Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دارالعلوم دیو بند علم کے شاہکار

April 28, 2015April 28, 2015 0 1 min read
Jameah Darul Uloom Deoband
Jameah Darul Uloom Deoband
Jameah Darul Uloom Deoband

تحریر : مولانا محمد صدیق مدنی
دارالعلوم دیوبند امت مسلمہ کا ترجمان اور اہم شاہکار ہے۔ جس نے ہمیشہ ہر مشکل حالات میں امت مسلمہ کو اللہ رب العزت اور حضور اکرم کے ارشادات اور اسلامی تعلیمات کیمطابق دلیرانہ رہنمائی کی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد جس رحمت بھرے ہاتھوں نے رکھی ان کی روحانی عظمت کا خود یہ شاہکار واضح نشان ہے ۔ انکے خلوص نے بارگاہ بے نیازمیں جو رنگ قبول پایا۔ اسی کے نتیجے میں آج یہ اسلامی یونیورسٹی نہ صرف پاک و ھند میں مشہور ہیں بلکہ اس کے فیض کے چشمے تمام دنیائے اسلام میں بہہ نکلے ہیں۔یوں تو آپ کو مصر میں جامعہ ازہر جیسا علمی مرکز دیکھنے میں آسکتا ہے جس کو اسلامی سلطنت کی سرپرستی ہمیشہ سے حاصل رہی لیکن روحانیت اور اور علمیت کا بہترین امتزاج جو آپ کو سرزمین دیوبند کے اس دارالعلوم میں ملے گا وہ دنیا کے کسی علمی ادارے میں ڈھونڈنے سے بھی آپ نہ پاسکیں گے۔

دارالعلوم دیوبند کی بنیاد جس رحمت بھرے ہاتھوں نے ڈالی جس کو قدرت نے رنگ قبول بخش کر بقائے دوام کا تاج اس کے سر پر رکھااور جس طرح یہ سدا بہار پھول عہد فرنگ میں کھلا تھا اسی طرح عہد برہمن میں بھی تروتازہ اور شاداب ہے۔ وہ رحمت بھرے ہاتھ حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کے تھے جنہوں نے اسکی بنیاد ڈالی ۔ شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی اور دیگر اولیائے کرام کی دعائووں کا نتیجہ تھا اور قطب الارشاد امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی کی سر پرستی کا پھل تھا۔جو حضرت نانوتوی کے بعد عمل میں آئی ۔ نیز حضرت مولانا شاہ رفیع الدین جیسے ولی کامل مہتمم اور حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی جیسے متقی اولین شیخ الحدیث اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی اور حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی جیسے بزرگوں کی برکتوں کا ثمرہ ہے۔ یوں تو دارالعلوم دیوبند نے ہزاروں علماء کرام پیدا کئے لیکن اگر وہ صرف ایک ہی امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری جیسا عظیم الشان عالم پیدا کرکے مستقبل کیلئے بند ہوجاتا تو پھر بھی لاکھوں ستاروں سے زیادہ منور شمس علامہ انورشاہ کافی تھا۔

لیکن آگے دیکھئے کہ دارالعلوم نے مفتی اعظم ہند مولانا مفتی عزیزالر حمان عثمانی جیست فقیہہ النفس ، حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی جیسے مجدد اعظم ، شیخ الاسلام علامہ شبیراحمد عثمانی جیسے مفسر ومتکلم، مولانا حبیب الرحمان عثمانی جیسے ادیب و مفکر، مولانا حسی احمد مدنی جیسے عالم ومحدث ، مفتی کفایت اللہ جیسے ثانی شامی ، مولانا سید میاں اصغر حسین جیسے ولی کامل، مولانا عبیداللہ سندھی جیسے دیدہور مبصر، مولانا اعزاز علی جیسے ادیب، مولانا ظفر عثمانی جیسے فقیہیہ ومحدث، مولانا محمد ابراہیم بلیاوی جیسے فلسفی، مولانا رسول خان جیے منطقی، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع جیسے فقہیہ و مفسر، مولانا مناظر احسن گیلانی جیسے مئورخ، مولانا مفتی محمد حسن امرتسری جیسے مخدوم وعارف، مولانا عبدالحق اکوڑوی، مولانا سلیم اللہ خان ، مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا مفتی محمود، جیسے محدثین و مفکرین اور علامہ شمس الحق افغانی جیسے فاضل و متکلم پیدا کئے۔

Islam
Islam

کوئی بتائے کہ آسمان دارالعلوم دیوبند کے علاوہ کو ئی اور آسمان ہے جس پر ان جیسے آفتاب و ماہتاب چمکتے ہوں اور سر زمین دارالعلوم دیوبند سے بڑھ کر اور کوئی سر زمین ایسی ہے جہاں ایسے سدابہار پھول کھلے ہوں۔بلاشبہ آج دنیائے اسلام میں ان ہی حضرات کے دھوم ہیں اور ان ہی کا چرچا ہے ان میں ہر شخص ایک انجمن کی حیثیت رکھتا ہے۔دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کو کیا دیا اور کیوں مقبول ہوئی؟ اسکا جواب صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو علم ، عمل ،اخلاص، ادب اور سیاست سے مالامال کیا اور ہرہر پہلو اور کروٹ پر ان کیلئے رہنمائی کا سامان فراہم کیا ۔ اب اہل انصاف خود فیصلہ فرمائیں کہ جس دارالعلوم نے ہرہر قدم پرمسلمانوں کی رہنمائی کی اور ان کو علم وعمل،اخلاص، ادب اور سیاست سے آراستہ کیا۔ اس سے بڑھ کر دارالعلوم دیوبند کا اور شاہکار کیا ہوسکتا ہےحضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ شریعت کے تین جزء ہیں علم ، عمل اور اخلاص ۔۔۔ جب تک یہ تین اجزاء موجود نہ ہوں شریعت کا وجود نہیں ہوتا اور جب ان تینوں کے وجود سے شریعت وجود میں آگئی تو اللہ رب العزت کی رضاء حاصل ہوگئی جو تمام دنیوی و دینی بختیوں سے بھی زیادہ اور اللہ رب العزت کی خوشنودی سب سے زیادہ نعمت ہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی دارالعلوم دیوبند کے بارے مزید فرماتے ہیںکہ دارالعلوم دیوبند نے علم ، عمل اور اخلاص سے مزین علماء پیدا کئے جو دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے۔دارالعلوم دیوبند نے علم کیوں دیا؟ اسکے متعلق عرض یہ ہے کہ اس گہوارہ علم سے بہترین اہل علم و ہنر پیدا ہوئے اور علم کے زیور سے آراستہ ہو کر دنیائے اسلام کو کونے کونے میں پہنچے اور جہاںجہاں پہنچے وہاں انہوں نے اپنے علم کے چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کئے اور لاکھوں ارباب علم پیدا کئے اور یوں سلسلہ بڑھتا گیا آج دارالعلوم کی ہزاروں شاخ جیسے جامعہ مظاہرالعلوم سہارنپور، مدرسہ قاسمیہ مراد آباد، امروہی ، میرٹھ ، رڑکی، مظفر نگر، دہلی ، کلکتہ، ممبئی، اور سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ، مدینہ منورہ کے علاوہ افغانستان ، برما، انڈونیشیائ، فلپائن،ڈابھیل، اور پاکستان میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعتہ العلوم الاسلامیہ کراچی، جامعتہ بنوریہ العالمیہ کراچی، جامعیة الاسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹائون چمن، جامعہ مدنیہ لاہور، جامعہ اشرف المدارس کراچی، جامعہ احسن العلوم کوئٹہ، جامعہ رشیدیہ ساہیوال اور مدرسہ بحرالعلوم نزدگھوڑا ہسپتال چمن وغیرہ۔

غرض یہ کہ جہاں جہاں فضلاء دیوبند اور انکے شاگردپہنچے وہاں وہاں انہوں نے مدارس دینیہ قائم کر ڈالے۔ اس طرح انہوں نے علوم وفنون کے ہر جگہ دریاء بہائے ۔ پھر جامع مسجدوں میں خطابت کے زریعہ علم وتبلیغ کے چشمے جاری کئے۔ پنڈالوں اور جلسوں میں اپنے وعظوں سے لوگوں میں علوم دینیہ پھیلائے۔ سرکاری سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں ہر جگہ آپ الحمدلللہ دارالعلوم کے فاضل پائیں گے۔ جو اپنی اپنی جگہ علم وتبلیغ کے چشمے جاری کئے۔اور علم کے شمعیں روشن کئے رہے اور کئے ہوئے ہیں ۔اور جہاں مغربی اثرات نے مسلمان طلباء کے دلوں پر اپنے سکے جمائے ہوئے ہیں وہاں یہ حضرات علمائے دیوبند دینی دفاع میں مصروف عمل ہیں ۔ مدارس عربیہ قائم کرنے کے علاوہ دارالعلوم کے فضلاء نے تصنیفات و تالیفات کا بھی ایک زبردست ذخیرہ پیدا کیا ہے ۔ علم شریعت ، روحانیت وطریقت اور زبان وسیاست میں بہت سی کتابیں لکھیں اور اسی طرح دنیائے اسلام کی زبردست خدمات انجام دیں۔ اور علوم دینیہ پھیلانے میں بڑی کوشش کی ۔ اس سلسلہ میں حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی آب حیات تقریر دلپذیر، قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی فتاوٰی رشیدیہ، الکوکب الدری ، زبدة المناسک، سبیل الرشاد، تصفیة القلوب اور امداد السلوک وغیرہ۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی کا ترجمہ قرآن کریم اردو زبان کا عظیم شاہکار ہے۔

Holy Quran
Holy Quran

امام العصر علامہ محمد انوارشاہ کشمیری کی لا جواب کتاب،، فیض الباری،، شرح البخاری شرح ترمذی ، عقیدة الاسلام ، مشکلات القرآن،اکفار الملحدین، اور خاتم النبیین وغیرہ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی تصنیفات تقریبا ڈیڑھ ہزار ہیں۔ ان میں تفسیربیان القرآن، قرآن کریم کا نہایت سادہ بامحاورہ ترجمہ اور فوائد تفسیریہ، بہشتی زیور، بوادرالنودر، اصلاح الرسوم، الافاضات الیومیہ وغیرہ۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی کی ،،فتح المھلم،، شرح مسلم دنیائے اسلام اور حنیفیت کا بہترین عربی شاہکار ہیں ۔ قرآن کریم کے بے نظیر پر مغز اور ادیبانہ مقبول عوام و خواص تفسیر عثمانی، العقل النقل، اعجاز القرآن، الشہاب، الروح فی القرآن اور فضل الباری شرح البخاری اردو کے عظیم شاہکار ہیں۔

مجاہد الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی نقش حیات، سوانح قاسمی، سوانح ابوذر غفاری، اسلامی معاشیات، النبی الخاتم، اور امام ابو حنیفہ کی سیاسی زندگی زیادہ مقبول ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی کی فتاوٰی دارالعلوم دیوبند ، احکام القرآن ، ختم نبوت، حیلة النا جزة، جواہر الفقہ اور تفسیر معارف القرآن آٹھ جلدوں میں شہرہ آفاق تالیفات ہیں ان کے علاوہ سینکڑوں علمی شاہکار ہیں ۔بہر حال اشاعت علوم و فنون میں علمائے دیوبند کی قابل قدر خدمات ہیں۔ دارالعلوم نے دنیائے اسلام کو علم کے علاوہ عمل دیا اور اہم مقصودبالذات چیز جو دارالعلوم دیوبند نے دنیا کو بخشی وہ عمل ہے یعنی دارالعلوم اور اسکے سرپرست ، اسکے مدرسین اور اسکے فضلاء دنیاء کے گوشے گوشے میں علم کیساتھ اپنا عمل لے کر پہنچے اور انہوں نے لوگوں کو اسلام کی دعوت کیساتھ عمل کی دعوت دی اور بہت سے علماء کرام نے رشدوہدایت کے مسند پر بیٹھ کر ہزاروں نہیں

لاکھوں مسلمانوں کو اسلام کے احکام نماز، روزہ ، حج اور زکوٰةپر عمل کرنے کا جزبہ بخشااور ان کو روحانیت کے اعلیٰ مقام پر پہنچایا اس سلسلے میں مولانا رشید احمد گنگوہی ، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رفیع الدین، مولانا محمد اشرف علی تھانوی،مولانا عزیز الرحمان عثمانی ، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا خیر محمد جالندھری ، مولانا محمد ظفر عثمانی، مولانا احمد علی لاہوری اور مولانا مفتی محمد شفیع وہ مقدس ہستیاں ہیں ۔ جنہوں نے ظاہری علوم کیساتھ باطنی اور روحانی علوم کے مدارس کھول رکھے تھے۔ اور جنہوں نے لاکھوں بندگاں خدا کو عمل کی راہ پر گامزن کیا اور روحانیت کا درس دے کر صحیح معنی میں ان کو بندہ عمل بنادیا۔ گنگوہی ، تھانوی اور رائپوری خانقاہیں ان فرشتہ نما انسانوں کی یادگاریں ہیں ۔ جن کے قدموں میں فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

Darul Uloom Deoband Students
Darul Uloom Deoband Students

علمائے دیوبند میں آپ عمل اور ان کے زریعے عوام وخواص میں عمل کی قوت کا ایک جزبہ خاص محسوس کریں گے۔ جو دوسری جگہ مشکل سے آپ کو ملے گاان بزرگوں نے جو کچھ کیا وہ نبوت کا منشاء یعنی تزکیہ نفوساور تطہیر قلب تھا۔ ایک تیسری چیز علم وعمل کے علاوہ جو دارا لعلوم اور اسکے اکابر نے دنیائے اسلام کو بخشی وہ احسان ، اخلاص اور تقوٰی تھاچنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی سے لیکر اب تک دارالعلوم میں ہر چھوٹے اور بڑے کا یہ جزبہ رہا ہے کہ تبلیغ دین کو انہوں نے خالص اللہ رب العزت کیلئے اپنا مطمع نظر بنائے رکھا۔ ان کے ہر دینی عمل میں خلوص وللہیت رہی ہے ۔ انہوں نے کبھی نمائش ونمود کیلئے دین کی خدمات انجام نہیں دیں۔ وہ کم علم اور دنیادار پیروں اور مولویوں کی طرح جبہ و دستار سے مزین ہو کر عوام کو محصور کرنے سے مجتنب اور متنفر رہے ہیں ۔ انکساری وتواضع ، عاجزی و فروتنی ان کی امتیازی شان رہی ہے ۔ انہوں نے اپنے آپ کو کبھی مسعود خلائق نہیں بنایا کبھی عوام سے سجدے نہیں کرائے نہ دست بوسی اور قدم بوسی کی عوام سے امید رکھی۔ نہ محراب ومنبر پر خفیف الحرکات ان کا شیوہ رہا۔ تقریر میں اشعار بھی پڑھے تو تحت الفظ۔ یہی اخلاق کا ثمرہ تھا کہ بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی نے وصیت میں فرمایا کہ دارالعلوم کیلئے غرباء عوام کی اعانت پر نظر رکھی جائے اور توکل کو پورے عمل طور پر عمل میں لایا جائے۔

چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دارالعلوم کے خزانے میں ایک پیسہ بھی نہ ہوتا لیکن فوراہی قدرت کوئی انتظام کردیتے تھے اسکے مالی کام میں کبھی رخنہ نہیں پڑا۔ 1947 ء میں جب ھندوستان دو حصوں میں بٹ گئے ڈر تھا کہ اس نازک دور میں دارالعلوم دیوبند کو مالی نقصان نہ پہنچ جائے لیکن بحمداللہ اب پہلے سے زیادہ آمدنی ہے مگر سب کام توکل پر چل رہا ہے ۔ یہ اخلاص کا ہی نتیجہ تھا اور ہے کہ اکابر دیوبند نے ہزاروں روپیہ ماہوار تنخواہوں کو ٹھکرا کر چالیس، پچاس اور ساٹھ روپیہ ماہوار تنخواہوں پر دارالعلوم میں اپنے زندگیاں ختم کردیں ۔ راقم الحروف مولانا محمد صدیق مدنی اپنے اکابر علماء دیوبند کو سلام پیش کرتے ہیں اور اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے یہ قربانیاں قبول فرمائیں ۔ طلبہ کو پرائیویٹ پڑھانے پر کوئی معاوضہ لینا سخت عیب سمجھا جاتا ہے بہر حال دارالعلوم نے اپنے فرزندوں میں اللہ رب العزت کیلئے کام کرنے کا جزبہ بخشا اور خلق اللہ کی خدمات انجام دیں ۔ وہ اپنی نظروں پر مالک الملک ذوالجلال الاکرام کے سوا کسی کو جگہ نہ دیتے تھے اور جیسا علامہ رشید رضا ء نے کہا کہ دارالعلوم کے علماء بہت زیادہ خود دار ہیں نس اسی کا نام خلوص وتقوٰی ہے یہی حقیقت تھی کہ دیوبند کے اکابر اور وہاں کے تعلیم یافتہ فضلاء کرام کبھی بھی حکومت فرنگ کے سامنے نہیں جھکے 1914ء کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا جب جمعیت الانصار اور ریشمی رومال تحریک کے باعث لندن کے پالیمنٹ میں دارلعلوم دیوبند کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن دارالعلوم نے اس کو چیلنج کیا اور باالآخر اس کو فتح نصیب ہوئی اور الحمدلللہ فرنگی سامراج کا راج کل پاک وہند سے چلا گیا مگر دارالعلوم دیوبند اپنے جگہ آج بھی اسی آب وتاب اور شان وشوکت سے قائم ہیں اور آئندہ بھی قائم رہے گا۔

دارالعلوم کے اکابر میں خلوص کی بجائے حرص وطمع ہوتی تو وہ حکومت فرنگ کی گرانٹ قبول کر لیتے لیکن انہوں نے سلطنت برطانیہ سے امداد خواہش تو کجا اور خود حکومت کو امداد دینے کی خواہش اور درخواست کی تھی اور ابھی تک برہمنی راج میں بھی وہ اپنے وقار کو بلند کئے ہوئے ہیں۔ دارلعلوم دیوبند نے اپنے اخلاص کی خاطر اپنے من ،تن،دہن اور آنکھ کو غیروں کے سامنے کبھی نہیں جھکایا ۔ بس اسی اخلاص اور تقوٰی پر دارلعلوم دیوبند کاربند ہے۔ دارلعلوم دیوبند کی بنیاد اخلاص وتقوٰی پر رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ مقبول ہوا اور یہی اخلاص وراثت میں وہاں کے فضلا ء کو ملا اور یہ حقیقت ہے کہ اکابر علماء دیوبند کی جماعت میں سے علم وعمل کے اکثر شہسوار اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکے ہیں صرف چند اکابر کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔ آمین ثم آمین

Mohammad Siddiq Madani
Mohammad Siddiq Madani

تحریر : مولانا محمد صدیق مدنی
+923337752771
siddiq_madani@yahoo.com

Share this:
Tags:
art dedication Empire Guidance knowledge خلوص دارالعلوم رہنمائی سلطنت شاہکار علم مسلمہ
Pervaiz Rashid
Previous Post دھاندلی الزامات پر پرویز رشید کی عمران خان پر تنقید
Next Post معیاری فلم کے لیے جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں پروفیشنل لوگ بھی ضروری ہیں، عمائمہ ملک
Humaima Malik

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close