Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کورونا کو نظر انداز اور منافرت کو ترجیح

April 2, 2020April 2, 2020 0 1 min read
Coronavirus
Coronavirus
Coronavirus

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

کورونا وائرس جیسی خطرناک وبا نے جب پورے ملک میں اپنے پاؤں پسار لئے ، تب حکومت ہند کی نیند ٹوٹی،لیکن اس وقت کافی دیر ہو چکی تھی۔جس کے باعث بغیر کسی تیاری اور لائحہ عمل کے ملک میں 14 اپریل تک کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ۔ ایسا نہیں ہے کہ کورونا وائرس کی آمد بھارت میں اچانک ہوئی ۔ چین میں 31 دسمبر کو ہی اس مہلک وبا کی سچائی کا علم چین کے ہی ڈاکٹر لی ویلیانگ کے ذریعہ پوری دنیا کو ہو گیا تھا ، کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ہی ڈاکٹر لی نے اس وبا سے دنیا کو خبردار کیا تھا ۔ یہ خود اس وبا سے لڑتے لڑتے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ڈاکٹر لی کی موت کے بعد اس وبائی مرض کی خبریں دنیا بھر سے آنے لگی تھیں ۔ دنیا کے بہت سارے ممالک نے احتیاطی تدابیر کرنا شروع کر دئے ۔ چین کے شہر ووہان ،جہاں سے یہ وبا پھیلی اس شہر سے صرف ایک سو تیس کیلو میٹر دور بسے ایک چھوٹے سے ملک تائیوان نے تو ابتدأ میں ہی اس کورونا وائرس کو ملک میں داخلے کے خلاف اس قدر سخت حکمت عملی اوراحتیاطی تدابیر اپنائی کہ اس ملک سے کورونا وائرس کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیںآیا۔ ہانگ کانگ نے بھی ایسی ہی شاندار مثال پیش کی۔ کئی دوسرے ممالک اس وبا سے لڑنے کے لئے فیس ماسک، سرجیکل ماسک ، وینٹی لیٹر وغیرہ جیسی دیگر ضروری طبی اشیأ مہیأ کرانے منہمک ہو گئے۔

ہمارے ملک بھارت کی حکومت پورے ڈھائی ماہ تک مختلف ممالک میں بڑھتی اس وبا سے بے خبر رہی یا یوں کہیں کہ اسے نظر انداز کرتی رہی۔ جنوری ماہ میں ہمارے وزیر اعظم مودی نے کہا ‘بھارت کو اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں’۔ فروری میں انھوں نے فرمایا ‘ بھارت اس وبا سے متاثر نہیں ہوگا ‘ ، یہ کہہ کر وہ ٹرمپ کے تاریخ ساز استقبال میں مشغول ہو گئے۔ 17 مارچ کو شکایت کی کہ راہل گاندھی بلا وجہ لوگوں کے اندر خوف پیدا کر رہے ہیں اور پھر اچانک ایک شب نمودار ہوتے ہیں اور22 مارچ کو عوامی کرفیو نافذ کئے جانے کے ساتھ اسی روز شام میںکورونا وائرس کو ملک سے بھگانے کے لئے ملک بھر میں تالی اور تھالی پیٹنے کے لئے تاکید کی جاتی ہے۔

نتیجہ میں ملک کے مختلف علاقوں میں لوگ گھروں سے نکل نکل کر مودی جی کے حکم کی تعمیل میں تالی اور تھالی پیٹنے لگے۔ تالی اور تھالی اس طرح رقص و موسیقی کے ساتھ پیٹا گیا کہ ایسا لگا جیسے کورونا وائرس کی آمد کا جشن منایا جا رہا ہے۔ امیتابھ بچن جیسے لوگ بھی اس جشن میں اپنے پریوار کے ساتھ تالی پیٹتے نظر آئے۔ کورونا وائرس جیسی خطرناک وبا کے پھیلتے سلسلہ کو روکنے کے لئے وزیر اعظم کے نافذ کردہ لاک ڈاؤن پر ملک کے ذمّہ داروں کی بے حسی کا یہ عالم رہا کہ آسام میں بی جے پی کے ایم ایل اے عوامی کرفیو کے دوران ہی مال کا افتتاح کرتے نظر آئے ۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت گرا کر اپنی حکومت سازی کا جشن منایا جا رہا تھا ۔ بھوپال میں سندھیا کی سیاسی فتح کا جشن بھی دیکنے کو ملا۔ کہیں گؤ موتر پارٹی ہو رہی تھی ۔ لکھنؤ میںکنیکا کپور کے ساتھ جشن منایا جا رہا تھا (جو اب پانچویں اسٹیج مین بھی مثبت پائی جا رہی ہیں )،پارلیامنٹ میں بیٹھنے والی خاتون ممبر کورونا وائرس سے بچنے کے لئے لوگوں کو مشورہ دے رہی تھیں کہ بریڈ پر مکھن کی طرح گائے کا گوبر لگا کر کھانے سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت صحت اشونی چوبے نے دور کی کوڑی لائی کہ دھوپ میں کھڑے رہنے سے اس وبا سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

اگر دھوپ میں کھڑے رہنے ، تالی اور تھالی پیٹنے ، گؤ موترپینے اور گائے کا گوبر کھانے سے ہی کورونا وائرس سے بچا جا سکتا تھا تو پھر یہ اچانک 31 مارچ تک کے لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار کئے بغیر 24 مارچ کی شب میں بنا کسی تیاری کئے اور سوچھے سمجھے پورے ملک میں مذید ١کیس دنوں تک یعنی اگلے 14 اپریل تک کے لئے لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی ۔ اتنے لمبے عرصے کے لئے اچانک لاک ڈاؤن کا اعلان وزیر اعظم نے کرنے کو تو کر دیا لیکن لمحے بھر کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس لمبی مدّت کے لاک ڈاؤن سے پورے ملک میں بسنے والے غریبوں اور مزدوروں کی پریشانیوں میں کس قدر اضافہ ہو جائے گا ۔ اس ناعاقبت اندیشی کا ہی نتیجہ رہاکہ گجرات، آسام ، ہریانہ، دہلی وغیرہ سے ہزاروں ہزار کی تعداد میں بوڑھے، بچّے، جوان غریب مزدور پیدل ہی سینکڑوں میل کی مسافت بھوکے پیاسے کرنے پر مجبور ہوئے ۔ ان لوگوں کا کہیں کوئی پرسان حال نہیں ملا ۔ ان لوگوں پر رحم و ترس کھاتے ہوئے ان کی مدد کیا کی جاتی ، کہ ان غریبوں اور مزدوروںپر راستے میں ملنے والی پولیس والوں نے ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا کی انھیں دیکھ کر اچھے اچھوں کی آنکھیں چھلک گئیں۔

حکومت کو ان غریبوں و مزدوروں کی بے بسی اور مجبوری کی پرواہ نہیں رہی ۔ اس بے پناہی کے سفر میں کتنے مرد و خواتین کے ہم سفر کا ہمیشہ کے لئے ساتھ چھوٹ گیا ۔ کتنی ماؤں کی گود سونی ہو گئی۔ اطلاع کے مطابق پیدل سفر اور بھوک پیاس کی شدّت سے 42 افراد کی موت ہو چکی ہے اور 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔کئی دن گزر جانے کے بعد بھی ان کی بے پناہی کا سفر ختم نہیں ہوا ہے ۔ ان لوگوں کو جہاں تہاں کیمپوں میں قیدیوں کی طرح رکھا گیا ہے اور بات کی جارہی ہے سماجی دوری بنائے رکھنے کی ۔ حکومت کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کے باعث ایسے غریب اور بے سہارا لوگ کورونا وائرس سے تو کم مر ینگے، بھوک ، پیاس کی شدت سے زیادہ مرنے پر ضرور مجبور ہونگے ۔ ایسے بہت سارے مسائل سامنے آ رہے ہیں ۔ کاش کہ وزیر اعظم مودی جی اتنے اہم فیصلے سے قبل کچھ غور و فکر کر لیتے، اپنے رفقأ سے کچھ مشور کر لئے ہوتے ۔

حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کو ہمارے ملک کی حکومت پورے ڈھائی ماہ تک پوری طرح نظر انداز کرتی رہی۔ انتہا تو یہ ہوئی ، جیسا کہ راہل گاندھی نے حکومت ہند سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ یہ حکومت 19 مارچ تک ملک میں کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کے لئے فیس ماسک، سرجیکل ماسک ، وینٹی لیٹر وغیرہ جیسی طبی سہولیات کے لئے جمع کرنے کی بجائے ،ان ضروری اشیأ کو بیرون ممالک میں ایکسپورٹ کیوںکرتی رہی۔ جبکہ بیرون ممالک کے ذرائع ابلاغ اس بات کی بار بار تنبیہ کر رہے تھے کہ سوپر مانے جانے والے ملک امریکہ ، برطانیہ وغیرہ جہاں ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں ۔ وہاں لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے تو بھارت جیسے گھنی آبادی اور نسبتاََ غربت میں زیادہ جینے والے ملک کو ابھی سے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر کرنا چاہئے۔ لیکن یہاں کی حکومت کو تو ہندو، مسلمان کے درمیان منافرت پھیلانے، مندر مسجد تنازعہ کھڑا کرنے ، عدم رواداری ، تشدد، سیاسی جوڑ توڑ کر دوسرے کی حکومت گرانے اور اپنی حکومت بنانے ، مجسموں کی تعمیرپر کروڑوں ، اربوں خرچ کرنے ، شہروں کا نام تبدیل کرنے میں ہی مشغول رہتی ہے ۔ صحت اور تعلیم ان کے ایجندے میں ایسا لگتا ہے ہی نہیں ۔بے جا اور لا حاصل مشغولیات پر تنقید کرنے ، حکومت سے سوال کرنے کی بجائے یہاں کی گودی میڈیا واہ واہی کرنا ہی صحافتی وفاداری تصّور کرتی ہے۔یہی وجہ رہی کہ کورونا وائرس کے مختلف ممالک میں وبائی شکل اختیار کر لینے کے باوجود یہاں کی حکومت اس سے بے پرواہ رہی ۔ حالانکہ اس وبا کی ملک میں پاؤں پسارنے کی خبریں بعض اخبارات میںآنے لگی تھیں ۔

ہندی روزنامہ ‘ہندوستان’ (پٹنہ، ایڈیشن) کے 28 جنوری کے شمارہ کے صفحہ اوّل پر ریاست بہار میں کورونا وائرس کے تین مریضوں کے ملنے کی خبر بڑی سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ اسی طرح کئی دوسرے اخبارات میں بھی مسلسل بڑھتے کورونا وائرس کے خطروں سے آگاہ کیا جارہا تھا ۔ لیکن مرکزی حکومت دلی کاانتخاب جیتنے، شہریت قانون سے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے، دلی میں مسلمانوں کے قتل و غارت گری میں، ٹرمپ کی آو بھگت کی تیاریوں میں ، مدھیہ پردیش کی حکومت گرانے میں منہمک رہی ۔ ملک کے وزیر اعظم کی اس وبائی مرض سے متعلق لاتعلقی اوربے فکری کا یہ عالم رہا کہ پی ایم او نے کورونا وائرس سے بین الاقوامی فکر مندی کے مد نظر 24 جنوری کواحتیاطی تدابیر کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ضرورت محسوس کی تھی ۔ جس میں وزیر اعظم ، وزیر داخلہ، وزیر صحت نے شامل ہو نا ضروری نہیں سمجھا اور پرنسپل سکریٹری کی صدارت میں کی گئی اس میٹنگ میںخانہ پری کر دی گئی۔ اس دن بھی اگر اس میٹنگ کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو ملک میں ایسے بھیانک حالات شائد نہ ہوتے کہ ملک بھر کے اسپتالوں میں علاج کے لئے بنیادی طبی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں ۔

جب سر سے پانی اُوپر گزرنے لگا تو ان بنیادی طبی ضروریات کی چیزوں کے لئے مختلف ریاستوں میں آرڈر دئے جا رہے ہیں ۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق بھارت میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 1834 ہے اور مرنے والے 41 کے آس پاس ہیں ۔یہ تعداد دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اس وبا سے ملک کے حالات بہت ہی نازک ہیں ۔ اس نازک وقت میں ہر شہری کی کچھ نہ کچھ ذمّہ داریاں اور فرائض ہیں ۔ جنھیں سمجھنا اور ان پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس وقت مختلف سماجی اور دینی ادارے اور میڈیا کا بہت اہم رول ہے ۔ مزدوروں کی نقل مکانی ہر حال میں روکنا ضروری ہے۔ جو لوگ اچانک بے روزگار ہو گئے ، ان کے جینے کے لئے بنیادی ضرورتوں کا سامان کرنا نیز ان کی طبی مدد کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ یہ وبا زیادہ نہیں پھیلے۔

گزشتہ چند دنوں سے نظام الدین کی مسجد جہاں تبلیغی جماعت کے لوگ اچانک لاک ڈاون کے کئے گئے فیصلہ سے اپنے اپنے علاقوں میں نہیں جا سکے ۔ ان پھنسے ہوئے لوگوں کو فرقہ پرست لوگ اور خاص طور پر میڈیا، مذہبی رنگ دینے میں پوری طاقت لگائے ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے اور اسے پوری طرح شکست دینے کے لئے متحدہ کوشش ضروری ہے ۔ لیکن گودی میڈیا اس کی اہمیت کو سمجھنے کے بجائے پھر ہندو مسلم خلیج کو بڑھانے میں منہمک ہے ۔ بار بار یہ بیان سامنے آ رہا ہے کہ مسجد کے ذمّہ داروں نے اچانک لاک ڈاون کے سبب مسجد میں پھنسے لوگوں کو ان کے دور دراز علاقوں کی رہائش گاہوں تک بھیجنے کے لئے سترہ عدد بس کا انتظام کیا تھا اور 25 مارچ کو ہی مقامی ایس ایچ او کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے ان بسوں کے لئے کرفیو پاس کی گزارش کی تھی ۔ لیکن انتظامیہ اسی طرح سویا رہا ، جیسے مختلف مقامات سے باہر نکل کر آنند بہار وغیرہ میں لوگ پہنچ گئے اور انتظامیہ سوئی رہی ۔ ویشنو دیوی اور دیگر کئی مندروں اور گرو دواروںمیں بھی بہت سارے لوگوں کے پھنسے ہونے کی بھی خبریںآئی ہیں ۔ تو کیا ان کی مدد کرنے اور انھیں ان کے شہروں اور گاؤں پہنچانے اور ان کے کھانے ، پینے کا انتظام کئے جانے کی بجائے فرقہ پرستی اور منافرت کی زبان میں انھیں کورونا وائرس پھیلانے والا کہا جائے گا۔ ہمارے یوگی جی لاک ڈاؤن میں ہی 25 مارچ کو اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایودھیا پہنچ کر رام جی کو رام مندر میں براجمان کرتے ہیں ۔ نظام الدین کی مسجد میں جہاں تک بیرون ممالک سے آنے والوں کا سوال ہے تو ان کی آمد اور قیام کی اطلاع وزارت خارجہ کو رہتی ہے ۔ملک میں لاک ڈاون نافذ ہونے کے بعد بھی چارٹرڈ پلین سے بھر بھر کر لوگ لائے گئے ، کیوں نہیں تبلیغی جماعت کے لوگوں کو اسی طرح واپس کیا گیا ۔ دراصل مرکزی حکومت کی لاپرواہی اور کورونا وائرس کو نظر انداز کئے جانے سے دن بدن بڑھتے اور بگڑتے حالات سے خواہ وہ مرکزی حکومت ہو یا پھر دلی حکومت اپنی بہت ہی واضح ناکامیوں سے بوکھلائی گئی ہے اورایک بار پھر وہ ہندو مسلما ن کر ، لوگوں کے ذہن کو اپنی ناکامیوںسے بھٹکانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جس میں گودی میڈیا پوری مدد کر رہا ہے ۔

کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کو نظر انداز کئے جانے کا یہ عالم ہے کہ کورونا وائرس سے عالمی الرٹ جاری ہونے کے باوجود کیبنیٹ سکریٹری(مرکزی) راجیو گوبا نے پندرہ لاکھ لوگوںکی بیرون ممالک سے ملک کے اندر داخل ہونے کی اطلاع دی ہے۔ اب ، جب کہ یہ اندازہ ہوا کہ بیرون ممالک سے آنے والوں نے ہی ملک کے اندر کورونا وائرس پھیلایا ہے ، تب ان آنے والے لوگوں کو تلاش کیا جا رہا ہے ۔ کاش کہ ملک کے اندر ہندو مسلمان کئے جانے اور پورے ملک میں منافرت کے جرثومے پھیلانے کے بجائے ، کورونا وائرس کے جرثومے کو روکنے کی، وقت رہتے جنگی پیمانہ پر توجہ دی جاتی ،تو اس وقت جس طرح لوگوں کوہر پل موت کا خوف ستا رہا ہے ، ایسا نہ ہوتا ۔ کورونا وائرس ملک کے لوگوں کو تو اپنی غذا بنا ہی رہا ہے ،یہ بہت بے دردی سے ملک کی معیشت کو بھی تباہ و برباد کر رہا ہے ۔ جرمنی کے وزیر مالیات ملک کی بہت تیزی سے گرتی معیشت سے پریشان ہو کر خود کشی کر لی ہے۔ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا ، نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ملک کے بر سر اقتدار افراد بہت تیزی سے بگڑتے حالات کو بہت سنجیدگی سے سمجھیں اور مثبت سوچ اور فکر کے ساتھ لائحہ عمل تیار کریں۔ …

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

Share this:
Tags:
Corona virus epidemic hypocrisy mask preference ترجیح کورونا وائرس ماسک منافرت وبا
Charity
Previous Post خیرات دینے والوں کی شامت
Next Post طواف کی اجازت کے بعد دنیا میں اللہ کی رحمت غالب آئیگی: صوفی مسعود احمد صدیقی
Masood Ahmed Siddiqui

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close