Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تعمیرِ گوادر سے وابسطہ ہے ترقی پاکستان

December 12, 2014 0 1 min read
Gwadar
Gwadar

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی
گوادر بلوچستان کا انتہائی اہمیت کا حامل ضلع ہے جو کہ 600 کلومیٹر طویل ساحل پر محیط ہے۔ 1958ء تک گوادر کا علاقہ ؛ خلیجی ریاست عمان کا حصہ تھا۔ 8دسمبر 1958ء کو 55 کروڑ روپے میں گوادر کو عمان سے خریدا گیا۔ 1964ء میں گوادر کو بندرگاہ کے لئے موزوں ترین قرار دیدیا گیا۔ 2002ء میں چین کے تعاون سے گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ گوادر بندرگاہ؛ دنیا کی تیسری گہری ترین بندرگاہ ہے۔ یہ بندرگاہ دنیا کے سب سے بڑے سمندری تجارتی راستے پر واقع ہے۔

گوادر سے کاشغر (چین) کا فاصلہ 3000کلومیٹر ہے، جبکہ چینی بندرگاہ سے کاشغر (چین)کا فاصلہ تقریباََ 9500کلومیٹر ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ دوست ملک چین کو بھی گوادر بندر گاہ سے بڑے فوائد حاصل ہونگے۔ چین جوکہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، کے لئے گوادر کی بندرگاہ سونے کی کان جیسی اہمیت کی حامل ہے۔ چین اگر گوادر بندرگاہ کے راستے تیل درآمد کرتا ہے تو اس سے چین کو سالانہ 20ارب ڈالر کی بچت اور پاکستان کو 5ارب ڈالر کی آمدن ہوگی، جس سے چین کی معیشت مزید مضبوط ہوگی اور پاکستان کی معیشت میں بھی بہتری کے آثار پیدا ہونگے۔ گوادر کی بندرگاہ سے تقریباََ2 لاکھ خاندانوں کو روزگار اور روشن مستقبل ملے گا۔ وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو گوادر پر تجارتی سہولیات فراہم کرکے قومی آمدن میں 40ارب ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ ہفتے کی شام اسلام آباد میں بیداریء فکر فورم میں گوادر بندرگاہ کے حوالے سے معلوماتی نشست ہوئی جس میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے گوادر پرموشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین کرنل (ر) مقبول آفریدی نے مہمان اسپیکر کی حیثیت سے شرکت کی۔ کرنل(ر)مقبول آفریدی نے شریکانِ محفل کو گوادر بندرگاہ کے حوالے سے انتہائی معلوماتی لیکچر دیا۔ مہمان اسپیکر کے مطابق دنیا کا نیا اکنامک محور گوادر کے گرد گھومتا ہے۔

گوادر سے دبئی تقریباََ 700کلومیٹر ہے۔ دبئی کی بندر گاہ کا شمار دنیا کے سب سے بڑی دس بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور سمندری ٹریفک گوادر کے قریب سے گزرتی ہوئی دبئی اور ایران وغیرہ کی بندرگاہوں تک جاتی ہے۔ یعنی گوادر سمندری ٹریفک کے راستے میں آتا ہے۔ حاضرینِ محفل کو یہ پوائنٹ کو سمجھانے کی غرض سے کرنل مقبول آفریدی نے ایک مثال دی کہ اگر گاہک میری دکان کو کراس کرکے مجھ سے اگلی دوکانوں میں جاتے ہیں، تو اسکا مطلب ہے کہ میرے پاس مطلوبہ سامان موجود نہیں ہیں۔ اور یہی مثال یہ پوائنٹ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ اگر پاکستان میں گوادر بندرگاہ کو فعال کیا جائے تو پاکستان کو اسکا بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ مہمان اسپیکر کے تجزیے اور ریسرچ کے مطابق گوادر بندرگاہ پہ پورا سنٹرل ایشیاء ، ویسٹ چائنہ، روس اور انڈیا کا ایک مخصوص حصہ ، ڈیپنڈنٹ ہے، کیونکہ ان تمام ممالک کے لئے دیگر بندرگاہوں کی نسبت ، گوادر بندرگاہ زیادہ نزدیک ہے اور روس کی بندرگاہیں ایک سال میں چھ مہینے کے لیے برفباری کی وجہ سے بند ہوتی ہیں۔روس کو سال کے 12مہینے آپریشنل رہنے کے لیے گوادر پورٹ کا سہار لینا پڑے گا۔ پاکستان نے 2002ء میں چین کے تعاون سے گوادر پر کام شروع کیا ۔ اب کہا جارہا ہے کہ چین، گوادر بندرگاہ کی توسیع اور علاقے میں ایک بڑے ایئر پورٹ کی تعمیر سمیت بعض بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر بھی متفق ہوگیا ہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں کی کل تعداد 9ہے، اور ان پر مجموعی طور پر ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ بعض چینی کمپنیوں نے تیل و گیس کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے گوادر میں آئل ریفائنریز کی تعمیر کے لیے اپنے منصوبوں سمیت متعلقہ حکام سے رابطے کیے ہیں۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ چینی کمپنیاں اپنے وہ منصوبے کب تک شروع کرپائیں گی، جن کی تکمیل کے لیے بندرگاہ کی تعمیر کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ گوادر بندرگاہ خلیج کے دھانے پر اور دنیا بھر میں تیل کی نقل و حمل کے سب سے بڑے اور اہم سمندری گذرگاہ، آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ اسکی تعمیر مکمل ہونے کے بعد یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ گوادر اور باقی بلوچستان ؛ ایک بہت بڑا علاقائی و معاشی تجارتی مرکز میں تبدیل ہوجائے گا۔ ساتھ ہی یہ افغانستان کے ذریعے ، دنیا سے الگ تھلگ سینٹرل ایشیاء کو بھی اس تجارتی مرکز سے منسلک کردے گا اور ساتھ ہی گوادر بندرگاہ کے ذریعے چین کو خلیجی اور ایرانی تیل تک رسائی کے لیے مختصر ترین راستہ بھی مل سکے گا۔ گوادر بندرگاہ کی مدد سے ای سی او (E.C.O)میں پاکستان کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ ای سی او کی میٹنگ میں 6بندرگاہیں ڈکلیئر کی گئی ہیں، جن میں ترکی کی دو، ایران کی دو اور پاکستان کی دو بندرگاہیں (کراچی اور گوادر) شامل ہیں۔ ای سی او کی ڈکلیئر شدہ 6بندرگاہوں میں سے سب سے زیادہ پوٹینشل گوادر کی ہے۔ گوادر ایک مکمل قدرتی پورٹ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکستان کے لیے تحفہ ہے۔ کرنل آفریدی نے گوادر کے حوالے سے اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے تک ان کا عزم تھا کہ گوادر پورٹ، دبئی پورٹ کی طرز کا بنایا جائے گا لیکن مزید ریسرچ اور تجزیوں سے انہیں معلوم ہوا کہ گوادر کی اہمیت اس بھی کہیں زیادہ ہے اور انشاء اللہ ، جب گوادر پورٹ آپریشنل ہوجائے گا تو دبئی ، گوادر کی جیب میں ہوگا۔ مہمان اسپیکر نے دبئی سے موازنے کو گوادر کی توہین قرار دیتے ہوئے حاضرین کو اپنا ایک قطعہ سنایا جو قارئین کے گوش گزار ہے:

Balochistan
Balochistan

اے پاکستان!
بن جائیں گے تیرے راستے سونے کے
دنیا آئے گی تیرے در پہ سوالی بن کے
بن جائیں گے تمہارے کھوٹے سکے سونے کے
کرکے کاروبار، بن جائو گے دھنی قسمت کے

فورم میں شریک پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ کمانڈر ڈاکٹر اظہر نے گوادر میں سکیوریٹی کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گوادر میں سکیوریٹی کی صورتحال خراب بتائی جاتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات کو بہت جلدی مان لیتے ہیں کیونکہ گوادر بلوچستان کا ضلع ہے اور بلوچستان میں سکیوریٹی کی صورتحال خراب ہے اور اسی وجہ سے عام طور پر گوادر کو بھی سکیوریٹی کے حوالے سے محفوظ تصور نہیں کیا جاتا۔ لیکن حقائق مختلف ہیں۔ گوادر میں بلوچ قبائلی لوگ نہیں ہیں۔ گوادر میں بسنے والے لوگ اپنے آپ کو بلوچی کی بجائے ‘گوادری’ کہلوانے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بلوچستان کے پہاڑوں پر بسنے والے علیحدگی اور شرپسند قبائلیوںکی وجہ سے بلوچستان کے چندعلاقوں میں سکیوریٹی کی صورتحال خراب ہے جبکہ گوادر میں بسنے والے لوگ بہت شریف النفس اور دوستانہ رویہ رکھنے والے ہیں۔ قارئین! ریٹائرڈ کمانڈر ڈاکٹر اظہر نے گوادر بندرگاہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے اور پی ایچ ڈی کے ریسرچ ورک کے لیے انہوں نے بہت عرصہ گوادر میں قیام کیا۔ کمانڈر اظہر کے مطابق گوادر کے لوگ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والوں کی نسبت آزاد خیال ہیں۔سکیوریٹی کے متعلق اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کمانڈر اظہر کا کہنا تھا کہ 2004ء میں گوادر میں ایک بم بلاسٹ ہوا تھا، جس میں3 چینی انجینئرز ہلاک ہوئے تھے، اور اسکے بعد سے آج کی تاریخ تک گوادر میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

اپنی بات کی وضاحت کے لیے کمانڈر اظہر نے ایک مصنف کا حوالہ دیا۔معروف مصنف رابرٹ کیپلن نے 9مرتبہ پاکستان کے وزٹ کیے اور اپنے ہر وزٹ کے دوران کئی کئی دن پاکستان میں قیام کیا اوررابرٹ کیپلن نے آن دی ریکارڈ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں میرے لیے سب سے زیادہ محفوظ جگہ’گوادر’ تھی۔ آج اگر گوادر کو سکیوریٹی کے حوالے سے پرخطر قرار دیا جارہا ہے تو اسکی وجہ دشمنانِ پاکستان ہیں۔ کیونکہ پاکستان کے دشمن کبھی بھی گوادر بندرگاہ کو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے، جس سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشتگرد بلوچستان کے کسی دوسرے علاقے میں کاروائی کرتے ہیں اور دشمنانِ پاکستان اس کاروائی میں گوادر کے علاقے کو بدنام کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے گوادر سے 200کلومیٹر دور ایک علاقے میں دہشتگردی ہوئی اور میڈیا نے اس دہشتگردی کو گوادر کے علاقے کی نسبت سے ہائی لائیٹ کردیا۔ اس بات کو سمجھانے کی غرض سے کمانڈر صاحب نے ایک مثال دی کہ یہ بالکل ایسی ہی ہے جیسے گجرات میں دہشتگردی کی کوئی کاروائی ہو اور اسے اسلام آباد کے علاقے میں دہشتگردی کے حوالے کے طور پر اٹھایا جائے۔ کمانڈر اظہر کے مطابق گوادر کو کوئی ٹی وی چینل کوریج نہیں دے رہا۔ گوادر میں ملک بھر سے شائع ہونیوالے اخبارات کی ترسیل کا نظام نہیں ہے۔ گوادر میں چند ایک مقامی اخبار نکلتے ہیں اور اسکے علاوہ کوئی بھی نیشنل اخبار نہیں ہے اور یہ ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔

ونگ کمانڈر (ر) فتح شیر بھٹی صاحب نے حاضرینِ محفل کو بتایا کہ 2008ء میں انہوں نے چینی اعلیٰ شخصیات کو ایک تقریب میں بتایا کہ چائنہ نے اپنی ایکسپورٹ کو بھی بڑھا لیا اور ترقی بھی کافی کرلی لیکن چائنہ نے ‘ لاجسٹک’ کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ تجارت کو دیکھا جائے تو اس میں دو فیکٹرز بہت اہمیت کے حامل ہیں ؛ نمبر ایک ‘ پروڈکشن’ اور نمبر دو ‘ لاجسٹک’ ۔ چائنہ نے پروڈکشن کو بہت توجہ دی لیکن لاجسٹک پر کوئی خاص دھیان نہیں دیا ۔ انہوں نے چینی شخصیات کو مزید بتایا کہ اگر دنیا میں چائنہ کا کوئی بہترین دوست ہے تو وہ ” پاکستان” ہے اور چین کے لیے بہت سے معاملات میں اسلام آباد، بیجنگ سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر چائنہ ؛ گوادر منصوبے میں عملی اقدام کرتا ہے تو اس سے چائنہ کی معیشیت مزید مستحکم ہوسکتی ہے اور پاکستان بھی ترقی کی راہ پہ گامزن ہوسکے گا۔

سلطانہ فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی نے فورم کو بتایا کہ انہوں نے 2004ء میں گوادر کا وزٹ کیا جب چائنہ وہاں کام کررہا تھا ۔ ڈاکٹر نعیم غنی نے گوادر کی اہمیت واضح کرتے ہوئے بتایا کہ اگر گوادر میں آئل ریفائنریز اور آئل ریزرو سینٹر (Oil Reserve Centre)بنا یاجائے جہاں سے ساری دنیا پٹرول لے سکے؛ اس اقدام سے پاکستان کی معیشیت کو بے حساب فائدہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر نعیم غنی نے بتایا کہ دنیا نہیں چاہتی کہ پاکستان ، گوادر پورٹ پر کام کرے ۔ دنیا میں پورٹس بنانے میں سب سے زیادہ ایکسپرٹیز ‘ چائنہ’ کے پاس ہیں۔ چائنہ نے امریکا میں پورٹس بنا کر انہیں فعال کیا ہے۔ پاکستان نے گوادر پورٹ منصوبے کو چائنہ کے سپرد کرکے بہت اچھا کیا ہے۔

اگر یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگیا تو اس سے اربوں ڈالر ز کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں ہوگی، جس سے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ گوادر بندرگاہ کے ذریعے جنوب ایشیاء اور مشرقی ایشیاء کے درمیان رابطے بھی بڑھیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہوسکے گا جب حکومتِ پاکستان بلوچوں کی شکایتوں کا ازالہ کرکے علیحدگی پسندوں کو مرکزی دھارے میں لائے گی۔ساتھ ہی بلوچی بھائیوں کو یہ بھی یقین دلانا ہوگا کہ نہ صرف وسائل پر ان کے حقوق کا احترام ہوگا بلکہ ان کے تمام تر دیگر تحفظات کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ آخر میں مہمان اسپیکر جناب کرنل (ر) مقبول آفریدی نے حاضرین کو ایک شعر سنایا جو قارئین کے پیشِ نظر ہے:

لکھ دیا کاتبِ تقدیر نے، ہے یہی مقدرِ پاکستان
ہے میرا بھی ایمان، تعمیرِ گوادر سے ہے ترقی ء پاکستان

Lala Sanaullah Bhatti
Lala Sanaullah Bhatti

تحریر: لالہ ثناء اللہ بھٹی

Share this:
Tags:
Balochistan construction gwadar pakistan بلوچستان پاکستان ترقی گوادر
Previous Post غرض کا بندہ
Next Post چونگے کا نوبل پرائز

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close