
زردار کبھی چاہنے والا نہیں مانگا
رائی کی ضرورت پہ ہمالہ نہیں مانگا
بروقت ضرورت نہ ہوئی پوری کسی سے
سورج سے اندھیرے میں اجالا نہیں مانگا
اکثر میرے چولہے میں رہا برف کا ڈیرا
لیکن کسی رشتے سے نوالہ نہیں مانگا
غالب کے ہنر، میر کی فن کاری کے صدقے
ناقد سے کسی نے بھی حوالہ نہیں مانگا
پوری نہ ہو، ایسی کوئی خواہش ہی نہیں کی
منظر کوئی آنکھوں نے نرالہ نہیں مانگا
تپتے ہوئے صحرا کی ضیا پیاس بجھائی
دریاؤں سے پانی کا پیالہ نہیں مانگا
شاعر : ڈاکٹر کلیم ضیا
