
انسان کتنا بے بس اور مجبور ہے روزی کمانے کی خاطر کہاں سے کہاں دھکے کھا رہا ہے میری ملاقات ایک ٹیکسی ڈرائیور سے ہوئی جس کا تعلق وہاڑی سے ہے اور وہ وہاڑی کی بجائے روالپنڈی میں ٹیکسی چلا رہاہے میں نے پوچھا آپ یہاں کیسے تو اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہنے لگا بیٹا میری بہت زمین ہے۔
اچھی بھلی گندم ہو جاتی تھی مگر سیلاب آنے کی وجہ سے سب کچھ برباد ہو گیا اور حکومت نے بھی کوئی مد دنہیں کی یہ حکومتی دعوے دار صرف ٹی وی پر آ کر بولتے ہیں کچھ کرتے نہیں دوسرا چوری بازاری بہت ہے میرے پاس سونے کے لئے کمرہ تک نہیں۔ میں اپنی ٹیکسی میں ہی سو جاتاہوں لیکن یہ لوگ تعاون نہیں کرتے جس اڈے پر جاتاہوں لوگ تنگ کرتے ہیں۔
گاڑی یہاں کھڑی نہ کرو وہاں کھڑی نہ کرو اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ خاص کر پنڈی میں ٹیکسی چلانے والے سواریوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے زیادہ پیسے لے لیتے ہیں حالانکہ اگر نیت صاف ہو تو اللہ پاک سواری بھی دے دیتاہے اور آسانیاں بھی پیدا کردیتاہے میں نے کہا آپ کب تک اس طرح روزنہ ٹیکسی پر سو کر گزارہ کریں گے کہنے لگا بیٹا عیدکے بعد واپس چلا جائوں گا۔
کیونکہ میری دو بیٹیاں بھی ہیں انکی خاطر تو میں یہاں روزی کمانے آیاہوں بیٹاآپ احتیاط سے کیونکہ کسی پر اعتبار نہیں کرنا ہم لوگ حکومت کو گالیاں دیتے ہیں لیکن ہم خود بھی تو ٹھیک نہیں دوسروں کو دھوکھے دیتے ہیں چوریاں کرتے ہیں ڈاکے ڈالتے ہیں اور ہرطرح کا غلط طریقہ استعمال کرتے ہیں اگر ہم خود ٹھیک ہوجائیں تو شاید ہماری حکومت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔

میں نے کہا کہ پچھلے دنوں سکندر والا واقعہ پیش آیا تو آپ کیا کہتے ہیں کہنے لگا بیٹا جی ہماری پولیس میں بڑی خامیاں ہیں جب تک انکو دور کیا نہ جائے کتنے سکندر اس شہر میں رہتے ہیں جب ہم ناکے سے گاڑی گزارتے ہیں تو اگر آرام سے گاڑی چلائی جائے تو پولیس والے سمجھتے ہیں کہ گاڑی ٹھیک ہے اور ہمیں کہتے ہیں جائیں جائیں جائیں اور اگر گاڑی تیز گزر جائے تو روک لیتے ہیں۔
بھلا اس طرح تو سکیورٹی نہیں ہوتی ناں ہر طرف رشوت عام ہے ایک سکندر تو کیا کئی سکندر بھی آجائیں تو ان کی سکیورٹی فیل ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم صرف اور صر ف نام کے مسلمان ہیں ہمارا ایمان کمزور ہے ہم ہر وقت غلط سوچ رکھتے ہیں۔
جس دن ہم نے اپنے رب اور رسول کی اطاعت کی اور پانچ وقت کی نماز ادا کی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد پورے کئے تو انشاء اللہ پاکستان میں ہر آدمی سکون کی زندگی بسر کرے گا انشاء اللہ یہ کہہ کر وہ ٹیکسی والا چلا گیا میں سوچ رہاہوں کہ اس وقت جو صورت حال ہے کوئی آدمی خوش نہیں ہے۔

تحریر: ملک ساجد اعوان
