
ماسکو (جیوڈیسک) روسی صدر پیوٹن نے مشقوں میں حصہ لینے والے فوجیوں کو واپسی کا حکم دیدیا، ان کا کہنا ہے کہ فی الحال یوکرائن فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی جنگی تیاریوں کو جانچنے کے لئے مشقوں کے اختتام کے بعد اپنے مستقل ٹھکانوں میں واپس آ جائیں۔
ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دمتری پسکوف نے روسی خبر رساں اداروں کو بتایا کہ کمانڈر انچیف صدر ولادیمیر پیوٹن نے فوجی مشقوں میں حصہ لینے والے فوجیوں اور یونٹس کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے مستقل اڈوں پر واپس آ جائیں۔ پیوٹن نے 26 فروری کو لڑاکا تیاریوں کے لئے مشقوں کا حکم جاری کیا تھا جس میں ہزاروں فوجیوں نے حصہ لیا اور اسے معمول کی مشق قرار دیا جا رہا تھا۔ مشق میں فوج، بحریہ اور فضائیہ کے فوجیوں نے حصہ۔
پیوٹن نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم ” یوکرائن میں روسی اور یوکرائینی شہریوں“ کے تحفظ کے لئے تمام اقدامات استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ملک میں فوج بھیجنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اُدھر روس امریکہ پر اپنا اقتصادی انحصار زیرو تک کم کر سکتا ہے۔ اگر واشنگٹن نے یوکرائن کے معاملے پر روس کے خلاف پابندیاں لگانے پر اتفاق کیا۔ کریملن کے اقتصادی معاون سرگئی گلازیوف نے کہا کہ ہم ایک ایسا راستہ تلاش کر لیں گے کہ نہ صرف امریکہ پر اپنا انحصار زیرو تک کم کر دیں بلکہ ان پابندیوں سے اپنے لئے عظیم فوائد کے ساتھ ابھر کر سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ روس عالمی لین دین کے لئے ڈالروں کا استعمال روک سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا اعلان امریکہ کے مالیاتی نظام کے لئے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جو عالمی مالیاتی نظام میں امریکہ کی اجارہ داری کے خاتمے کا باعث بنے گا۔
