
تحریر:ثاقب مجید
پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیم الف اعلان نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم کے حق سے محروم ہیں’جن میں 50 فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے اورمزید یہ کہ پانچ سے 16 سال عمر کے بچوں میں صرف 2 کروڑ 70 لاکھ بچے سکول جارہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ان اڑھائی کروڑ بچوں میں سے ،کوئی بھی کسی مدرسے ،سرکاری سکول یا نجی سکول میں داخل نہیں ہوا۔ جہاں الف اعلان کی رپورٹ میں یہ کہاگیا کہ اڑھائی کروڑ سکول نہ جانے والے بچوں میں نصف سے زائد کاتعلق پنجاب سے ہے، وہیں یہ خبر بھی منظرعام پرآچکی ہے کہ محکمہ تعلیم کی ناقص حکمت عملی کے باعث پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں سے اب تک مجموعی طورپر جماعت دہم تک کے تیس لاکھ طلبا اور طالبات نے اپنے نام خارج کرالیے ہیں۔
خبر کے مطابق دو سال قبل پنجاب بھرمیں سرکاری سکولوں کی انرولمنٹ ایک کروڑ دس لاکھ بتائی جاتی تھی جو اب کم ہوکر 80 لاکھ رہ گئی ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے تعلیم کی اہمیت اور فروغ پر خوب واویلا مچایا۔ بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کروائیں اور تعلیم کو عام کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے لیکن حقیقت ان دعووں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ابھی حال ہی میں چارماہ جون 2014ء کو وزیراعظم نے تعلیمی ایمرجنسی آرڈیننس کے نفاذ کااعلان کیا۔ جس کے مطابق 5 سے 16 سال تک کے بچوں کے تعلیم حاصل کرنالازمی قرار دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق پرائیویٹ سکول مالکان اپنے اداروں میں 10 فیصد غریب اورمستحق بچوں کے لیے کوٹہ مختص کرنے کے پابند ہوں گے جبکہ کسی طالب علم کانام خارج کیے جانے پر سکول کے سربراہ کوچھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
لیکن یہ تعلیمی ایمرجنسی آرڈیننس کے نفاذ کا نتیجہ چارماہ بعد 30 لاکھ بچے سکول چھوڑنے کی صورت میں نکلاہے۔ حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں اورتعلیمی ایمرجنسیوں کے نفاذ سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ہمارے حکمران ملک کے 63 ہزار سرکاری سکول کی حالت زار سے واقف نہیں جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جن کی حالت بہترکیے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پنجاب میں ساڑھے سات ہزار سکولوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ پنجاب کے اکثر اضلاع کے سکولوں میں پانی، بجلی، بلڈنگ، چار دیواری، واش روم اور فرنیچرتک موجود نہیں جن سے طالب علم اور اساتذہ خوار ہورہے ہیں۔
عالمی ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں30ہزار سے زائد گھوسٹ سکول ہیں۔ ملک میں 30 فیصد سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ 39 فیصد میںپینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ 50 فیصد میں قابل استعمال لیٹرینیں نہیں ہیں۔اگرہم موجودہ تعلیمی زبوں حالی کاجائزہ لیں تو تین بنیادی مسائل سامنے آتے ہیں،جن کی وجہ سے ہمارا نظام تعلیم کابیڑا غرق ہوا۔اس میں سب سے بڑامسئلہ ذریعہ تعلیم، دوسرا طبقاتی نظام تعلیم اور تیسرابڑا مسئلہ نصاب تعلیم میں غیر فطری تبدیلیاں ہیں۔ ذریعہ تعلیم اور طبقاتی نظام کی وجہ سے ہمارے ملک کے 30 لاکھ بچے سکولوں کو خیرآباد کہہ چکے ہیں جبکہ نصابی تبدیلیوں نے ہمارے طالب علم کو اخلاقیات سے عاری اوراسلام سے ناآشنا بنا دیا ہے۔
پاکستان وہ واحدملک ہے جس میں تعلیم کے شعبے میں سب سے زیاد ہ تجربات کیے جاتے ہیں اور اپنے حالات و واقعات، اقدار ،معاشرے اور مفادات کی بجائے صرف دوسروں کے احکامات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ملک میں چودہ سے زائد تعلیمی پالیسیاں نافذ ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ جنوبی ایشیاکاسب سے ناخواندہ ملک ہے۔ہمارے نظام تعلیم کا المیہ ہے کہ یہ لارڈ میکالے کے نظریات پر بنایا گیا ہے جس نے 1838ء میں اردو کی جگہ انگریزی کو ہندوستان کی سرکاری زبان بنادیا۔ اس وقت لارڈ میکالے نے ایک نوٹ لکھاجس کا اقتباس یہ ہے: ”اس وقت ہمیں انتہائی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایسے لوگ تیارکریں جو نسل اوررنگ کے اعتبارسے ہندوستانی ہوں لیکن ذوق، خیالات، اخلاقیات اور جملہ دینی میلانات کے لحاظ سے انگریز ہو۔”
بانی ٔپاکستان لارڈمیکالے کی اس سازش کوجان چکے تھے۔یہی وجہ تھی کہ محمدعلی جناح نے ڈھاکہ کے میدان میں فرمایا:”پاکستان کی قومی زبان اردواور صرف اردو ہوگی” اوراس کے ساتھ ساتھ بانی ٔپاکستان نے نظام تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہوئے 1947ء میں تعلیمی کانفرنس منعقد کروائی جس میں انھوں نے نظام تعلیم کی تشکیل کے لیے واضح ہدایات جاری کیں اور وطن عزیز کے لیے نظام تعلیم کے بنیادی خدوخال وضع کیے۔
بدقسمتی سے وہ اس دنیافانی سے کوچ کرگئے اور بعد میں تعلیمی نظام کے پالیسی سازوں میں لارڈ میکالے کی روح حلول کرگئی اورانہوں نے اس سے ملتا جلتا نظام متعارف کروایا اور بعد ازاں نافذ کردیا جو اب تک موجود ہے موجودہ تعلیمی پالیسی 2009-15ء میں پہلی جماعت سے انگریزی کی لازمی تعلیم لارڈمیکالے کی پالیسیوں کاتسلسل ہے۔ موجودہ تعلیمی پالیسی میں پاکستان اوراسلام کے بنیادی نظریات کوپس پشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ محمدعلی جناح کے افکار وخیالات کوبھی کوئی اہمیت نہیں دی گئی، جنہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہاتھا:
”میں واضح الفاظ میں یہ بتادیناچاہتاہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردوہ وگی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پرڈالنے کی کوشش کرے، وہ پاکستان کاپکادشمن ہے۔ ایک مشترکہ قومی زبان کے بغیرکوئی قوم نہ توپوری طرح متحدرہ سکتی ہے نہ کوئی کام کرسکتی ہے۔” یونیسکو میں چھپنے والی رپورٹ مذکورہ نازل شدہ عذاب کے نتائج کی کس طرح عکاسی کرتی ہے۔آئیے اسے اعداد و شمار کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں 15 فیصد بچے پہلی جماعت سے سکول چھوڑجاتے ہیں۔ 50 فیصد پرائمری پاس کرنے سے پہلے سکول سے بھاگ جاتے ہیں ۔صرف 10 فیصد میٹرک کاامتحان پاس کرپاتے ہیں ۔ایک فیصد بی اے کا داخلہ بھیجنے میں کامیاب ہوتے ہیں اوران میں 23 فیصد پاس ہوتے ہیں اورباقی زیادہ ترانگریزی میں فیل ہوجاتے ہیں۔یہ خطرناک اعدادوشمار انگریزی لازمی عذاب کانتیجہ ہیں۔
ایک محدود سروے کے مطابق دیہات میں پڑھنے والے بچوں میں 95فیصد صرف انگریزی زبان پر عبورنہ ہونے کی وجہ سے سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر آپ میٹرک میں فیل ہونے والے طلبا کاجائزہ لیاجائے تو ان میں سے تقریباً 80فیصد انگریزی کے مضمون میں فیل ہوتے ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کی صورتحال مزید ابترہے۔ ایک طالب علم 10 سے 12سال اردو نصاب پڑھتاہے ،پھر اچانک کالج پہنچ کر سب کچھ اردو کی بجائے انگریزی میں ہوجاتا ہے تو اسے سمجھ توکچھ نہ کچھ آجاتی ہے لیکن انگریزی کی وجہ سے وہ لکھ نہیں پاتا۔ پنجاب یونیورسٹی آرٹس کے طالب علم جو فیل ہوتے ہیں، ان میں97فیصد صرف انگریزی میں فیل ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نظام تعلیم اردو میں ہوتا کہ ایک عام طالب علم بھی آسانی سے علم حاصل کرسکے ، اس کے علاوہ انگریزی یا کوئی بھی دوسری زبان سیکھنا چاہے ضرور سیکھے بلکہ علم میں اضافے کے لیے جتنی چاہے زبانیں سیکھے۔
دنیا کی معزز قومیں ہمیشہ اپنی زبان پر فخر کرتی ہیں اور اپنی قومی زبان ہی کو اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بناتی ہیں۔ کبھی آپ نے دیکھا یا سنا کہ کسی چینی، جاپانی، فرانسیسی، جرمنی، مصری، ایرانی، روسی ، ترکی حکمران نے انگریزی زبان میں بات کی ہو۔ اقوام متحدہ میں تقریر کریں گے تو اپنی زبان میں، غیر ملکی دوروں میں اپنی زبان بولیں گے۔

ابھی پچھلے ہفتے ہونے والے UN کے اجلاس میں مودی نے ہندی میں تقریر کی جبکہ ہمارے وزیراعظم نے انگریزی میں کی حالانکہ ان کو تقریراپنی قومی زبان اردو میں کرناچاہئے تھی۔ بہت سے لیڈر انگریزی جانتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ اپنا مافی الضمیر اپنی زبان میں بیان کرتے ہیں اور انہیں اپنی زبان پر فخر ہےانگریزی کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ سائنسی علوم کا جو خزانہ انگریزی زبان میں ہے ۔ وہ آج کی کسی اور زبان کو حاصل نہیں لیکن غور کرنے کی بات ہے کہ اس خزانے کی بنیاد یونانی، لاطینی، عربی زبان میں لکھی گئی وہ کتابیں ہیں جو زمانہ قدیم میں دوسری قوموں اور دوسری زبانوں میں تخلیق ہوئیں۔ آج بھی بہت سی قومیں ان سائنسی علوم کو اپنی زبان میں منتقل کر کے اپنے بچوں کو اپنی زبان میں ان کی تعلیم دے رہے ہیں۔ فرانس، جرمنی، چین، جاپان، ترکی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
انسان ہمیشہ اپنی زبان میں ہی سوچتاہے۔ اگر آج پاکستان میں نظام تعلیم کی زبان اردو کردی جائے توایسے ایسے تخلیقی شاہکارپیدا ہوں جن کاہم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ تو وہ دن دور نہیں جب ہماری لائبریریاں ہمارے اپنے لوگوں اور اپنی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں سے بھر جائیں گی۔ یہی ہماری خود انحصاری اور ترقی کا نقطہء آغاز ہوگا۔ ہمارے نظام تعلیم کا دوسرا مسئلہ طبقاتی نظام تعلیم ہے اوریہ مسئلہ بھی انگریزی ذریعہ تعلیم کے بطن سے نکلا ہے۔
نورخاں رپورٹ نے پہلی دفعہ ”یکساں نظام تعلیم” کا انقلابی نعرہ لگایا۔ جس کامقصد یکساں نصاب تعلیم اور نظام تعلیم تھا۔ اس منصوبہ پر 1977ء میں ضیاء الحق کے دورمیں یکسوئی سے عمل کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے تعلیمی معاملات پرکئی کانفرنسیں ‘مذاکرے منعقد کروائے۔ ان کانفرنسوں میں تعلیمی ماہرین ‘دانشوروں اور صحافیوں نے کھل کراظہار خیال کیا۔ان اجتماعات کے نتیجے میں بڑی واضح سفارشات مرتب ہوگئیں اور بالآخر حکومت نے پاکستان میں یکساں نظام تعلیم اوریکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کافیصلہ کرلیا۔ اس فیصلے کے مطابق میٹرک تک ذریعہ تعلیم اردو قراردیاگیا اور انگلش کوبحیثیت ایک مضمون پڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ صدرضیاء الحق ایک کانفرنس میں اس تاریخ سازفیصلے کااعلان کرنے والے تھے۔اس فیصلے کے مطابق طبقاتی تعلیم کاخاتمہ ہوجاتا۔ اردومیڈیم ‘انگلش میڈیم اورمدارس کے تضادات مٹ جاتے۔
ملک سے تہرے نظام تعلیم کا خاتمہ ہوجاتالیکن طبقاتی تعلیم سے مستفید ہونے والے اورایچی سن کالج لاہور’ لارنس کالج گھوڑاگلی’ کراچی گرامر اور مشنری سکولوں کے کرتا دھرتا میدان میں آگئے اور سارے منصوبے کوملیامیٹ کردیا اور ضیاء الحق کویہ انقلابی اعلان کرنے سے روک دیا اور اسی سلسلہ نے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کی بنیادڈالی اور آج ہمارے ملک میں ایک دونہیں بلکہ تین قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہیں۔اول سرکاری سکول اس نظام کے تحت جو بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں،ان میں زیادہ تعلیم پوری نہیں کرپاتے، اس میں بہت ساری وجوہات ہیں ایک تعلیمی اخراجات کا برداشت نہ کرنا اورتعلیم میں عدم دلچسپی ہے۔
اس طرح وہ تعلیم کوخیرآباد کہہ دیتے ہیں اوران میں جو تعلیم پوری کرلیتے ہیں ،ان میں زیادہ تر کااتنالیول نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ڈھنگ کی جاب حاصل کرسکیں۔دوم انگلش میڈیم یہ وہ والاانگلش میڈیم جو ہمارے عام سکولوں میں رائج ہے جو ہمارے گلی محلوںمیں کھلے ہوتے ہیں۔جہاں سفید پوشوں کے بچے تعلیم حاصل کر تے ہیں۔ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کواچلا ہنس کی چال ،اپنی بھی بھول گیا۔ ایسے اداروں میں پڑھنے والے طالب علم نہ پوری طرح انگلش سمجھ پاتے ہیں نہ اردو۔
سوم آکسفورڈ ، کیمبرج نظام تعلیم یہ وہ نظام تعلیم ہے جہاں ہمارے امراء کے بچے پڑھتے ہیں۔ جہاں ان کو یہ باور کروایاجاتاہے کہ وہ دونوں نظاموں سے بہتر ہیں اوریہ ملک کے اچھے عہدوں پرفائزنظرآتے ہیں۔اس طبقاتی نظام تعلیم کے برے اثرات نے ہمارے معاشرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں الف انار ،ب بکری پڑھنے والے بچے ایلیٹ کلاس سکولوں ایجوکیٹر ‘ سٹی،ایل جی ایس ، روٹس اور امریکن لائسٹف میں پڑھنے والے بچوں کاکیسے مقابلہ کرسکتے ہیں۔
اگرہم حقیقی معنوں میں پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میںرکھناچاہتے ہیں توطبقاتی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔جب ملک میں یکساں نظام تعلیم ہوگااورملک کا بہت ساراٹیلنٹ جواس نظام کی بھینٹ چڑھ جاتاہے، وہ ملک کو ترقی کی راہوں پراستوار کرے گا۔ ہماری تعلیمی زبوں حالی کی تیسری اہم اور بڑی وجہ بے ہنگم نصابی تبدیلیاں ہیں۔اگرہم نظام تعلیم کی حالت پرغورکریں تواس کی عمارت چارستونوں پرکھڑی نظرآتی ہے ۔نصاب تعلیم ، تعلیمی ماحول ،طریقہ تعلیم وتدریس اور نظام امتحانات گویا ایک مضبوط تعلیمی عمارت کے لیے ان چاروں ستونوں کا اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم ودائم ہونا ایک مفیداورمضبوط نظام تعلیم کو ضمانت دے سکتا ہے۔ مگران چار ستونوں میں سب سے اہم جزنصاب تعلیم ہے اور وہ آئے روز غیر فطری اور غیر اسلامی تبدیلیوں کی زد میں رہتا ہے۔
استعماری قوتوں کااصل ہدف ہی ہمارے نصاب میں تبدیلیاں ہیں جس پراصل کام مشرف کے دور میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ زبیدہ جلال جسے امریکی صلیبیوں نے ”ونڈر فل لیڈی” کا خطاب دیاتھا۔ اس کے وزیر تعلیم ہوتے ہوئے ایس ڈی پی آئی (Sustainable Development Policy Institute) رپورٹ پیش کی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ نصاب کو ڈی اسلامائز اور سیکولرائز کیا جائے تاکہ اس کو پڑھ کر شدت پسند پیدا نہ ہوں۔ یہ بھی کیسی بدمعاشی ہے کہ لاکھوں مسلمانوں اور ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے قاتل امریکہ نے ایسی ملمع سازی کی اور ایسا پروپیگنڈہ کیا ہے کہ شدت پسند مسلمان ہیں۔ USAID نے فنڈ جاری کیے’ آغا خانیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اس وقت نصاب میں سے سورة التوبہ نکال دی گئی کہ اس میں جہاد کا ذکر ہے اور جس سے شدت پسندی پھیلتی ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں شاید وہ نمک حلالی نہیں ہو سکی جو اس حکومت نے اپنے دور میں کر دی ہے۔ عمرt نے عیسائی منشی رکھنے سے انکار کردیا مگر یہاں مائیکل باربر(برطانیہ) اور ریمنڈ بینجمن اور ڈینم (امریکہ) کو مشیران تعلیم کے طور پر رکھا گیا اور نتائج نکلنا شروع ہو گئے۔ رفتہ رفتہ ان اسباق کو نکال دیا گیا ہے جن سے اسلامی غیرت کی جھلک ظاہر ہوتی ہو۔
ان تبدیلیوں کامقصد یہی تھاکہ تاریخ اپنی اقدار سے محروم کر دیا جائے۔ تاکہ وہ بآسانی مغرب کی خدا فراموش تہذیب کالقمہ تربن جائے اورپاکستانی بچوں کے اذہان وقلوب سے ابوبکر وعمر]کے کردار کوختم کر کے سیزراور نپولین کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ مسجد سے تعلق کاٹ کر کلب سے تعلق جوڑدیاجائے۔ قرآن کی تلاوت سے ہٹاکرموسیقی وراگ کی طرف لگایا جائے۔ جہاد کے میدانوں سے نکال کر کھیلوں کے میدان میں انہیں صلاحیتیں دکھانے پرراضی کر دیا جائے۔ حسان بن ثابتt کی شاعری کی بجائے ورڈز ورتھ،ولیم بلیک جسے لوگوں کی شاعری پسند کریں۔ ان کے ہیرو خالدبن ولید،صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم نہیں بلکہ شکسپئر،روس اور بھگت کبیر کی زندگی ان کے لیے مشعل راہ بنے ۔چنانچہ اس کے لیے منصوبے بنائے گئے۔
نصاب سے اہم ابواب کا خاتمہ بچوں کو حقائق سے دور کرتا جارہا ہے، ہمارے طلبا پہلی سے آٹھویں کلاس تک جو کتابیں پڑھتے ہیں ان کی اردو کی کتاب میں مسلمانوں کے کارنامے سرے سے درج ہی نہیں، معاشرتی علوم میں سندھ کو باب الاسلام بنانے والا فاتح کون ہے ہمارے طلبا کو نہیں معلوم۔ راشد منہاس نے کم عمری میں کیا کارنامہ انجام دیا، ٹیپو سلطان نے حملہ آور فرنگیوں کے خلاف کیا جدوجہد کی، موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی معلومات اور پاکستان کو حاصل کرنے میں کن لوگوں کی کیا کیا قربانیاں شامل ہیں ان سب سے ہمارے آج کے طلبا نابلد ہیں۔ ہمارے حکمران اور اساتذہ مستقبل کے ان معماروں کو جابن بن حیان، ابن تیمیہa اور ابن قاسمaنہیں بناسکتے نہ بنائیں کم از کم اتنی مہربانی تو کریں کہ انہیںکچھ پڑھ لکھ کر معزز اور مفید شہری تو بننے دیں۔

نائن الیون کے بعدمغربی استعماری قوتوں کے جو اہداف تھے ،وہ پورے نظرآرہے ہیں۔یہی وجہ ہے جس نوجوان کو اسلام کامجاہد بنناتھا۔ آج وہ مغربی تہذیب میں رنگا نظرآرہاہے۔ مسجدوں کی بجائے دھرنوں میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتادکھائی دیتاہے اوراس بات کا نعرہ لگاتاہے”تبدیلی آرہی نہیں بلکہ تبدیلی آچکی ہے” اور واقعی یہ حقیقت ہے کہ تعلیمی نظام کی تبدیلی سے جو تبدیلی آنی تھی وہ آچکی ہے۔
تحریر:ثاقب مجید
