Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بیٹی کا خط باپ کے نام

October 5, 2016 0 1 min read
Letter
Caravan
Caravan

تحریر: محمد صدیق پرہار
گھروالے سفر کی تیاری کررہے ہیں۔ سامان باندھا جارہا ہے۔ سب گھروالے، بڑے، چھوٹے، مرد وخواتین، بچے سفر پر جانے والے ہیں۔ قافلہ سالارکی کمسن بیٹی یہی سوچ رہی تھی کہ وہ بھی قافلہ کے ساتھ جائے گی۔ اسے والدین کی شفقت سے دوری، بھائیوں سے جدائی کی خبراس وقت ہوئی جب قافلہ سالار باپ نے کلاوے میں لے کر شفقت پدری کے آنسوئوں کے ساتھ کہاکہ بیٹی تو بیمار ہے اس لیے توابھی گھرمیں ہی رہو۔شفیق باپ کی زبان سے یہ بات سن کروہ بیٹی بیہوش ہوکرگرپڑتی ہے۔ہوش آنے پرماںکے دامن سے لپٹ جاتی ہے۔کبھی باپ کے پائوں پکڑتی، کبھی چچائوں کے آگے ہاتھ جوڑتی مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔بیٹی فریادسن کرباپ آبدیدہ ہوجاتا ہے۔ اورکہتا ہے بیٹی تم صبرکروایک ماہ کے بعدتیرابھائی آئے گاتمہیں لے جائے گا۔بیٹی نے کہا کیاہوامنزل دورہے ، کیا ہوا جوراستہ دشوارہے، کیاہواجومجھے بخارہے،کیاہواجوسواری نہیں۔اباجان!مجھے سواری کی ضرورت نہیں ہے، جس گھوڑے میرا چھوٹا بھائی سوارہوگااس گھوڑے کے آگے آگے دوڑتی چلی جائوں گی۔گرم لوہے کے تھپیڑے قبول ہیں، بھوک اور پیاس منظورہے،پہاڑوں سے ٹکراجائوںگی،ندیاںچیرلوںگا،خدکاواسطہ مجھے چھوڑ کے نہ جائوبیٹی سمجھ کے نہ سہی قافلے کی خادمہ سمجھ کے ہی لے چلومیں راستے میںکسی کونہ ستائوںگی،ہرایک کاحکم مانوںگا،مجھے بھی ساتھ لے چلو۔جب بیٹی نے دیکھا کہ باپ کسی صورت ساتھ لے جانے کوتیارنہیںتوحسرت بھری نگاہوںسے بھائی کی طرف دیکھا۔بھائی بہن کی بات سمجھ گیااورباپ سے عرض کیاکہ جب اور لوگ ساتھ جارہے ہیں تومیری بہن کیوںنہیںجاسکتی۔قافلہ سالارنے برستی آنکھوںکے ساتھ کہاکہ تیری بہن وہ منظرنہیں دیکھ سکے گی جوہونے والا ہے۔ آخرکارقافلہ سالاراپنی بیماربیٹی کوگھرمیں چھوڑ کراللہ تعالیٰ ،رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سپردکرکے قافلہ کولے کرروانہ ہوگیا۔

یہ قافلہ سالارامام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ جس بیٹی کوگھرچھوڑااس کانام صغریٰ ہے۔ جس بھائی نے ایک ماہ بعدآکرلے جاناتھا وہ شہزادہ علی اکبررضی اللہ عنہما ہیں۔دن گزرتے گئے، راتیں بیت گئیں،شہزادہ علی اکبرنے ایک ماہ بعدآناتھا تین مہینے گزرگئے نہ علی اکبرآیااورنہ ہی باپ۔نہ عابدکاکوئی پتہ ہے نہ اصغرکا،نہ پھوپھی کی کوئی اطلاع آئی نہ ماںکی۔صبح ہوتی تودروازے پربیٹھ جاتی اورجوبھی پاس سے گزرتااس کادامن پکڑ کرفریادکرتی اورپوچھتی اے خداکے بندے تونے میرے باپ کوکہیںد یکھا ہے توبتائو،میری بہن کوکہیں دیکھاہے تواس کاحال سنائو،میرے بھائیوںکاکچھ پتہ ہے توبتائو مگروہ امام عالی مقام کی بیٹی کودیوانی سمجھ کردامن چھڑاکرآگے نکل جاتا۔شام کے وقت پرندوںکوگھونسلوںمیں واپس آتے دیکھ کراوربھی بے چین ہوجاتی اورسوچتی کہ میرے بھائی بھی دورگئے تھے،میراباپ بھی پردیس گیاتھا۔ یہ پرندے توصبح کوجاتے اورشام کوواپس آجاتے ہیں میرے گھروالوںکوتین مہینے ہوگئے وہ ابھی تک کیوںنہیں آئے۔رات ہوتی توبھوکی پیاسی ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پرلیٹ جاتی۔دروازہ ہواسے بھی ہلتاتواس امیدپراٹھتی اوردروازہ کھولتی میرابھائی علی اکبرآیا ہے۔مدینے سے باہرنکل جاتی ہرمسافرکے پائوںپکڑکرگریہ وزاری کرتی اورپوچھتی اے اللہ کے بندے توکوفہ سے آیا ہے مجھے بتامیرے باپ کاکیاحال ہے۔میرابھائی علی اکبرمجھے لینے کیوںنہیں آیا ، میرا بھائی اصغرتواب باتیںکرتاہوگا۔میری بہن بھی مجھے یادکرتی ہوگی۔کوئی پرسان حال نہیںتھا،کوئی تسلی دینے والانہیںتھا،کوئی ہمدرد، خیرخواہ اورمددگارنہیں تھا۔

Bbi Sughra
Bbi Sughra

ایک دن وہ معمول کے مطابق مدینے کے چوراہے میں بیٹھی ہرگزرنے والے سے اپنے گھروالوںکاپتہ پوچھ رہی تھی کہ ایک شترسواری اپنے اونٹ کوتیزی سے دوڑاتا ہواپاس سے گزرگیاشترسوارنے اس بچی کی آہ وفغان سنی توٹھہرگیا۔اونٹ سے اتراورپوچھابی بی توکون ہے اوریہاںکیوں بیٹھی ہے،بی بی صغریٰ نے کہاباباآج تین مہینے گزرگئے ہیں میرے گھروالے مجھے اکیلی چھوڑ کرچلے گئے ہیں،ان کے انتظارمیں بیٹھی ہوں معلوم ہوتا ہے توکوفہ سے آیا ہے،مجھے میرے باپ کاپتہ بتا ، میرے بھائی کاحال سنا۔کیاتونے ان کودیکھا ہے،شترسوارکی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے ہیں وہ حیران تھا کہ اس بچی کوکیاہوگیا ہے اوراس کوکیاجواب دوں ۔ سوارنے جواب دیابچی میںتویمن سے آیاہوں اورمجھے تیرے گھروالوںکاکوئی پتہ نہیں ہے۔ہرمسافرسے پوچھتی توکہاں سے آیا ہے کوئی نہ کہتا کہ وہ عراق سے آیا ہے کوفہ سے آیا ہے۔دن گزرتے رہے، قافلہ سالارکی گھرکے دروازے پرگزرنے والے مسافروں سے گھروالوںکاپتہ پوچھتی رہی۔اسی دوران ایک اونٹنی سوار مدینے کی پاک گلیوںسے گزرتاہواایک تنگ سی گلی میں پہنچا،اس نے دیکھاکہ ایک ٹوٹے ہوئے مکان کے دروازے میں زمین پرایک معصوم سی بچی یاحسین رضی اللہ عنہ، یاحسین رضی اللہ عنہ کے نعرے لگارہی ہے۔

اس معصوم بچی کے یہ دردنا ک نعرے سن کروہ سواراس کے پاس گیااورپوچھااے بی بی توکون ہے اور دروازے پربیٹھی کس کوپکاررہی ہے ۔سوارکے اس ہمدردانہ سوال سے امام عالی مقام کی معصوم بیٹی کوکچھ حوصلہ ہوا اور فرمایا بابا میں امام حسین علیہ السلام کی بچھڑی ہوئی بیٹی ہوں، میرانام صغریٰ ہے وہ مجھ کوتنہااوربیمارچھوڑ کرکوفہ چلے گئے ہیں۔میںبیمارہوں دوادینے والاکوئی نہیں ،دکھی ہوں تسلی دینے والاکوئی نہیں ،میرے ابا جان نے کہا تھا ایک مہینے بعدعلی اکبرتمہیں لے جائے گاتین مہینے ہوگئے ہیںان کاکوئی پیغام نہیں آیا۔یہ میرے نانے کی امت میرے سامنے گزرتی ہے ۔مجھ کوکوئی پوچھتاہی نہیں۔اے اللہ کے بندے توکوفہ جارہا ہے توخداکیلئے مجھے بھی ساتھ لے چل۔کوفے تک نہیںجاناتونہ سہی جہاںتک تولے جاسکتا ہے لے چل ۔آگے کامجھے راستہ بتادینامیں گرتی پڑتی، اٹھتی بیٹھی کوفے پہنچ جائوںگی۔اونٹنی پرنہیںبٹھاسکتا تونہ سہی اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوںسے ملنے کی خوشی میں تیری سواری کے آگے آگے دوڑتی چلی جائوںگی ۔بھوک پیاس کی شکایت نہیںکروںگی راستے میں تجھے کوئی تکلیف نہیں دوںگی،میںمفلس ہوں میرے پاس اور تو کچھ نہیں ہے۔یہ دوجوڑے کپڑے ہیں لے لو۔

تیرے بچوںکے کام آئیں گیاوراگرمیںکوفے پہنچ گئی توتجھے اوربھی بہت کچھ عطاکروںگی اورقیامت کے دن حوض کوثرسے سیراب کروںگی۔اتناکہہ کروہ بچی پھریاحسین رضی اللہ عنہ، یاحسین رضی اللہ عنہ پکارتی ہوئی بے ہوش ہوگئی۔شترسوارنے آگے ہوکراس بچی کے سر پرہاتھ رکھاتوپتہ چلابچی بخارمیںجھلس رہی ہے۔اوراتنی کمزورہے کہ اٹھ نہیں سکتی۔ شترسوارنے بیماربچی کے منہ پرپانی چھڑکا۔وہ ہوش میں آگئی توپوچھنے لگی ۔ کیا میرے اباجان آگئے ہیں،کیاعلی اکبرمجھے لینے آگیا ہے،کیامیراننھاسابھائی اصغربھی ساتھ ہے۔شترسوارنے ہاتھ جوڑ کرجواب دیابیٹی میں بھی خاندان نبوت کا گداگرہوں اوراہلبیت کے گھرانے کاخادم ہوں۔گھبرائونہیں میں تمہیں ضرورلے چلتامگریہ دیکھ لومیرے اونٹ پرکجاوہ نہیں ہے اورتم بیماراورکمزورہو۔ہاںمیں تمہاراخط تمہارے باپ تک ضرورپہنچائوں گا۔اگرچہ میرے بچے بیمارہیں اورمیںان کی دوالینے ہی مدینے آیاتھا ۔اب جب تک تمہاراخط تمہارے باپ کونہ پہنچائوں اس وقت تک بچوںکودیکھناحرام ہے۔امام عالی مقام کی لخت جگربول اٹھی باباجی خداکیلئے ایسانہ کروجائوپہلے اپنے بچوںکودواپلائوایسانہ ہوکہ ان کاصبرمجھ پرپڑے۔اس سوارنے کہا بیٹی نہیں اب یہ نہیںہوسکتا۔میںاب اپنے بچوںکی خاطرتیری اس خدمت گزاری میں دیرکرکے اللہ تعالیٰ اوررسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ناراضگی اپنے سرلوں اوریہ لوکپڑے۔میں اس خدمت گزاری کاصلہ تم سے نہیں تمہارے نانے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قیامت کے دن لوں گا ۔ پھرماں باپ بہن بھائیوں سے بچھڑی ہوئی اس بچی نے ایک دردبھراخط لکھ کراس سوارکے حوالے کیا۔سوارنے اپنی سواری کامنہ کوفے کی طرف موڑااوریہ دعا کرتا ہواروانہ ہوگیا یااللہ میںمنزل مقصودتک پہنچ جائوں۔ادھرقاصدنے دعاکی ادھراللہ نے فرمایاجبریل میرے پیارے حسین کی بیٹی کاخط لے کرقاصدکربلاجارہا ہے ۔زمین کی طنابیں کھینچ لو۔ننھی سی لاش کوکربلاکی تپتی ہوئی ریت میں دفن کرنے کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ خیموںکی طرف واپس آرہے تھے کہ مدینے کی طرف نگاہ اٹھائی تو دور غبار اڑتا ہوادکھائی دیا۔آپ ٹھہرگئے، غبارتیزی سے قریب آتاگیا۔پھراسی غبارسے ایک اونٹنی سوارنمودارہوا۔

Letter
Letter

اپنی اونٹنی کو بٹھایا ۔ امام عالی مقام کی خدمت میں حاضرہوا۔سرجھکایا، قدموں کوبوسہ دیاعرض کی یا امام آپ یہاں ہیں وہ سامنے لشکرکس کا ہے،ان خیموں میں کون ہے۔آپ توکوفہ گئے ہوئے تھے اورسناتھا کہ کوفے والے آپ کے ساتھ ہیں۔سیّدہ کے لخت جگرنے جواب دیا۔کوفہ والوںنے دھوکہ دیا ہے ۔وہ لشکریزیدکا ہے،ان خیموں میں ناموس رسالت چھپی ہوئی ہے۔پھرپوچھاتم کون ہو، کہاںسے آئے ہوتمہیںکس نے بھیجا ہے۔قاصدنے عرض کیا۔میںمدینے سے آیاہوں ،آپ کی بیٹی کا قاصد ہوں ۔امام عالی مقام کی آنکھوںسے آنسوئوںکی جھڑی لگ گئی ۔فرمایامیرے قریب آجائو۔تم میری بیٹی کے قاصدہو۔تم نے میرے لیے بہت تکلیف اٹھائی ،مجھ پراحسان کیا۔اس احسان کابدلہ قیامت کے دن اداکروںگا۔بتائومیری بیٹی کیسی ہے۔قاصدنے اپنی جیب سے خط نکال کرامام حسین رضی اللہ عنہ کے مبارک ہاتھوںمیں دے دیا۔امام عالی مقام نے بیٹی کے خط کوسینے سے لگایاچوم کرکھولاتولکھاتھا۔

اباجان! آپ کی بچھڑی ہوئی بیٹی سلام عرض کرتی ہے،اباجان! آپ توکہہ گئے تھے کہ ایک مہینے بعد علی اکبرآئے گا تمہیں لے جائے گا تین مہینے گزرگئے ہیں اورلکھاتھا میں ساری ساری رات آپ کے انتظارمیں سوتی نہیںہوں صبح سے شام تک دروازے پربیٹھی آپ کی راہ تکتی رہتی ہوں ہرآنے جانے والے سے آپ کاپتہ پوچھتی ہوں مگرکوئی آپ کاپتہ نہیںدیتا ۔اب میںا چھی ہوںخداکیلئے اب مجھے اپنے پاس ہی لے چلو۔بھائی اکبرکوبھیجومجھے آکرلے جائے۔آپ توبچوں کے ساتھ دل بہلاتے ہوںگے مگرمیںتنہااوراکیلی اداس رہتی ہوں۔اماںجان اورپھوپھی جان بھی جاکرمجھے بھول گئی ہیں ۔بھولیںکیوںنہ۔ان کے پاس اکبر واصغرہیں ،عون ومحمدہیں وہ ان کے ساتھ اپناجی بہلاتی ہوںگی مگرمجھ دکھیاری کاکسی نے پتہ نہیںکیا۔اچھامیںآئوںگی توشکایت کروںگی۔بھائی اکبرسے کہناتم نے توکہا تھا کہ میںخودایک مہینے بعدتمہیںلے جائوںگا۔ تمہاراراستہ دیکھتے دیکھتے تین مہینے ہوگئے ہیں۔لکھا تھا اباجی میںنے بھیااصغرکیلئے کپڑے سیئے ہیں کھلونے خریدے ہیں۔جب آئوںگی تواپنے ہاتھوںسے اس کوپہنائوںگی اب تووہ چلتاہوگاباتیں بھی کرتاہوگا۔امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیٹی کاخط پڑھا فرمایا بھائی اللہ تمہارابھلاکرے۔تیرے بچوںکی عمردرازکرے۔جس بچی کاتوخط لے کرآیا ہے وہ میری بیٹی صغریٰ ہے۔اب میں تمہاری اس خدمت گزاری اورتکلیف اٹھانے کاکیسے شکریہ اداکروں اورتمہاری کیاخدمت کروں۔گرمی کاموسم ہے تم دورسے آئے ہو۔تمہیں پیاس توضرورہوگی مگرمیںتمہیں پانی بھی نہیں پلاسکتا۔اس لئے کہ عمروبن سعدنے آج تین دن سے اہلبیت پرپانی بندکررکھا ہے۔میری یہ خواہش تھی کہ آخری وقت اپنی بیماربیٹی کودیکھ لوں۔اے خداکے بندے تونے مجھ پر بڑااحسان کیاہے میری بیٹی کاخط لے کراس خونی میدان میںآگیا ہے آج تونہیںکل اس احسان کابدلہ حوض کوثرکے جام پلاکرادا کروںگا ۔ اور اب ایک نیکی اور بھی کروکہ میراپیغام بھی میری بچی تک پہنچادو۔

جوکچھ تم نے دیکھا ہے اس کوجاکربتادو ۔ کہناکہ عون محمدنانے مصطفی کے دین پرقربان ہوچکے ہیں،قاسم، عباس رضی اللہ عنہما دفن ہوچکے ہیں،علی اکبر ،علی اصغرشہیدہوچکے ہیں۔جن کوتویادکرتی ہے وہ سب نانے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین پر قربان ہوچکے ہیں اورتیراباپ حسین رضی اللہ عنہ بھی چندساعتوںکامہمان ہے۔ یہ گواہی دینا کہ تمہارے باپ نے تمہارے خط کوپہلے سینے سے لگایاپھرچوم کرکھولاتھا۔ پھرفرمایااے میری بیٹی کے قاصد اب تویہاں سے جلدی سے نکل جا۔کہیںایسانہ ہوکہ دشمن تجھے بھی قتل کردیں۔بیٹی کے قاصدکوروانہ کرنے کے بعد امام عالی مقام رضی اللہ عنہ علی اکبر شہید کے پاس گئے اسے بہن کاخط سنایا ۔پھربیٹی کاخط لے کرخیموںمیں تشریف لے گئے تمام کوپڑھ کرسنایا ہرایک نے اپنی بچھڑی ہوئی صغریٰ کے خط کوسینے سے لگایا اور چوما۔

Siddique Prihar
Siddique Prihar

تحریر: محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
caravan daughter family father letter name Sick باپ بیٹی بیمار بیہوش خط قافلہ نام
Jhang
Previous Post جھنگ کی خبریں 5/10/2016
Next Post فاروق اعظم کا رائج کردہ نظام اپنانے سے ملک ترقی کرے گا۔ محمد صدیق پرہار
Layyah

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close