رنگ ،خوشبو، گلاب بھیجے ہیں
اُس نے خط میں سراب بھیجے ہیں
درد و غم،حسرتوں ، جفائوں کے
سلسلے بے حساب بھیجے ہیں
حال کی تلخیاں بڑھانے کو
بِیتے لمحوں کے خوان بھیجے ہیں
یا تو وہ خود بھی کچھ پریشاں ہے
یا مسلسل عذاب بھیجے ہیں
میری معصوم سی وفائوں کے
اُس نے سارے جواب بھیجے ہیں

تحریر: ساحل منیر
