Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تضاد

April 7, 2014 0 1 min read
Safder Hydri
Psychologists
Psychologists

شیطان بھی بلا کا تجربہ کارتھا، انسانی نفسیات پر اتھارٹی ۔ اور کیوں نہ ہوتا اس نے اپنی آنکھوں سے تو اس خاک کے پتلے کو بد بو دار مٹی سے بنتے دیکھا تھا۔ اس غرور اور تعصب کے پتلے کوبھلا کب یہ منظور ہوتاکہ خاکی انسان خلافت ارضی کا تاج اپنے سر پر سجائے ۔ سرداری کی جنگ میں یہ ” خواری” اسے کیونکر قبول ہوتی۔ اس ماہر نفسیات انسانی نے اپنی” دور اندیشی ”کے سبب بہت کچھ جان لیا تھا۔ پھراس نے نا جانے فرشتوں کے کان میں کیا پھونک ماری کہ وہ نوری مخلوق بارگائے ایزدی میں عاجزی سے عرض کیے بنا نہ رہ پائے تھی۔
”
اے پروردگار تو اسے خلیفہ بنا رہا ہے جو زمین پر فساد برپا کر ے گا ” آواز قدرت آئی ۔” جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ” سو جس نے اپنی کم علمی و ناتوانی کا اعتراف کر لیا نوازا گیا اورا نکا ر کرنے والا ابلیس ٹھہرا ( یہ لاعلمی کے باوجود اعلم ہونے کی ضد، ہٹ دھرمی اور تعصب شیطانی ورثہ ہی تو ہے ) کیا عجب تضاد ہے کہ مخلوق کے علم غیب پر مطلع ہونے کی پرزور نفی کرنے والا طبقہ بھی دل و جان سے ایمان رکھتا ہے کہ شیطان کو کل کی بخوبی خبر تھی ۔واہ !کیا کھلا ہوا تضاد ہے کہ انبیاء ۖ کے علم غیب کی نفی کرنے والے شیطان کے علم غیب پر شک نہیں کرتے۔ حالانکہ نبی کے تو معنی ہی غیب کی خبر دینے والے کے ہیں ۔ہاں یہ اور بات ہے کہ نبی ۖکا علم عطائی اورخدا کا ذاتی ہے ۔ خدا کے عالم الغیب ہونے کے قائل سمجھ ہی نہ پائے کہ اس کے آگے کچھ بھی غائب نہیں۔ سب کچھ ظاہر ہر دم حاضر۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ جاننا انسانی فطرت کا لازمہ ہے ۔ لیکن یہ انسان جب اپنی فکری تھکن کو اپنی منزل سمجھ کر خیمہ زن ہوتا ہے تواپنے اردگرد غفلت کی ان دیکھی دیواریں کھڑی کرکے اپنی فکری بے مائیگی اور کم علمی پر تکیہ کرلیا کرتا ہے اور پھراپنی فکری کو تاہی اور ناقص نظریات کے خلاف سچی سے سچی بات تک کو قبول کرنا گوارا نہیں کرتا ۔ گویا جاننے کی راہ میں خود سد راہ ہوجاتا ہے۔ کیا یہ ایک کھلی ہوا تضاد نہیں جو کم علمی کی دین ہے۔

معزز قارئین! راقم یہ بات بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہے کہ انسانی زندگی تضادات کا مجموعہ ہے ۔کیا یہ ایک کھلا ہوا تضاد اور واضح منافقت نہیں کہ انسان ہدایت کا طالب بھی ہے اور ہادیان برحق کا مخالف بھی ، امن کا شیدائی بھی ہے اور جنگ کا متمنی بھی۔ سکون کا متلاشی بھی ہے اور جنون کا شیدائی بھی ، شعور کا حامل بھی اور جہالت میں کامل بھی ، حق کا بھیدی بھی ہے اور تعصب کا قیدی بھی ، آزادی کا علمبردار بھی ہے اورغلاموں کا خریدار بھی ، شرافت کا دعویٰ دار بھی ہے اوربے حیائی کا شہکار بھی ، رحمان کا غلام بھی ہے اورنفس کے ہاتھوں نیلا م بھی ، سادہ سا بندہ بھی اور گورکھ دھندہ بھی ، کائنات کا محور بھی ہے اورذات کا گھن چکر بھی ، علم کا مرکز بھی ہے اور لاعلمی کا مظہر بھی ، تہذیب کا امام بھی ہے اوروحشتوں کامہ تمام بھی ، دوستی سے وابستہ بھی ہے اور دشمنی پر کمر بستہ بھی ، دیدار الٰہی کا شیدا بھی ہے اورحسن مجازی کا رسیا بھی ، عورت پر فریفتہ بھی ہے اور اس کے شر سے چوکنا بھی، مسند محبت پر فائز بھی ہے اور نفرت کے لائق بھی، حسن کا سالک بھی ہے اور بد صورتی کا خالق بھی ، سیر و سلو ک کا راہی بھی ہے اور خواہشات کا روگی بھی ، زہد کا مقتضی بھی ہے اور عیش کا دھنی بھی ،آخرت کی کامیابی پر آمادہ بھی ہے ، اور دنیا پر ستی کا شہزادہ بھی ، الفت پر قادر بھی ہے اور نفرت میں نادر بھی ہے ، امیروں سے متنفر بھی ہے۔

Wealth
Wealth

دولت کا معترف بھی ، خود آگاہی کا جویا بھی ہے اور خود پرستی میں کھویا بھی ، سابقہ گناہوں پر شرم سار بھی ہے اورنئی خطائوں پر تیاربھی ، دانش مندی سے مسجع بھی ہے اور حماقت کا مرقع بھی ، اپنے بندہ ہونے پر نازاں بھی ہے اور شیطاں بنے رہنے پر فرحاں بھی ، مظلوم کا یا ر بھی ہے اور ظالم کا ہتھیاربھی ، اندھیروں کا مخالف بھی ہے اور نور کے درپے بھی ، رشتوں کا قائل بھی اورقطع تعلق پر مائل بھی ، درد کا درماںبھی ہے اور مصائب کا ساماں بھی ، فعل کا عادی بھی ہے اور قول کا قیدی بھی ، صبر کا نشان بھی ہے اور شکوہ کناں بھی ، جنت کا طالب بھی ہے اور جہنم کا طرف راغب بھی ،شکر کا مجسمہ بھی اور بے صبری کا پتلا بھی، واحدنیت سے سرشار بھی ہے اورکثرت کی محبت میں گرفتار بھی ، مقصدیت میں معروف بھی ہے اور کھیل تماشے میں مصروف بھی ، رازق کا معترف بھی ہے اور حرام کمائی کا مرتکب بھی ، لذت ِ گناہ کو ترساں بھی ہے اور خوفِ سزاسے لرزاں بھی ، رب کی رضا بھی چاہتا ہے اپنی غرض کی بقاء بھی ، تحقیق کا موجد بھی ہے اور اندھا مقلد بھی ، جدت پر مبنی بھی ہے اور عقائد کا جوگی بھی ، غیرت کا خواہاں بھی ہے۔

بدکاری میں غلطاں بھی، قطبی تارہ بھی ہے ، بمبار طیارہ بھی ، مسیحا بھی ہے قاتل بھی ، ہادی بھی ہے اورراہ زن بھی ، سیکورٹی گارڈ بھی ہے اور گارڈ فادر بھی ،بندہ بھی ہے اور درندہ بھی ، دوا ساز بھی ہے اور اسلحہ ساز بھی، حروف ساز بھی اور خودکش حملہ آور بھی ، آخر یہ انسان ہے کیا ..؟؟؟؟؟؟؟؟یہ اتنا عجیب ہے اتنا عجیب کہ اس کے خالق نے بھی اسے عجیب کہا ہے ۔محبت کرنے پر آئے تو پتھر کو خدا بنا ڈالے اور نفرت کرنے پر آمادہ ہو تو انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کر دے ۔ انسان اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے ، کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا۔

انسان کے قو ل و فعل کا تضاد ہر اختلاف کی جڑہے ۔قول و فعل کی اس ہاتھا پائی میں عموماً قول فیصل رہتا ہے اور عمل خجل ۔ قول کی فتح اختلاف کی عمارت کی پہلی اینٹ ثابت ہوتی ہے ۔یہی تضادات اختلافات کو ہوا دیتے ہیں تو ایک فرد کے اندر کا تضاد ، باہر نکل کر نمو پاتا ہوا ، دو افراد، گھرانوں ، معاشروں، طبقات ، زبانوں ، علاقوں ، ملکوں ،ثقافتوں ، مذاہب، نظریات سے بڑھتا ہوا ، دو دنیائوں کے اختلاف میں تبدیل ہو کر کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ آج جب میں اپنے ارد گر د نظردوڑاتا ہوں تو مسائل کا بد بودار انبوہ نظر آتا ہے ، اس سے گھبرا کر اپنے باطن میں پناہ لینے کی کوشش کرتا ہوں تو وہاں بھی تہہ در تہہ لپٹی ہوئی غلاظتوں کا فلک بوس ڈھیر پاتا ہوں ، جب اس ڈھیر کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو صرف تضاد ہی اس کا” روٹ کاز ”نظر آتاہے ہر غلاظت کا ڈھیر تضاد ہی کی بنیاد پر پڑا اور کھڑا دکھائی دیتا ہے اور میں بے اختیار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخرکیوںہم لوگ تضاد کے قیدی ہو کر رہ گئے ہیں ( آپ اسے ذات کا قیدی بھی سمجھ سکتے ہیں ) کیا اس کی وجہ علم دشمنی تو نہیں وہی علم دشمنی جس کے بارے میں باب مدینة العلم کا فرمان حق نشان ہے۔

” لوگ جس چیز سے لاعلم ہوتے ہیں اسی بات کے دشمن ہوتے ہیں”۔ کیااس کی وجہ یہ تو نہیں کہ ہم نے خود سے یہ فرض کر لیا ہے کہ صرف ہم ہی صاحبان علم ہیں ، اور یہ کہ علم صرف ہماری ذات ہی میں محدو و و مرکوز ہے۔ کہیں ہم اپنی لاعلمی سے لاعلم تو نہیں ہو گئے ( کاش فرشتوں کی طرح ہم بھی اعتراف کر لیتے ) ارسطو نے کیا اچھا کہا ہے ”تم لو گ نہیں جانتے کہ کچھ نہیں جانتے جب کہ میں بخوبی جانتا ہوں کہ کچھ نہیں جانتا ”۔ اور محل حیرت ہے کہ تاریخ کے سب سے بڑے سائنسدان نے علم کا نہیں لاعلمی کا دعویٰ کرتے ہوئے بے ساختہ کہا تھا ” میں بس یہ جانتا ہوں کہ کچھ نہیں جانتا ” ۔ اور ایک ہم ہی ہیں جو علم کے مدعی ہیں ، اور اس بات سے قطعی لاعلم کہ اپنی لاعلمی کا علم ہو نا بھی ایک طرح کا علم ہے ، ایک عرفا ن ہے بلکہ عرفان ذات ہے ۔جس دن یہ بات ہمیں معلوم ہو گئی اور ہم نے دل سے مان بھی لی، ہمارے ظاہر و باطن کا سارا تضاد اپنی موت آپ مر جائے گا اور علم دشمنی دم توڑ جائے گی ( خواہ یہ لاعلمی کے سبب سے ہو یا کسی تعصب کے بموجب ) انسان کا کما ل تو دیکھیں کہ اسے تضاد محض دوسروں میں دکھا ئی دیتا ہے۔

اپنی آنکھ کا شہتیر نہ دیکھ سکنے والی آنکھ دوسر ے کی آنکھ کا تنکا تک بھانپ لیا کرتی ہے ۔ یہ اندھا تعصب شیطانی وصف ہی تو ہے وہی وصف جو فرشتوں کے سردار کو ابلیس بنا دیا کرتا ہے اور جس کی پیروی میں قابیل نے کرہ ارض پر پہلا خون کیا تھا( اور جس کا سلسلہ آج تک نہیں تھما )۔

اور پیار ے پڑھنے والے جب انسان اپنے باطن میں تضاد کا مشاہدہ کرتاہے تو اپنے خارج میں بھی وہی سب دیکھنا چاہتا ہے نظر نہ آئے تو خود اسکی تخلیق کر لیا کرتا ہے (کہ وہ دنیا کو اپنی آنکھ ہی سے نہیں دیکھتا اسے اپنے جیسا بھی دیکھنا چاہتا ہے)۔ اور یوں تضاد کی عمل داری بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ۔ اس تعصب کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خود احتسابی کو روش اپنائیں کیونکہ یہی ایک چیز ہمیں بے زبانی بخش کر خود آگاہی پر مائل کر سکتی ہے۔
بے زبانی بخش دی خود احتسابی نے مجھے
ہونٹ سل جاتے ہیں دنیا کو گلہ دیتے ہوئے

اپنے ظاہر و باطن کے تضاد اور قول و فعل کی خلیج کو پاٹنے کیلئے ( خواہ یہ دوری کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو) ہمیں عملی قدم اٹھانا ہو گا اوراپنی ذات سے اس کا آغاز کرنا ہو گا ۔ میرے رسول کریم ۖ نے اس کا علاج محض ایک جملے میں صدیوں پہلے تجویز فرما دیا تھا ۔ اس مدنی نسخے سے ہی ہم انا کے بے قابو جن پر غالب آسکتے ہیں ۔ آپ ۖ نے فرمایا تھاکہ دوسروں کیلئے وہی چیز پسند کرو جو تمہیں محبوب ہو ”۔ صرف اسی ایک بات پر عمل پیرا ہو کر ہم اس دنیا کوپھر سے رہنے کے قابل بنا سکتے ہیں ( اور اس عدم توازن کو دور کر سکتے ہیں جو بقول ناصر ملک قیامت کو قریب تر کرتا جا رہا ہے ) تمہاری خیالی” ناسٹلجیا ”سے کہیں زیادہ دلکش خوبصورت اور جاذب نظر ۔اور جب تک ایسا نہیں ہو تا ہم گفتار کے غازی خود کو دانشمند ، فلسفی ، علامہ ، مفکر ، شیخ حتی کہ شیخ الااسلام تک کہہ سکتے ہیں ۔اور کہنے میں کیا حر ج ہے ..؟؟؟؟ صرف کہنے سے کیا ہوتا ہے ..؟؟؟؟

Safder Hydri
Safder Hydri

تحریر: صفدر علی حیدری ۔( sahydri_5@yahoo.com)

Share this:
Tags:
corruption dedication اعتراف تضاد فرشتوں فساد
Australia
Previous Post آسٹریلیا نے انگلینڈ کو ہرا کر تیسری مرتبہ ویمن ورلڈ ٹی 20 ٹائٹل جیت لیا
Next Post ڈنگہ کی خبریں 6/4/2014

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close