
تحریر:وقارانساء
زندگی میں ہر انسان کے خيالات اور نظريات دوسرے سے مختلف ہوتے ہین کيونکہ ہر ایک کی اپنی سوچ ہے ليکن یہ بات سمجھنے کے بجائے اس کو اختلافات کا باعث بنا لیا جاتا ہے کسی کو پابند نہيں کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کے ذہن سے سوچے اور ہر حال مين آپ کو ہی صحیح جانے اختلافات نظریات تک رہيں تو وجہ سمجھ آتی ہے ليکن جب ان کو شخصیات سے منسلک کر ديا جائے تو بگاڑ کی وجہ بنتی ہے !
ھمارا مذھب اسلام تو ايک خوبصورت مذھب ہے جو محبت حسن اخلاق مساوات اور رواداری کا سبق دیتا ہے انصاف وعدل جس کے زرين اصول ہين ھمارے مذھب نے ایسے انسان کو بہترین قرار دیا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے انسان محفوظ رہین آج ھم ان اصولوں کو بھلا بيٹھے ہيں عوام کے منتخب نمائندے جب ميڈیا پرایک دوسرے کے لئے غلط زبان اور غلط الفاط کا استعمال کرتے ہيں تو انتہائی دکھ ہوتا ہے !
ان کی وفاداريان اپنی پارٹی تک محدود ہوکر رہ جاتی ہين کيونکہ انہين اگلے اليکشن کے لئے ٹکٹ بھی تو چاہیے ہوتا ہے اور یہی خود غرضی انہين حق اور سچ کہنے سے روکتی ہے وہ ديکھتے ہوئے بھی اندھے ہی رہتے ہين اس کے برعکس مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے سارے داؤ پيچ آزما ليتے ہين اکثر تو تميز کے حروف ابجد بھی بھول جاتے ہيں عمران خان ہوں یا علامہ طاہرالقاری صاحب دونوں ملک کے اس نظام کو غير منصفانہ قرار ديتے ہين اور عوام مين شعور کی بيداری کو لازم قرار ديتے ہيں اب ان کی اس بات کی ضد ميں ہمارے وزرائے کرام تہذيب اور تميز کو بالائے طاق رکھ ديتے ہيں اور صرف قادری کہہ کر پکارنے لگتے ہيں

شيخ الاسلام کا خطاب پانے والے عالم ديں کی عالمانہ قابلیت سے انکار نہيں کيا جاسکتا آپ کے سیاسی اختلافات ايک طرف لیکن کبھی تہذيب کا دامن ھاتھ سے نہين چھوڑنا چاہيے ھمارے روبہ زوال ھونے کی وجہ یہی ہے کہ ھم صاحب علم لوگون کی قدر نہيں کرتے بحثيت ايک عالم دين کے ان کے ساتھ طرز تخاطب تو اچھا ہونا چاہيے سياسی ماحول کی گرما گرمی نے نظریات کے اختلافات کو شخصيات سے جوڑ ديا
جنيد جمشيد نے عمران خان کا ساتھ دينے کا کہاتو وہ بھی عتاب کا شکار ہو گئے ان کے حلۓ کوبھی تنقيد کا نشانہ بنا ديا گيا خواجہ آصف نے فورا کہہ دیا کہ حليہ بدلنے سے کوئی عالم نہین ہو جاتا اس بات پر جنید جمشید کے ساتھ علامہ طاہر القادری صاحب دونوں کے نام لے لئے ان سے یہ پوجھئے اچھا مسلمان اور عالم ہونے کے لئے کيا دليل درکار ہو گی؟ کیا ان کی اسلام سے رغبت ان کا علم نہين طاہر کرتا؟ جنيد جمشيد نے اپنے پيک کے دور ميں اپنی راہ تبديل کی اسلام کا رستہ چنا اس وقت ان کے پيش نظر کوئی وزارت نہين تھی

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سياستدان اسلامی مملکت کے اعلی عہدے دار ہو سکتے جنہيں سورۃالاخلاص تک نہين آتی ؟ اپنے مذھب سے لاعلمی بھی معاشرے کے بگاڑ کی وجہ ہے ھمارے مذھب کا ايک خوبصورت پہلو یہ ہے اس نے حقوق وفرائض لازم وملزوم قرار دئيے ہين لیکن مذھب سے دوری کی وجہ سے ان سب حقيقتوں سے آگاہی وہ حاصل کر ہی نہين پاتے دينی اور دنياوی دونوں علوم کا حاصل کرنا ضروری ہے ليکن بہتری تب ہی آئے گی جب حقيقت ميں حاصل کیا جائے جعلی ڈگريون سے نہيں!
تحریر:وقارانساء
