Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

تعصب و جہالت ایک دھندلا آ ئینہ

February 6, 2019 0 1 min read
Kashmiris
Kashmiris
Kashmiris

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

تحقیق و تنقید اور تجزیے کے بغیر جو دوسروں کے بارے میں رائے قائم کی جائے تعصب کہلاتی ہے،جس کا فیصلہ کرنے سے پہلے ہی فیصلہ کر دیا جاتا ہے ، یعنی جس کو پرکھا نہ گیا ہو اس کے بارے میں رائے نہ قائم کی جائے، جو سراسر غیر منطقی اور غیر استدالی رویے اور رجحان کو پیدا کرتی ہے کیونکہ فیصلہ کرنے یا رائے متعین کرنے سے پہلے کسی چیز کی چھان بین تحقیق و تجربے اور دلائل کی روشنی میں کی جاتی ہے اور پھر اس کے بارے میں رائے قائم کی جاتی ہے جو معقولات اورتجربی و ترکیبی تصدیقات کی روشنی میں اسناد کا درجہ حاصل کرتی ہے ،مگر تعصب پر مبنی سوچ اور رائے کا تعلق ذاتی پسند ونا پسند ،نفع و نقصان، عمومی رائے ، سنی سنائی ،باتوں، فکر ونظر کی ہٹ دھرمی وکلیت پسندی ،ماضی سے وابسطہ روایات ، اساطیر اور لوک کہانیوں سے ہوتا ہے،جو مغائرت، نفرت ،تعصب اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔تعصب انسانی عقل کے آگے پردہ ڈال دیتاہے ۔وہ ہر چیز کو دھندلائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے،جس سے چیزیں اپنی اصل شکل یں نظر نہیں آتی۔

فطر ی و و جدانی سوچ بھی تعصب کو پیدا کرتی ہے کیونکہ فطری سوچ تحقیق و تجزیے کے مراحل سے گذری نہیں ہوتی،اسی بنا پر چیزوں اور مسائل کی تہہ تک پہنچنے کے لئے مسلسل تحقیق و تجربے کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔دیر تک اپنی رائے پر قائم رہنا بھی رجعت قہقری کو جنم دیتا ہے کیونکہ بدلتی دنیا میں بہت کچھ بدل چکا ہوتا ہے اور آدمی کو چاند ایک روٹی کی شکل میں مسلسل دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر تعصب پر مبنی رائے مستند علوم و فنوں پر قائم نہیں کی جاتی اس کا تعلق صنفی امتیاز،دوسروں کے عقائد ونظریات، قبائل و برادری،قومیت،رنگ ونسل،سماجی طبقہ وپیشہ،سماجی اقدار،زبان ولباس،جنس وخوبصورتی،مذہب و فرقہ، سیاسی جماعتوں، عمر و معذوری یا ذاتی خصائص کے بارے میں ہوتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی ،جسمیں تعمیم نہیں ہوتی بلکہ کسی خاص واقعہ یا کسی فرد واحد کے عمل کو پوری جماعت یا گروہ پر لاگو کر کے ایک رائے قائم کر لی جاتی ہے۔زبان خلق کو نقارہء خدا سمجھو کو بھی اکثر و بیشتر علمی تصدیق کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔تعصب سے قائم کی ہوئی رائے سے نفرت اور انتشار پیدا ہوتا ہے اور انسانوں کے درمیان منفی رویے جنم لیتے ہیں۔جن معاشروں کا نظام تعلیم سائنسی طرز عمل اور طرز فکر پیدا نہیں کرتا وہاں تعصبات سیاہ گھٹاوں کی طرح سماجی افق پر چھائے ہوتے ہیں۔ وہاں اضافی قدریں حقیقی قدروں کی جگہ لے لیتی ہیں۔ترجیحات بدل جاتی ہیں۔حقیقی مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور فروعات زہن ومزاج کا حصہ بن جاتی ہیں،اور یہ سب متعصبانہ سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔

فلسفہ و نفسیات کے علما کے نزدیک تعصب کسی نہ کسی حد تک انسان کے چھپے ہوئے ذہن کے گوشوں میں موجود رہتا ہے۔اس کو مکمل طور پر نکالا نہیں جا سکتا۔پسند و ناپسند ذاتی انا و فائدہ اور دیگر جذبات کے زیر سایہ پروان چڑھتا ہے،مگر تحلیل نفسی کے ذریعے اس میں اعتدال پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ہائیڈیگر اورہنس جارج کے نزدیک تعصب پہلے سے ماضی میں متعین کیے گئے تصورات سے وابسطہ ہوتا ہے۔جس کے پاس ماضی ہے اس کے پاس تعصب ہے،کیونکہ انسان کے فکر ونظر کا قصر ماضی کی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔کلاسیکل مفکر سائیسرو کہتا ہے۔٫٫تعصب دھوکہ دہی و فریب سے پیدا ہوتا ہے،حقائق کو چھپایا جائے تو نفرت جنم لیتی ہے،،کانٹ تعصب کق قبل تجربی رائے سے موسوم کرتا ہے،جو رائے اور اخلاق سے جڑا ہوتا ہے،جس کو وہ دانشورانہ غلظی قرار دیتا ہے ۔

بعد از تجربی یا تحلیلی قضایا میں یہ ختم ہو جاتا ہے ،،فرانسس بیکن تعصب کو فطری سوچ سے منسوب کرتا ہے،جو جھوٹا آئنہ ہوتا ہے۔تعصب دنیا کی خطر ناک شکل ہوتی ہے،جسمیں ہم پیدا ہوتے ہیں۔اس کے بارے میں انفرادی اور اجتماعی رائے قائم ہو جاتی ہے،جس کے پیچھے ہم آنکھیں بند کر کے پیروی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔،،امریکی کہا وت ہے۔٫٫ درخت کی جڑیں اتنی گہری نہیں ہوتی جتنی تعصب کی ہوتی ہیں،،والٹئیر نے کہا تھا٫٫تم تعصب کو دروازے سے باہر نکال دو مگر یہ کھڑکی سے واپس اندر آجائے گا۔،،جارج آرول نے اس حوالے سے کہا تھا٫٫ کہ چار ٹانگوں والے بہتر ہیں بہ نسبت دو ٹانگوں والوں کے،، دوسروں کے بارے میں معاندانہ رویہ تعصب پر مبنی رائے جو عقل و فکر اور منطقی استدلال کے بر عکس ہوں کی آبیاری خاندانی اور گھریلو ماحول میں ہوتی ہے۔

سماجی خاندانی ماحول اس کو جواز فراہم کرتا ہے،جسمیں عام فرد کی سوچ کسی مخصوص گروہ،نسلی گروپ،مذھبی فرقے و پیشے یا سیاسی جماعت کے بارے میں قائم ہوجاتی ہے اور اندر ہی اندر انکے خلاف نفرت و حسد کے جذبات انگڑائیاں لینا شروع کر دیتے ہیں،جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔معاندانہ رویوں کیوجہ سے جتنا تناو بڑھتا ہے،تعصب کی جڑیں زہنوں میں اتنی ہی گہری ہونا شروع ہو جاتی ہیں،جن کا تعلق انا پرستی،زاتی بالا دستی اور مفاداتی سیاست سے بھی ہوتا ہے۔

عام فرد کو اپنی شناخت وبقا کو قائم رکھنے کے لئے کسی مخصوص گروہ کیساتھ کھڑا رہنا ضروری ہوجاتا ہے،ورنہ اگر وہ تعصب کا مظاہرہ نہ کرے تو کمیونٹی میں اس کی عزت کم ہو جاتی ہے۔قبائلی معاشروں جہاں برادریوں کی سیاست کی جاتی ہے وہاں جتنا بڑا جاہل ،متعصب اور سماج دشمن رویے کا حامل سیاستدان ہوگا ،اس کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، کیونکہ ایسے معاشروں میں علم و آگہی،میرٹ و انصاف کے بر عکس سب سے بڑی سماجی قدر برادری سمجھی جاتی ہے۔جہاں غربت اور پسماندگی ہو گی یقینا وہاں جہالت بھی ہوتی ہے اور جہالت میں تعصب اور وجدان تیزی سے زہنوں میں جگہ بنا لیتے ہیںتعلیم یا فتہ لوگ بھی اسی تعصب کا شکار ہوتے ہیںکیونکہ ان کا مفاد کسی ایک گروہ میں رہنے سے ہوتا ہے۔

غربت وپسماندگی بھی لوگوں کو نامعقول بنا دیتی ہے وہ اپنے مسائل کی حقیقی وجوہ جاننے کے بر عکس اس گروہی تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں اور تنگ نظری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔امیر تعلیمیا فتہ طبقہ تعصبات سے آزاد ہو جاتا ہے اس کو اپنے تحفظ اور مفادات سے غرض ہوتی ہے،یہ اپنے تعصب کا مظاہرہ وہاں کرتا ہے جہاں اس کے مفادات ٹکراتے ہوں۔معاشروں میں پرسنلٹی کلیش بھی حسد وتعصب کو جنم دیتی ہے۔فرد کی نا اہلی اور کام چوری بھی اس کے اندر حاسدانہ جذبات کو فروغ دیتی ہے،کیونکہ اس کا معاشرتی رتبہ دوسروں سے کم ہو جاتا ہے۔عمومی طور پر طبقاتی سماج میں امارت اور غربت میں جتنی بڑی خلیج قائم ہوگی،مغائرت ومتعصبانہ جذبات کے شعلے اتنے ہی بلند ہوں گے،مگر یہ تعصب و خلیج سماجی رشتوں کوجلا کر بھسم کر دیتا ہے جب تک محروم طبقہ مراعات یافتہ طبقہ کے خلاف سیاسی شکل میں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا نہیں ہوتا اور اپنی محرومی کی وجوہات تلاش نہیں کرتا،بالا دست طبقہ انکو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا رہے گا۔

اسی بنا پر محروم طبقات کا مراعات یافتہ طبقات کیخلاف معاندانہ رویے کو تعصب کے بر عکس جد وجہد سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔فرقہ پرستی بھی جہالت و تعصب کی ماں ہے۔نا معقولیت،جذباتیت اور انسان دشمنی کو فروغ دیتی ہے۔ترقی و خوشحالی اور امن کو ختم کر کے انتشار اور تخر یب پیدا کرتی ہے۔سٹیرو ٹائپ کردار جنم لیتے ہیں جن کے نزدیک اپنے فرقے کے سوا دوسروں کا وجود نا پاک ہوتا ہے۔ایک فرقے کا فرد دوسرے فرقے سے نہ صرف نفرت کرتا ہے بلکہ اسکو گردن زدنی قرار دیتا ہے۔ان کے ہاں متشدد ،متعصب اور تنگ نظری کے حامل افراد جنم لیتے ہیں،جو انسان دوستی کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔

سماجی ترقی سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔اسی بنا پر فرقہ ورانہ اور نسل پرستانہ تعصب کسی بھی سماج کے لئے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔جب کسی بھی سماج کے لوگوں کا تعصب مذہبی اور نسلی تعصب سے بلند ہو جائے تو وہ معاشرہ ترقی کی دوسری منزل میں داخل ہو جاتا ہے وہاں طبقاتی جدو جہد کے امکانات بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔لوگ اپنے حقیقی مسائل اور انکی وجوہ پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔قبائلی، جاگیرداری اور سرمایہ داری مخلوط نظام میں اسطرح کے نسلی و مذہبی تعصبات کو پروان چڑھنے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ جب سیاسی معاشیات کے ذریعے طبقاتی تفریق کم ہو جائے اور صنعتوں کے قیام سے روزگار کے مواقع پہدا ہو جائیں تو نسلی ومذہبی تعصب اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

تعصب اور امتیازی سلوک کی جھلک انسان کے اندر اس طرح راسخ ہوتی ہے کہ وہ گھریلو زندگی سے لے کر شاہ کے دربار تک اس کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں،مگر جہاں اس پر عقل وخرد کی روشنی میں قابو پایا جائے،وہاں ماحول خو شگوار رہتا ہے، متعصبانہ رویے کو اخلاق روکتا ہے جبکہ متعصبانہ سلوک کی روک تھام کے لئے قانون کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔دفاتر اور کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔جنسی امتیاز بھی تعصب کے زمرے میں آتا ہے،جیسے کہا جاتا ہے٫٫ جنگ کھیڈ نہیں زنانیاں دی ،جبکہ صنعتی ترقی اور ڈرائون ٹیکنالوجی میں ذرعی عہد کی دانش دم توڑ چکی ہے۔

دوسروں کے لباس وکلچر کے بارے میںایسی رائے جو عقل ومنطق کے خلاف ہو۔زبان وبولی کی بنیاد پر کسی کی شخصیت و کردار پر رائے قائم کرنا،مسلمانوں کو دہشت گرد کہنا،ہٹلر کا کہنا کہ صرف جرمن ہی حکمرانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں،بھارت میں مذہبی وسیاسی بنیادوں پر ہندوئں کا مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کرنا،بلکہ ہندوستانی نفسیات میں تعصب پیدائشی معلوم ہوتا ہے، اور ہر شعبہ ہائے حیات کی اساس تعصب و توہم پر ستی پر قائم ہے،جسمیں پورے بر صغیر کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ا ور اسطرح کے مظاہر عالمی میڈیا پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

حالیہ برطانوی عوام کا یورپی یونین سے الگ ہونے کا اکثریتی فیصلہ سرا سر تعصب پر مبنی تھا ، جس نے برطانوی عوام کے مستقبل کو دائو پر لگا دیا ہے ،کیونکہ یہ فیصلہ سنی سنائی باتوں اور پروپیگندے کی وجہ سے دیا گیا۔برطانیہ جنگ عظیم کے بعد پہلی بار تاریخ میں اس طرح کے بحران کا شکار ہوا ہے ، جسے اس کی معیشت تباہی کے دہانے پر چلی جائے گی۔اور ا سے نکلنے کے لئے اس کو کوئی رستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ آجکل سوشل میڈیا اور قومی میڈیا تعصب اور مغائرت کو پھیلانے میں پئش پیش ہے،اس کا مثبت کردار غائب ہو چکا ہے علم وتحقیق کے بر عکس الزام تراشی اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا میڈیا کا مرغوب مشغلہ ہے۔قومی مسائل کو علم وتحقیق اور فلسفیانہ تناظر میں بیان کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مذ ہبی و سیاسی انتشار ہی پسماندگی کی بنیادی وجوہات ہیں،جسے حقیقی مسائل پر پردہ پڑجاتا ہے۔ شخصیات کے بر عکس مسائل کو اعداد و شمار کیساتھ بیان کیا جائے،سیاست کے بر عکس علم سیاست کو فروغ دیا جائے۔سیاستدانوں کے ساتھ علمائے سیاست کو اس کار خیر میں شامل کیا جائے،ورنہ مولوی اور سیاستدان نظری انشار و تعصب کا شکار ہیں،جو تعصب ومغائرت پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔انکی بقول غالب حالت یہ ہے۔ہے مجھکو تجھ سے تذکرہء غیر کا گلہ۔

ہر چند بر سبیل شکائیت ہی کیوں نہ ہو ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں تعصب اور معاندانہ رویوں کا اگر خاتمہ نہیں تو کم از کم اس کے اثر و نفوز پر قابو پا سکتے ہیں،صرف اخلاقی تعلیم اس کے لئے کا فی نہیں ہے،جب تک طبقاتی تفریق یعنی امارت اور غربت کی خلیج میں نمایاں کمی واقع نہیں ہوتی،مغائرت وتعصب کے شعلے بلند ہوتے رہیں گے۔سیاسی معاشیات معاشی و سماجی تحرک میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔متمول طبقہ ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات کا مالک ہوتا ہے مگر دوسری طرف مغائرت پھیلانے کا بھی یہ زمہ دار ہوتا ہے۔اشرافیہ بڑی چالاکی سے اس فضا میں جی رہے ہوتے ہیں۔متوسط طبقے میں اضافہ پرولتاریوں کی شدت جذبات کو ٹھنڈاکر دیتا ہے،کیونکہ وہاں قانون کی حکمرانی اور روزگار کی دستیابی کے زیادہ مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔علم و تحقیق،تجربے و مشاہدے کی علمی فضا میں متعصبانہ جذبات رویے اور سوچ کی کالی گھٹاوں سے مطلع صاف ہو جاتا ہے۔

جب من گھڑت رائے علم ومنطق کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی تو اس کا اختیار کرنا بے معنی ہو جاتا ہے۔انفرادی و اجتماعی طور پر محروم گروہوں وطبقات سے نشست وبرخاست کر نے اور انکے مسائل سننے سے تعصب ونفرت کی آگ بجھ جاتی ہے۔ سماجی تعلق اور رشتے قائم کرنے سے سماجی ترقی کا سفر تیز ہو جاتا ہے۔ صبر وبرداشت اور معاف کرنے سے امن و آشتی کی خوشگوار فضا پیدا ہوتی ہے۔تعاون اور صلہ رحمی قربت اور اپنائیت پیدا کرتی ہے۔احساس زمہ داری اور ضبط نفس متعین آزادی کی حدوں کو پھلانگنے نہیں دیتا۔جب سب کو بخوبی علم ہے بندروں اور انسانوں میں معمولی فرق کے سوا کچھ نہیں ، تو باہمی تعصب کسی فطری امر، ماحول جغرا فیہ،توارث کی وجہ سے نہیں اس کی جڑیں بھی بلواسطہ اور بلا واسطہ طاقت اور وسائل کی نا منصفانہ تقسیم سے جڑی ہوئی ہیں جو معاشرے میں مختلف مظاہر کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔تعصب کو دین اسلام میں بھی انتہائی مذ موم قرار دیا گیا ہے۔

حدیث مبارکہ ہے جس نے تعصب کیا وہ ہم میں سے نہیں۔،،ایک دفعہ بلال حبشی خانہ معبہ کی چھت پر چڑھے تو ابو انصاری نے کہا اے حبشن کے بیٹے تو رسول ا للہ نے ابو انصاری کو مخاطب کر کے فرمایا تم میں ابھی جہالت باقی ہے۔آپ صلعم کا ارشاد ہے کہ تمام انسان فطرت پر پیدا ہوتے ہیں مگر ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ آپ صلعم نے راستے میں کفار کے بچے کو کندھے پر اٹھا لیا تو صحابی نے کہا یہ تو کفار کا بچہ ہے ،آپ صلعم نے ارشاد فرمایا ،تمام بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں،اس سے مترشح ہوا کہ انسان اور موجودات کا وجود ایک ہی ہے اور انسان کی شخصیت ماحول سے پروان چڑھتی ہے۔جیسا ماحول ہوتا ہے ایسا ہی فرد تیار ہوتا ہے۔اسلام میں تحقیق کے بغیر رائے قائم کرنے اور اس کو پھیلانے سے منع کیا گیا ہے۔دنیا کے تمام فلاسفہ اس بات پر متفق ہیں کہ سب کا وجود ایک ہے،مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی،جدید سائنس نے نسلی وموروثی اثرات کویک قلم مسترد کر دیا،بلکہ انسان جو کچھ ہے ماحول کا پروردہ ہے،تو انسانوں میں باہمی تعصب ومغائرت مفاد اور لالچ کے سوا کہیں اور نظر نہیں آتی،اور اس میں سراسر ہلاکت ہے۔

Professor Mohammad Hussain Chohan
Professor Mohammad Hussain Chohan

تحریر : پروفیسر محمد حسین چوہان

Share this:
Tags:
Criticism hate nation politics Research تحقیق تعلیم تنقید سیاست قوم نفرت
Aleem Khan
Previous Post نیب نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو گرفتار کر لیا
Next Post ڈاکٹر طارق نیازی ہم شرمندہ ہیں
Dr. Tariq Masood Khan Niazi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close