Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کرونا ۔۔ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں

June 15, 2020 0 1 min read
Coronavirus
Coronavirus
Coronavirus

تحریر : سید عارف سعید بخاری

کرونا وائرس کے بارے میں شروع دن سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی قدرتی بیماری یا وباء نہیں ایک وائرس ہے جو کہ ازخود تیار کرکے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے دنیا بھر میں پھیلا دیا گیا۔اس وائرس نے دنیا کے 129ممالک کے عوام کو نقصان پہنچااور لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ۔اس بیماری کو وبا ء کا نام دے کر اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ دنیا بھر کے لوگ خصوصاً ہر پاکستانی خود کو کرونا کا مریض سمجھنے لگا ۔وباء کیاہوتی ہے۔۔؟اس بارے کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ وبا ء کی صورت سڑکوں اور گلی محلوں میں لاشیں گرتی ہیں،خدانخواستہ کسی وباء کے حملے کی صورت بسا اوقات کسی کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا اور نہ ہی مریض کو ہسپتال لے جانے کی نوبت آتی ہے۔جہاں تک وباء کا تعلق ہے تو جب کوئی200سال قبل کشمیر سمیت مختلف ممالک میں” طاعون”نامی وباء پھیلی تو اس وقت پورے پورے گاؤں کی آبادیاں موت کے منہ میں چلی گئی تھیں۔لوگ موت کے خوف سے دیگر ممالک کو ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے ۔حضرت علی کا فرمان ہے کہ ”کوئی بھی وباء 70دن بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے ”۔لیکن کرونا وائرس کو ”وباء ” کہنے والی قوتیں آپ کے اس فرمان کی نفی کرتے ہوئے بضد ہیں کہ یہ وباء ہمارے ساتھ ساتھ چلے گی۔

کرونا وائرس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے لیکن کم از کم پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں معمولی بخار، کھانسی، سردرد اور گلے میں خراش کی صورت بھی ہسپتال جانے والوں کو فوری طور پر ”کرونا ” کا مریض بنا دینے کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص اور لواحقین کے ساتھ بھی ڈاکٹرز اور نرسز کا رویہ ناقابل برداشت تک نامناسب ہونے کی شکایات عام ہیں ۔اچھا معالج وہ ہوتا ہے کہ جس کی محبت و شفقت اور مریض کی دل جوئی سے بیمار کاآدھا مرض دور ہو جاتا ہے ۔اس کے برعکس اس صدی کے مسیحاؤں کی شناخت بن چکی ہے کہ جس نے موت کی وادی میں اترنا ہو وہ ہسپتال کا رخ کرے یاڈاکٹر کے پاس جائے ۔ طبی مسائل سے عدم آشنائی یعنی کہ” ناخواندگی ”بھی خاص طور سے مریض کی صحت کو مزید خراب کرنے کا سبب بن رہی ہے اور شعبہ ء صحت سے وابستہ افراد کی اکثریت عوام کی اس کم علمی اور جہالت سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے ۔

کورنا وائرس کے بارے میں ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ یہ ابتدائی سطح پر اگرانسان کے اندر داخل ہو جائے تو متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے یہ کسی بھی دوسرے انسان کو منتقل ہو سکتا ہے ، لیکن یہ وائرس جب کسی انسان میں پیدا ہو تا ہے تو احتیاط اور مناسب علاج سے اگلے8 سے10 دنوں میںیہ”ٹوٹ پھوٹ” جاتا ہے جس کے بعد متاثرہ انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی یہ کسی دوسرے شخص کو لگ سکتا ہے۔اس لئے اس بارے کوئی خوف اپنے دل و دماغ پر سوار کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ اگرکرونا متاثرہ انسان کا اگلے8 سے15دنوں تک دوبارہ ٹیسٹ کروایا بھی جائے تو موجودہ مشینوں میں ”منفی” رزلٹ دکھانے کی اہلیت نہ ہونے کی بناء پراس کی ٹیسٹ رپورٹ باربار Positveہی آئے گی۔البتہ اگلے18سے 20 دن کے بعد اگر اسی مریض کا ٹیسٹ کروایا جائے تو وہNegativeآئے گا ۔جدید مشینیں بھی ”ٹوٹے ہوئے وائرس ”کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں ،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تک دستیاب مشینوں میں Negativeنہ بناتے کی خامی کی وجہ سے رزلٹ Positve آرہا ہے جس سے لوگ مزید الجھن اورذہنی تناؤ کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے20 دن کے بعد کورنا کا ا ثر زائل ہونے کی وجہ سے بندہ نارمل زندگی گذار سکتا ہے ۔ایک اہم بات جس سے آگاہی ضروری ہے کہ کرونا وائرس ہر انسان میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے ،لیکن بلا ضرورت ٹیسٹ کروا کر اپنے لئے پریشانی مول لینا کوئی قابل تعریف بات نہیں ،اس لئے جب تک کوئی واضح علامات ظاہر نہ ہوں ہمیں کروناکا خوف اپنے اوپر طاری نہیں کر لینا چاہئے ۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت نے اپنی ناقص حکمت عملی اور ”مسیحاؤں ”سمیت مفاد پرست مافیا کے پروپیگنڈے نے پہلے ”کرونا”وائرس کانہ ختم ہونے والا خوف پیدا کرکے جس طرح لوگوں کو ذہنی مریض بنایا ہے ۔اب اس کا ازالہ کرنا حکومت اور ”مسیحاؤں ” کے بس میںبھی نہیں رہا ۔کہا جا رہا ہے کہ چائنا میں اس مرض پر قابو پا لیا گیاہے اسی طرح نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈ آرڈن نے بھی اپنی دانشمندانہ حکمت عملی اور عوام کے تعاون سے اپنے ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پا کر ”کرونا فری ملک ” کا اعزاز حاصل کرلیا ہے ۔ادھر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اٹلی کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے احکامات کو نظر اندازکرکے اپنے عوام کو اس موذی مرض سے نجات دلانے کیلئے ریسرچ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتیں اپنی رعایا سے مخلص ہو ں اور ان کے دکھ درد کی ریاستی ذمہ داری کو سمجھتی ہوں تو ہر مسئلے کا حل نکالنا ممکن ہے۔ اٹلی میں ماہرین طب نے ”کورنا ”بارے ریسرچ کرکے بتا دیا ہے کہ اس کی وجوہات کیا ہے ۔۔؟ اور اس کا علاج کیا ہے۔اس کے باوجود کوئی بھی اس علاج پر یقین کرنے کو تیار نہیں ۔تاہم ابھی اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

کروناکی تشخص کیلئے PCRٹیسٹ کے ذریعے جسم میں وائرس کی موجود گی کا پتہ چلایا جاتا ہے ۔۔؟یہ ایک مہنگا ٹیسٹ ہے اس سے مثبت یا منفی رزلٹ حاصل کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ وائرس کاپتہ چلانے کیلئے Anti Bodyٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے ۔یہ ٹیسٹ PCRسے چار گناکم قیمت میں کیا جاتا ہے اور غریب لوگوں پر زیادہ بوجھ بھی نہیں پڑتا ۔کورنا کی کنفرمیشن کے بعد مریض کوآئیسولیشن وارڈ میں داخل کرلیاجاتا ہے، اس دوران علاج کے ساتھ ساتھ چار مزید ٹیسٹ بھی کروائے جاتے ہیں ،گویا مریض کو یہ سارے ٹیسٹ تقریباً 20ہزار میں پڑتے ہیں اور کوئی بھی سفید پوش ،دہاڑی دار یا ملازمت پیشہ شخص یہ رقم ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا ۔افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ہونے والے کرونا ٹیسیٹس پر یقین کرنا خود کو موت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے اس لئے لوگ اپنی تسلی کیلئے نجی لیبارٹریز سے مہنگے ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں ۔جبکہ کرونا اگر حقیقی معنوں میں وباء ہے تو کم از کم ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ افراد کیلئے یہ تمام ٹیسٹ ”فری” کروانے کی سہولت دے ۔اس کے لیے ضروری تھا کہ حکومت لوگوں کو 12ہزار روپے کی امداد دینے کی بجائے انہیں کرونا ٹیسٹ کی فری سہولت مہیا ء کرتی جیسا کہ سعودی حکومت نے اپنے شہریوں کو اس ٹیسٹ کی مفت سہولت فراہم کرکے احسن اقدام اٹھایا ہے ۔اس حوالے سے سعودی فرمانروا مبارکبادکے مستحق ہیںکہ جنہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو بھی یہ سہولت مفت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلان کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی تاریکن وطن سے کوئی پوچھ گچھ بھی نہیں کی جائے گی ۔

پاکستان کا ایک المیہ یہ بھی ہے یہاں ہر مسئلے میں دکاندار ی شروع ہو جاتی ہے ، کورونا کے بہت سیریس مریضوں کو بچانے کے لیے Actemra نامی ایک عام سا انجکشن ، جس کی قیمت تقریبا 800سے900 روپے کے درمیان تھی،ذخیرہ اندازوں اور بااثر مافیا نے عام سٹوروں سے غائب کرکے سٹاک کر لیا ہے یوں یہ انجکشن بلیک میں 12سے 30ہزار روپے تک فروخت کئے جانے کی اطلاعات عام ہیں۔لیکن کسی کو اس کا احساس نہیں۔حکومت کو اس مافیا کے خلاف بھی کارروائی کرنا چاہئے۔

کورنا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کا معاملہ بھی مبینہ طور پرپُراسراریت کاشکار ہے ،مرنے والا کرونا کے سبب مرا یا کسی اور مرض سے اس کی جان گئی ،ہسپتال والے متاثرہ انسان کوکرونا کا مریض بتا کرورثا کو میت تک دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔جبکہ کرونا والی میت میں وائرس کی موجودگی کا تاثر دے کر یہ لوگ لواحقین کو بھی مرنے والے سے دور رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔اس حوالے سے بہت سی کہانیاں ملک بھر میں گردش کر رہی ہے لیکن ابھی تک حقیقت سامنے نہیں آ سکی کہ آیا ہسپتالوں میں جانے والے مریض بیماری سے مرتے ہیں یا انہیں خدانخواستہ کوئی دوا دی جاتی ہے یا کوئی ایسا انجکشن لگایا جاتا ہے جس سے وہ اپنی جان سے چلا جاتا ہے اور اس کی میت بھی دیکھنے کے قابل نہیں رہتی ۔بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ مرنے کے بعد ہر قسم کی بیماری انسانی جسم سے رخصت ہو جاتی ہے کیونکہ انسانی سسٹم کا تعلق روح سے بندھا ہے ۔لیکن اس بات کو بھی حرف آخر نہیں کہا جا سکتا کیونکہ حکومت اور ماہرین طب کا فلسفہ اسی ایک نکتے پر قائم و دائم ہے کہ کرونا سے مرنے والے کی میت میں 72گھنٹے تک وائرس موجود رہتا ہے جو تدفین میں شامل ہونے والوں کو بھی لگ سکتا ہے ۔اس حوالے سے علمائے کرام اور ماہرین طب ہی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔

کرونا سے بچنے کیلئے ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی ”قوت مدافعت”بڑھانے کیلئے بتائی گئی ہدایات پر عمل کرے ،انڈے اور گوشت کا استعمال قوت مدافعت بڑھانے میں مفید ثابت ہو سکتا ہے ،اس طرح ہمارا جسم اس وائرس کو اپنے اندر داخل ہونے سے روک سکتا ہے ۔

لوگوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے حکومت کے پاس مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو کا آپشن تھا ۔لیکن پاکستان جیسے ملک میں”لاک ڈاؤن” معاشی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے اس لئے لوگوں کی غیر ذمہ داران روش کو دیکھتے ہوئے حکومت سے ”سمارٹ یا ہاٹ لاک ڈاؤن ”کی پالیسی پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کرونا وائرس کا خوف ختم کرنے کیلئے ”شعور آگاہی مہم ”کوتیز تر کیا جائے تاکہ لوگ کرونا کے خلاف خود کو ”حالت جنگ ”میں سمجھتے ہوئے عقل و شعور کے ساتھ کاروبارِ زندگی کو رواں دواں رکھ سکیں اور کروناپر قابو پانے کیلئے بھی حکومت اٹلی ، چائنا اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان پر عمل درآمد کی راہ نکالے تاکہ ملک و ملت کسی مستقل عذاب سے دوچار نہ ہو ،اور کرونا پر بھی قابو پایا جا سکے ۔

Syed Arif Syed Bukhari
Syed Arif Syed Bukhari

تحریر : سید عارف سعید بخاری
Email:arifsaeedbukhari@gmail.com

Share this:
Tags:
Corona virus cough Fear need Pakistani people پاکستانی خوف ضرورت عوام کرونا وائرس کھانسی
Turkey Coronavirus
Previous Post ترکی: کورونا وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد میں مستقل کمی
Next Post کورونا کی وبا قابو میں، یورپ میں سفر کے لیے دروازے کھل گئے
Security

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close