Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

الہامی تخلیق

August 18, 2014August 18, 2014 0 1 min read
Punjabi Poet
Employment
Employment

نابغہ ء روزگار حضرت خواجہ غلام فرید علیہ رحمت کا سرائیکی کلام مقبول خاص وعام ہے۔آپ کا کلام سرائیکی وسیب کی تشبیہات، تلمیحات،استعارات اور داستانوں کا گنجینہ ہے۔ یہ بات درست ہے کہ خواجہ فریدعلیہ رحمت کا کلام 1879ء ہجری سے آج تک انتخاب اور دیوان کی صورت میں تسلسل سے شائع ہوتا آرہاہے اور یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ نامورسکھ صحافی اور ادیب دیوان سنگھ مفتون کے مشورے پرنواب صادق خان نے خواجہ فریدکے کلام اور کافیوں کو محفوظ کرنے کے لئے جید اہلِ علم پر مشتمل ایک اعلی سطحی کمیٹی دبیرالملک مولیناعزیزالرحمن کی سربراہی میں قائم کی جس میں کلام فرید کے مختلف مخطوطے جمع کرکے ایک جامع دیوانِ فرید مرتب کیاگیا۔جو بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کمیٹی نے اس وقت کی تعلیمی پیش رفت کے مطابق مخصوص سرائیکی حروف ،املاء اور صورتِ خطی کے ذریعے سرائیکی زبان کایہ شہکار مرتب کیا۔اس دیوان میں انسانی سہو کے تحت کہیں کہیں عصرِحاضر کے رائج الوقت رسم الخط اور کہیں بعض سرائیکی الفاظ کی املا ء میں کمی بیشی تو ہوسکتی ہے لیکن اسے بہ یک جنبشِ قلم مسترد نہیں کیاجاسکتا۔کیونکہ آج سرائیکی رسم الخط اس دو ر کے مذاق اور مزاج سے قطعاًمختلف صورت اختیار کرچکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سرائیکی ناقدین اور ماہرینِ فریدیات نے”دیوانِ فرید”کی تشکیل ِجدید کی کوشش کی ہے اور بعض الفاظ ومصاریع کے متن اور فصاحت کے بارے میں بھی اپنی رائے قائم کی ہے۔

اس حوالے سے مولانانوراحمد فریدی نے دوجلدوں میں شرح ”دیوان ِفرید”لکھی اور کہیں کہیں متن پر اظہارِ خیال بھی کیا ۔اسی طرح مہر عبدالحق نے موضوعات کے حوالے سے”دیوان ِفرید”کو”پیامِ فرید”کے نام سے مرتب کیااور کہیں کہیں متن کی درستی بھی کی۔علاوہ ازیں ایک ایک نسخہ صدیق طاہر اور شفقت تنویر مرزانے مدون کیااسی طرح ڈاکٹرجاوید چانڈیونے کچھ دواوین کے تقابل کے حوالے سے ایک ”دیوانِ فرید”مرتب کیا۔مذکورہ بالا معتبر ماہرین ِفریدیات کے بعدجن لوگوں نے کام کیا انھوں نے اپنی اپنی مرضی کے مطابق متن میں خوب تبدیلیاں کیں اور متن میں خوردبرد کے مرتکب ٹھہرے۔جیساکہ قیس فریدی نے ”دیوانِ فرید”مرتب کیا تواکرم قریشی نے اسے”محرف دیوانِ فرید”کے نام سے بانوے صفحات پر مشتمل ایک خوبصورت تبصرہ کیا۔

اسی طرح ہمارے محترم اکرم قریشی نے آصف خاں پنجابی کے مدون کیے گئے دیوان بعنوان ”آکھیاخواجہ فرید نے”کو”ممسوخ دیوان ِفرید”کانام دیا۔جب محترم طاہر محمودکوریجہ نے ایک نسخہ ”دیوانِ فرید”بمطابق ہائے قلمی نسخہ جات مرتب کیا توہمارے ممدوح اکرم قریشی نے”ڈودیوانیں داتقابلی جائزہ”کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا کیا جس میں چھ سومصاریع کی اغلاط کی نشاندہی کی گئی۔جسے ماہرینِ فریدیات نے سراہا۔یادرہے اکرم قریشی نے 2001ء میں ”مستنددیوانِ فرید”مرتب کر کے سجادہ نشین دربارِفریدحضرت معین الدین المعروف محبوب سائیں کوریجہ سے ”پاسبانِ فرید ”کا ایوارڈحاصل کیا۔بعد ازاں موصوف نے فریدیات کے ادق موضوع(عروض)پر”اوزانِ فرید”کے نام سے ایک شاہکار تصنیف تالیف فرمائی۔

دریں اثنامجاہد جتوئی جو سرائیکی تحریک کے رہنمائوں اور قوم پرستوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔سیاسی رہنما اور ورکر کی حیثیت سے جن کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ان سے ایک نظریاتی تبدیلی آئی۔جس کے مطابق انھوں نے دربارِ فرید کو اپنا مرکز بنایا اور خواجہ فرید میوزیم قائم کیا ۔اس کی تعمیروترقی کے لیے خواجہ فرید فائونڈیشن کی بنیاد رکھی۔درآں حالیکہ اسے خواجہ فرید کے کلام کے متعددمخطوطے دستیاب ہوئے توانھوں نے کلامِ فرید کے متن کا بیڑااٹھایا۔

اس وقت کلامِ فرید کے حوالے سے جو قلمی نسخہ جات موجود ہیں ان میں میاں جی برخوردار،نبھاہوفقیر،مولانافقیراﷲ،مولانا حدادداجلی کواولیت حاصل ہے اور دیگر قلمی نسخہ جات تحقیق کی بنیاد بنائے جاسکتے ہیں ۔لیکن ان میں بھی کسی ایک نسخہ کوبغیر استدراک کے ترجیح نہیں دی جاسکتی۔ان نسخہ جات سے استفادہ کے لیے محقق کا ذوقِ سلیم شاعری اور موسیقی پر دسترس اور اس کاناقدانہ شعور چراغ ِراہ کا درجہ رکھتا ہو۔اس حوالے سے کوئی نابغہ ذہن یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ فلاں لفظ کی جگہ درج فلاں لفظ مستحسن ہے۔

بہتر تو یہ تھا کہ کوئی کمیٹی وجود میں آتی کوئی بورڈ تیار ہوتالیکن اس کے برعکس مجاہدجتوئی نے سات سالوں کی محنت ِ شاقہ اور بشارتوں کے ذریعہ سے” دیوانِ فرید باالتحقیق”مرتب و مدون اورشائع کرانے میں کامیاب ہوئے۔ملک بھر میں اس کی اس تحقیقی کاوش کا خیر مقدم کیا گیا اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔مگر کچھ عرصہ بعد فریدیات کے ماہرین نے دیکھا تو اس میں بہت سے مقامات ِجنبش ابروموجود تھے۔جن کی نشاندہی پر مجاہد جتوئی پر ضمیر فروشی،ایجنٹی ،وطن فروشی اور فرید دشمنی کے فتوے صادر کیے گئے اور سوشل میڈیا پر رکیک آمیز اور یاوہ گوئی بھی نظرسے گزری ہے۔

حالانکہ علم وتحقیق کا معاملہ ہمیشہ ذاتی اختلافات اور مخاصمت سے پاک ہوتا ہے۔ دریں بارہ تنقیدوتحقیق کے حوالے سے ہم محترم ظہوردھریجہ سے بحیثیت ماہرِفریدیات نادم ہیں کیونکہ پہلی فرصت میں دھریجہ صاحب نے تحریری طور پرمجاہد جتوئی کے مرتبہ دیوان پر مثبت تنقید کر کے ہم سے سبقت لے گئے۔بعدازں ”جواب ِآں غزل”کے طور پر مجاہد جتوئی کا پمفلٹ”رازنامہ ” بھی موصول ہوا۔ہمیں تو پہلے ہی سے”دیوانِ فرید باالتحقیق ”کے متن کیا؟بعض مصاریع پر بھی تامل ہے اوراس مرتبہ دیوان فرید میںمجاہد جتوئی نے متن کی اغلاط کے ساتھ ساتھ فکری مغالطے بھی پیدا کیے ہیں ۔راقم الحروف کی نظر میں مجاہدجتوئی کی یہ تخقیق صرف اورصرف خواجہ طاہر محمود کوریجہ سے معاصرانہ چشمک کا شاخسانہ ہے۔

اگر یہ معاصرانہ چشمک نہ ہوتی تو مجاہد جتوئی کو متن کی تحقیق کی ضرورت نہ تھی کیونکہ اکرم قریشی کا مرتبہ دیوان بعنوان ”مستند دیوانِ فرید” پہلے ہی سے فرید لائبری اور اعلی درس گاہوں میں موجود تھا۔مجاہدجتوئی ”مستنددیوان ِفرید”اور مولانا فقیراﷲکے قلمی نسخہ کے فریفتہ تھے۔بہت سی نجی محفلوں میں مجاہدجتوئی مذکورہ دواوین کے متن پر اَش اَش کر اُٹھتے۔ان میں سے کسی ایک کا ترجمہ کر دیتے جو اپنی سلاست اور سہل ہونے کی وجہ سے امر ہوجاتا۔راقم اور ممدوح کے درمیان قدرِمشترک ہمارے ممدوح بابا راز تاجدار اور اکرم قریشی تھے۔

محقق مجاہدجتوئی اکرم قریشی کا احترام حدود وقیود کوبالائے طاق رکھ کر جیسے انھوں نے موصوف سے تلمذتہ کیا ہوکرتے تھے اور ہماری بھی یہی حالت تھی اور آج تک ہم ایک دوسرے کا احترام اپنے تیئں واجب سمجھتے ہیں۔لیکن علمی وادبی ،تنقیدوتحقیقی کاموں میں مصلحت قوم وسیب،زبان اور ثقافت کے لیے نہ صرف مضرت ہے بلکہ سِم قاتل کے مترادف ہے۔آج کل ”شہر بھنبھور ”یا”تحت لہور”کی ابحاث زوروں پر ہیں ۔اِسی سلسلے میں مجاہد جتوئی نے ”رازنامہ”شائع کر کے عوام الناس اور ماہرین ِفریدیات کو ارسال کیے۔اِس ”راز نامہ”سے بہت سے راز افشاء ہوئے ہیں ۔”دیوانِ فریدباالتحقیق”کی رونمائی سے لیکر دیوان کی ساٹھ عددپزیرائی تک کا ذکر کیا گیا ہے۔تقریب رونمائی میں موجود محققین اور ماہرین فریدیات سے”دیوان فرید باالتحقیق کی تعریف کا ذکر کیا گیا ہے۔

Punjabi Poet
Punjabi Poet

جوکہ دروغ گوئی ہے۔تقریب ِ رونمائی میں ضیاء اﷲ سیال اور حیدر جاوید سید نے تقاضا پیش کیا کہ مجاہد جتوئی کوفریدیات پر اعزازی PHDکی ڈگری عطاکی جائے۔استاد اسلم رسول پوری نے ایک فوٹواسٹیٹ شدہ کافی پر سیرحاصل کچھ لفظ چھوڑے۔میر جاوید چانڈیونے کہا جب ہم نے ”دیوانِ فریدباالتحقیق”کا ایک مصرع تک نہیں پڑھاتبصرہ کیا کریں ۔فضل فرید لالیکانے کہا”بس خواجہ فرید ساڈی سانجھ نیں”اور ڈاکٹر شہزاد قیصر نے اپنی ایک آزاد پنجابی نظم سنائی یہ تقریب کا آنکھوں دیکھا حال ہے ۔جتوئی صاحب اگر یقین نہ آئے تو پھرریکارڈنگ سن لیں۔

علاوہ ازیں ”رازنامہ”میں منقولہ دلائل رقم کیے گئے ہیں۔جو سراسرمحقق کی مخالفت کرتے ہیں ۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سات سالہ محنت ِ شاقہ نے مجاہد جتوئی کو اس قدر تھکا دیا ہے کہ وہ اپنے پیش کردہ دلائل کوسمجھنے سے قاصر ہیں یا تووہ تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہے ہیں ۔ہاں یا تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ثقہ ماہرین ِ فریدیات پر محبوب سائیں کی بشارت کوفوقیت دے رہے ہوں مگر۔۔۔!

وہ”رازنامہ”کے صفحہ نمبر٤ پر رقم طراز ہیں۔ صوفی قادربخش کے قلمی نسخہ اندازاََ1880ء میں اسے”شہربھنبھور”لکھ کر پھر اسے کاٹ ک تصحیح”تخت لہور”سے کی گئی ہے۔مولانا حدادداجلی نے اسے ”شہربھنبھور”لکھا ہے میاںجی برخوردار حضرت خواجہ غلام فرید کو فارسی پڑھانے والے استاد میانجی برخوردارمستوئی ساکن چاچڑاں شریف کے نقل کردہ نسخہ دیوان ِفرید 1302ھجری یعنی تیرہ سو دوھجری بمطابق1884ء یعنی خواجہ فرید کا وصال 1319ھجری بمطابق 1901ء سے 17برس قبل میں اور نبی بخش مرکنڈکے قلمی نسخہ 1314ھجری اور نبھاہوفقیرکے دو عددقلمی نسخہ جات میں ”تخت لہور”لکھا ملا۔

اس کے آگے رقم طراز ہیں کہ! میانجی برخوردار کے پوتے میاں جی غلام محمد کے قلمی نسخہ جا ت میں بھی وضاحت وصراحت کے ساتھ”تخت لہور ”لکھا پایاگیاہے۔ان قریب المکان اور قریب الزمان لوگوں پر کسی کاتب کو ترجیح کیسے دی جاسکتی ہے؟۔۔۔۔(مجاہدجتوئی) قارئین کرام ! نسخہ صوفی قادر بخش 1880ء کا لکھا ہوا ہے۔میاں جی برخوردار نے چارسال بعد یعنی 1884ء میں اپنا قلمی نسخہ مکمل کیا ۔نسخہ ء صوفی قاف ب ”شہربھنبھور”درج ہے اور میاں جی کے نسخہ سے چار سال پہلے !ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ”شہربھنبھو ر”مذکورہ شعر میں الہامی ہے۔اس کے مقابلے میں میا ں جی برخوردار کے نسخہ میں ”تخت لہور ”تکلف کی صورت میں ہے۔علاوہ ازیں اصول ِتحقیق میں کسی حوالہ کو نظر انداز کرنا بددیانتی کے مترادف ہے۔محقق برخوردار سے میاں جی غلام محمد تک تو چلے آئے افسوس مولانا فقیر اﷲکو نظرانداز کر دیا گیاہے۔جو میاں جی غلام محمد کے باپ ہیں اور برخوردار کے لختِ جگر بھی اور ہم مکتب وہمزمانِ فرید بھی ہیں ۔

قارئین کرام! مولانا فقیراﷲکو اس لئے نذر انداز کیا گیا ہے کہ اس کے قلمی نسخہ میں ”شہر بھنبھور”درج ہے اور یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیٹے نے باپ کے تکلف ”تخت لہور ”کو نا پسند کیا اور خواجہ فرید کے الہام ”شہر بھنبھور ”کے قائل ہوئے اور درج بھی کر دیا۔ بنابریں !نبھاہو فقیر کے ایک نسخہ میں ”لہور”اور دوسرے میں ”لہوڑ”اور تیسرے میں ”بھنبھور”درج ہے۔جب کہ اس وقت رائے ثقیلہ متعارف توہوئی ہو گی لیکن مروج نہ تھی۔یاد رکھیئے کہ مندرجہ ”لہوڑ”بھی تکلف کی علامت ہے۔ہم کسی کے تکلف کو الہام پر کیونکر ترجیح دیں ۔محقق خود رقم طراز ہیں کہ ہم زمان فرید مولاناحدادداجلی نے ”شہر بھنبھور”مولانا عزیز الرحمان کی کمیٹی نے شہر بھنبھور ”پر اتفاق کیا تھا ۔مولانا نور احمد فریدی ،مہر عبدالحق،شفقت تنویر مرزا ،صدیق طاہر ،میر جاوید چانڈیو،قیس فریدی(جسے مجاہدجتوئی استاد قیس فریدی کے نام سے یاد کرتے ہیں )نسخہ اکرم قریشی (جسے مجاہدجتوئی استاد کہا کرتے تھے

جس کے بارے میں رقم طراز ہیں ”استاد اکرم قریشی نے ہمیشہ اپنے لکھے کا دفاع کیا اور ہمارے استدلال کو ہذیان سے رد کر دیا ۔مسئلہ ان کی ذات کا نہ تھا ادب کا تھا خواجہ فریدکا تھا۔آج جس کا جی چاہے ماہر ِفریدیات بن جائے کلام ِفرید کا خدائی محافظ سرکار فریدکے پاس جاچکے ہیں)اور متعددمتداول دواوین میں لفظ ”شہر بھنبھور ”درج ہے۔

قارئین کرام منقول دلائل سے ثابت ہوا کہ شعر میں ”شہربھنبھور”خواجہ فرید کی الہامی تخلیق اور ”تخت لہور”میانجی برخوردار کا تکلف ہے اور ”تخت لہور”کا اصرار ماہرِفریدیات کی منطق سے باہر ہے۔ مزیدبرآں صفحہ نمبر٤ پر محقق رقم طراز ہیں کہ معقول دلائل میں ”رتھ”ایک فیصلہ کن شکل میں سامنے آتا ہے۔جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی صحرائی ،ریگستانی خطے کی بات نہیں بلکہ میدانی خطے کا حوالہ ہے۔”رتھ”سنسکرت زبان میں ایسی گاڑی کو کہا جاتا ہے جسے ایک سے زیادہ بیل گھوڑے کھینچیں ”رتھ”کی سراسرصحرا،تھل ،ریگستان اور پھر کیچ مکران کے پہاڑوں میں کوئی افادیت نہیں ۔کیونکہ یہ پہیہ دار سواری ہے۔

(مجاہدجتوئی) قارئین کرام !”رتھ”دیومالائی تصورات اور ہندی اساطیر میں ایک سواری کا استعارہ ہے۔جس پر کرشن جی مہاراج بیٹھ کر سیر ِافلاک کیا کرتے تھے ۔تاہم اس وقت سماجی زندگی میں بھی ”رتھ”کی ایک صورت موجود تھی۔جس کو ہمارے ہاں بگھی کہا جاتا ہے۔لیکن خواجہ فرید کی کافی میں”رتھ”کا استعمال کرشن جی مہاراج کی داستان کے پسِ منظر میں ہے ۔جبکہ سسی،پنوں کی داستان میں ”رَتھ”بطور استعارہ بلیغ استعمال ہوا ہے۔جس کا مطلب صحرائی جہاز ہے ۔کیونکہ خواجہ فریداونٹ کی سواری اور ناقہ سوار کو اچھی علامت کے طور پر دیکھتے تھے۔اونٹوں کے پائوں میں گھنگھرواور گلے میں گھنڈیاں (جرس)ہوا کرتی تھیں جب وہ چلتے تھے تو اونٹوں کے چلنے کی آوازمیں ”اَنہدمرلی”کی لَے جنم لیتی تھی لہذا اس کافی کا پس منظر خالصتاََداستانوی اورثقافتی ہے۔قارئین محقق سے کہو کہ اگر ”رتھ”پہیہ دار سواری روہی اور کیچ مکران کے پہاڑوں میں نہیں چل سکتی تو کرشن جی مہاراج اس پر افلاک کی سیر کیونکر کرتے تھے۔لہذا معلوم ہوا کہ ”رَتھ”اونٹ کے استعارہ میں مستعمل ہواہے۔

شاعری میں استعارات وتشبیہات آہنی ہتھیار سے بڑھ کر ہیں ۔جیسا کہ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے ”رَن ”جنگل کے ” شیر”کو دیکھ کر نہیں کانپتے۔مجاہداسلام کے لئے”شیر”کا استعارہ لیا گیا ہے۔قارئین کرام مجاہدجتوئی سے کہوکہ اپنا یہ شعر واپس لے۔

میں یوں ہی د ست و گریباں نہیں زمانے سے
میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں

کیونکہ محقق کے دلائل عنقاثابت ہوئے استناد اور استدلال سے ثابت ہوا کہ کافی ہذا کا پسِ منظر سسی پنوں کی داستان ہے”رَتھ”استعارہ بلیغ ہے۔جوکہ ہندی اساطیر سے لیا گیا ہے۔ مختصراََعرض اینکہ محقق موصوف نے”راز نامہ”کے پہلے صفحے پر لکھا کہ 271 کافیوں اور 755 صفحات کے تحقیقی کام میں صرف تین غلطیاں ہیں یعنی جملہ الزامات کی فہرست تین ہے۔

ایں خیال است و محال است و جنوں جتوئی صاحب کسی شہ پارے پر تحقیق،تنقیداور تبصرہ کے لیے بنیادی طور پر تین چیزیں درکار ہوتی ہیں ماحول ، وقت اور پیسہ ! آپ کے پاس تمام اسباب موجود تھے تو آپ نے اپنے تحقیقی کام کو پایہء تکمیل تک پہنچایا۔راقم الحروف کوبھی یہی اسباب درکار ہیں ۔الحمداﷲان اسباب کی عسرت کے باوجود بھی ہم نے 25کافیوں کا ڈرافٹ مکمل کر رکھا ہے جو کہ مئوقریونیورسٹیز،جرائداورقومی اخبارات کو بعداز عیدشوال ارسال کردی جائیں گی۔راقم کا طریقۂ تنقید آپ کے طریقہ ٔ تحقیق سے مماثلت رکھتاہے۔بعض مصاریع میں آپ کی حوالہ جاتی دروغ گوئی ہمارے وقت کے اصراف کا سبب ہے

Sajid Farid Leghari
Sajid Farid Leghari

تحریر:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فریدساجد لغاری
03336050949

Share this:
Tags:
comfort delivered draft nonetheless اسباب باوجود پہنچایا تکمیل مکمل
Nawaz Sharif
Previous Post ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
Next Post قائد تحریک الطاف حسین کے ویژن پر عمل کرکے عوام کو بااختیار اور ترقی و عوامی خوشحالی کا سفر جاری رکھیں گے
Karachi News

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close