Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آئین پاکستان اور متضاد عملی صورت مزید کب تک؟

August 9, 2015 0 1 min read
Constitution Pakistan
Constitution Pakistan
Constitution Pakistan

تحریر: عقیل احمد خان لودھی
یوں تو آئین پاکستان وطن عزیز میں بسنے والے تمام انسانوں کو برابری کی بنیاد پر ڈیل کرنے کی بات کرتا ہے مگر گزشتہ 68 سالوں سے جو کچھ یہاں بسنے والی عام مخلوق کیساتھ ہورہا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ قیام پاکستان کے وجود سے ہی چند خاندانوں کو انگریزوں کی خدمات اورلعنتی خوشامد کے صلہ میں خصوصی انعام واکرام اور عہدوں سے نوازا گیا لمبی چوڑی جائیدادوں اور جاگیروں کا مالک بنایا گیا جبکہ عام آدمی کا ہر سطح پر استحصال کیا جاتا تھااور آج آزادی کے 68سال بعد بھی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اتنے عرصے میں اگر کسی چیز میں تبدیلی آئی ہے تو وہ چمڑی کی ہے پہلے گوری چمڑی والے عام انسانوں کی چمڑی ادھیڑا کرتے تھے اب رنگوں کا قدرے فرق ہے اور یہاں ان کی باقیات یہ فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔جس وطن عزیز کو حا صل کرنے کا مقصد انگریزوں کی غلامی سے نجات تھی۔

آج اسی وطن میں لٹیروں اور وڈیروں کی غلامی کا نظام رائج ہے ان لٹیروں وڈیروں کی غلامی اور خوشامدی کرو تو سب ٹھیک ورنہ بھگتو!بات کی جائے انصاف کی توانصاف کسی معاشرے کا حسن اور اس کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے ہاں یہ حسن بری طرح گہنا چکا ہے، یہاں انصاف حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کئی کیسز اس کی عمدہ مثالیں ہیں ۔تعلیم کا ذکر ہو توکسی بھی مہذب معاشرے کی اہم ترین ضرورت تعلیم ہوتی ہے اور ہمارے یہاں تعلیمی میدان میں ہی طویل عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت یکساں سہولیات فراہم نہیں کرسکی آج بھی سرکاری سکولوں/کالجوں میں داخلہ کیلئے عام آدمی کی اولاد کو جو جتن کرنا پڑتے ہیں وہی جانتے ہیں۔حساس اور باشعور پاکستانی ایسے حالات سے سخت پریشان ہیں۔مسیحائوں نے جلاد وں کا روپ اختیار کرکھا ہے۔

پرائمری کلاس میں داخلہ کیلئے سکولوں میں سفارشیں ڈھونڈنا پڑتی ہیں ایسے میرٹ اورعوام الناس کیلئے ایسی حکومتی سروسز کے کیا کہنے سبحان اﷲ۔ ہائی کلاسز کیلئے سرکاری سکولوں میں داخلہ نہیں ملتا کالجوں میں سیٹیں نہیں ہوتیں کونسا میرٹ ہے یہاں؟، یونیورسٹیوں میں سیاسی پوسٹیں ، امیرزادوں کو گھر بیٹھے داخلے مل جاتے ہیں وہ بھی اس صورت کہ یہاں اگر وہ رہنا گوارہ کریں ورنہ ان کیلئے دنیا بھر کے بہترین تعلیمی ادارے اور ان کے آنے جانے کیلئے جدید ہوائی سفری سہولیات ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیںجبکہ غریب کو میرٹ کے چکر میں اتنا گھسیٹا جاتا ہے کہ اسے نانی یاد آجاتی ہے۔جب ایک ریاست کے ادارے آئین کے مطابق نونہالان وطن کوتعلیم کے معاملہ میں ہی برابری کی بنیاد پر سہولتیں فراہم نہیں کرسکتے تو باقی شعبہ جات کی حالت کے بارے میں بخوبی گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہاں کس بھائو بکتی ہے۔

Health
Health

صحت کے شعبہ کو دیکھا جائے تو اس وطن میں موجود عوام کا درد دل میں رکھنے والے لیڈروں اور حکمرانوں کو پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں سے اپنی ذات کیلئے کوئی سروکار نہیں انہیں کھانسی بھی ہوتو علاج لندن سے ادھر نہیں ہوتا غریب بیچاروں کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے قصائیوں کا روپ دھار رکھا ہوتا ہے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کیساتھ بے رحمانہ سلوک کیا جاتا ہے لواحقین کو احتجاج پر غیر اخلاقی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے ظلم اور بددیانتی کی انتہا ء یہ ہے کہ انسانی جانوں کے تقدس کو نظر انداز کرتے ہوئے گائنی شعبہ کی خواتین ڈاکٹرز بھی ذاتی لالچ کی خاطر پرائیویٹ کلینکوں پر مہنگے آپریشنز پر مجبور کرتی ہیں نارمل حالات میں بھی بلا ضرورت آپریشن ہی کر کے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا اور اپنے لئے حرام اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ہسپتالوں میں آنے والی ادویات کو ٹھکانے لگا کر مریضوں کو پرائیویٹ میڈیکل سٹورز سے ادویات کی خریداری کروائی جاتی ہے نشاندہی کی جائے شکایات کی جائیں کوئی پوچھتا نہیں وجہ کیا ہے کہ نیچے سے اوپر تک الا ماشاء اﷲ سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ تھانہ کچہریوں کے طریقہ کار سے کون واقف نہیں ؟ کوئی جتنا بڑا لٹیرا اس کی اتنی زیادہ عزت !معمولی چوری کے الزام میں عام ملزمان کو تھانوں میں الٹا لٹکا کر،رولے پھیر کر اور دیگر ایسے ہی انسانیت سوز طریقوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر اﷲ کے فضل سے چالان کے بعد وہ جیلوں میں گلتا سڑتا رہتا ہے جہاں سے بھی واپسی پر کوئی اچھا انسان بن کر نہیں آتا بلکہ نشے کاعادی اور کوئی بڑا چور ڈکیت بن کر نکلتا ہے اگر بے گناہی میں سزا کاٹ آیا تو مختلف گینگز کا حصہ بن کر معاشرے کے عام لوگوں سے اپنی سزا کا بدلہ لینا فرض عین سمجھتا ہے۔

پناہ گاہ ایسے لوگوں کی وہی سیاسی اور بااثر افراد کے ڈیرے کہ جہاں تک کسی تھانیدار کی رسائی نہیں ہوتی کہ ایسے بااثر افراد اگر خود کوئی عوامی رہنما نہ ہوں تو ان کا کوئی بھائی،کوئی بیٹاکسی اہم ادارے میں کسی بڑے عہدے کا مالک ہوتا ہے کہ جہاں بغرض چھاپہ مارنے جاتے ہوئے مقامی پولیس/ اہلکاروں کے پر جلتے ہیں ،دولت چند ہاتھوں میں اکٹھی ہورہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پاکستانی عوام کی ویسے مت ماری گئی ہے ، جھوٹے سچے انتخابات کے مواقعوں پر ایسے لیڈروں کے چنائو کو عمومی ترجیح دی جاتی ہے کہ جنہوںنے کالے دھن سے اپنا خوب اثر ورسوخ بنایا ہوکوئی قبضہ گروپ یا کم ازکم ٹائوٹ تو ضرور ہو۔ آئین پاکستان میں عصمت فروشی، جوائ، سود اور فحش لٹریچر پر پابندی عائد کرنے کی ضمانت دی گئی ہے صورتحال ہمارے سامنے ہے کہ جگہ جگہ قحبہ خانے کھلے ہوئے ہیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں غیر اخلاقی دھندے ہوتے ہیں منشیات شراب نوشی، جوے کے اڈے لیڈروں کی سرپرستی میں چلتے ہیں ۔غربت کے مارے افراد کو مجبوری میں قرض کی ضرورت پڑ جائے تو کہیں سے قرض نہیں ملتا۔

Riba
Riba

اداروں سے قرضوں کے حصول پر بھاری سود کا نفاذ ہے ۔ سود وہ حرام چیز ہے کہ جس پر قرآن پاک میں لعنت بھیجی گئی ہے مگر یہاں ہمارے ہاں کیا ہے کہ سودی کاروبار کو تقویت پہنچائی جارہی ہے ۔ حتیٰ کہ ایڈوانس کے نام پر موبائل فون کمپنیاں سود کا دھندہ کررہی ہیں حالانکہ موبائل فون کمپنیاں صارف کے اکائونٹ سے جہاں کئی پوشیدہ چارجز کٹوتی کرتی ہیں وہاں صارف کے ہی10روپوں کو ریزرو رکھ کر اسے ایمرجنسی میں لٹایا جاسکتا ہے مگر یہاں ہر چیز اس کے برعکس ہے بینکوں میں جہاں سود جیسی لعنت کا کاروبار ہوتا ہے عوام کو دھوکہ دینے کیلئے مختلف بینکوں کے نام اسلام سے منسوب ہیں یہ تو ایک ایسی ہی بات ہوگئی کہ کسی کو کہا جائے کہ وہ اسلامی ریاست میں مسلم شراب ہائوس کے نام سے دکان کھول لے۔یہاں مزدوروں کو ان کے کام کے مطابق اجرت نہیں ملتی دن رات ایک کر کے خون پسینے سے کمائی کرنے والوں کیلئے 13ہزار طے کرنے کے نام پر بھی 8سے 10ہزار دیکر ٹرخایا جاتا ہے جبکہ دفاتر میں بیٹھ کر مکھیاں مارنے والے یا کمیشنوں ٹھیکوں پر کام کرنے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں کے علاوہ اضافی بنالیتے ہیں۔

مختلف محکموں میں روزگار کے حصول کی بات ہو تو ہر طرف میرٹ کا ڈھنڈورہ پیٹا جاتا ہے مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ بیوروکریسی اورسیاستدانوں کی اولادیں ،چہیتے تمام اداروں کی اعلیٰ پوسٹوں پر براجمان کئے جارہے ہیں باقی عام پوسٹوں پر ان لوگوں کے چیلوں کی اولادیں بھرتی کرلی جاتی ہیں کسی بھی جگہ عام یا غریب آدمی کی اولاد کی ان اعلیٰ عہدوں پر آج تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی کوئی بڑی مجبوری آڑے نہ آجائے تو 100 میں سے ایک یا دو سیٹوں پر کسی غریب کو کھپا کر اس کی اتنی تشہیر کی جاتی ہے کہ الحفیظ والامان ۔مختلف ٹیسٹوں کے نام پر غریب امیدواروں کی تعلیمی قابلیت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے انہی کی جیبوں سے مزید کروڑوں روپے ہتھیا لئے جاتے ہیں نتیجہ آتا ہے انٹرویوز ہوتے ہیں آخر کار وہی ان اداروں میں کھپا دیئے جاتے ہیں جن کا کوئی ماما چاچا اثر ورسوخ کاحامل ہو۔

اگر ابا جی ماما چاچا خود سیاستدان یا کوئی بڑا عہدیدار نہیں تو ایسے خوش قسمت کا ان افراد سے تعلق ضرور ہوتا ہے چاہے وہ خوشامد کا ہی تعلق کیوں نہ ہو ایسے امیدواروں کی ریکروٹمنٹ کمیٹیوں سے طے ہوتی ہے انہیں نوکریوں کے ٹیسٹوں میں خانے خالی چھوڑنے یا متبادل حل شدہ پرچوں کی سہولت فراہم کرکے کاغذوں میں سب OKکردیا جاتا ہے تا کہ پوچھ گچھ کی صورت میں کوئی مسئلہ نہ بنے ایسے امیدواروں کو ایڈوانس ہی سوالات کے متعلق معلومات فراہم کرنے کی سہولت بھی مل جاتی ہے جہاں تک میرٹ کی حقیقت ہے تو ایک ایسا معاشرہ جہاں طبقاتی نظام کو پروان چڑھایا جا رہا ہو وہاں کیا میرٹ اور کیا میرٹ کی باتیںکیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔

Protest
Protest

کوئی نہتا غریب اپنے جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیلئے سڑکوں پرآئے تو اسے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے لیڈر وہیں کے وہیں بلکہ پہلے سے بھی بڑے لیڈر ، سانحہ ماڈل ٹائون کے فریقین کو ہی دیکھ لیا جائے کسی کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑا جن پر گولیاں برسائیں گئیں یامارے جانے والے عام اور غریب لوگ ہی تھے۔ ایسے لوگوں کو طیش دلوا کرسڑکوں پر لانے والوں کیلئے کیا قانون یا آئین میں کچھ موجود نہیں تھا؟ کہ انہیں بھی کم ازکم جیلوں میں تو ڈالا جاتااگر سانحے میں مارے گئے افراد قانون کی بالادستی کی خاطر مارے گئے تھے تو ان کو طیش دلوانے والے کیسے اس ملک کی عوام کے لیڈر ہوسکتے ہیں؟ یہ ہر طرفہ خونی سیاست ہے اور اس سے وابستہ افراد کو اپنے اقتدار کے سوا کسی چیز تقاضے سے کچھ غرض نہیں۔ ایسی ہی سیاسی جماعتوں کے نام نہاد رہنما ملک پاکستان اور اس کے پہرے داروںمسلح افواج کو کھلے عام دھمکیاں دیتے ہیں۔

بے جا دشمنی میں پاگل ہونے والے انڈیا جیسے ملک سے امداد طلب کرتے ہیں تو دوسری جانب اسی ملک کے حکمران اپنے ہم پلہ ہم خیال ایسے رہنمائوں سے ٹیلی فونک رابطے کرکے ان سے مدد مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ا ن سے ملکی سلامتی کیلئے مشورے لئے جاتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔آئین کی بات کریں تو اس کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آئینی ریاست میں اس کے باشندے بڑی منظم اور خوشحال زندگیاں بسر کررہے ہوں گے مگر یہاں 80 فیصد سے زائد لوگ جس حال میں جیتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں مفلوک الحا ل اور بے چارگی کی زندگی۔کیا سارے کا سارا آئین بھی یہاں کے باشندوں کو امن سکون کی گارنٹی نہیں دے سکتا؟۔ آئین پاکستان کے چیدہ چیدہ آرٹیکلز ملاحظہ ہوں اور پھر فیصلہ کرلیا جائے کہ آئین اور عملی صورت میں کس قدر تضادہے آپ کو خود معلوم ہوجائے گا ۔۔۔ آئین کا آرٹیکل 3 کہتا ہے کہ مملکت استحصال کی تمام اقسام کے خاتمہ اور اس بنیادی اصول کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنائے گی کہ ہر کسی سے اس کی اہلیت کے مطابق کام لیا جائے گا۔

ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے آرٹیکل 25 الف:ـ تعلیم کا حق ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مذکورہ طریقہ کار پر جیسا کہ قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ آرٹیکل 37:ـ معاشرتی انصاف کا فروغ اور معاشرتی برائیوں کا خاتمہ؛ اس کے تحت مملکت:(الف) پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی (ب) کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی؛(ج) فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلی تعلیم کو لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابلِ دسترس بنائے گی؛(د) سستے اور سہل الحصول انصاف کو یقینی بنائے گی؛(ہ) منصفانہ اور نرم شرائط کار۔

اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو ان کی عمر یا جنس کے لیے نامناسب ہوں ، مقرر کرنے کے لیے ، اور ملازم عورتوں کے لیے زچگی سے متعلقہ مراعات دینے کے لیے ، احکام وضع کرے گی؛(و) مختلف علاقوں کے افراد کو ، تعلیم ، تربیت ، زرعی اور صنعتی ترقی اور دیگر طریقوں سے اس قابل بنائے گی کہ وہ ہر قسم کی قومی سرگرمیوں میں ، جن میں ملازمت پاکستان میں خدمت بھی شامل ہے ، پورا پورا حصہ لے سکیں ؛(ز) عصمت فروشی ، قمار بازی اور ضرر رساں ادویات کے استعمال ، فحش ادب اور اشتہارات کی طباعت ، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کرے گی ؛(ح) نشہ آور مشروبات کے استعمال کی ، سوائے اس کہ وہ طبی اغراض کے لیے یا غیر مسلموں کی صورت میں مذہبی اغراض کے لیے ہو ، روک تھام کرے گی ؛ اور(ط) نظم و نسق حکومت کی مرکزیت دور کر ے گی تا کہ عوام کو سہولت بہم پہنچانے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے کام کے مستعد تصفیہ میں آسانی ہو۔

Wellness
Wellness

آرٹیکل 38 عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا فروغ؛۔ اس کے تحت مملکت(الف) عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کرکے ، دولت اور وسائل پیدوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفادِ عامہ کو نقصان پہنچے اور آجر و ماجور اور زمیندار اور مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس ، ذات ، مذہب یا نسل ، عوام کی فلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کرے گی؛(ب) تمام شہریوں کے لیے ، ملک میں دستیاب وسائل کے اندر، معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی؛(ج) پاکستان کی ملازمت میں ، یا بصورت دیگر ملازم تمام اشخاص کو لازمی معاشری بیمہ کے ذریعے یا کسی اور طرح معاشرتی تحفظ مہیا کرے گی۔(د) ان تمام شہریوں کے لیے جو کمزوری ، بیماری یا بیروزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں بلا لحاظ جنس ، ذات ، مذہب یا نسل ، بنیادی ضروریات زندگی مثلا خوراک ، لباس ، رہائش ، تعلیم اور طبی امداد مہیا کرے گی

(ہ) پاکستان کی ملازمت کے مختلف درجات میں اشخاص سمیت ، افراد کی آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی؛(و) ربائ(سود)کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرے گی ]؛اور[(ز) تمام وفاقی ملازمتوں میں بشمول خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے جن کا قیام وفاقی حکومت کے ذریعے عمل میں آیا ہو، یا وفاقی حکومت کی زیرنگرانی ہوں ، صوبوں کا حصہ یقینی بنایا جائے گا اور ماضی میں صوبوں کے حصوں کی تقسیم میں ہونے والی فروگزاشت کو درست کیا جائے گا۔ آئین کے درج بالا کسی ایک بھی آرٹیکل پر من وعن عملدرآمد ہورہا ہو تو مجھے ضرور بتائیے گا تا کہ میں اپنی معلومات میں اضافہ کیساتھ اپنی ضروری اصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکوں جہاں تک حکومتی میرٹ کی بات ہے تو روزگار کی فراہمی کیلئے صاف اور خالص میرٹ پر نوکریاں دینے کا میرے نزدیک ایک یہی حل ہے کہ کسی بھی پوسٹ کیلئے درکار تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدواروں کے ناموں کی پرچیاں ڈالکر چنائو کرلیا جائے۔

ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے ایم پی اے ایم این اے وزراء بھی کسی این ٹی ایس ،کمیشن ٹیسٹ کے پاس کرنے سے برسراقتدار نہیں آتے بلکہ وہ بھی پرچی کا ہی سہارا لیتے ہیںاس طرح قسمت والے غریب امیدواروں کو بھی ملک کیلئے اپنی خدمات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ اپنے حالات درست کرنے کا موقعہ مل سکے گا اور صاف شفاف انتخابات کی طرح اس طریقہ کارپرکوئی انگلی بھی نہیں اٹھا سکے گا ۔ورنہ تو آئین پاکستان کو ایک مخصوص طبقہ اشرافیہ اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کرکے کروڑوں عوام الناس کو برسوں سے بے وقوف بنائے ہوئے ہیںاور یہ سلسلہ مستقبل میں دور دور تک کہیں درست ہوتا بھی دکھائی نہیں دیتا۔

Aqeel Ahmed Khan Lodhi
Aqeel Ahmed Khan Lodhi

تحریر: عقیل احمد خان لودھی
0334-4499404

Share this:
Tags:
Constitution homeland pakistan آئین پاکستان وطن
Previous Post نیب لاہور کی اسپیشل ٹیم نے شوکت اللہ بنگش کو گرفتار کیا
Next Post الطاف حسین کے پاکستانی ہونے پر شک ہے، خواجہ آصف
Khawaja Asif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close