جب چلا قافلہ ستاروں کا
سو گیا بخت شب گزاروں کا
آئو اس خارزارِ ہستی میں
مل کے ماتم کریں بہاروں کا
آشیاں کے ہر ایک تنکے کو
کس قدر شوق ہے شراروں کا
بِیچ طوفاں کے مرنے والوں سے
رِشتہ خاص ہے کناروں کا
کون کرتا ہے اعتبار و یقیں
ہم سے مدہوش بادہ خواروں کا
اک نہ اک روز عہد سلطانی
دنیا دیکھے گی بے سہاروں کا
تحریر : ساحل منیر
