Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شب و روز زندگی قسط 16

February 21, 2015February 21, 2015 0 1 min read
Unemployment
Unemployment
Unemployment

تحریر :۔ انجم صحرائی
کچھ دنوں کے بعد ہم “بے روزگار اور بے روزگاری “کے موضوع پر ایک مجلس مذاکرہ 8 فروری 1977 کو بلدیہ کے جناح ہال میں منعقد کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ مجلس مذاکرہ کی صدارت اس زمانے کے اسسٹنٹ کمشنر چوہدری نذیر احمد نے کی جب کہ مہمان خصوصی فضل حق رضوی تھے۔

اس تقریب کے مقررین میں میں ظفر زیدی، فضل محمود قریشی ایڈووکیٹ، پروفیسر سعید احمد ِمہر کرم حسین لیبر آفیسر (شو گر مل لیہ) ملک غلام حیدر لنگاہ۔ محمد انور گھمن ایڈووکیٹ ، عبد الحکیم شوق اور مہر عبد القادر لو ہا نچ ایڈ وو کیٹ شا مل تھے ۔ اس زما نے میں آ ٹے کا خا صا بحران تھا تقریب ابھی جا ری تھی کہ مجھے صدر تقریب نے کہا کہ سر کا ری مصروفیات کے سبب انہیں کہیں جا نا ہے آپ مجھے تھوڑا وقت دے دیں تا کہ میں شر کا ئے تقریب سے معذرت کر کے اجازت لوں ۔ میں نے کہا ٹھیک ۔ مو قع ملتے ہی میں نے انہیں سٹیج پر آ نے کی دعوت دی مو صوف ابتدا ئی چند لفظ کہنے کے بعد بو لے آ ٹے کا بحران ہے مجھے شہریوں کی شکا یات مو صول ہو رہی ہیں میں نے یہ مسئلہ حل کر نا ہے آپ کا مو ضوع بہت اہم ہے مگر آ ٹا بھی اہم ہے اس لئے انجم صاحب آ پ اپنی بین بجا ئیں اور مجھے اپنا کام کر نے دیں ۔ اور یوں اے سی بہادر نے سنجیدہ تقریب کو اپنی شکفتہ بیا نی سے مسکراتی نششت میں تبدیل کر دیا ، مجلس مذا کرہ میں صرف ایک مقرر ایسے تھے جنہوں نے پوری تیاری کے ساتھ اپنا مقا لہ لکھا اور پیش کیا تھا اور وہ تھے پرو فیسر سعید احمد جو گورٹمنٹ کالج میں اکنا مکس کے پرو فیسر تھے۔

تقریب کے بعد پرو فیسر سعید نے اپنا وہ لکھا ہوا مقا لہ مجھے دے دیا مجھ سے زیا دتی یہ ہو ئی کہ میں نے وہ مقا لہ اپنے نام سے قو می اخبار کو بھیج دیا جو شا ئع ہو گیا ۔ مقا لہ کی اشاعت کے بعد مجھے اپنی اس دانستہ غلطی پر بہت شر مند گی ہو ئی مضمون کی اشاعت کے بعد جب میری ملا قات پرو فیسر سے ہو ئی تومیں نے شر مند گی سے اپنی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہو ئے ان سے معا فی ما نگی تو وہ ہنس پڑے کہنے لگے کو ئی بات نہیں لیکن اگر آپ کا اپنا لکھا ہو تا تو بہت اچھا ہو تا ۔ ان کی بات میں نے اپنے پلے باندھ لی اور اس کے بعد جو بھی لکھا خود لکھا ۔ایک دن شیر محمد خان دفتر میں ایک ایسے بزرگ دوست کو لا ئے جو ایک پرا ئمری سکول کے گیٹ پر چاٹ فرخت کرتا تھا۔

Unemployment Problem in Pakistan
Unemployment Problem in Pakistan

میں اس بزرگ کا نام بھول رہا ہوں ۔ شیر محمد خان اور ہمارے ایک مشترکہ دوست خالق قر یشی کی گو شت کی دکان بمبئے بازار میں واقع پرا ئمری سکول کے ساتھ ہوا کرتی تھی ۔ اور یہ بزرگ دوست اسی سکول کے گیٹ پر اپنا چاٹ کا خوانچہ لگا یا کرتے تھے میجر اسحق کی مزدور کسان پا رٹی سے ان کا تعلق تھا بڑے لٹریری ،نظریا تی کا مریڈ شخصیت تھے جب ہما را ان سے تعارف ہوا تو ہم نے انہیں سٹڈی سرکل کے اجلاس میں بطور مہمان خصو صی دعوت دی اور تمام سا تھی ان کی گفتگو سے مستفیذ ہو ئے ۔ایک دن ایک دوست نے تجویز دی کہ کیوں نا تمام سفارت خانوں کو خط لکھے جا ئیں اور ان سے دریا فت کیا جا ئے کہ ان کی حکو متوں نے اپنے مما لک میں بے روز گاری کے مسئلہ کے حل کے لئے کیا اقدا مات کئے ہیں ہم اس زما نے میں تنظیم کا پندرہ روزہ خبر نا مہ بھی شا ئع کیا کرتے تھے جو سا ئکلو سٹا ئل ہو تا تھا ۔ سب دو ستوں نے اس تجویز کو منظور کر لیا ۔ سو ہم نے ایک خط تحریر کیا سب دو ستوں کو پڑھا یا جب سب نے منظور کر لیا ہم نے وہ خط تمام معروف سفارت خا نوں کو بذ ر یعہ بھجوا دیا خط میں صرف ایک سوال لکھا تھا کہ آ پ کی حکو مت نے اپنے ملک میں بے روز گاری کے خا تمہ کے لئے کیا اقدا مات اٹھا ئے ہیں ؟ یہ خط لکھے چند ہفتے گذ رے تھے کسی کا وا پسی جواب بھی ہمیں نہیں ملا تھا کہ ایک دن رشید نیوز ایجنسی پر غافل کر نا لی ملے اور کہنے لگے او بھا ئی کیا کرتے پھر رہے ہو ایجنسیاں تمہا ری تلاش میں ہیں ۔ میں نے پو چھا کیا ہوا کہنے لگے ایک ہر کارہ آ یا تھا تمہارے اور تمہاری تنظیم بارے پو چھ رہا تھا کہہ رہا تھا کہ کرا چی کے پو لیس آ ئی جی نے تمہا رے بارے رپورٹ ما نگی ہے میں ہنس دیا اور کہا کہ استاد جی خدا کا خوف کرو کیوں ہم بے روز گا روں کو ڈرا رہے ہو ۔ اور یوں بات آ ئی گئی ہو گئی۔

ایک صبح جب میں اپنے دفتر گیا تو دیکھا کہ دفتر کے اکلوتے کمرے کا تالا کھلا ہے اور اندر سامان بکھرا ہوا تشویش تو ہو ئی مگر اتنی نہیں کہ دفتر میں سانان کو نسا تھا جو چرایا جا تا ۔انہی دنوں مجھے کسی دوست کے کام کے سلسلہ میں تھانہ سٹی جا نا پڑا ۔ صدر بازار میں قائمآج کی تھا نہ چو کی عمارت میں تھا نہ سٹی ہوا کرتا تھا چوہدری وارث تھا نیدار تھے ۔ کام تو انہوں نے ہمارا فو را کر دیا ۔ مگر جب میں ان کا شکریہ کر کے جا نے لگا تو بو لے انجم صحرائی تیرے کچھ دوست آ ئے ہو ئے ہیں تمہیں ملنا چا ہتے ہیں بیٹھو تمہیں ان سے ملا تے ہیں یہ کہتے ہو ئے انہوں نے گھنٹی بجا ئی اور آ نے والے کا نسٹیبل سے کہا کہ غفار کو بلا ئو ۔ ان کی بات سن کر مجھے غا فل کر نا لی کی بات یاد آ گئی اور میں نے سو چا کہ لو جی اب کھیل شروع ہو نے والا ہے تھوڑی دیر میں ایک شخص جو سول کپڑے پہنے ہو ئے تھا کمرے میں آ یا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا میں نے تھا نیدار بہادر کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی سر کے اشارے سے اجازت دے کر آ نکھیں چرا لیں ۔ میں نے کر سی سے اٹھتے ہو ئے قدرے بلند آ واز سے اپنے سا تھی سے کہا کہ وہ چلا جا ئے اور اگر میں ایک گھنٹہ تک آ پ سے را بطہ نہ کروں تو آپ دو ستوں کو بتا دیں کہ مجھے پو لیس نے اٹھا لیا ہے یہ کہتے ہو ئے میں اس شخص کے ساتھ چل پڑا ۔ وہ مجھے تھا نے کے سا منے پو لیس ملازمین کی رہا ئش کے لئے بنی بیرک کے ایک کمرے میں لے گیا ۔ جس میں دو بچھی ہو ئی چار پا ئیوں میں سے ایک پرسفید کپڑے پہنے ہو ئے ایک شخص بیٹھا تھا میں نے اس سے ہا تھ ملا یا اور سا منے والی چا رپا ئی پر بیٹھ گیا دونوں کا رویہ پو لیس کے عام رویے سے مختلف تھا انہوں نے بتا یا کہ ان کا تعلق ملتان سپیشل برانچ سے ہے اور وہ میرے اور انجمن بے روز گا ران پا کستان بارے کچھ پو چھنا چا ہتے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کی Reput بہت خراب ہے آپ کی ایکٹیویٹیز بارے اوپر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے میں نے انہیں بتا یا کہ انجمن بے روز گا ران پا کستان کو ئی سیا سی فورم نہیں ہے بلکہ سیا ست سے ماورا بے روزگاروں کی ایک تنظیم ہے جو ملک میں بڑ ھتی ہو ئی بے روز گاری حکو مت کی تو جہ مبذول کرا نے کی جدو جہد کر رہی ہے انہوں نے مجھ سے پو چھا آپ کے ممبر کتنے ہیں ۔ میں نے تھوڑی دیر سو چا اور جواب دیا کہ سب کا تو پتہ نہیں مگر ہمارے انجینئر ممبران کی تعداد 48 ہزار کے لگ بھگ ہے میرا جواب سن کر وہ بہت حیران ہو ئے کہنے لگے کہ کیا آپ ہمیں اپنے ممبر شپ فا رم دکھا سکتے ہیں میں نے کہا ہمارے ہاں ممبر شپ فارم کے بغیر ممبر سا زی ہو تی ہے وہ کہنے لگے کیسے میں نے جواب دیا جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ بے روز گا ری ختم ہو نا چا ہیئے وہ ہما را ممبر ہے مجھے سے پو چھا گیا کہ یہ بے روزگار انجینئر ممبر کیسے بنے میں نے کہا کہ پچھلے دنوں پی پی پی پنجاب حکو مت کے ایک وزیر ڈاکٹر عبد الخا لق کا بیان شا ئع ہوا ہے کہ پنجاب میں اتنے بے روز گار انجینئر ہیں چو نکہ یہ سب بے روزگار ہیں اسی لئے ہما رے ممبر ہیں میرا جواب سن کر وہ بہت محظوظ ہو ئے میری با توں نے ما حول کو خا صا دو ستا نہ سا کر دیا وہ اس لئے کہ میں ان کی ہر بات کا تفصیلی جواب دے رہا تھا ۔ جب سوال و جواب کی نششت خا صی طو یل ہو گئی تو میں نے انہیں کہا کہ آ ئیں با ہر چلتے ہیں اور کہیں چا ئے بھی پیتے ہیں اور باقی با تیں بھی کرتے ہیں۔

Job
Job

وہ قدرے تامل کے بعد مان گئے اور ہم تھا نے کے قریب ہی اقبال سویٹ پر آ بیٹھے ۔ اقبال سویٹ اس زما نے میں مٹھا ئی کی ایک خو بصورت اور اچھی دکان ہوا کر تی تھی ۔ جیب میں پیسے نہیں تھے میں نے چو ہدری اقبال سے کہا کہ ڈیڑھ پا ئو گلاب جا من دے دیں اور باہر سے ڈیرھ پا ئو دودھ پتی بھی منگوا دیں ۔ تھوڑی دیر بعد ہم قیا مت کے ادھار پر مٹھا ئی کھا رہے تھے اور چا ئے پی رہے تھے ۔شپیشل برانچ کے ان دو نوں دو ستوں کا تعلق لیہ سے تھا چا ئے پیتے پیتے میں نے ایک صاحب سے پو چھا کہ ان کے کتنے بچے ہیں کہنے لگے ایک نے ایف اے کیا ہے اور دوسرا میٹرک کا سٹو ڈنٹ ہے میں نے پو چھا کہ بڑے کو ملازمت ملی کہنے لگے کہاں جی کئی بر سوں سے بے روز گار ہے ان کا یہ جواب سن کر میں نے مسکراتے ہو ئے ایک سوال اور پو چھا کہ اگر آ پ کا لڑ گا بے روز گار ہے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بے روزگار نہ رہے اور اسے روزگار ملے تو اس نے کہا کہ کون چا ہتا ہے کہ بچے بے روزگار رہیں ۔ میں نے زور سے قہقہہ مارا اور بو لا مبارک ہو آج آپ اور آپ کا بیٹا بھی انجمن بے روز گا ران پا کستان کے ممبر بن گئے ہیں ۔ اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کو ئی عقلمند پا گل کو دیکھتا ہے اور یوں ہماری یہ میٹنگ ختم ہو گئی ۔اسی دور سے جڑا ایک اور واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ان دنوں ہماری راتیں پوری دنیا اور خاص طور پر پا کستان سے بے روزگاری کے بارے سو چتے اور بحث و مبا حثہ کر تے گذ ر تی تھیں اور اس ٹاک شو کے لئے ہم نے ریلوے سٹیشن کے دونوں پلیٹ فارموں کو ملا نے والے برج کو ہا ئیڈ پارک کا درجہ دیا ہوا تھا ۔ دن ڈھلے ہی ہم خا صے دوست وہاں اکٹھے ہو تے بات چیت کرتے اور رات جب بھیگنے لگتی اپنے اپنے آ شیا نوں کو لوٹ جا تے ایک دن کیا ہوا کہ سب دوست چلے گئے میں اور شیر خان میں زوروں کی بحث جا ری تھی کہ ہم با تیں کرتے کر تے وہیں برج پر سو گئے رات کو جب گلستان سینما کا شو ٹو ٹا تب ہمیں گشت پر ما مور دو پو لیس والے وہاں آ گئے انہوں نے جب ہمیں وہاں بے سدھ سو تے دیکھا پہلے تو پر یشان ہو گئے کہ یہ کون لوگ ہیں جو پینٹ شرٹ میں ملبوس سو ئے پڑے ہیں اس زما نے میں شیر خان بیل باٹم پتلون اور دھا ری دار شرٹ پہنتے تھے اور میں بھی کبھی کبھار لنڈے کے مال پر معزز بن جا یا کرتا تھا ۔ خیر انہوں نے سب سے پہلے شیر خان کو جھنجھوڑ کر جگا یا اور پو چھا کون ہو تم ؟ آ گے بھی شیر خان تھے بلا آ نکھ ملے اور کھو لے جواب دیا کہ پا کستا نی ۔ شیر خان کا یہ جواب سن کر سپا ہی خان کا فیوز اڑ گیا اور زور سے بو لا تو کیا ہم انڈ یا سے آ ئے ہیں ۔ میں نے شور سنا تو خود ہی اٹھ بیٹھا ، اپنا تعارف کرایا تب جان چھوٹی ۔ مگر صاحب ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں کے مصداق جان کہاں چھوٹی تھی ۔ہم دو نوں برج سے اترے اور صدر بازار سے ہو تے ہو ئے چوک قصا باں پہنچے۔

میں شیر خان کو خدا حافظ کہہ کر اپنے چو بارے پر چڑھ گیا ابھی میں نے دفتر کے کمرے کا دروازہ نہیں کھو لا تھا کہ اچا نک مجھے نیچے سے شور شرابے کی آ واز آ ئی مجھے لگا کہ جیسے بڑے غیض و غضب کے لہجے کے سا تھ چوک قصا باں میں شیر خان ا نقلا بی تقریر کر نے میں مصروف ہیں اور استعماری قو تیں شیر خان کی را ہیں کھو ٹی کر نے کے لئے پوری قوت سے دھمکیاں دے رہی ہیں ۔یہ شور شرا با سن کر میں نے دفتر کی دیوار سے نیچے جو جھا نکا تو عجیب منظر تھا چوک کے عین بیچ میں ایک سپا ہی اور ایک بندے نے شیر خان کو ڈو لی ڈنڈا کیا ہوا ہے اور شیرخان انقلا بی دھن مینںانہیں صلوا تیں سنا رہے ہیںجتنی دیر میں میں اوپر سے نیچے آ یا وہ لوگ شیر خان کو تھا نہ سٹی لے جا چکے تھے ، جب میں ان کے تعا قب میں وہاںپہنچا تب شیر خان نفی میں سر ہلا تے عاشق خان کا نسٹیبل کے الز مات سے انکار کر رہے تھے اور کا نسٹیبل عا شق خان مصر تھے کہ یہ بیل با ٹم پینٹ اور لمبے با لوں والا شخص انہی لو گوں میں سے ہے جنہوں نے پچھلے دنوں واپڈا ہا ئوس لا ہور میں دھما کے کئے ہیں اور تھا نے کا منشی رمضان بے چا رہ رات کے تین بجے اس نا گہا نی افتاد کے با عث نیند خراب ہو نے پر خا صا جز بز یہ کہنے ہی والا تھا کہ” چلو ملزم نوں اندر ڈھکو سویرے ویکھاں گے” کہ میں پہنچ گیا۔ باقی اگلی قسط میں

Anjum Sehrai
Anjum Sehrai

تحریر :۔ انجم صحرائی

Share this:
Tags:
day and night dialogue Episode job life organized theme Unemployment بے روزگاری زندگی شب و روز قسط مذاکرہ منعقد موضوع
Petro Poroshenko
Previous Post یوکرائن کے صدر پیٹرو پوروشینکو نے بین الاقوامی امن دستے تعینات کرنے کی تجویز پیش کردی
Next Post نکہ کہوٹ کا 25 سالہ نوجوان پانی کے تالاب میں گر کر جاں بحق ہو گیا
Talagang

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close