Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

‎ کرونا کو شکست دینے میں ناکام، عوام یا حکمران

March 29, 2020March 29, 2020 0 1 min read
Coronavirus Patient
Coronavirus Patient
Coronavirus Patient

تحریر : قادر خان یوسف زئی

میڈیکل سائنس کے مطابق کسی بھی وائرس کو ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن انسانی جسم میں قوت معدافعت کو بڑھا کر وائرس کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ ویکسین کو کسی بھی ایسے مادے کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو اُس مادے کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل بنادیتا ہے۔ انسانی جسم اپنے ارتقا ئی مراحل میں صدیوں سے انواع و اقسام کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہوتے زمانہ حال میں اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ انسانوں کے لئے خطرناک وائرس کو غیر موثر بنانے کے لئے ایسا ماہ تیار کیا جائے جو اُس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ 1803میں برطانوی سائنس دان نے ویکسین کو اُس وقت متعارف کرایا جب اس نے چیچک سے بچاؤکے خاطر اپنا طریقہ کار علاج دریافت کیا۔ اس ے اپنی دوا ایک وائرس جس کو variolae vaccinac (یعنی cowpox virus)کہتے ہیں،سے حاصل کی، لاطینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں ”گائے“۔زمانہ قدیم سے حال تک انسان اپنے بچاؤ کے لئے مختلف تدابیر اختیار کرتا چلا آرہا ہے۔ دور جدید کو عالم انسانیت میں میڈیکل و سائنس کے ارتقاء کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک و ترقی پذیر ممالک کے ساتھ تیسری دنیا کی اصطلاحات نے طبقاتی تفریق کو بہت نمایاں کیا ہے۔ رواں صدی میں انسانی تاریخ کی بدترین جنگوں سے کروڑوں انسان زمین میں دفن ہوچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود آج بھی زمین پر انسانوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔

کرونا وائرس نے جس طرح پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لیا وہ ایک بدترین عبرت کا نشان ہے۔ کرونا وائرس کو کئی زاویوں سے جانچنے اور سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس اَمر کی جانب لگی ہوئی ہیں کہ کرونا وائرس کے خلاف میڈیکل سائنس میں کامیاب کون ہوتا ہے؟۔امریکا اپنے مشیروں پر ناراض ہوچکے ہیں کہ انہوں نے ابھی تک کرونا وائرس کا توڑ دریافت کیوں نہیں، ایک جانب صدر ٹرمپ اپنی قیاس آرائیوں کی وجہ سے جگ ہنسائی کا سبب بن چکے ہیں۔امریکی صدر نے اپنی ایک ٹویٹ میں ملیریا کے لئے استعمال ہونے والی ادویات chloroquine اور hydroxychloroquine کو کارآمد قرار دے دیا ہے، دوسری جانب نائیجریا میں ان ادویات کو استعمال کرنے سے دو مریضوں کے جسم میں زہر پھیلنے کی اطلاع بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنی۔ واضح رہے کہ امریکا کے اہم طبی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کرونا وائرس کے علاج پر صدر ٹرمپ کے بیان کی توثیق کرنے سے انکار کردیا تھا، انہوں نے یہ وضاحت خود امریکی صدر کے سامنے میڈیا بریفنگ کے دوران دی،ایف ڈی اے کے کمشنر ڈاکٹر سٹیفن ہاہن کا کہنا تھا کہ وہ غلط امید نہیں دلانا چاہیں گے، ’ہوسکتا ہے کہ کرونا وائرس کی ہمارے پاس ٹھیک دوائی موجود ہو لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی درست ڈوز ابھی دستیاب نہ ہوجس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔‘پریس کانفرنس کے بعد ایف ڈی اے نے وضاحت دی کہ کلوروکوئین کورونا وائرس کے علاج کے لیے ایف ڈی اے نے منظور نہیں کی اور نہ ہی کوئی دوسری ڈرگ، کلوروکوئین کو دوسرے مقاصد کے لیے منظور کیاگیا، ڈاکٹروں کو قانونی طورپر اجازت دی گئی کہ اگر وہ چاہتے ہیں تو کورونا وائرس کیخلاف تجویز کرسکتے ہیں،

کورونا وائرس کے لیے اس کا موثر اور محفوظ ہونا ابھی ثابت نہیں ہوا، ایف ڈی اے کمیشنر ڈاکٹر سٹیفن نے ٹرمپ کی پریس کانفرنس کے بعد کہاکہ کلوروکوئین کا کرونا وائرس کے مریضوں پر کلینکل ٹرائل ہوگا۔اس وقت ترقی یافتہ ممالک کوطبی آلات کے کمیابی کا بدترین سامنا ہے۔ کرونا وائرس نے ایک طرف دنیا کے امیر و ترقی یافتہ ممالک کی حقیقت کو آشکارہ کیا ہے تو دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کو اپنی ترجیحات طے کرنے کے لئے سوچ بچار کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔ اس وقت نہیں کہا جاسکتا کہ کرونا وائرس پر کتنے عرصے میں مکمل طور پر قابو پا لیا جائے گا، قیاس آرائیاں ہیں کہ ویکسین کی تیاری میں اب بھی کم ازکم 18مہینے لگ سکتے ہیں،امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن کی نئی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کسی بھی سطح پر 17 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن نے کورونا وائرس سے متاثرہ 2 بحری جہازوں ڈائمنڈ پرنسز اور گرانڈ پرنسز میں وائرس کے پھیلاو? پر تحقیق کی۔امریکی سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن کے مطابق تحقیق میں دونوں بحری جہازوں کے کیبنز کے خالی ہونے کے 17 دن بعد بھی وائرس کی موجودگی ظاہر ہوئی۔ یہ ایک بہت بھیانک صورتحال ہے جس کا نقشہ دنیا کے پورے نظام کو لپیٹ رہا ہے۔

کرونا وائرس کی شدت کے ساتھ ہی دنیا بھر میں فیس ماسک اور سینیٹائزرزکی شدید قلت پیدا ہوگئی اور ذخیرہ اندوزں کے ساتھ ساتھ فیس ماسک اور سینیٹائزرز بنانے والوں نے اسٹاک کو لاک کرکے مہنگے داموں میں فروخت کرکے اربوں روپے کمائے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں ایک خصوصی پفروپیگنڈا مہم چلائی گئی اور اس تاثر کو عام کیا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے فیس ماسک اور سینیٹائزرزناگزیر ہیں، تاہم شدید قلت کے بعد اس منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ فیس ماسک سب کے لئے پہننا ضروری نہیں، اس کے استعمال کی ترجیحات میں واضح کیا گیا کہ جس فرد میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہو رہی ہوں یا متاثرہ جگہ پر کرونا وائرس کے متاثرین موجود ہیں، ان کے لئے فیس ماسک ضروری ہیں۔ بالخصوص کرونا وائرس کے علاج کرنے والے میڈیکل عملے و رضا کاروں کے لئے۔ اسی طرح سینیٹائزرز کو ”آب حیات“ بنا کر پیش کرنے سے افراتفری پیدا ہوئی، جس کے رد کے لئے بعدازاں مہم چلائی جانے لگی کہ جراثیم کے خاتمے کے لئے بیس سیکنڈ تک کسی بھی صابن سے ہاتھ دھونا کافی ہیں، تاہم اُس وقت تک سینیٹائزرز کی قیمت میں ہزار گنا اضافے سے منافع خور فائدہ اٹھا چکے ہیں، ٹشو و ٹوائلٹ پیپر کی بھی شدید قلت نے ہنگامی صورتحال پیدا کی اور عوام کو خوف کے ہیجان میں مبتلا کرکے دنیا بھر میں ریکارڈ کمائی کی گئی۔

کرونا وائرس کے شکار مریضوں کے لئے سب سے اہم تریں ضرورت وینٹی لیٹر قرار دیا جاتا ہے۔ وینٹی لیٹر مصنوعی طریقہ سے آکسیجن انسانی پھیپڑوں تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔کرونا وائرس سے شدید ترین مریضوں کے لئے وینٹی لیٹرز کی کمیابی نے اُن تمام ممالک کا چہرہ بے نقاب کردیا جو انسانیت کی تباہ کاریوں کے لئے جدید سے جدید ترین جنگی ساز وسامان بنانے کے لئے ہتھیاروں کی دوڑ میں لگے ہوئے تھے، لیکن اُن کے پاس اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے ایسے انتظامات ہی نہیں تھے جو کسی بھی وبا کے نتیجے میں انسانی جان کو ضائع ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتے۔ اس اَمر کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف امریکا میں اس وقت امریکا میں محض ایک لاکھ 60 ہزار وینٹی لیٹرز موجود ہیں جب کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا میں وینٹی لیٹرز کی ضرورت والے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 95 لاکھ تک جا سکتی ہے۔

امریکا کے علاوہ اٹلی بلکہ برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک کو بھی وینٹی لیٹرز کی قلت کا سامنا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی کار ساز کمپنیوں نے بھی حکومتوں کو وینٹی لیٹرز تیار کرنے کی پیش کش کی ہے اور اس حوالے سے جلد گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں وینٹی لیٹرز تیار کریں گی۔۔وینٹی لیٹرز تیار کرنے والی امریکی و یورپی کمپنیوں کے ملازمین کے مطابق انہیں جدید ترین وینٹی لیٹر تیار کرنے کے لیے کچھ ایسے پرزوں کی ضرورت پڑتی ہے جو وہ چین سے خریدتی ہیں اور انہیں چین سے پرزوں کی دستیابی میں مشکل کا سامنا ہے۔ادھر چینی کمپنیوں کے مطابق انہیں دنیا کے کئی ممالک نے ہزاروں وینٹی لیٹرز کے آرڈرز دے رکھے ہیں اور اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ تک کمپنیوں کے آرڈرز بک ہیں۔پاکستان، امریکا، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور جرمنی جیسے ممالک میں بھی جہاں فیس ماسک اور سینیٹائزرز کی قلت ہے، وہیں دیگر طبی آلات کی بھی عالمی سطح پر قلت دیکھی جا رہی ہے۔

قریباََ تین مہینے کے بعد دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے شہروں و قصبات کا لاک ڈاؤن کرنا ناگزیر ہے۔ سماجی رابطوں کو معطل کرنا و نقل و حرکت کو کم کرنے سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے واحد طریقہ جو اس وقت سامنے آیا ہے وہ ”لاک ڈاؤن“ ہے۔جو دنیا میں تباہی مچانے والے ممالک میں حکومتوں نے مجبور ہوکر اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کی روک تھام کس طرح ممکن ہے تو اس پہلو پر تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ماہرین طب کے مطابق کسی بھی صحت مند انسان کے سماجی میل جول و رابطوں سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ خطرناک حد تک تیزی سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتا ہے، مریض کے ہاتھ ملانے یا گلے لگانے سے انسانی جسم میں کرونا وائرس تیزی سے سرایت کرجاتا ہے، لاک ڈاؤن کا مقصد یہی قرار دیا جارہا ہے کہ اس طرح کرونا وائرس کو محدود کرکے اُن متاثرین تک پہنچا جاسکتا ہے جو کسی نہ کسی صورت اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں لیکن علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے سماجی رابطوں کی وجہ سے یہ پھیلاؤ کا سبب بن کر خطرناک صورتحال اختیار کرسکتے ہیں، اس وقت چین کے بعد اٹلی، ایران، و دیگر ممالک اس کی مثالیں ہیں کہ ان ممالک میں عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار میں سہل پسندی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں قیمتیں جانوں کا نقصان ہوا اور لاکھوں جانیں اس وقت موت کی دہلیز پر ہیں، ہر گذرتا وقت انسانی جانوں کے لئے بڑی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔

احتیاطی تدابیر میں ماہرین صحت کے مطابق باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بناتا ہے۔کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکانا بھی حفاظی تدابیر میں شامل ہے۔ نزلہ اور زکام کی صورت میں پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لیے فائدہ مند ہے۔کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق بخار، کھانسی، زکام، سردرد، سانس لینے میں دُشواری کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کرونا وائرس کا ہی شکار ہو۔ البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر نمونیہ بگڑ جائے تو مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق انفیکشن سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک 14 روز لگ سکتے ہیں۔ لہذٰا ایسے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کے لیے اُنہیں الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔

پاکستان اس وقت کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں بدترین صورتحال کا سامنا کررہا ہے، صوبائی حکومتوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات پر عوام میں پزئرائی کا نہ ہونا ایک بڑی خطرناک علامت ہے۔صوبائی حکومتوں نے اپنے طور پر لاک ڈاؤن کرتو دیا ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص چین، اٹلی، امریکا کی طرح پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے عوام کی جانب سے غیر محتاط رویئے نے خدشات بڑھا دیئے ہیں کہ ٹریول ہسٹری نہ ہونے کے باوجود مقامی طور پر کرونا وائرس تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور خدا نخواستہ بے احتیاطی کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں یکدم اضافہ ہونے کے خدشات سے متاثرین کو طبی سہولیات فراہم ہونے میں شدید دقت کا سامنا ہوگا۔ بالا سطور میں امریکا سمیت ترقی یافتہ ممالک میں طبی آلات کی کمی کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان جیسے ملک کی صحت عامہ کی عمومی صورتحال پر غور کیا جائے تو مستقبل کا بھیانک نقشہ ابھر کر سامنے آتا ہے، جس کا تصور بہت وحشت ناک ہے۔ اس مرحلے پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی اُن سازشو ں و منصوبوں کو ایک جانب رکھنا ضروری ہے،کیونکہ کرونا وائرس پاکستان میں تیزی کے ساتھ پھیلتا جارہا ہے۔اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں، ان حالات میں میڈیکل اسٹاف جس طرح کام کررہا ہے وہ قابل تحسین ہے، لیکن قرنطینہ بنانے کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کے سبب، موجودہ صورتحال کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا۔

سندھ حکومت نے پہل کرتے ہوئے کئی اہم اقدامات کئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی حاصل کی، لیکن اس کے باوجود دیکھنے میں یہی آیا کہ بین الاصوبائی راستے بند نہ ہونے کے سبب عوام کو گھروں میں محدود رکھنے کی حکمت عملی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکے گی۔ حکومت سندھ نے سخت لاک ڈاؤن کیا ہے لیکن وفاق کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن نہ کئے جانے کے فیصلے کے سبب صوبوں و وفاق میں تناؤ بڑھتا واضح نظر آرہا ہے، حالاں کہ وزیر اعظم کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن کے احکامات جاری نہ کئے جانے کے باوجود 80فیصد حصوں میں صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے، صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں ہیں، انہوں نے بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے اور فوج سے مدد طلب کی ہے، تاہم عوام کی جانب سے اپنی مدد ااپ کے تحت کرونا وائرس کی سنگینی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ یہ ایک افسوس ناک عمل ہے۔

تادم تحریر دنیا بھر میں پانچ لاکھ کے قریب کرونا وائرس سے متاثر مریضوں کی تصدیق کی جاچکی ہے۔ جن میں ہلاکتوں کی تعداد 22ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جب کہ صحت مند افراد کی تعداد ایک لاکھ 20ہزار کے قریب ہے۔یہ اَمر تسلی بخش ضرور ہے کہ کرونا وائرس ایک ایسا جان لیوا مرض نہیں ہے جو آنا فاناََ انسانی یا جنگلی حیات کو ختم کرسکے، جتنی بھی ہلاکتیں سامنے آرہی ہیں اُس میں زیادہ تر وہ افراد ہیں جنہیں بروقت طبی امداد نہیں مل سکی یا پھر عمر زیادہ ہونے کے باعث قوت مدافعت کی کمزوری سی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہاں یہ اَمر بھی سامنے آیا کہ ضروری نہیں کہ50برس سے زاید العمر افراد کو ہی خطرات لاحق ہوں گے،بلکہ جواں سال متاثرین کو بھی زندگیاں کھونا پڑی ہیں، جس کی مثال کرونا وائرس کے خلاف کام کرنے والے پاکستان کے نوجوان ڈاکٹر اسامہ ریاض بھی ہیں جنہوں نے وائرس کی تباہ کاریوں کی باوجود اپنے جان خطرے میں ڈال کر انسانوں کی جان بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہن مسلک بچانے کی کوشش کی۔

پاکستانی عوام کو عالمی ادارہ صحت اور حکام کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کو جنگی صورتحال سمجھ کر سنجیدگی سے لینا ہوگا، غیر سنجیدگی ایک ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے بعد لاکھ چاہنے کے باوجود اپنے پیاروں سے محروم ہوسکتے ہیں، وقت سے قبل افسوس سے ہاتھ ملنے کے بجائے ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات پر عمل کیا جائے۔ یہ ضرور ہے کہ لاک ڈاؤن کے منفی معاشی حالات بھی سامنے ہیں، لیکن عوام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ان کے پاس اقدامات پر عمل نہ کرنے کے علاوہ دوسرا آپشن کیا ہے، حکومت کی جانب سے ریلیف ملنا، اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، لیکن یہ بھی نہ ملے تو کیا کرونا کی تباہیوں کو روکا جاسکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک، اپنی معاشی قوت کو وقت کے ساتھ سنبھالنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پزیر اور قرضوں میں ڈوبی عوام خود کو قیامت خیزیوں کے بعد کس طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکے گی اس پر ہر ایک شخص کو سوچنے و سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عالمی وبا کے خاتمے کے آثار تاوقت دکھائی نہیں دے رہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں چار و ناچار کرونا وائرس سے بچنے کے لئے حفاظتی اقدامات اپنی مدد آپ کے تحت ہی کرنا ہوگا۔حکومت سے گلہ اور ریاست کی جانب سے ریلیف کی توقعات اپنی جگہ۔ سیاست و اختلافات بھی محفوظ رکھیئے، لیکن اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کے خلاف لڑ رہی ہے، ہمیں اس موقع پر اللہ تعالی کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ آج ایک ایسے وائرس نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے جو قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہا ہے۔عالمی وبا پر حکومت و اپوزیشن کا ایک صفحے پر اتفاق رائے کا پیدا نہ ہونا، مسائل کو کم کرنے کے بجائے بڑھائے گا جو کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں قرار دیا جا سکتا۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
‎ کرونا وائرس Corona virus defeat Failure people ruler حکمران شکست عوام ناکام
Coronavirus in Pakistan
Previous Post پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی
Next Post کیا کرونا وائرس لیبارٹری میں تیار کیا گیا؟
Coronavirus - Laboratory

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close