کراچی: تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ میں بسنت کی تباہ کاریاں کے موضوع پر مکالمہ ہوا۔ مدنی مکالمہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کے مولانا محمد عمران عطاری نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ان کے علاوہ ممتاز علماء کرام ، مفتیان عظام اور دعوت اسلامی کے ذمہ داران اور دیگر اسلامی بھائی بھی کثیر تعداد میں مدنی مکالمہ میں شریک ہوئے۔یہ مدنی مکالمہ انسداد بسنت آگاہی مہم کی ایک پر خلوص کوشش تھی۔
اس موقع پر دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران اور اس مدنی مکالمہ کے مرکزی محرک مولانا محمد عمران عطاری نے شرکاء سے اپنے بیان میں کہا کہ بسنت ایک خونی اور قاتل کھیل ہے جس کا دین ، قانون اور اخلاقیات میں کوئی جواز نہیں اس لیے اسے معاشرہ میں پھیلانے کی بجائے ہمیشہ اور مستقل طور پر اس پر پابندی لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 825بے گناہ افراد اس خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں سوال یہ ہے کہ ان معصوم مقتولین کا خون کس کے سر ہے اور 825قاتلوں کو سزا کون دے گا۔ حاجی محمد عمران عطاری نے کہاکہ ایک گھناؤنے اور انسان دشمن جرم کو ختم کرنے کی بجائے اسے تحفظ دینا اور اسے فروغ دینا کہاں کا انصاف اور کہاں کی دانشمندی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس ظالمانہ کھیل کی سرپرستی کرنیوالوں کے بچوں کی خدانخواستہ پتنگ بازی میں گردنیں کٹ جائیں تو ان کے اس خونی کھیل کے بارے میں کیا جذبات اور خیالات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس گھناؤنی معاشرتی برائی کا جنازہ نکالنے کے لیے ملک کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے اور ایس ایم ایس کے ذریعے عوام کو بسنت کی تباہ کاریوں بارے آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ بسنت جیسی لعنت اورمصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک بھر پور آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ پوری قوم اس سے نفرت کرے چنانچہ اس سلسلے میں دعوت اسلامی نے کام شروع کر دیا ہے اور خونی قاتل کھیل کے مکمل خاتمے تک ہماری پر خلوص کوشش جاری رہے گی ۔ حاجی محمد عمران عطاری نے مزید کہا کہ بانی دعوت اسلامی علامہ محمد الیاس عطار قادری نے مثبت اور مفید ترین بروقت رہنمائی سے دعوت اسلامی کے ذریعے معاشرہ اور اس میں بسنے والوں کی قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی کی ہے۔
