Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شہریت ترمیمی قانون، گلے کا پھانس بنا مودی حکومت کے لئے

December 18, 2019 0 1 min read
India Protest

India Protest
India Protest

تحریر : ڈاکٹر سیّد احمد قاردری

مودی حکومت نے بڑی خوش فہمی کے ساتھ پارلیامنٹ میں شہریت ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے جلد از جلد قانون کی شکل دینے کو تو دے دیا۔ لیکن پورے ہندوستان میں جس طرح اس شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بلا تفریق مذہب و ملّت، احتجاج، مظاہرے اور ہنگامے شروع ہوئے ، وہ مودی اور شاہ کے لئے خلاف توقع ہے۔ ان دونوں نے تو سوچا تھا کہ اس قانون کے بنتے ہی ملک لوگ ان کی حمایت میں اتر آئینگے اور ان کی جئے جئے کار ہوگی۔ اس لئے کہ یہ قانون دراصل’ مسلم مکت بھارت ‘کے خواب کو پورا کرنے والا ہے۔لیکن ہندوستان جو صدیوں سے ہندو، مسلم اتحاد و اتفاق کا گہوارہ رہا ہے اور آزادی کے بعد سے ملک میں نافذہونے والے آئین اور جمہوری قدروں پر نازاں ہے ۔ وہ کیسے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند منظم سازش کو کامیاب ہوتے دیکھتے۔ نتیجہ میں ایسے لوگ کھل کر اس کالے قانون کی مخالفت میں سڑکوں پر اتر گئے اور جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ یقینی طور پر مودی اور شاہ کی نیند اڑانے والا ہے۔

یوں تو مودی ،شاہ کے خلاف کئی طرح کے نعرے لگتے رہے ہیں ۔ لیکن اس کالے قانون کے سامنے آنے کے بعد پہلی بار سابق ممبر لوک سبھا پپو یادو نے ‘مودی گدّی چھوڑو’ کا نعرہ دیا ۔ جس کی پاداش میں انھیں پٹنہ میں ‘ہاؤس ائیریسٹ’ کر لیا گیا ہے۔شہریت ترمیمی قانون بننے کے اس پورے منظر نامے پر ہم ایک نظر ڈالیں تو جوحقائق ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ وہ یہ ہیں کہ بی جے پی کی دوبارہ مرکز میں حکومت بنتے ہی پورے ہندوستان میں زبردست مہنگائی ، بے روزگاری، صنعتی زبوں حالی اور اقتصادی بد حالی پر تنقید اور ناکام حکومت کی ناکام پالیسیوں پر ہنگامے شروع ہو گئے۔ ملک کے عوام پریشان حال اور ماہرین اقتصادیات فکر مند ہیں کہ بڑھتی کساد بازاری اور افراط زر مندی کے باعث جس تیزی سے ملک تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔ کس طرح ملک کی معیشت کو پٹری پر لا کر عوام الناس کی پریشانیوں کو دور کیا جائے۔

ملک کے لوگوں کی یہ توقع تھی کہ ایسے نا گفتہ بہ حالات میں بی جے پی کی دوبارہ اقتدار میں آنے والی حکومت یقینی طور پر ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے ضرور ایسے اقدام کرے گی ، جس سے ملک کی بے حد سست پڑ رہی ترقی کی رفتار میں تیزی لا کر اپنے شاندار نعرے ‘ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس’ کو عملی جامہ پہنا کر غربت ، مہنگائی اوربے روزگاری جیسے بے حد بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ تدابیر کرے گی۔ لیکن حکومت بس ہندو مسلمان ، تین تلاق، دفعہ 370 ، مندر مسجد کی راگ الاپتی نظر آئی اور عوام کے بنیادی مسئلہ کے تدارک کی کوئی عملی کوشش نظر نہیں آئی۔ایسے حالات میں عوام کے درمیان غم و غصّہ اور اعتراض و احتجاج کی صدا گونجنے لگی۔ایسے بد تر حالات میں جب حکومت نے دیکھا کہ تلاق ثلاثہ ،دفعہ 370 کا خاتمہ اور مندر مسجد کا مدعا بھی، بڑھتی مہنگائی ،غربت، بے روزگاری اور بہت تیزی سے ڈوبتی معیشت کے سامنے ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے میں ترپ کا پتّہ بنا کر پارلیامنٹ میں شہریت ترمیمی بل پیش کر دیا۔ اس شہریت ترمیمی بل کو بے حد عجلت میں ‘نوٹ بندی’ کی طرح عوامی طور پر بغیر کسی مباحث اور صلاح بلکہ وزارت قانون کے مشوروں کے پارلیامنٹ میں اس انداز سے پیش کیا ، جیسے اس بل کے قانون بنتے ہی ملک کے سارے مسئلے یکلخت حل ہو جائینگے۔

حالانکہ پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کے دوران اس متنازعہ بل کی زبردست مخالفت ہوئی اور حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ بل کسی بھی لحاظ سے ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ بل آئین اور دستور ہند کے خلاف ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے تحت ہندوستان کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دئے گئے ہیں اور اس میں مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے تعصب اور امتیازی سلوک کی تردید کی گئی ہے۔ نیز ساورکر جیسے لوگوں کے ہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والوں کی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بابا بھیم راؤ امبیڈکر نے بھی کہا تھا کہ اس ملک کو کبھی ہندو راشٹر بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا۔پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں کے سنجیدہ ،سیکولر اور ملک سے محبت کرنے والے افراد نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر یہ بل پاس ہو کر قانون بن گیا اور اسے نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہونگے، بلکہ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہوگا ۔ لیکن دراصل اس وقت پانچ ٹریلئن ڈالر کی معیشت کا عزم پورا کرنے کی شیخی بگھارنے والے پر چہار جانب سے ملک کی بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور ملک کی معیشت کے آئی سی یو میں پہنچ جانے کے باعث پورے ملک میں جس طرح سے عوامی احتجاج اور تنقید شدت اختیار کرنے لگی تھی۔

ان ہنگاموں سے گھبرا کر اوراپنی تمام ترناکامیوں سے لوگوں کا دھیان ہٹانے نیز ایک تیر سے کئی شکار کرنے کے عادی اسی شہریت تمرمیمی بل اور قانون کے گرد پورے ملک کو الجھا دینے میں عافیت سمجھتے ہوئے ،بہت عجلت میں بل کو قانون بنا دیا گیا ۔ لیکن اس بل کے پارلیامنٹ میں پیش ہوتے ہی ملک کے طول و عرض میں اس کے خلاف جو سگبگاہٹ تھی ، اس نے بل کے قانون بنتے ہی شدّت اختیار کر لی اور پورا ملک مودی اور شاہ کی نا عاقبت اندیشی اور ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کے باعث سلگ اٹھا۔ یہ احتجاج اور مظاہرے یقینی طور پر ملک میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے لئے متوقع تھی ۔ لیکن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے لئے غیر متوقع ہے۔ اقتدار کے نشے میں چور ان دونوں کی نگاہ میںدراصل ‘ تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو’کی پالیسی پر عمل کرنا ہی کامیابی کا ضامن تصّور کرتے ہیں ۔ ان دونوں نے ہی ملک کی صدیوں سے چلی آ رہی گنگا جمنی تہذیب اور ملک کی یکجہتی، رواداری اور بھائی چارگی کی شاندار روایات کو سمجھنے میں بھاری بھول کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے شہریت ترمیمی بل کو بہت ہی شاطرانہ انداز میں پاس کرانے کے بعد اپنی پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھاکہ یہ شہریت ترمیمی بل ایک تاریخی بل ہے اور اسے تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھا جا ئے گا ۔

وزیراعظم کے بعد خود سر سربراہ وزیر داخلہ امت شاہ بھی اپنی کامیابی پر ناز کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 ء کے انتخابی منشور میں شہریت ترمیمی بل کا جو وعدہ کیا تھا ، اسے حکومت نے پورا کیا ۔ ان دونوں کی ان باتوں سے ان کے ذہنی دیوالیہ پن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت جب کہ پورا ملک معاشی بدحالی کے دور سے گزر رہا ہے۔ انھیں فکر اس بات کی ہے کہ کس طرح مسلم مکت بھارت اور ہندو راشٹربنانے کے راستے ہموار کرنے کے لئے، ملک کے لئے ہر طرح کے ایثار اور قربانی پیش کرنے والے اور اپنے خون جگر سے ملک کو سینچنے والے یہاں کے مسلمانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر ان پر ظلم و زیادتی ،بربریت ،اور غیر منصفانہ عمل سے انھیں پوری طرح حاشیہ پر ڈال کر ملک کے غیر مسلموں کے درمیان اپنے ووٹ کو بینک کو پوری طرح مستحکم کر لیا جائے اور پچاس سال تک ملک کے اقتدار پر قابض رہنے کا خواب پورا کیا جائے ۔ انھیں اس بات کی قطئی فکر نہیں ہوئی کہ پورے ملک میں اس قانون کے خلاف رائے عامّہ تیار ہو رہا ہے ۔

ملک کے 1047 سے زائد سرکردہ سائنس دانوں اور دانشوروں نے اپنے مشترکہ بیان میں بہت ہی واضح طور پر kill The Bill کہہ کر متنبہ کر نے کی کوشش کی تھی۔ان کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں فلموںاور دوسرے شعبئہ حیات کے سرکردہ فنکاروں نے بھی اس کالے قانون کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج شروع کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ممالک میں بھی اس غیر آئینی قانون کے خلاف ناراضگی اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام لوگ حکومت ہند کی اس بات کو بخوبی سمجھ رہے ہیں کہ اس قانون کے پس پشت دراصل حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور پارٹی کے’ ہنودتو’نظریہ کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ لوگوں کی ناراضگی اور تشویش اس لئے بھی ہے کہ دنیا بھارت کو ایک سیکولر اور گنگا جمنی تہذیب کے علمبرداراور ایک مضبوط جمہوری ملک کے طور پر جانتی ہے۔ اس لئے بیرون ممالک میں بھی اس کالے قانون کی تنقید کی جا رہی ہے بلکہ اس کے خلاف غم و غصّہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے ۔

گرچہ حکومت ہند کی جانب سے اسے ملک کا اندرونی معاملہ بتا کر خاموش رہنے کی گزارش کی گئی ہے۔ لیکن یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ جہاں پر انسانیت کو شعوری طور پر پامال کیا جا رہا ہو ، وہاں پر انسان کی انسانیت جاگے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوروپی یونین نے اس ضمن میںتوقع کا اظہار کیا ہے کہ بھارت اپنے شاندار اور اعلیٰ قدروں کو برقرار رکھے گا۔ امریکہ کی وفاقی حکومت کا کمیشن(USCIRF) جو کہ 1998 ء کے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا ۔ اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہریت ترمیمی بل ہندوستان کے سیکولر تنوع سے بھرپور تاریخ اور آئین کے برعکس ہے، جو قانونی ایقان کی بنیاد پر مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ امریکی کمیشن نے حکومت ہند کی جانب سے اٹھایا گیا خطرناک قدم بتاتے ہوئے ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور خاص لوگوںکی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کی بھی بات کہی ہے ۔ واضح رہے کے امریکی کمیشن اس سے قبل بھی ملک کے اندر پھیلتی فرقہ واریت ،فسادات، ماب لنچنگ اور ایسے کئی دوسرے مسئلوں پر تنقید کر چکا ہے۔

حالیہ ہنگامے پر اقوام متحدہ بھی خاموش نہیں رہا اور حقوق انسانی کی ترجمان حریمی لارنس نے بہت اچھی بات کہی کہ جب بھارت کے قوانین میں شہریت دینے کے لئے کئی قانون قبل سے ہی موجود ہیں تو پھر اس نئے شہریت دینے والے قانون کیا ضرورت ہے۔ یہ نیا شہریت ترمیمی قانون لوگوں کے اندر تفرقہ پیدا کرے گا۔ جو انسانی حقوق کی نفی کرتا ہے۔ لارنس نے مذید کہا کہ صرف 12 ماہ قبل ہی بھارت ‘ ‘گلوبل کومپیکٹ فار سیف’ ‘پر اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے ۔اقوام متحدہ نے شہریت ترمیمی قانون کے سامنے آنے کے بعد ملک کے اندر بڑھتے تشدد پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مخالفت اور مظاہروں کے درمیان ہونے والی دو انسانوں کی موت پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے ۔ ایک طرف جہاں جاپان کے وزیر اعظم شینز آبے نے بھی اپنا دورہ ہند رد ّ کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر اے کے عبد المؤمن نے بھی شہریت ترمیمی بل پر اپنی ناراضگی طاہر کرتے ہوئے ہندوستان کے دورہ کو منسوخ کر دیا ہے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بار بار بنگلہ دیش سے ہندوستان میں گھُس پیٹھیوں کے داخلے کا ذکر کرنے پر انھوں نے کہا کہ حکومت ہند بھارت میں ناجائز طریقے سے رہنے والے بنگلہ دیشیوں کی فہرست مہیا کرائے ، تاکہ ہم ان لوگوں کو واپس بلا سکیں ۔

وزیر خارجہ بنگلہ دیش نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ بات کم مضحکہ نہیں ہے کہ اسی سال جولائی ماہ میں ملک کے اندر داخل ہونے والے در اندازوں کی تعداد کے متعلق لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مودی حکومت کی جانب سے یہ جواب دیا گیا تھا کہ ایسے در اندازوں کا کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہے، یعنی تصّورکیجئے جس مسئلہ کو اتنا بڑا بتایا جا رہا ہے ،اس کے اعدادو شمار تک حکومت ہندکے پاس نہیں ہیں ۔ ملک میں ہو رہے پُر تشدد احتجاج اور مظاہروں کے باعث امریکی اور برطانوی حکومت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کے لئے ا یڈوائزری جاری کرتے ہوئے ٹریول الرٹ کیا ہے۔ ان کے علاوہ بھی جس طرح سے دنیا کے مختلف ممالک میں حکومت ہند کے ایسے غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر انسانی کوششوں کو ہدف ملامت بنایا جا رہا ہے ، وہ بہر حال موجودہ حکومت کی رسوایوں کا ہی باعث بن رہا ہے ۔ ملک کے اندر اس کالے قانون کے خلاف ہو رہے احتجاج اور مظاہروں کو ناکام کرنے کے لئے حکومت ہند نے جس طرح دلی پولیس کے ذریعہ بربریت کا مظاہرہ جامعہ ملیہ، دہلی کے طلبا و طالبات پر کیا گیا ۔ اس پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور شیو سینا رہنما ادھو ٹھاکرکا یہ بیان کہ دلی پولیس نے اپنی بربریت دکھا کر جلیان والا باغ کی یاد دلا دی ، یہ کہہ کرحکومت ہند کی ناکامی اور ظلم اور زیادتی کی کہانی بیان کر دی ہے۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سیّد احمد قاردری

Share this:
Tags:
amendment citizenship government law modi protest احتجاج ترمیمی حکومت شہریت قانون مودی
Pakistan Nuclear Weapons
Previous Post پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر
Next Post علی ظفر ہراسانی کیس؛ ایف آئی اے نے میشا شفیع کو طلب کر لیا
Mesha Shafi - Ali Zafar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close