Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ملک میں بڑھتے جنسی تشدد کے درمیان عالمی یوم بچیاں

October 11, 2020 0 1 min read
Rape Victim
Rape Victim
Rape Victim

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

معصوم بچیوں پر دنیا کے بیشتر ممالک میں ہونے والے ظالمانہ پُر تشدد واقعات اور سانحات کے پیش نظر عالمی سطح پر بچیوں کو بااختیار بنانے اور ان کے مسئلوں کے تدارک کے لئے ترکی، کینیڈا اور پیرو کی کوششوںسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19 دسمبر 2011ء کو یہ تجویز پاس کیا تھا کہ ہر سال کے 11 اکتوبر کو بین الاقوامی سطح پر ”عالمی یوم بچیاں ” انعقاد کیا جائے گا اور 11 اکتوبر 2012 ء کو پہلا عالمی یوم بچیاں کا انعقاد کیا گیا ۔ لیکن افسوس کہ جن مقاصد کے حصول اور مسئلہ کے تدارک کے لئے اقوام متحدہ نے اتنا اہم فیصلہ کیا تھا ، وہ مقاصد پورا ہونا تو دور بچیوں کے ساتھ ظالمانہ رویئے میں اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ان کے ساتھ ہونے والی تفریق،تعلیم کی کمی ، غذا کی کمی،قانونی اختیار،طبی سہولیات،کم عمری کی شادی اور جنسی تشدد وغیرہ جیسے مسئلوں کو اہمیت دی گئی تھی۔معصوم بچیوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک اور رویۂ کو عالمی سطح پر محسوس کیا گیا ہے ۔ یونیسیف کے ذریعہ نشاندہی کئے گئے بچیوں کے تمام مسئلوں میں اس وقت میرے خیال میں سب سے اہم مسئلہ بچیوں کی آبرو ریزی کا مسئلہ ہے۔

بچیوں کی آبروریزی کے بعد جس بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ بچیوں کو شواہد مٹانے کے لئے قتل کیا جا رہا ہے ۔یہ اس وقت کا بڑا ہی نازک مسئلہ ہے ۔ خاص طور ہمارا ملک بھارت اس مسئلے کا مرکز بنا ہوا ہے ۔دنیا کے مختلف ممالک میں اتر پردیش کے ہاتھرس میں ہونے والے سانحہ کو لے کر غم و غصہ کا اظہار ہو رہا ہے اور احتجاج و مظاہرے کئے جا رہے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ملک کے وزیر اعظم نے اتنے بڑے غیر انسانی،غیر قانونی اور غیر ذمّہ دارنہ حرکت و عمل پر ایک ٹوئیٹ پر بھی اظہار افسوس نہیں کیا۔ جبکہ ان ہی دیا ہوا نعرہ ہے” بیٹی پڑھاؤ ،بیٹی بچاؤ” لیکن ان کی حکومت کا عمل ٹھیک اس کے برعکس ہے۔ بیٹی کی آبرو اور جان بچے گی تبھی تو وہ آگے بڑھے گی ۔اب تو بے شرمی اور بے حیائی کی انتہا یہ ہو رہی ہے کہ سیاسی رسوخ رکھنے والے اور اونچی ذات کے زانیوں اور قاتلوں کی حمایت میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں ۔ یاد کیجئے جموں کے کٹھوہ کا وہ دل دہلا دینے والا سانحہ ،جس میں آٹھ سال کی معصوم بے گناہ بچی آصفہ کو اغوأ کر ایک مندر کے اندر مسلسل سات دنوں تک تین لوگ زنا بالجبر کرتے رہے اور جب وہ آخری سانس لینے لگی تو اسے پتھروں سے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ اس انسانیت سوز سانحہ پر شرمندہ اور نادم ہونے کی بجائے ایسے مجرموں کی حمایت میں جلسے جلوس نکلنا شروع ہوئے تھے ۔جس کی بھرپور مذمت ہوئی تھی ۔ہر جانب بڑے پیمانے پر ہنگامے ہوئے ،دیش اور دنیا میں تھو تھو ہوئی تھی اور اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیوگوٹیرس کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا تھا کہ بھارت بیمار ذہنیت کا غلام ہے جہاں زانیوں کے بچانے کے لئے ریلی نکالی جاتی ہے ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کا یہ بیان پورے ملک بھارت کو شرمسار کر دینے والا تھا ۔ توقع تھی اس بیان کے بعد حکومت کچھ ایسی کاروائی ضرور کرے گی کہ پھر ایسے شرمندہ کرنے والے بیان سے سامنا نہ ہو ۔لیکن افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور حکومت کی سرپرستی میں پھر وہی سب کچھ ہوا جو باعث ذلت و رسوائی بہرحال پورے ملک کے لئے ہے ۔

المیہ یہ ہے کہ اس وقت ہماراپورا ملک اتر پردیش کے ہاتھرس میں ہونے والے سانحہ سے صدمے میں ڈوبا ہواہے ۔ ہاتھرس کی معصوم بچی کو کھیت میں لے جا کر اس کے ساتھ چار لڑکوں نے زنا باالجبر کیا ،اس کے بعد اس کی زبان کاٹ دی گئی ،اس کی ہڈیاں توڑ دی گئیں اور اسے ختم کرنے کی پوری کوشش کی گئی ،تاکہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی گھناونی حرکت کے بارے میں کسی کو بتا نہیں سکے۔ لیکن اس کے اندر کچھ جان باقی تھی اور ہنگامے کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ،جہاں اس نے اپنی موت سے قبل اپنے ساتھ ہونیوالے چاروں زانیوںکا نام بھی پولیس کو بتایا ۔اس کے بعد یہ بچی اپنے زخموں کی تاب نہ لا سکی اور دم توڑ دیا ۔ زانیوں کی جنسی حیوانیت اور درندگی سے اس معصوم بچی کی آبرو گئی اور جسمانی تشدد سے جان بھی گئی۔ اس بچی کی موت کے بعد بھی اس کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، اور یہ ظلم و ستم گاؤں کے لُچے ، لفنگوں ، موالیوں ، قاتلوں نے نہیں کئے بلکہ حکومت کے اشارے حکومت کے کارندوں نے انجام دئے کہ اس بچی کے والدین ، بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کو ڈرا دھمکا کر قید کر کے بچی کی لاش کو خاندان کے حوالے نہ کر کسی طرح کی مذہبی رسومات کے بغیر رات کے اندھیرے میں بڑی بے رحمی سے جیسے تیسے جلا دیا گیا ۔

اتر پردیش کی سرکار نے اپنی ریاست میں مسلسل ہو رہے ایسے جبر و ظلم ، حیوانیت اور وحشیانہ سانحات کی پردہ پوشی کے لئے بے شرمی کی کس حد تک جا سکتی ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ بیان دیا جا رہا ہے کہ اس بچی کے ساتھ زنا ہوا ہی نہیں اور رات کے اندھیرے میں اس بچی کے والدین کی اجازت سے اسے سپرد آتش کیا گیا ۔بقول بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھر راون،اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی کی حکومت ہاتھرس میں ہونے والے سانحہ کے ثبوت کو ایس آئی ٹی مٹا رہی ہے۔حکومت اتر پردیش اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے اور انتہا تو یہ ہے کہ کورٹ کے مطالبہ پر جھوٹاحلف نامہ دے کر انسانیت، قانون ، عدلیہ اور آئین کو بھی شرمسار کیا ۔ ایسی بے حیائی اور بے شرمی جو انسانیت کو بھی شرمسار کر دے ، شاید ہی پہلے کبھی دیکھنے کو ملی ہو۔

حکومت اتر پردیش کے مسلسل جھوٹے بیان سے ناراض ہو کر قانون کے 150 سے زائد طلبا نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر اس معاملے میں مداخلت کرنے اور ملزموں وقصوروار افسران کے خلاف تادیبی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔بے شرمی کی انتہا تو یہ ہے کہ جس بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتر پردیش میں حکومت ہے ، اس پارٹی کا ایک نام نہاد بارہ بنکی کا نیتا رنجیت بہادر شریواستو یہ بولنے میں ذرا بھی شر م محسوس نہیں کرتا ہے کہ چاروں اونچی ذات کے ملزمین بے قصور ہیں بلکہ لڑکی ہی آوارہ تھی ۔ یہ وہ ”نیتا” ہے جس کے خلاف 44 مجرمانہ معاملے مختلف تھانوں اور عدالتوں میں درج ہیں ۔ اتر پردیش حکومت کے افسران کے مسلسل خوف و دہشت اور الٹے متاثرہ خاندان والوں کو پریشان کئے جانے پر بچی کے والدین یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ جس طرح میری بچی کو راتوں رات جلا دیا گیااب ہم لوگوں کو بھی زہر دے دو تاکہ موت کے بعد سکون ہو۔

اتر پردیش میں ہاتھرس کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے ،بلکہ حکومت کی نا اہلی کے سبب اس ریاست کے غندوں ، بدمعاشوں ، قاتلوں کے اتنے حوصلے بڑھ گئے ہیںکہ انھیں یقین ہے کہ ان کے کسی بھی جرم پر حکومت نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہے گی بلکہ قانونی شکنجوں سے بھی محفوظ رکھے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہاتھرس کے سانحہ کے بعد بھی معصوم بچیوں کی آبرو ریزی کا سلسلہ رکا نہیں اور پئے در پئے بلند شہر،بلرام پور،اعظم گڑھ ،سہارنپور،بھدوہی وغیرہ میں معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد ہوتے رہے ،جنھیں سن کر انسانیت چیخ اٹھتی ہے ۔ معصوم بچیوں کا زنا باالجبر کے بعد ثبوت مٹانے کے لئے جس بے رحمی اور بے دردی کے ساتھ اس بچی کے جسم کو اینٹ پتھروں سے کچل کر ختم کیا جاتا ہے ،یہ فعل کسی آدمی کا ہو ہی نہیں سکتا ، ایسا عمل حیوان، درندہ اور وحشی ہی کر سکتا ہے ۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ حکومت اتر پردیش ایسے تمام غیر انسانی ، غیر آئینی اور غیر قانونی جرائم پر ملک کے اندر اور بیرون ممالک میں بڑھتے عوامی غم و غصہ اور احتجاج او ر مظاہروں پر سے توجہ ہٹانے کے لئے اس حد تک گِر گئی ہے کہ حکومت اتر ہردیش لوگوں کی توجہ ہٹانے اور معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لئے اب بیان دے رہی ہے کہ ان کی حکومت کو بدنام کرنے کے لئے ایسے سانحات کے پیچھے ریاست میں بڑے پیمانے پر فرقہ واران فساد کرا نے کی سازش رچی جا رہی ہے ،جس کے لئے سو کروڑ کی رقم مہیا کرائی گئی ہے ۔ ایسی بے حیائی اور بے شرمی کسی بھی حکومت کی ناکامی کا بین ثبوت ہے ۔

ایسے سیاسی اور سماجی حالات میں ہر حساس ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہم کیسے بے رحم اور بے حِس سماجی عہد میں جی رہے ہیں ۔ کیا ہم پھر اس دور میں پہنچ گئے ، جب حیوان اور انسان میں زیادہ فرق نہیں تھا ۔ راجستھان میں چھہ ماہ کی بچی سے زنا ہو رہا ہے؟ گجرات میں چودہ ماہ کی بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ مظفر پور کے شیلٹر ہوم میں معصوم بچیوں کے ساتھ سیاست دانوں کی عیاشیوں کے قصے عام ہیں ، سیاست دانوں اور افسران کے ظلم و بربریت کا شکار ہونے سے انکار کئے جانے پر ان بچیوں کی بے رحمانہ پٹائی بلکہ قتل تک کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ہے اور قتل کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں ان بچیوں کو دفن کر دیا جاتا ہے ۔ ایسے بڑھتے جرائم اور ظلم و تشدد پر چند سال قبل ہمارے ملک کے سپریم کورٹ نے حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا کہ’ ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے ؟ آپ اس طرح بچوں کے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں ۔ یہ آجکل روزانہ کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ ‘

ایسے المناک ،شرمناک اور دردناک منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے اس سال کے ‘عالمی یوم بچیاں’ پر اقوام متحدہ اس جانب خصوصی توجہ دے اور دنیا کی وہ تمام تنظیمیں جو انسانی حقوق کی بازیابی کے لئے متحرک اور فعال ہیں ،وہ بھی اس مسئلہ کے تدارک کے لئے لائحہ عمل تیار کرے کہ آج کی یہی بچیاں کل کسی خاندان اور سماج کے لئے اہم کردار ادا کرینگی۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ: 8969648799

Share this:
Tags:
country International Girls' Day sexual violence violence تشدد جنسی تشدد عالمی ملک یوم بچیاں
Coronavirus Pakistan
Previous Post کچھ باتیں ماضی قریب کی
Next Post اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس رولز پر وضاحت جاری کر دی
SBP

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close