Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ڈیموکریسی بمقابلہ موبوکریسی

July 30, 2018 1 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : محمد آصف اقبال

وطن عزیز ہندوستان جسے عموماً ایک خاص پس منظر میں “بھارت” کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، میں گزشتہ تین چار سالوں میں بھیڑ کے ذریعہ قتل کے واقعات جس قدر بڑے پیمانہ پر سامنے آئے ہیں اس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ان واقعات کی ایک خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ جھوٹ،افواہ اور غلط بیانی کے ذریعہ واٹس اَپ گروپ کے تعاون سے قبل از وقت غلط فہمیوں کے شکار لوگوں کو مجتمع کرتی ہے تو وہیں دوسری خصوصیت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ یہ بھیڑ دراصل بھیڑ نہیں بلکہ حالات اور معاملات سے نمٹنے کے لیے قبل ازوقت تیار شدہ افراد ہیں جو وقتاًفوقتاً ہمارے سامنے آتے ہیں ،ان کا مجرمانہ کردار واضح ہے،یہ جنون کی حد تک مجروح کیے جا چکے ہیں،انہیں بربریت کی تربیت دی گئی ہے اور یہ انسانی جان کی اہمیت نہیں سمجھتے۔نتیجہ میں معصوم اور بے قصور لوگ اپنی جان سے ہاتھ گنوابیٹھتے ہیں۔ان واقعات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہاں معاملہ ایک فرد کی زندگی اور موت سے جڑا ہوا نہیں ہے۔بلکہ جس شخص کی جان جاتی ہے اس کے بچے یتم ہوجاتے ،مرنے والی کی بیوی بیوہ جاتی ہے، خاندان سے وابستہ دیگر افرادذہنی ،اقتصادی اور سماجی سطح پر پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔وہیں مرنے والے کے متعلقہ مذہب سے وابستہ دیگر افرادچند ہی منٹ کے اس واقعہ کے بعد خوف کی حالت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔متعلقہ افراد پولیس ،کورٹ کچہری اور وکلا کے چکر لگانے اور دقتوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں،اور ایسے افراد کی مدد کرنے کے لیے عام طور پر ہاتھ بڑھانے والے بہت کم سامنے آتے ہیں اور جو آتے بھی ہیںوہ بیان بازی ،فوٹوسیشن،اخبارات کی زینت بننے کے بعد، متاثرہ افراد کے لواحقین سے دور ہوتے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ واقعہ بھلا دیا جاتا ہے اور ایک نیا حادثہ رونما ہو جاتا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ جو موبوکریسی(بھیڑ کی منمانی) کا نظام رائج ہو چکا ہے اس سے تمام ہی شہری ،عوام و خواص واقف ہیں۔اس سلسلے میں مختلف لوگوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً بیان بازیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ذمہ داران ملک اس بات سے بھی اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں کہ ان واقعات کی انجام دہی میں سوشل میڈیا کا نمایاں کردار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے چیف جسٹس دیپک مشرا جو گزشتہ چند ماہ سے خبروں میں نمایاں رہے ہیںوہ کہتے ہیں کہ ملک میں ہجومی تشدد کے ذریعہ قتل کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ان واقعات کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کا بڑارول ہے۔معاشرے میں امن اور قانونی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کو جانچ کے دائرے میں لانا ہوگا اور تحقیقات خود ملک کے بیدار شہری ہی کر سکتے ہیں۔انہوں نے موب لنچنگ کے واقعات پر روک کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کنٹرول کوئی ادارہ یا حکومت نہیں بلکہ خود اس ملک کے ہوشمند شہری کریں گے۔انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ اگر کوئی قابل اعتراض پیغام کوئی اپنے سوشل میڈیا پیج پر دیکھے تو اسے فوری طور پر ڈلیٹ کردیں،اسے آگے نہ بڑھنے دیں۔

چیف جسٹس کا عوام سے مطالبہ درست ہے،گفتگو سے لگتا ہے کہ انہیں بھی ان حالات سے تشویش ہے اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ عوام اپنے ہاتھ میں کوئی بھی قانون نہ لے اور نہ ہی قانونی حدوں کو توڑیں۔اس کے باوجود جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مسائل کا حل عوام کے ذریعہ ہی ممکن ہے تو انہیں اس جانب توجہ کرنی چاہیے اور ان لوگوں کی بھی نشاندہی کرنی چاہیے جو عوامی سطح پر منظم و منصوبہ بند انداز میں غلط فہمی کے بازار کو گرم کرنے میں مصروف ہیں،جن کا کام ہی نفرت کا فروغ ہے،جو جھوٹ کے علمبردار ہیں،جنہیں انسانیت اور انسانی جان کی فکر نہیں۔اگر ایسے لوگوں کی نشاندہی نہ کی جائے،انہیں نہ پہچانا جائے اور ان کے خلاف اگر کارروائی حکومتی سطح پر نہ کی جائے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام اپنی ہوشمندی کے نتیجہ میں مسئلہ کا حل تلاش کرلیں اور امن و امان قائم ہو جائے؟عوام کے ذریعہ مسائل کا حل تب ہی ممکن ہے جبکہ خواص اور خصوصاً وہ لوگ جو حکومت کی باگ دوڑ اور اس کے نظم و نسق کو چلانے میں مصروف ہیںاپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں، ان کے ذریعہ کوئی ایسا پیغام عوام میں اور مجرمین کے درمیان نہ جائے ،جس کے ذریعہ ظلم میں اضافہ ہو، ان کے حوصلے بلند ہوں،ان پر گرفت کرنے میں دشواریاں پیش آئیں، اور انہیں کیفر کردار تک نہ پہنچایا جا سکے۔اس پس منظر میں جب آپ دیکھیں گے توبھیڑ کے ذریعہ تشدد اور جان لیوا حملہ و قتل کے چند ہی منٹ بعد ایک نہیں بے شمار بیانات سامنے آنے شروع ہو جاتے ہیں جو مجرمین کے حق میں ہوتے ہیں اور مظلومین اور ان کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کے حوصلوں کو پست کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور رخنہ ڈالتے ہیں۔

گزشتہ دنوں جھارکھنڈ میں سوامی اگنی ویش پر جان لیوا حملہ ہوا،مارپیٹ کی گئی،ان کے کپڑے پھاڑے گئے اور یہ سب جن لوگوں نے کیا یا جن پر اس واقعہ کے رونما کرنے اور اس بھیڑ کی منمانی نظام میں بھر پور حصہ لینے کا الزام ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ مرکز میں برسر اقتدار پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان ہیں۔سوامی اگنی ویش ایک تقریب میں شرکت کے لیے جھارکھنڈ گئے تھے۔جیسے ہی وہ ہوٹل سے نکلے انہیں کالے جھنڈے دکھائے گئے،ان کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی،یہاں تک کہ وہ زمین پر گرادئیے گئے اور زخمی ہوئے۔این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوامی نے کہا کہ ‘میں تشددکے خلاف ہوں،میں امن پسند ہوں۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ حملہ کرنے والوں نے مجھے گالی بھی دی اور اُس وقت کوئی پولیس والا میرے آس پاس موجود نہیں تھا’۔پولیس نے بعد میں 20حملہ آوروں کو حراست میں لیا ہے۔دوسری جانب سماجی کارکن جان دیال نے اپنے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ سوامی پر آر ایس ایس کے لوگوں نے جان لیواحملہ کیا ہے۔

دوسری طرف چند ہی دن پہلے ریاست راجستھان کے الور میںمبینہ گئو رکشکوں نے اکبر کو پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔اس واقعہ میں پولیس بھی شک کے دائرے میں ہے کیونکہ جس وقت وہ پیٹا گیا اس کے کئی گھنٹوں بعد تک وہ زخمی حالت میں پولیس کی گرفت میں ہی رہاتھا ،الزام ہے کہ وقت پر اس کو اسپتال نہیں پہنچایا گیا یہاں تک کہ اس کی موت ہو گئی۔یہ واقعہ ہوا ہی تھا کہ مدھیہ پردیش میں بدمعاش کو پکڑنے گئے پولیس افسر کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا،ہاتھرس ،اترپردیش میں بھینس اسمنگلک کے الزام میں گائوں والوں نے چار لوگوں کو بری طرح پیٹا،لیکن پولیس نے زخمیوں پر ہی بھینس کو چوٹ پہنچنے کے الزام میں مقدمہ درج کردیا اور پیٹنے والوں کو بخش دیا ۔وہیں ایک ہی دن میں تیسرا واقعہ جو سامنے آیا وہ راجستھان میں ایک مسلم لڑکی سے مبینہ لو افیئر کی وجہ سے دلت نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل کیا جانا ہے۔

ایک کے بعد ایک واقعات کی روشنی میں محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں لاء اینڈ آڈر جیسے رہا ہی نہیں اور بس یہ غنڈے اور بدمعاش ہی بچے ہیں ،افسوس صد افسوس اس صورتحال پر۔The Quintایک معروف نیوز ویب سائٹ ہے،ویب سائٹ نے سال 2015سے اب تک کے اُن واقعات کا تذکرہ کیا ہے جس میں صرف گائے کے نام پر معصوم لوگوں کی جان لی گئی۔2015سے اب تک 69افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں، ان کی زندگی بھیڑ تنتر کی نظر ہو گئی،افواہوں اور غلط پیغامات کے ذریعہ لوگوں کو جمع کیا گیا اور اس سے پہلے کے الزام جرم کی شکل میں ثابت ہوتا ،بھیڑ نے خود ہی قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے لوگوں کی جان لے لی۔اس کے باوجود نہ آج تک ان معاملات میں کمی آرہی ہے اور نہ ہی آئندہ دنوں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل اس میں کمی آنے کی کوئی امید نظر آتی ہے۔اس کے باوجود کہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس پر سخت گرفت کی ہے۔اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ قصور وار افراد کو سزا دینے کے لیے علیحدہ سے ایک قانون بنائے۔یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں موبو کریسی (بھیڑ کی منمانی )کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کوئی بھی شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔خوف اور افراتفری کے ماحول سے نمٹنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

شہری اپنے آپ میں قانون نہیں بن سکتے۔مرکزی اور ریاستی حکومتیں عدالت کے احکامات کو چار ہفتوں کے اندر (18جولائی 2018کے بعد گزرے چار ہفتوں کے اندر)نافذ کریں۔اور حکومت موب لنچنگ کے متاثرین کو معاوضہ ادا کرے۔یہ تمام باتیں اور احکامات سپریم کورٹ آف انڈیا نے حکومت ِ وقت کو دیئے ہیں۔اس کے باوجود جو بیانات مرکزی حکومت اور ان سے سے وابستہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈران کی جانب سے آرہے ہیںاس سے نہیں لگتا کہ ان واقعات میں کمی آنے والی ہے۔مرکزی وزیر اور راجستھان بی جے پی کے بڑے لیڈر ارجن رام میگھوال نے گرچہ الور تشدد کی مذمت کی لیکن وہیں یہ بھی کہا کہ مودی جی جتنا مشہور ہوں گے موب لنچنگ کے واقعات اتنے ہی بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم موب لنچنگ کی مذمت کرتے ہیں لیکن یہ واحد ایسا واقعہ نہیں ہے،آپ کو تاریخ میں جانا پڑے گا، ایسا کیوں ہوتا ہے؟اسے کیسے روکنا چاہیے؟1948میں سکھوں کے ساتھ جو ہوا وہ اس ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی موب لنچنگ تھی۔بیان سے صاف ظاہر ہے کہ موب لنچنگ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس میں آر ایس ایس یا بی جے پی اور اس کی حلیف تنظیمیوں کا کوئی رول نہیں ہے،لہذا اُن پر گرفت نہیں کی جا سکتی!

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
democracy Economic Importance India Mohammad Asif Iqbal Society Training اقتصادی اہمیت بھارت تربیت معاشرے
Imran Khan
Previous Post تبدیلی کی ہوا اور نیا پاکستان
Next Post خیبر پختون خوا میں مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف مظاہرے اور دھرنا
Protest and protest against alleged election fraud in Khyber Pakhtunkhwa

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close