Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شہرِ امن اور سیاسی اجارہ داریاں

November 25, 2017 0 1 min read
Poor People
Poor People
Poor People

تحریر : عتیق الرحمٰن
عمومی طور پر پورے پاکستان میں عوام کی حالت زار سدھرنے کا نام نہیں لے رہی اور ان کے مسائل جوں کے توں ہیں اور عوام کا موجودہ جمہوری نظام سے اعتماد اٹھتاجا رہا ہے، لیکن اربن سندھ بالخصوص کراچی بہتری کی جگہ ابتری اور تنزلی کی طرف جا رہا ہے- شہری سندھ کے مسائل وہاں کی اقتصادی اہمیت، کراچی کے سی پورٹ ہونےاور مختلف قومیتوں کی بڑی تعداد میں یہاں بسنے کی وجہ سے پاکستان کے دیگر شہروں سے مختلف ہیں- کراچی آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بہت سے ممالک سے بڑا ہے یہ وہی شہر ہے جو ایک وقت میں دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار ہوتا تھا لیکن اب مسائلستان کا منظر پیش کررہا ہے-

کوٹا سسٹم کے سبب کراچی اور حیدرآباد کی مقامی عوام کو آبادی کے تناسب سے سرکاری اداروں میں ملازمت، اور کالجوں و یونیورسٹیوں میں داخلے کی کمی تھی جس نے ان میں احساس محرومی پیدا کیا جسے اس وقت کی سیاسی جماعتوں جو شہری سندھ کی نمائندگی کرتی تھیں حل نہ کر سکیں اور نہ ہی ان جماعتوں نے اس مسئلہ کو اہمیت دی بلکہ یہ کہا جائے کہ وہ خود ان مسائل کی ذمہ دار تھے تو بےجا نا ہوگا- ایسے حالات میں سندھ کے اردو بولنے والی عوام کو اپنی آواز اٹھانے اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی جماعت کی کمی کا احساس پیدا ہوا۔ چونکہ احساس محرومی پہلے کالج اور یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں پیدا ہوا تھا اس لیے ایک نئی آواز بھی وہی سے اٹھی اور1978 میں APMSO کا قیام عمل میں آیا اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تعلیمی اداروں میں اجارہ داری اور حاکمیت کو چیلنج کرنے کے لئے ایک نئے پلیٹ فورم کو وجود دیا گیا- کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک نا رکنے والی جنگ کا آغاز ہو گیا- سٹوڈنٹس تنظیم کالجوں سے نکل کر عملی سیاست میں آئی اور 1984 میں مہاجر قومی مومنٹ کا قیام عمل میں آیا- ضیاءالحق دور میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن اور 1985 کے غیر جماعتی الیکشن میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی اگرچہ کچھ لوگوں کو اس کامیابی کے پیچھے ضیاءالحق کی پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی ضرورت نظر آتی ہے لیکن درحقیقت مہاجر قومی مومنٹ کی کامیابی کے پیچھے سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں (پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے پاکستان) سے عوام کی بیزاری، ان جماعتوں کی ناکامی اور وہاں کی عوام کے مسائل کا زیادہ عمل دخل ہے-

مہاجر قومی مومنٹ کے قیام سے کراچی اور حیدرآباد کی عوام کو اپنی آواز اٹھانے اور مسائل کے حل کا موقعہ ملا اور آنے والے تمام ا انتخابات میں ایم کیو ایم بلا شرکت غیرے اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت بنی اور سندھ کے شہری علاقوں نے انہیں بار بار منتخب کیا- ایم کیو ایم اپنی تنظیمی ساخت و نظم میں دوسری جماعتوں سے منفرد تھی اور یونٹ لیول تک جماعتی نیٹ ورک بہت مضبوط اور مربوط تھا- ایم کیو ایم کی ایک اور انفرادیت اسے دوسری جماعتوں سے ممتاز کرتی تھی کہ اس نے اپنے کارکنوں کو جوکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسمبلی تک پہنچایا اور سیٹوں کی تقسیم پارٹی اور الطاف حسین صاحب سے وفاداری کی بنیاد پر دی جاتی تھیں-

جہاں ایم کیو ایم نے پاکستانی سیاست میں بہت سی اچھی روایات کو جنم دیا وہاں پاکستانی سیاست میں بھتہ، گینگ وار، جلاؤ گھراؤ، لینڈ گریبنگ، خوف و حراس، زور زبردستی اور ہڑتال بھی ایم کیو ایم کے پیدا یا دوام دیے ہوئے تحفے ہیں- طاقت کا ارتکاز اور بلا شرکت غیرے حق نمائندگی نے ایم کیو ایم کو اپنی منزل سے کوسوں دور کردیا- اوپری سطح پر پارٹی کی فعال باڈی نہیں بنائی گئی اور تمام اختیارات ایک شخص میں مرتکز ہو کر رہ گئے یا کر دیے گئے- ایک ڈھیلی ڈھالی رابطہ کمیٹی بنائی جاتی جو کہ الطاف حسین صاحب کے ایک خطاب کی مار تھی، کسی لیڈر کے کمیٹی میں شامل ہونے یا نکالنے کا فیصلہ فرد واحد اپنی تقریر میں کرتا اور دوسرے روز اسے واپس بھی لے لیتا- نہ کارکنوں اور دوسرے لیڈرز کی کوئی رائے تھی اور نہ ہی اس کی گنجائش- جہاں دوسری پارٹیاں اپنی اندر جمہوری اصولوں کے نہ ہونے اور فرد واحد میں اختیارات کے ارتکاز کی وجہ سے آمریت کی مثل ہیں اور وہاں معاشرہ کے پڑھے لکھے اچھی سوچ رکھنے والے طبقہ کے لیے کوئی جگہ نہیں، وہی عمل ایم کیو ایم میں بھی پایہ عروج پر پہنچا- جن وجوہات کی بنا پر اردو بولنے والے متوسط طبقے سے ایک تحریک اٹھی صد افسوس کہ وہ بھی اسی ڈگر پر چل نکلی- پارٹی کے باہر سے تنقید تو ابس بانی ارکان کو بھی صرف اس لیے راستہ سے ہٹایا گیا کہ وہ حاکمیت کو چیلنج نہ کر دے-

پارٹی لیڈرز کو کنٹرول کرنےاور مخالف آواز کو دبانے کے لیے لیے ایک علیحدہ متوازی باڈی بنائی گئی جس نے بعد میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، جلاؤ گھراؤ، لینڈ گریبنگ اور علاقوں کو کنٹرول کرنے کا کام انجام دیا- جو مقاصد دلوں پر حکمرانی سے حاصل کئے جا سکتے تھے وہ بندوق کی نوک پر حاصل نہیں کئے جا سکتے اور اس عمل کے نہایت بھیانک نتائج برآمد ہوئے- اردو بولنے والوں کو باقی تمام قومیتوں کا دشمن بنا دیا گیا حد یہ کہ اردو بولنے والے بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہے- شادی ہو یا گھر کی تعمیر، دوکان ہو یا کاروبار، پانی کے لیے بورنگ ہو یا گٹر لائن کے لئے کھدائی ہر موقعہ پر چند نوعمر جوان نہایت بدتمیزانہ انداز میں ایک حکم جاری کرتے کہ یہ یونٹ کی اجازت کے بغیر کیسے کیا جا رہا ہے فورا کام بند کرو اور یونٹ پر آؤں اور وہاں سے پرمیشن لو- عوام جہاں بہت سے سرکاری محکموں سے بیزار تھی وہاں رشوت اور خوف کا ایک اور امیدوار آگیا حد تو یہ ہے کہ شہری عوام قربانی کی کھال اور فطرانہ بھی اپنی مرضی سے نہیں دے سکتے اگر کوئی یہ جرات کرے تو ایک مشہور ڈائیلاگ سننے کو ملتا کہ “جانور کی کھال دینی ہے یا اپنی”- اور یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا کراچی کی تمام سیا سی جماعتوں نے اس گنگا میں ہاتھ دھوئے اور اس عمل میں شامل ہوگئے پیپلز پارٹی، اے این پی، سنی تحریک، مہاجر قومی مومنٹ حقیقی اور دہشت گرد جماعتوں نے اس مقصد کے لیے اپنے کارندوں کو استعمال کیا اور کراچی کی عوام کی زندگی کو برسوں ایک کرب میں مبتلا رکھا اور آج بھی اس کے اثرات موجود ہیں-

وہ عوام جو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم چاہتی تھیں وہ مزید مسائل میں گرفتار ہو گئی- اور اس کے مسائل جوں کے توں ہیں- بلکہ ان میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے- ایم کیو ایم جو اردو بولنے والوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اٹھی تھی وہ ہر حکومت میں شامل بھی رہی لیکن اپنا الو سیدھا کیا لیکن عوام محروم ہی رہی- نہ کوٹہ سسٹم ختم ہوا نہ تعلیمی اداروں میں داخلے ملے نہ گورنمنٹ اداروں میں جاب، بلکہ جو تھی وہ بھی گئی- کراچی جو پرامن اور آسودہ حال لوگوں کا شہر تھا وہ مفلسی کی داستان سنا رہا ہے- شہری مسائل تو اب ایک ازدھا کا روپ دھار چکے ہیں- وہ شہر جو خوبصورت تھا اب گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے، نہ پانی ہے نہ سیوریج کا نظام نہ روڈ رہے نہ صفائی ستھرائی کا نظام بس ایک نہ رکنے والی قومیتوں کی جنگ شروع ہو ئی اور نفرت پروان چڑ رھی اور عوام جان و مال سے محروم ہو ئے-

وہ تحریک جو عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے متوسط طبقے سے اٹھی تھی وہ اپنی سمت کھو چکی اور کسی اور ہی طرف چل پڑی، ایم کیو ایم جسے شہری سندھ سے پاکستان کے تمام علاقوں تک جانا تھا اس نے نفرت کا ایسا ماحول پیدا کیا کہ کراچی کی دوسری قومیتوں سے لڑائی میں ہی الجھ گئی- اور اب تو ایم کیو ایم خود مختلف ڈھڑوں میں بٹ گئی ہےاور ہر گروپ دوسرے پر قتل و غارت گری کا الزام لگا رہا ہے یہ الزامات اگر کوئی دوسری جماعت، حکومت یا ایجنسیاں لگاتی تو اسے مہاجر دشمنی اور بغض کرار دیا جاتا لیکن اب ان الزامات سے ہم کیسے صرف پہلو کر سکتے ہیں- ایم کیو ایم شہری سندھ میں ایک حقیقت ہے اور اسے اندرونی مسائل حل کرکے اپنی سمت کا دوبارہ تعین کرنا ہوگا اور تنظیم کو جرائم میں ملوث عناصر سے پاک کرنا ہوگا-

پاکستان اور بلخصوص شہری سندہ 30-35 سال بعد ایک بار پھرنئے پولیٹیکل ڈیکٹرائن کی طرف جا رہا ہے اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک بار پھر دھوکہ کھاتے ہیں یا اپنے مسائل کے حل کے لیے فیصلہ کرتے ہیں- شہری سندھ سمیت پورے پاکستان کے مسائل کا حل اس نظام سے نجاد میں ہے جس نے عوام کو جکڑ رکھا ہے اور تمام اختیارات اور وسائل کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیا ہے- اگر ترقی کی طرف قدم بڑھانا ہے تو چھوٹے صوبائی یونٹ بنانے ہونگے اختیارات اور وسائل صوبے سے ضلع/شہر، تحصیل/ ٹاؤن اور یونٹ تک پہنچانے ہونگے- سیاست و حکومت اور عوام کی نمائندگی کا حق امراء، سرمایہ دار، غنڈے اور کرپٹ افراد کو نہیں بلکہ وہاں کی عوام میں سے پڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل افراد کو دینا ہوگا- کوٹہ سسٹم کا خاتمہ اور مزید تعلیمی ادارے بنانے ہونگے- ہر شہر کی ملازمت پر وہاں کی لوکل عوام کا زیادہ حق اور شئیر دینا ہوگا- شہری سندھ میں صفائی ستھرائی، پانی کی ترسیل و فراہمی، سیوریج، انفراسٹریکچر، ٹرانسپورٹ، بجلی اور گیس کے منصوبے بنانے ہوں گے- ایسا نظام لانا ہوگا جہاں قابلیت کی بنیاد پر لوگ حق نمائندگی حاصل کریں، سیاست میں پیسہ کا عمل دخل ختم ہو، سیاست متوسط عوام کے لیے شجر ممنوع نہ رہے، تمام ادارے آزاد اور خود مختار ہوں اور انصاف لینے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے اسلام آباد میں مہینوں دھرنا نہ دینا پڑے- کرپٹ لوگوں کا راستہ روکنا ہوگا اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا اور سسٹم میں ایسا فلٹر لگانا ہوگا کہ کرپٹ افراد، ڈاکو، قاتل اور غنڈے سیاست میں شامل نہ ہوں سکے- اگر ہم ایسے نظام کے لیے اٹھے تو ہمارے مسائل حل ہونگے ملک ترقی کرے گا اور عوام خوشحال ہوگی- اور اگر نظام یہی رہا اور چہرے تبدیل کئے تو عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا- فیصلہ اب آپ نے کرنا ہے-

ATIQ-UR-REHMAN
ATIQ-UR-REHMAN

تحریر : عتیق الرحمٰن
(مسقط، عمان)

ای میل: atique.rasheed@gmail.com

N.I.C: 42000-3763632-7
فون نمبر: 95087548-00968
0092-3312246141
:فیس بک آئی ڈی:
https://www.facebook.com/atiq.urrehman.9028194
ٹوئیٹر آئی ڈی
@AtiqRehmanPAT

Share this:
Tags:
city Economic pakistan Peace political public اقتصادی امن پاکستان سیاسی شہر عوام
Pir Mahal
Previous Post پیرمحل کی خبریں 25/11/2017
Next Post حسن ضیاء اعوان شادی کے حسین بندھن میں بندھ گئ
Hassan Zia Awan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close