Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جمہوریت

April 2, 2017 1 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : عقیل احمد خان لودھی
خواب آنا ایک فطری عمل ہے ہر شخص کا ان خوابوں سے روزانہ واسطہ ضرور پڑتا ہے زیادہ تر خواب نیند میں آتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ خواب دیکھنے کیلئے آپ پہلے بھرپور نیند ہی لیں جاگتی آنکھوں سے بھی خواب دیکھے جاسکتے ہیں تاہم نیند میں آنے والے خوابوں پر انسانی کنٹرول باقی نہیں رہ جاتا ہے۔سائنس کے مطابق نیند آنے کے 60 سے 90 منٹ بعد خواب آنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

1953 ء میں پہلی دفعہ سائنس دانوں نے دماغ کی اس کیفیت کا پتہ چلایاجس میں خواب واقع ہوتے ہیں. خواب دیکھنے کے عمل کے دوران آنکھ کی پتلی تیزی سے حرکت کرتی ہے، سانس اور دل کی دھڑکن میں بیقاعدگی پیدا ہوجاتی ہے اور سارا جسم شل ہو جاتا ہے۔ خواب انسان کے جس دماغی حصے میں بنتے ہیں، اسے برین سٹیم کہا جاتا ہے، یہ حصہ دل کی دھڑکن، معدہ کی حرکت اور پیشاب بننے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔خواب کی نوعیت کا تعلق خواب دیکھنے والے کے خوف، خواہش، تجسس اور ذہنی حالت پر ہوتا ہے۔ کسی چیز سے خوف زدہ شخص بار باراسی کے متعلق خواب دیکھتا ہے، مستقبل کے بارے میں پریشان شخص کچھ ماضی اور کچھ حال کو خواب کی صورت میں دیکھتا ہے۔ خواب کسی اشارے، تصویر اور پیغام کی طرف اشارہ کرتا ہے. یہ اشارے، تصاویر اور پیغام بڑے واضح ہوتے ہیں کیونکہ دماغ تسلسل سے کام کرتا ہے اور اعلیٰ درجہ کا تسلسل غیر لفظی اور علامتی ہوتا ہے جو بہت سارے مواد کو ایک مختصر تصویری شکل دیتا ہے۔

یہ تو تھی خوابوں کے متعلق کچھ سائنسی باتیں اب آگے بڑھتے ہیں اپنی خواب بیتی کی طرف ۔۔۔۔۔، کئی روز کی شب بیداری کے بعد راقم کی آنکھوں نے گزشتہ رات ہلکی سی نیند کو اوڑھ لیا تومجھے خوابوں نے اٹھا کر ایسی جگہ ایسی ریاست میں لے جا پھینکاجہاں سب کچھ عجیب اور دنیا سے منفرد ہورہا تھا، وہاں کے باسیوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت ہی نہیں عزت غیرت و حمیت ہر چیز کو دائو پر لگا رکھا تھا۔ معاشرہ بدعنوانی،کرپشن، سرکاری خزانے کی لوٹ کھسوٹ، اشیائے خوردونوش میںبے دریغ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری،دہشت گردی و فرقہ پرستی جیسی غلاظتوں خباثتوں کا شکار ہوچکا تھا۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ چند دہائیاں قبل آزاد ہونے والے اس ملک میں دنیا سے انوکھی جمہوریت آئی ہے جو چند خاندانوں اور ان کی اولادوں تک محدود ہے اور یہ چند خاندان دنیا بھر میں اپنی کرپشن ،لاقانونیت لسانی ،نسلی ،علاقائی تعصب پھیلانے کی عادت کی وجہ سے جان پہچان رکھنے کے باوجود بڑی عوامی حمایت رکھتے ہیں اور یہ کہ اس ریاست کے عام لوگ ایسے ہی لیڈروں کو پسند کرتے ہیں جو جیلوں کا ریکارڈ رکھتے ہوں بدعنوان ہوں بدمعاش ، بڑی بڑی ہانکنے والے ،ٹیکس چور،ٹیکس خور،جھوٹے ،بے ایمان اور بڑے دھوکہ بازاور انہیں ہر بار چونا لگانے والے ہوں۔

معلوم ہوا کہ ایک دو خاندان ہی ملکی اقتدار کی باریاں لے رہے ہیں مگر اس ملک کی تقدیر نہیںبدلی۔ملک میں جاری خاص قسم کی جمہوریت کی وجہ سے اس ملک کا اخلاقی زوال اس سطح تک پہنچ تھا کہ ہر محکمے، ہر ادارے میں بے ایمانی، رشوت خوری،کمیشن اور ناجائز طریقے سے دولت سمیٹنے کا طوفان سا بپا تھا، سیاست ایک نفع بخش پیشہ بن چکی تھی۔ہر طرف افراتفری ،نفسا نفسی کا عالم تھا کیا چھوٹا کیا بڑا سب کو قیامت کی سی جلدی مچی ہوئی تھی۔ہر کوئی اپنی اپنی دوڑ میں مگن کسی نامعلوم منزل کا مسافر اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر گاڑی میں پہلے سے سوار کو نیچے اتار کر خود منزل پر پہنچنے کے چکر میں ۔اس طرح کے شارٹ کٹ چکروں کی تقریبا ہر شخص کو عادت تھی وہاں موجود سبزی فروش سے لیکر ریڑھیوں اور چھابڑیوں پر دیہاڑی لگانے والے کیا بڑے بڑے پلازوں کوٹھیوں اور ملوں کے مالک سبھی کسی انجان سی دوڑ میں تھے ۔ریاست میں کہیں قانون قاعدہ نام کی چیز باقی نظر نہیں آرہی تھی جس کا دائو لگا ہوا تھا پورا لگا ہوا تھا ہر کوئی اپنی اپنی کوشش میں خوش اگر کوئی رو رہا تھا تو وہ ایسا تھا کہ جس کا اپنے تئیں کوئی دائو پیچ نہ لگ سکا یا وہ راقم کی طرح ا تنا کاہل اور سست تھا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہنے کی آڑ میں دائو لگانے سے غفلت برت رہا تھا۔ وہاں کی بھینسیں اور گائیںخالص دودھ تو دیتی تھیں مگر دودھ لوگوں تک پہنچتے پہنچتے میٹھا زہر تو ہوتا تھا دودھ نہیں رہتا تھا۔ زندگی کے وجود کیلئے اہم ترین ضرورت پانی وافر مقدار میں موجود تھا مگر زمین کے نیچے موجود پانی کو کھلے عام زہر آلود کیا جارہا تھا یہ جانتے ہوئے کہ بھی بہت جلد زہر آلود پانی رگوں میں اترنے سے خود ہی معذرت کرلے گا۔وہاں مردہ،حرام جانوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے خوردنی آئل تک تیار کیا جارہا تھا گدھوں اور کتوں کے گوشت کے فروخت کی باتیں عام ہوچکی تھیں،،شراب نوشی اورفروخت کی پابندی تو تھی مگر وہاں کے پارسا حکمران ، ان کی اولادیں ، ان کے گماشتے ان دھندوں میں مصروف اوران مکروہات میں ملوث افراد کی پشت پناہی کے کررہے تھے۔

مسیحائی کے پیشے سے وابستہ افرادحکمرانوں کی طرز پر عوام الناس کی چمڑیاں ادھیڑنے میں مصروف تھے سرکاری ہسپتالوں سے غریبوں کیلئے موت کے پروانے جاری ہورہے تھے جبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں پرعلاج معالجہ کا سن کر ہی غریب لوگ راہ عدم سدھار رہے تھے۔تعلیمی شعبہ کا حال یہ تھا کہ سرکاری سکولوں کالجوں سے ذہنی معذور نسل تیار کی جارہی تھی جنہیں کسی بھی سرکاری ادارے میں کسی پوسٹ پر تعینات کرنے سے قبل امیدوار کا اوپر سے نیچے تک سرکاری جائزہ کچھ اس طرح سے لیا جاتا کہ جیسے سرکاری سکول سے پڑھ کرکوئی کبیرہ گناہ کر آیا ہو۔وہاں کے روحانی پیشوا ئوں کی بڑی تعداد لوگوں کیلئے نفرتوں کے سامان بانٹ رہی تھی وہاں کے علماء اپنے لئے عیش وعشرت کی تلاش میں کرپٹ حکمرانوں کیلئے دنیاوآخرت میں جنت بانٹنے میں مصروف تھے۔من پسند افراد کو نوکریاں سے نوازا جارہا تھا۔ مختلف ٹیسٹوں کی آڑ میں عام طبقات کو آگے آنے سے روکا جارہا تھا۔تھانوں اور عدالتوں میں غریب آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی تھی فریقین کی دولت کیساتھ ساتھ اثر ورسوخ کو دیکھ کر کاروائیاں آگے بڑھائی جارہی تھیں،ان اداروں کے اہلکار غنڈہ گردی، بدمعاشی، لاقانونیت کو پروان چڑھانے میں براہ راست ملوث تھے کمزوروں کی زمینیں جائیدادیں ہتھیانا بہت آسان تھا کمزور عدالتوں میں دھکے کھاتے نظر آتے تھے بااثر لوگ غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرکے عدالتوں اور تھانوں کے ذریعے ہی تحفظ حاصل کررہے تھے۔ میڈیامیں نمایاں ہونے والے کیسز پر کوئی توجہ دے دی جاتی تو دے دی جاتی ورنہ عام آدمی کی کوئی درخواست بھی قبول نہیں کی جارہی تھی ۔زیادہ ترمیڈیا والوں کے لئے لفافہ ہی ان کا ایمان مذہب دھرم سب کچھ بن چکا تھا یہاں کا میڈیامخصوص ،من پسند شخصیات کو پروان چڑھا کر گندی سیاست کی آبیاری میں مصروف تھا۔

بے حیائی اور فحاشی کو پروموٹ کیا جارہاتھا۔ ٹی وی چینلز کے مختلف پروگرامز بالخصوص مارننگ شوز کے ذریعے اخلاقیات کا جنازہ نکالا جارہا تھا ۔ملک کے نصف حصہ میںملکی آزادی کی کئی دہائیوں بعد بھی لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے جنہیں صاف پانی،ٹرانسپورٹ علاج معالجہ کی سہولیات سرے سے ہی ناپید تھیں، حاکموں اور وڈیروں کی غلامی کا رواج جاری تھا۔جیلیں عام اور غریب آدمیوں سے بھری ہوئی تھیںعدالتوںمیں فیصلوں کے لئے سودے بازیاںہوتی تھیں وکلاء کی حیثیت کے مطابق فیصلے ہوتے۔مخصوص اور بااثر لوگوں کو بچانے کیلئے ایمرجنسی میں عدالتیں سجا کر منٹوں میں کاروائی مکمل جبکہ غریب اور مجبور لوگوں کیلئے بلاوجہ تاریخیں ڈالکر انہیں واپس جیلوں میں بھجوایاجارہا تھا۔ان سب کے باوجودلوگ چند سیاسی لوگوں کی تقلید میں اس قدر اندھے ہوچکے تھے کہ اپنے رہنمائوں کے تمام تر کالے کرتوتوں کودیکھ بھال کر بھی ،خود ان سیاسیوںکی جانب سے ایک دوسرے کے کرتوت منظر عام پر لانے کے باوجود اپنے لیڈروں کیلئے عزتیں تک لٹانے کیلئے تیار تھے،بظاہر تو وہ آزاد ریاست تھی مگر غیروں کی غلامی میں اس قدر لتھڑی ہوئی تھی کہ غیر آقائوں کے سامنے اپنی مائیں اور بیٹیاں بھی لا کر کھڑی کرنے میں بھی عار نہیں سمجھا جارہا تھا۔ میڈیا کے توسط سے دکھائی جانے والی سرکاری ،نجی تقریبات میں واضع طورپر اس قوم کی بہنیں اور بیٹیاں غیروں کے سامنے بے پردہ اور نامحرموں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالکر نمائش کرتی نظر آئیں۔ عام آدمی کی اپنے ملک کے حکمرانوں تک رسائی نظر نہیں آرہی تھی ،لوگوں کو گلہ تھا کہ حکمران انتخابات کے بعد اپنے وعدے پورے نہیں کرتے بڑی بڑی قسمیں کھا کر جھوٹ بولتے ہیں۔

چونکہ یہ شیطانی جمہوریہ تھی اس لئے وہاں کے حکمرانوں نے کبھی راہ راست پر آنے کا نہیں سوچا تھا نہ ہی وہ لوگوں کو خدائے وحدہ لاشریک کے احکامات کی پیروی کی ترغیب دیتے تھے انہوں نے کبھی اپنی عوام کو نماز روزہ زکوة حج کیلئے نہیں کہا ۔دہشت گردی کے ناسور نے وہاں زندگی اجیرن کر رکھی تھی، عام آدمی گھروں سے نکلتے تو دل کو دھڑکا سا لگا رہتا کہ نجانے کب اور کہاں کس گلی میںکوئی راہزن ،لٹیرالوٹ لے یا دھماکہ، فائرنگ ہو اور زندگی کی شام ہو جائے۔ اکثر ہونیوالی مجرمانہ وارداتوں اور دھماکوں میں ہمیشہ عام لوگ ہی مارے جاتے تھے حکمران یا ان کی اولادیں محفوظ تھیں ۔ شیطانی جمہوریہ کے حکمران اور ان کی اولادیں صرف اس وطن پر حکمرانی کرنا آپ حق سمجھتے تھے ورنہ تو وہ خود اور ان کی اولادیں دوسرے ملکوں میں قیام پذیر تھے الیکشن کے دنوں میں ان کا آنا جانا لگا رہتا تھا ۔ لاثانی کرپٹ سیاستدان ایک طرف اس ریاست میں لامحدود ترقی کے دعویدار تھے تو دوسری جانب حالت یہ تھی کہ اپنے معمولی علاج معالجہ کیلئے بھی انہیں اپنے ملکی اداروں کی کارکردگی پر اعتماد نہ تھا۔

اس ملک میں توانائی کا بحران تھاسیاستدان توانائی کے بحران اور ملکی تقدیر بدلنے کے نام پر گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں کی پہلے سے بے وقوف ( قابل رحم )عوام کو مزید بے وقوف بناتے تھے میں نے بھی خواب ایک دو سیاستدانوں کی یہ تقرریں اور دعوے سنے مجھے تو خیر کافی مضحکہ خیز لگے مگر میں نے دیکھا کہ یہاں کے لوگ جھوٹے رہنمائوں کے سامنے سدھائے ہوئے بندروں کی طرح سر ہلاتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملارہے تھے۔ملک کی تقدیر بدلنے کے دعویدار تیزی سے ملکی دولت لوٹنے میں مصروف رہ کر اپنی اور خاندانوں کی تقدیریں سنوارنے میں مگن تھے۔لوٹ مار کے ذریعے اکٹھی کی گئی ملکی دولت بیرون ممالک کے ذاتی اکائونٹس میںمنتقل کی جارہی تھیں۔حکمرانوں کی پیروی میں ہر شخص بقدر جثہ لوٹ مار کررہا تھا۔ اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں کو پوچھنے کی کسی ادارے میں سکت نظر نہیں آتی تھی اگر انہیں چند روز کیلئے حراست میں لیا بھی جاتا تو بطور مہمان ان کی خاطر تواضع کی جاتی اور اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں کو چند لاکھ روپے کی ضمانت کے عوض عدالتوں سے رہا کیا جارہا تھا تاہم چھوٹی موٹی چوری چکاری کی وارداتیں کرنے والوں کیساتھ قانون آہنی ہاتھوں نمٹنے کیلئے موجود تھا۔ہر طرف یہی ہاہو کار مچی ہوئی تھی کہ جیسے کوئی دنیاوی جہنم ہو اور بس قیامت زلزلوں،پتھروں کی بارش اور بڑے طوفانوں کا انتظار کیا جارہا ہو۔میں اس ماحول کو بدتر سے بدترین ہوتا دیکھا کر خواب میں ہی تھر تھر کانپناشروع ہوگیا اور اسی خوف میں اچانک میری آنکھ کھل گئی میں نے خود کو اپنے بستر پر پایا ۔اللہ تعالیٰ کا اس پر کروڑوںبار شکر ادا کیا کہ میں کسی دوسری ریاست میں نہیں بلکہ وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں موجود تھا۔الحمد اللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں۔ الحمد اللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں۔۔۔ آج ہی شکرانے کیلئے اللہ کے حضور دو رکعت نماز نفل ادا کروں گا۔کہتے ہیںشیطان لوگوں کو پریشان اورغمگین کرنے کے لیے تصرفات سے کام لیتا ہے۔ جن لوگوں کو اس طرح کے خواب آئیں، انہیں چاہیے تین دفعہ بائیں طرف تھوک دیں، شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں، اپنا پہلو بدل لیں اور اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔

Aqeel Ahmed Khan Lodhi
Aqeel Ahmed Khan Lodhi

تحریر : عقیل احمد خان لودھی

Share this:
Tags:
Aqeel Ahmed Khan Lodhi corruption democracy dream terrorism wish World جمہوریت خواب خواہش دنیا دہشت گردی کرپشن
DMC Korangi Karachi
Previous Post بلدیہ کورنگی کے 12 ملازمین حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرینگے
Next Post کے الیکٹرک کی اوور بلنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا
K-Electric

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close