Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

فرض شناسی جرم ٹھہرا

May 17, 2017 0 1 min read
Copy in Exam
Copy in Exam
Copy in Exam

تحریر : ملک محمد سلمان
گورنمنٹ کالج چک نمبر 09 تحصیل کوٹ مومن ضلع سرگودھا میں نقل اور بے قاعدگیوں کی عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر کوٹ مومن عفت النسائ 11 مئی کو تقریباً ساڑھے 10 بجے چیکنگ کیلئے امتحانی سنٹر پہنچی۔ دوران چیکنگ امتحانی سینٹر کے ریزیڈنٹ انسپکٹر اظہر علی شاہ نے اسسٹنٹ کمشنر کو روکا کہ آپ سنٹر چیک کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ آپ گریڈ 17 کی آفیسر ہیں جبکہ ہم لوگ گریڈ 19 اور 20 کے افسران ہیں لہذا آپ ہمیں چیک نہیں کر سکتی ہیں۔(ویسے میری ناقص رائے کے مطابق کالج لیکچرر بھی گریڈ 17کا ہی ہوتا ہے جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر بالترتیب گریڈ اٹھارہ اور انیس کے ہوتے ہیں۔)

اسسٹنٹ کمشنر لیکچرر اظہر شاہ کے ناروا سلوک کی شکایت کیلئے پرنسپل آفس پہنچی تو پرنسپل موجود نہ تھے ،آفس کلرک نے ٹیلی فون کے زریعے پرنسپل سے رابطہ کروایا۔ اظہر شاہ کو جیسے ہی اسسٹنٹ کمشنر کی شکایت کا پتا چلا تو سخت غصے میں آگیا اور اسسٹنٹ کمشنر کو سبق سکھانے کا سوچ لیا اور ساتھی لیکچررز اور آفس سٹاف سے ملکر” میڈم کا غصہ ٹھنڈا کرنے” کی چال چل دی۔”میڈم آپ ناراض نہ ہوں بیٹھ کر پانی پئیں ”آفس کلرک نے کمال مہارت اور اسرارکے ساتھ اسسٹنٹ کمشنرکو پرنسپل کی غیر موجودگی میں ان کی چئیر پر بیٹھا دیا اور ساتھ ہی تصاویر اتارنا شروع کردیں۔ سوال یہ ہے کہ آفس سٹاف کو کیا حق حاصل ہے کہ ذاتی موبائل سے خاتون آفیسر کی تصاویر بنائے۔
یہی موقع چاہئے تھا اظہر علی شاہ نے ساتھی لیکچررز کے ہمراہ پرنسپل کے کمرے داخل ہوتے ہی اسسٹنٹ کمشنر کا گھیرائو کر لیا اور کرخت آواز میں بدتمیزی شروع کر دی۔ اچانک افتاد ٹوٹنے پراور اظہر شاہ کے شدید عزئم دیکھ کر خاتون اے سی خوف زدہ ہوگئی اور اپنے دفاع کے لئے پولیس طلب کرنا پڑی۔ ایس ایچ او ظفر شاہ نے موقع پر پہنچ کر فریقین کو ٹھنڈا کیا اور تعلیمی ادارے کا ماحول خراب نہ ہو اس لئے تھانے جاکر معاملہ حل کرنے کو کہا۔ تھانے میں وقتی صلح کے بعد دونوں فریق چلے گئے۔

تقریباًتین بجے اظہر علی شاہ لیکچررز،پروفیسرز وکالج عملہ کے ہمراہ جلوس کی شکل میں کچہری کوٹ مومن سرگودھا روڈ پر آئے اور روڈ بلاک کر دی اور اسسٹنٹ کمشنر کی رہائش گاہ کے مین گیٹ پر آ کر گیٹ کو ٹھڈے مارے اور زور زور سے آوازیں دیتے رہے کہ باہر نکلو آج ہم تم سے نمٹ لیتے ہیں۔ مسلسل دو گھنٹے خاتون اے سی کی رہائش گاہ کا گھیر ائو کرکے کچہری روڈ کو بلاک کیے رکھا اور ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ کل کالج کے تمام طلبا اور اساتذہ کو اکٹھا کر کے پورے شہر کے روڈ اور موٹر وے بھی بلاک کریں گے۔

ایک طرف یہی اساتذہ ا سٹوڈنٹس کو بنیادی طلباء سیاست کا حق دینے کو تیار نہیں ۔دوسری طرف اپنے ذاتی دشمنی اور انا کی تسکین کیلئے پر تشدد کاروائیوں اور سڑکیں بلاک کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ایک خاتون پر اس قدر شرمناک الزامات لگانا اور واہیات گالیاں بک کر اساتذہ قوم کے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔موصوف لیکچرار تو بن گئے مگرانسانیت کے اساتھ ساتھ شائد محکمہ تعلیم کے قوانین کوبھی بھول گئے یا پھر وہ خود کو اتنے اعلیٰ گریڈ کا حامل سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔

لیکچرار صاحب کے علم میں جانے یہ بات کیوں نہیں ہے کہ میٹرک اورانٹرمیڈیٹ امتحانات کے سپرنٹنڈنٹ گریڈ 16اور 17کے آفیسرزہی ہوتے ہیں ۔جناب اظہر شاہ آپ کے مقابلے میں کسی مڈل سکول میں گریڈ سولہ کے ایس ایس ٹی امتحانی سینٹر کے سپرنٹنڈنٹ ہوتے ہیں،آپ کی معلومات میں اضافہ کیلئے بتاتا چلوں کہ حالیہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بیسوں امتحانی سینٹر ز کے سپرنٹنڈنٹ گریڈ 14کے ای ایس ٹی ہیںاور بورڈ کی طرف سے امتحانی سینٹر کی چیکنگ کیلئے مقرر کردہ موبائل انسپکٹر کی اکثریت گریڈ 17کے اساتذہ پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ بورڈ کی طرف سے انتہائی حساس اور اہم نوعیت کی ذمہ داری ڈسٹریبیوشن انسپکٹر جو کہ تحصیل کے تمام سینٹرز میں پیپر پہنچانے اور وصول کرنے کی ذمہ داری بنھاتا ہے وہ بھی گریڈ 17کا ہی ایک استاد ہوتا ہے۔
پنجاب سول سرونٹ ایکٹ 2016کے تحت اے سی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی تحصیل کے اندر واقع کسی بھی ادارے کا دورہ کر کے اس کی کارکردگی کا جائزہ لے۔

اگر یہ سینٹر نقل میں ملوث نہیں تھا تو پھرلیکچرر اظہر شاہ کو سینٹر وزٹ کروانے میں کیا پرابلم تھا۔ سینٹر وزٹ کرنے سے روکنے کیلئے اس حد تک چلے جانے سے یہ بات کنفرم ہوتی ہے کہ دال میں کچھ کالاضرورتھا۔رہی بات اے سی کی پرنسپل کی کرسی پہ بیٹھنے کی تو وہ خود بیٹھی ہیں یا انہیں اسرار کرکے کہ بٹھایا گیا ہے وجہ جو بھی ہوخاتون آفیسرکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مگر اس سے بھی زیادہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی بات یہ ہے کہ اک خاتون آفیسر کا گھیرائو صرف اس بات پہ کر لیا جائے کہ وہ آپ کو چیک کرنے آ گئی ہیں اور پرنسپل کی کرسی پہ بیٹھ گئیں ہیں۔ اسے گالیاں دی جائیں، دھمکیاں دی جائیں اور اس کے خلاف جھوٹے الزامات کا ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا پر معزز خاتون آفیسر کو”غندی رن”جیسے شرمناک القابات سے پکارا گیا،گدھی پر عفت النساء لکھ کر اسے جوتوں کے ہار پہنا کر سڑکوں پر گھمایا گیا اور اس قدر زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ایس ایچ او کو اے سی کا خاونند مشہور کر دیا گیا۔کوئی بھی مہذب معاشرہ اور قانون کسی بھی جرم میں کسی خاتون کے ساتھ اس قدر شرمناک سلوک کی اجازت نہیںدیتا۔اساتذہ جو تعلیم و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ،ان کی غیر ذمہ داری کا یہ عالم ہے کہ وہ ان گھٹیا اور شرمناک افعال سے اپنے طلبہ پر انتہائی برے اثرات مرتب کر رہے ہیں ان کے زیرسایہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے دیانتداری ،فرض شناسی،اخلاقیات اور حب الوطنی کی امید کیونکر کی جاسکتی ہے۔
شنید ہے کہ اظہر شاہ پارٹ ٹائم صحافی بھی ہیں ،موصوف سے پوچھا جائے کہ وہ کس قانون کے تحت صحافت کرتے ہیں۔بدقسمتی سے صحافت میں” بلیک میلنگ ”آوارہ سرکاری ملازمین ہی کی ایجاد ہے۔ یہ پارٹ ٹائم صحافی اپنے ادارے کی جاسوسی کرتے ہیںاور افسران کی کمزوریاں تلاش کرکے انہیں بلیک میل کرتے ہیں۔،یہ بلیک میلراپنے سرکاری اداروں پرخود ہی لنکا ڈھاتے ہیںاور افسران کی کمزوریوں کی وجہ سے اداروں میں من مانیاں کرتے ہیں۔

گورنمنٹ کو چاہئے کہ سرکاری ملازمت کے ساتھ پارٹ ٹائم صحافت کرنے والے جاسوسوں کے خلاف بھرپور قانونی کاروائی کی جائے تاکہ اداروں کی پرائیویسی اور تقدس قائم رہ سکے۔چاہیے تو یہ تھا کہ خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش اور اسے حبس بے جا میں رکھنے پر مدرس کا لبادہ اوڑھے ان قانون شکنوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جاتی مگراپنی عددی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اساتذہ کمیونٹی نے ایک ایماندار آفیسر کے ساتھ ہونے والے قابل افسوس واقعہ کی مذمت کرنے کی بجائے اپنی کالی بھیڑ کو ہیرو بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ آخر کار وہی ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے قانون ہار گیا اور احتجاجی سیاست جیت گئی۔خاتون آفیسر کو ناکردہ گناہوں کی معافی مانگنا پڑی۔ پیغمبرانہ پیشہ تعلیم کو ایمانداری اور خلوص نیت سے سرانجام دینے والے معزز اساتذہ کی جوتیاں بھی سر آنکھوں پرمگرتعلیم جیسے مقدس پیشے کو لوٹ مار،نقل مافیا میںبدلنے والے اساتذہ قطعی عزت و اکرام کے حقدار نہیں بلکہ ان کے تمام قانون شکن کام قابل مواخذہ ہیں۔

بدقسمتی سے کالجز کے لیکچرراور پروفیسرزتدریسی اوقات میں غیر تدریسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نطرآتے ہیںجبکہ انہیں طلبہ کو کالج اوقات کے بعد اپنی نجی اکیدمیز میں بھاری فیسوں کے عوض تعلیم دیتے ہیں۔ان ”ٹیوشن مافیا اساتذہ” کی نجی اکیڈمی نہ جانے والے طلباء زیرِعتاب نظر آتے ہیں اوراس جرم کی پاداش میں انہیں مختلف بہانوں سے شدید ذہنی اذیت کا شکار کیا جاتا ہے اوربورڈ یونیورسٹی کا داخلہ تک روکنے کی گھٹیا حرکات بھی کی جاتی ہیں۔ہر سال پرائیویٹ بی ایس سی کرنے والوں کوگورنمنٹ کالجز سے عملی امتحان کے ہزاروں تصدیقی سرٹیفیکٹ دیے جاتے ہیں۔جبکہ ان بچوں نے تو کبھی پریکٹیکل لیب تک نہیں دیکھی ہوتی مگر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے دوہزار سے لیکر پانچ ہزار فی سرٹیفیکیٹ کی لوٹ سیل لگائی ہوتی ہے۔پانچ ہزار دے دو اور تصدیقی مہر ثبت کروالو۔ایک طرف یہ عالم ہے کہ طلباء کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ نہیں مل رہا ہوتا تو دوسری طرف کالج پروفیسرز کی دوسروں شہروں میں قائم اکیڈمیزمیں پڑھنے والے کالج دیکھے بن ہی ریگولر داخلہ کے اہل ہوجاتے ہیں ۔اپنی اکیڈمی کی شہرت کو چار چاند لگانے اور من پسند نتائج حاصل کرنے کیلئے امتحانی سینٹرز کو نقل سنٹر میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے لاکھوں ذہین اور مستحق طلباء میں لیپ ٹاپ کی تقسیم سمیت فروغ تعلیم کیلئے کیے جانے والے اقدامات قابل تحسین اورمثبت پیش رفت ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے سابقہ دور حکومت میں نقل مافیا کے خلاف بھرپورکاروائی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں سے اس لعنت کا خاتمہ کیا تھا۔وزیر اعلیٰ صاحب آپ کا خواب پڑھا لکھا پنجاب اور میرٹ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی نقالی مافیا ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ قوم کو مایوس نہیں کریں گے اور پہلے سے بھی زیادہ مستعدی سے ان تعلیم دشمن عناصر کے خلاف بلا رعایت و تفریق کاروائی عمل میں لائیں گے۔جب تک سرکاری اساتذہ کی صحافتی سرگرمیوں اور نجی تعلیمی ادروں میں تدریس پر عملی طور پر پابندی نہیں لگائی جاتی تب تک تعلیمی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

Malik Salman
Malik Salman

تحریر : ملک محمد سلمان
maliksalman2008@gmail.com

Share this:
Tags:
checking College committed copy Crime Malik Salman جرم چیکنگ فرض شناسی نقل
Pakpattan
Previous Post پاکپتن آباد کی خبریں 17/5/2017
Next Post حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے
Sad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close