آج بھی خاموشی سے پنپ رہی ہے. اس سوچ کو پیدا کرنا بند کیجئے ورنہ ہم معصوم بچوں کی لاشیں اٹھاتے ہی رہیں گے.

ارباب اختیار اگر سیاست اور کرسی کی جنگ سے نکل کر ان معصوم بچوں کی قربانی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک مربوط قسم کی حکمت عملی ملک سے شدت پسندانہ سوچ اور نظریات کے خاتمے کیلئے بنائیں اور اس پر من و عن عمل کریں تو یقینا ان بچوں کی روحوں کو بھی سکون نصیب ہو گا .میں جانتا ہوں اے پی ایس اسکول کے بچوں کی یاد میں ملک بھر میں تقریبات منعقد ہو گیں جن میں ان بچوں کی قربانی کا زور و شور سے زکر کیا جائے گا. ملک بھر میں ان کی یاد میں موم بتیاں بھی جلائی جائیں گی ہر سال کی طرح شاید کوئی نیا گانا بھی ان کی یاد میں ریلیز کیا جائے گا. وہ لوگ اور جماعتیں جو جہاد کے نام پر اب بھی شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں وہ بھی ان بچوں کے غم میں نڈھال نظر آئیں گے اور پھر اس کے بعد زندگی اسی ڈگر پر چل پڑے گی اگلے ہی دن سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائیں گے.

Terrorism in Peshawar Army Public School
Terrorism in Peshawar Army Public School

زندگی اگر کہیں جامد رہے گی تو وہ ان بچوں کے والدین کے ہاں ہو گی جہاں وقت ایک سال پہلے کی یادوں میں ٹھہرا ہی رہے گا وہ یادیں جب یہ بچے ہنستے کھیلتے شرارتیں کرتے اپنے اپنے گھروں کے آنگن میں ایک ہنگامہ اٹھا رکھتے تھے. بچپن کے دنوں کی وہ شرارتیں اور ہنگامے جو زندگی کی رمق تصور ہوتے ہیں. بھلا کونسا میڈل اور کونسی ایسی تقریب ہے جس کی وجہ سے ان معصوم بچوں کی ماوں کو قرار آ جائے گا کیونکہ دنیا میں آج تک نہ تو کوئی ایسا میڈل بنا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا لفظ تخلیق ہو پایا ہے جو ایک ماں سے اس کے بچے کے چھن جانے کے دکھ کرب اور غم کا مداوا کر سکے.ان بچوں کو خراج عقیدت اس معاشرے سے نفرت اور شدت پسندی کے اندھیروں کو ہی مٹا کر پیش کیا جا سکتا ہے. دہشت گردوں کو سب سے بڑی مدد اس خاموش تائید کے زریعے حاصل ہوتی ہے جو معاشرے میں بسنے والے افراد کبھی امریکہ دشمنی اور کبھی جہاد کے نام پر ان کو دیتے ہیں.اس خاموش تائید کو ختم کرنے کے لیئے اس سال ان بچوں کی برسی کے موقع پر حکومت کو ایک نظریاتی آپریشن لانچ کرنا چاہئے. اور معاشرے میں شدت پسندی اور نفرت پھیلاتے افراد کو بھی بلا تفریق دہشت گردی کے زمرے میں گردانتے ہوئے کڑی سے کڑی سزائیں دینے کا عمل شروع کرنا چاہیے.

نصاب میں اے پی ایس سکول کے بچوں سے متعلق ایک باب بھی شامل کرنا چاہیے جس میں آنے والی نسلوں کو بتایا جائے کہ کس طرح سینکڑوں پھول بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے اور اپنی ننھی منی جانوں کا نذرانہ دے کر اس کنفیوزڈ ملک کو کم سے کم دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح حکمت عملی بنانے پر مجبور کر گئے. ان بچوں کو تو ہم نے کھو دیا لیکن اپنے مزید بچوں کو ہم کھونے سے بچ سکتے ہیں اگر ہم سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام شدت پسند اور جہادی تنظیموں پر مکمل پابندی لگا دیں. ایسے گروہ یا افراد جو ان تنظیموں سے زرا سی بھی ہمدردی رکھتے ہیں ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے اور ان پر گہری نظر رکھی جائے. نفرت اور تشدد پر اکسانے والے ناول نصاب میں شامل باب ان سب کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے. دنیا پر بزور اسلحہ غالب آنے کے خیالات اور نظریات کو مکمل طور پر ریاستی سطح پر اقدامات کے زریعے ختم کیا جائے. مدارس کو رجسٹر کر کے جدید علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کا مرکزی تعلیمی بورڈز کے ساتھ الحاق کیا جائے. سیاسی مصلحتوں کے تابع حکومت اور دیگر جماعتیں یہ اصلاحات لاتے ہوئے ہمیشہ خوف کا شکار رہتی ہیں کیونکہ مزہب کے نام نہاد ٹھیکیدار ان اصلاحات کو فورا دین کے خلاف قرار دیتے ہوئے مزہب کا کارڈ استعمال کرتے ہیں اور عام آدمی یا مسلمان کے جزبات مشتعل ہونے کا نعرہ مارتے ایسی ایسی دھمکیاں دیتے ہیں کہ فورا سیاسی جماعتیں دبک کر موقف سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں. اب یہ گھناونا کھیل بند ہونا چاھیے. اگر کسی کے جزبات اصلاحات کے نام پر مشتعل ہوتے ہیں تو ہونے دیجیئے کیونکہ ہم مزید بچوں کو دہشت گردی کے بھینٹ نہیں چڑھا سکتے.

کیا آرمی پبلک سکول میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کے جزبات کا کسی نے سوچا.کیا وہ مشتعل نہیں ہوئے کیا ان پر قیامت نہیں ٹوٹی. مزہب کے نام پر دکانیں چمکانے والے اور جہاد کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں ہم اپنے بچوں کا گلہ نہیں گھونٹ سکتے. مقتدر قوتوں کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ انہیں اپنا اقتدار عزیز ہے یا وطن کے کڑوڑوں بچوں کا کل. کیا ہم پھر سے اے پی ایس سکول جیسے سانحے کا انتظار کریں گے اور پھر یہ سیدھی سی بات سمجھیں گے کہ شدت پسندی کی سوچ کے خاتمے کیلئے یہ تمام ریفارمز اشد ضروری ہیں. معاشرے اور قومیں امن محبت اور تحقیق کے بل پر زندہ بھی رہتے ہیں اور آگے بھی بڑھتے ہیں جن معاشروں میں دنیا بھر سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہو اور قتل و غارت اور جنگوں کو کارنامہ بتایا جاتا ہو وہاں پھر مولوی فضل الہ جیسے بھیڑیے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں. اے پی ایس کے شہید بچے اسـں معاشرے میں مزہبی تعصب جہاد کی انڈسٹری اور شدت پسند جماعتوں کو فروغ دینے والے تمام پالیسی سازوں کی ناکام اور کھوکھلی پالیسیوں کا واضح ثبوت ہیں. یہ بچے آپ سے اور مجھ سے بھی سوال پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارا خون بھی آپ سب کو یہ نہیں بتا سکا کہ بچوں کا مستقبل علم کی روشنی اور تمام تر تعصب سے پاک محبت کرنے والے معاشروں میں محفوظ ہوتا ہےآپ سب بھی ان بچوں کو اگر خراج تحسین پیش کرنا چاہیں تو اپنے اپنے بچوں کو انسانیت سے محبت کا درس اور شدت پسندی کی کسی بھی شکل سے دور رکھ کر یہ کام سرانجام دے سکتے ہیں.دسمبر اپنی سردی اور بوجھل شاموں کی وجہ سے ویسے ہی اداسی رکھتا ہے لیکن ان بچوں کی اس کرب ناک سانحے کی یاد اس یخ بستہ موسم میں ایک روح تک سرایت کرنے والے درد اور خون کو منجمند کر دینے والی شدید ٹھنڈ کا باعث بنتی ہے .آئیے مل کر اپنے عمل سے ان بچوں کو خراج تحسین پیش کریں اور کوشش کریں کہ نا صرف وطن عزیز بلکہ پوری دنیا میں اس قسم کا بھیانک واقعہ دوبارہ نہ ہونے پائے.

Imad Zafar
Imad Zafar

تحریر : عماد ظفر

Share this:
Tags:
Imad Zafar life people Society terrorism افراد حالات دہشت گرد زندگی معاشروں واقعات
General Qamar Javed Bajwa
Previous Post بھارت نے اب گولی چلائی تو پوری طاقت سے جواب دیں گے: آرمی چیف
Next Post جھنگ کی خبریں 3/12/2016
Jhang

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close