Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نظیر کا شہر آشوب اور ہندوستان کی موجودہ مفلسی

November 30, 2016November 30, 2016 0 1 min read
Poverty
Poverty
Poverty

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
ہندوستان کے موجودہ بگڑے اقتصادی حالات میں ہمیں بے اختیار اردو نظم کے نامور شاعر نظیر اکبر آبادی کا لکھا وہ شہر آشوب یاد آجاتا ہے جس میں انہوں نے آگرے کی بدحالی کا نقشہ بڑے ہی جذباتی انداز میں کھینچا تھا۔ شہر آشوب اس نظم کو کہتے ہیں جس میںکسی شہر یا ملک کی اقتصادی یا سیاسی بے چینی کا تذکرہ ہو یا شہر کے مختلف طبقوں کی مجلسی زندگی کا نقشہ طنزیہ یا ہجویہ انداز میں کھینچا گیا ہو۔ سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی (1735-1830) اردو کے مشہور نظم گو شاعر گذرے ہیں۔ دہلی میں پیداہوئے بعد میں اکبر آباد آگرہ میں منتقل ہوگئے اور ساری زندگی وہیں گذاردی۔ نظیر سیر سپاٹے کے رسیا تھے وہ عرسوں اور جاتراؤں میں شرکت کرتے اور زندگی کے مشاہدات کو نظموں میں بیان کرتے تھے وہ فطری شاعر تھے۔ انہیں اردو کا عوامی شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عوامی زبان استعمال کی۔ ان کی مشہور نظمیں آدمی نامہ’ بنجارہ نامہ وغیرہ ہیں۔

نظیر نے اپنے طویل دور حیات میں تقریباً بارہ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا تھا۔ اس دور میں اگر بادشاہ رعایا کا اچھا خیال نہ کرے تو شعرا ہجویہ قصیدے بھی لکھا کرتے تھے۔ نظیر نے اس شہر آشوب میں اس دور کے آگرے کی بدحالی کی جو تصویر پیش کی ہے اگر اس شہر آشوب میں آگرے کی جگہ ہند کا لفظ بدل دیا جائے تو موجودہ زمانے میں نوٹوں کی تنسیخ کے حکومت کے فیصلے کے بعد معاشی بدحالی کے جو حالات ملک بھر میں ہیں ان کا اندازہ نظیر کے اس شہر آشوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نظیر نے اس شہر آشوب کو مخمس کی شکل میں لکھا ہے یعنی ہر بند میں پانچ مصرعے لکھے۔پہلے بند کے آخری مصرعے میں انہوں نے لکھا کہ ” جب آگرے کی خلق کا ہو روزگار بند” اس کے بعد دوسرے بند میں جو حالات پیش کیے ہیں وہ موجودہ حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ نظیر کہتے ہیں:
بے روزگاری نے یہ دکھائی ہے مفلسی کوٹھے کی چھت نہیں ہے یہ چھائی ہے مفلسی
دیوار و در کے بیچ سمائی ہے مفلسی ہر گھر میں اس طرح سے پھر آئی ہے مفلسی
پانی کا ٹوٹ جاوے ہے جوں ایک بار بند

نظیر نے جس طرح لکھا کہ چاروں طرف سے لوگوں کو مفلسی نے آگھیرا ہے آج اسی طرح کا حال ہندوستان میں ہے۔ نوٹ بندی کے بعد غریب اور محنت کش طبقہ مفلسی کا زیادہ شکار ہوگیا ہے۔ لوگوں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے کیوں کہ حکومت کی جانب سے بڑی مقدار میں رقم نکالنے پر پابندی ہے۔ زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ تعمیراتی کام رکے ہوئے ہیں اور لوگ روزانہ ضروریات زندگی کی تکمیل میں پریشان ہیں۔ لوگوں کو اپنی رقم نکالنے پر پابندی ہے اور قطار میں ٹہر کا اپنی رقم نکالنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حالات میں دولت کا چکر رک گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے سے چاروں طرف مفلسی چھا گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات اگلے پانچ چھ مہینے تک رہیں گے۔ کالے دھن کو بے نقاب کرنے حکومت نے یہ اقدام کیا ہے لیکن اس کی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے سے یہ اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف اقدام بن گیا ہے اور ہندوستان کی شرح نمو انتہائی حد تک گر جانے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔آج جس طرح کاروبار بند ہونے سے محنت کشوں کو بیروزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کچھ اس طرح کی منظر نگاری نظیر نے بھی اپنے اس شہر آشوب میں کی ہے وہ کہتے ہیں:
اب آگرے میں جتنے ہیں سب لوگ ہیں تباہ آتا نظر کسی کا نہیں اک دم نباہ
مانگو عزیزو ایسے بر ے وقت سے پناہ وہ لوگ ایک کوڑی کے محتاج اب ہیں آہ
کسب و ہنر کے یاد ہیں جن کو ہزار بند
ماریں ہے ہاتھ ہاتھ پہ سب یاں کے دست کار اور جتنے پیشہ ور ہیں سو روتے ہیں زار زار
کوٹے ہے تن لوہار تو پیٹے ہے سر سنار کچھ ایک دو کے کام کا رونا نہیں ہے یار
چھتیں پیشے والوں کے ہیں کاروبار بند

India Poverty
India Poverty

نظیر نے جس طرح چھتیس پیشے کی بات کی ہے آج ہندوستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو بہت حد تک صورتحال وہی نظر آتی ہے جس کے بارے میں نظیر نے دو سو سال قبل بات کہی ہے ۔ نوٹ بندی کے فوری بعد لوگوں کے ہاتھ سے کرنسی چھین لی گئی۔ ہندوستان ایک دیہی ملک ہے آج بھی ملک کی 70%آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جہاں لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس کے بدل ملنے والے روپیے سے اپنے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ اپنے پرانے نوٹ بنک میں جمع کرائو اور کریڈٹ کارڈ یا پے ٹی ایم سے رقم کی ادائیگی کرو۔ حکومت کو کیا اندازہ نہیں ہے کہ بازار میں ترکاری پھل اور دیگر اناج کی دکانوں پر نہ ہی الیکٹرانک مشین لگی ہوتی ہے اور نہ ہی غریب کے ہاتھ میں الیکٹرانک پیمنٹ کارڈ ۔دیہاتوں میں بنک نہ ہونے سے لوگوں کو اپنی مزدوری چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں قائم بنکوں کو جانا پڑ رہا ہے اور وہاں لمبی قطار میں لگ کر اپنی دولت حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک بھر میں ٹرک چلانے والے بیروزگار ہوگئے ہیں کیوں کہ لوگ مال نہیں بھر رہے ہیں۔ کسانوں نے اپنی پیداوار کو سڑکوں پر لاکر پھینک دیا کیوں کہ ان کے خریدار نہیں رہے۔

دودھ والوں نے اپنے دودھ کو پھینک کر احتجاج کیا۔ بہرحال ملک میں انارکی کا عالم ہے ۔کام نہ ملنے اور اس کے نتیجے میں آنے والی مفلسی کو بیان کرتے ہوئے نظیر کہتے ہیں :
محنت سے ہاتھ پائوں کی کوڑی نہ ہاتھ آئے بے کار کب تلک کوئی قرض و ادادھار کھائے
دیکھو جسے وہ کرتا ہے رو رو کے ہائے ہائے آتا ہے ایسے حال پہ رونا ہمیں تو ہائے
دشمن کا بھی خدا نہ کرے کاروبار بند

جب انسان انتہائی مشکل حالات کا شکار ہوتا ہے تو وہ دل سے کہتا ہے کہ دشمن بھی ایسے حالات کسی پر نہ لائے۔ ہمارے حکمران ملک سے غریبی دور کرنے کے نام پر ووٹ لیتے ہیں لیکن ان کے اقتدارا پر آنے کے بعد سارے کام ایسے ہوتے ہیں جس سے غریبی تو کیا دور ہوگی غریب ہی مر جائے گا۔ کیوں کہ نوٹ بندی کے بعد پریشان حال لوگوں میں اب تک 70سے ذائد لوگ قطار میں ٹہر کر مر چکے ہیں۔خواتین قطاروں میں ٹہری ہیں کچھ لوگ دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کر رہے ہیں۔

Modi
Modi

ہماری حکومت روز ایسے اعلانات کرتی ہے جس سے امیر کو فائدہ پہونچتا ہے غریب کو نہیں۔ جب سے نوٹ بندی شروع ہوئی حکومت کے کسی وزیر نے کسی گائوں کا دورہ نہیں کیا۔ متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کی بات تک نہیں کی بس دہلی میں بیٹھ کر ٹی وی کے سامنے بیان دیا جاتا ہے کہ جب اچھا کام کیا جاتا ہے تو مشکلات تو آتی ہی ہیں لیکن یہ کیسی مشکل کے امیر کا کالا دھن نکالنے کے لیے غریب کی جان ہی لے لی جائے۔ ہمارے حکمرانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ دیش غریب کی محنت سے چلتا ہے امیر کی دولت سے نہیں۔
نظیر نے شہر آشوب میں مفلسی کے سبب لوگوں کی حالت زار کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
قسمت سے چار پیسے جنہیں ہاتھ آتے ہیں البتہ روکھی سوکھی وہ روٹی کھاتے ہیں
جو خالی آتے ہیں وہ قرض لیتے جاتے ہیں یوں بھی نہ پایا کچھ تو فقط غم کھاتے ہیں
سوئے ہیں کر کواڑ کو اک آہ مار بند
جتنے ہیں آج آگرے میں کارخانہ جات سب پر پڑی ہے آن کے روزی کی مشکلات
کس کس کے دکھ کی روئے اور کس کی کہیے بات روزی کے اب درخت کا ہلتا نہیں ہے پات
ایسی ہوا کچھ آکے ہوئی ایک بار بند

جب حکمران حالات پیدا کرکے خاموش ہوجاتا ہے تو غریب عوام اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ رب ہی ہے جو کسی کو بھوکا سونے نہیں دیتا ۔ اس لیے اپنی ہر ضرورت کو اپنے پالنے والے رب سے مانگنے کی تلقین کرتے ہوئے نظیر غریب عوام کے جذبات کی عکاسی یوں کرتے ہیں:
کوئی پکارتا ہے پڑا بھیج اے خدا اب تو ہمار کام تھکا بھیج اے خدا
کوئی کہے ہے ہاتھ اٹھا بھیج اے خدا لے جان اب ہماری تو یا بھیج اے خدا
کیوں روزی یوں ہی لی مرے پروردگار بند
ہے میری حق سے اب یہ دعا شام اور سحر ہو آگرے کی خلق پہ اب مہر کی نظر
سب کھاویں پیویں شاد رہیں اپنے اپنے گھر اس ٹوٹے شہر پر بھی الہی تو فضل کر
کرتے ہیں ہونٹ اپنے شرمسار بند

جس طرح نظیر نے شہر آشوب کے آخر میں رب کے حضور دعائیہ الفاظ کہے ہیں ویسے ہی اہل وطن کو چاہئیے کہ وہ رب کے حضور دعا کریں کہ لوگوں کے حالات بہتر ہوں۔ ان کی معاشی بدحالی دور ہو۔ اور فطرت کے قانون کے خلاف جو کام ہورہا ہے وہ بند ہو۔ اہل وطن کو چاہئیے کہ وہ اپنے اطراف رہنے والے غریبوں کا خیال رکھیں۔ بڑی مارکیٹ سے خریداری کرنے کے بجائے چھوٹے بیوپاریوں سے خریداری کریں۔ ترکاری بیچنے والے اور پھل بیچنے والے غریب ٹھیلہ فروشوں سے کاروبار کریں تاکہ ان کا سامان بکے اور ان کے گھر بھی چولہا جلے۔ دولت کا چکر چلتا رہے تو حالات سدھریں گے اور ہندوستان کی مفلسی دور ہوگی۔ نظیر نے جس طرح اپنے دور کے حالات بیان کئے اس طرح ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب ملک پر حالات آئیں تو ادیب اور قلمکار بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور عوام کے غم کو بانٹتے ہیں۔ نظیر کہتے ہیں:
عاشق کہو اسیر کہو آگرے کا ہے ملا کہو دبیر کہو آگرے کا ہے
مفلس کہو فقیر کہو آگرے کا ہے شاعر کہو نظیر کہو آگرے کا ہے
اس واسطے یہ اس نے لکھے پانچ چار بند

Aslam Faroqui
Aslam Faroqui

تحریر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

Share this:
Tags:
city India life Poverty اقتصادی زندگی شہر موجودہ ہندوستان
Jamia Binoria
Previous Post طبقاتی نظام تعلیم نے نونہالوں کی صلاحیتوں کو دبا دیا ہے، مفتی محمد نعیم
Next Post فیصلہ ہو چکا، زرداری صاحب آ رہے ہیں، قمر زمان کائرہ
Qamar Zaman Kaira

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close