Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جمہوریت فوبیا اشرافیہ سے ایک سوال

October 30, 2019 1 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : رشید احمد نعیم

زمانہِ طالب علمی میں پڑھا تھا کہ جمہوریت وہ نظامِ حکومت ہے جو عوام پر، عوام کے لیے۔عوام کے ذریعے تشکیل پاتا ہے مگر جمہوریت کے نام پرپاکستان میں جو نظام چل رہا ہے وہ جمہوریت کم او ر”مجبوریت” زیادہ لگتا ہے۔اس نام نہاد جمہوریت میں غریب اور امیر کے لیے الگ الگ پیمانے مقرر ہیں۔ معمولی نوعیت کے چوری کے واقعات و مقدمات میں ملوث چور تو جیل میں جاتا ہے مگر وطنِ عزیز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے بڑے بڑے ڈاکو اژدھا کی طرح پھنکارتے اور دندناتے پھر تے ہیں۔ ان پر ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔ ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ان پر قانونی گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ جس کی لاٹھی،اس کی بھینس والا فارمولہ چل رہا ہے۔ نیب جیسا ادارہ بھی ان کے سامنے بے بس ہے کیونکہ ان کوقانون کو موم بنانے اور پائوں تلے روندنے کا فن آتا ہے۔ کھربوں کی کرپشن کر کے بھی بڑی” مہارت” سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں ہر طرف لا قانونیت کا رقص جاری ہے۔طاقتور کمزور کو دبائے ہوئے ہے،حاکم محکوم کی گردن کے گرد شکنجہ کسے ہوئے ہے۔جاگیردار،سرمایہ دار،وڈیرا اپنے مزارعوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔

ظلم و بربریت کی ایک بھیانک تاریخ انتہائی ڈھٹائی سے رقم کی جا رہی ہے قیام پاکستان کے بعد جب وطنِ عزیز مخلص قیادت سے محروم ہو گیا تو اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مفاد پرست ٹولہ ملک پر غالب آگیا جو مختلف نام و اشکال کی صورت میں آج تک مسلط ہے۔چند خاندانوں پر مشتمل اشرافیہ اس ملک کے وسائل پر مکمل طور پر قابض ہے جبکہ بائیس کروڑ مجبور ومحکوم عوام کے لیے کو ئی معیشت ہے نہ کاروبار۔ مال و جان کا تحفظ ہے، نہ حقوق کی پاسداری۔جینے کا حق ہے،نہ کسی کی عزت و آبرو محفوظ۔یہ ملک صرف اورصرف چندگنے چنے لوگوں کی جاگیر بن کر رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا قیام کروڑوں افراد کے لیے تھا یا چند ہزار لوگوں کے لیے؟؟؟ کیا مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف کڑھناہی عوام کا مقدر بن کر رہ گیا ہے؟۔

درحقیقت یہ سارا نظام دجالی نظام ہے جسے ان افراد نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بنایا ہے جو عوام کو اپنے استحصالی نظام میں جکڑکررکھناچاہتے ہیں اور حق حکمرانی اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ عوام صرف ہماری محکومی کے لیے جنم لے رہی ہے جس میں شریف اور کمزور کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسمبلی میں بیٹھا ہر شخص جھوٹ بولتا،مکرو فریب سے کام لیتا،اپنے اقتدار کے دوام کے لیے ملک وقوم سے سیاست کرتا ہے۔ توجہ دلانے پر بجائے شرمندگی محسوس کرے،ہٹ دھرمی اورڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ غریب عوام کی زندگی مشکلات سے دو چارہے،پٹرول پر بے شمار ٹیکس لگا کرعوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔سی این جی ویسے ہی غائب رہتی ہے۔اس وقت پاکستانی عوام مجبوری و مقہوری کی تصویر بنی نظر آتی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستانی قوم کا حال یہ ہے کہ غریب کو اپنی جان اور روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اوروہ اسی پریشانی میں ہی گھومتے پھر رہے ہیں۔

حکمرانوں نے اس قوم کو روٹی روزی کے حصول کی جدوجہد میں اس حد تک پھانس کر رکھ دیا ہے کہ عوام کو کوئی دوسرا خیال آنے ہی نہیں دے رہے۔فیکٹریوں،کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور 12سے 18گھنٹے کام کے بعد معاشی تنگدستی کا شکار ہیں۔ ان کو اپنے گھروالوں کے لیے روٹی روزی کے حصول کی کوششیں اور بھوک اور افلاس میں گھری صورتحال ہی سر اٹھانے نہیں دیتی۔بھوک وافلاس کی ماری قوم ذہنی غلام بن چکی ہے۔جس میں غلامی سے آزادی کی حس ہی نہیں رہی۔یہی وجہ ہے کہ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے حکمران طبقہ تمام تر عوامی احتجاج اور سنگین صورتحال کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چین کی بانسری بجا رہاہے اور حلوہ کھانے میں مگن ہے۔انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے اور رعایا ہم سے کیا چاہتی ہے؟۔

آج پاکستان میں را،موساد،سی آئی اے،بلیک واٹرمختلف شکلوں اورصورتوں میں ملک کی بقاء اور سا لمیت سے کھیل رہی ہے۔پاکستان میں ملک دشمن عناصراس ارض وطن کونقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں،جن سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے ادارے پوری جانفشانی اور جرات سے کام کر رہے ہیں۔یہ ہے وہ جمہوریت جس کو بچانے کے لیے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب دن رات ہلکان ہوتے رہے ہیں مگر مبینہ کرپشن کی وجہ سے انہیں نیب کا مہمان بننا پڑا۔اسی جمہوریت کا تحفظ کرتے کرتے پاکستان کی سب سے منظم جماعت۔۔۔ جماعت اسلامی کھڈے لائین لگ کر چار دیوری کے اندرمحدود ہو گئی ہے۔جی ہاں!یہ ہی وہ جمہوریت ہے جس میں محمود اچکزئی جیسے لوگ مراعات بھی وطنِ عزیز سے حاصل کر رہے ہیں اور ہرزہ سرائی بھی پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں۔اس جمہوریت کا حُسن ملاحظہ فرمائیں کہ دھرتی ماں کو ناسور کہا جاتا ہے۔دہشت گردی کی آماجگاہ قرار دیا جاتا ہے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں او ر پھر اخبارات میں تین سطور کا عاق نامہ یا اعلانِ لاتعلقی کا بیان دے کر محبِ وطن ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا جاتا ہے۔اسی جمہوریت کی بدولت اسفند یار جیسے سیاستدان پہچان پاکستان سے حاصل کرتے ہیں مگر پاکستان کے خلاف بولنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

آیئے آئین کے تناظر میں جمہوریت جمہوریت کی رٹ لگانے والے مولانا فضل الرحمن کو دیکھیے جو آج بھی کشمیر ی عوام پر ہونے والے مظالم یا پاکستان و بھارت کی موجودہ جنگی کشیدگی کے موقع پر وطن عزیز کے مفاد کی بجائے صرف جمہوریت بچاؤ مہم پر کام کر رہے ہیں یہ ہے وہ جمہوریت جس کی بقاء کی جنگ لڑنے کے لیے مریم اورنگ زیب ، بلاول بھٹو ، احسن اقبال ، خواجہ آصف ہمہ وقت قوم کو جمہوریت کے ثمرات سے آگاہ کر نے میں مصروف ہیں۔مگر ان ثمرات سے کون کون مستفید ہو رہا ہے؟ یہ کوئی نہیں بتاتا بلکہ سوال کرنے والے کو جمہوریت کا دشمن قرار دے دیا جاتاہے۔ احتساب کی بات کرنے والے کو معیشت کا قاتل کہا جاتا ہے۔اس طرز حکومت پر بات کرنے اور حق و صداقت کی آواز بلند کرنے والوں کے سرپرسائبر کرائم ایکٹ کی تلوار لٹکا دی جاتی ہے جمہوریت کے پجاریوں سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر یہ جمہوریت کا حُسن ہے اگر یہ جمہوریت کی خوبصورت تصویر ہے تو پھر جمہوریت کا بھیانک چہرہ کیسا ہو گا؟ مگر ایک تلخ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس صورت حال کے تمام تر ذمہ دار صرف حکمران و سیاستدان ہی ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں؟ ان کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے کندھے کون فراہم کرتا ہے؟ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب قوم بنی اسرائیل جیسی بن جائے تو حکمران فرعون بن جاتے ہیں۔

اس قوم کے مقدر کے لیے اس وقت تک انقلاب نہیں آسکتا،جب تک عوام خود فرعونوں کے خلاف کھڑی نہ ہوگی مگرمعلوم نہیں ہم بے حس ہو گئے ہیں یا سوچنے سمجھنے کی صلا حیت سے محروم۔آئیے ایک سبق آموز واقعہ پڑھیے اور فیصلہ کیجیے کہ کیا بندر جیسے جانورکی فہم و فراست ہم سے زیادہ نہیں؟کیا بندر ہم سے زیادہ عقل مند نہیں؟ ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا۔ سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا۔ باہر آتے ہی سانپ نے کہا کہ”میں تمہیں ڈسوں گا”۔ اس شخص نے کہا کہ”میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو؟؟؟”۔َ سانپ نے کہا کہ”ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے”۔اس آدمی نے کہا کہ”چلو کسی سے فیصلہ کرالیتے ہیں”۔چلتے چلتے ایک گائے کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ”واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے”۔یہ سن کرسانپ نے کہا کہ”اب تو میں ڈسوں گا”اس آدمی نے کہا کہ”ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں”۔

سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا۔ گدھے نے بھی یہی کہا کہ”نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا”۔سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھاکہ اس نے منت کرکے کہاکہ”ایک آخری موقع اور دو”، سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا، اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سناکرکہا کہ فیصلہ کرو۔اس نے آدمی سے کہا کہ”مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو۔سانپ کو اندر پھینکو اور پھر میرے سامنے باہر نکالو۔ اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا”۔وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے۔ آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ”اس کے ساتھ نیکی مت کر، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں”۔خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا، پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے۔۔۔!!!

 Rasheed Ahmad Naeem
Rasheed Ahmad Naeem

تحریر : رشید احمد نعیم

Share this:
Tags:
corruption democracy government people Question system جمہوریت حکومت سوال عوام کرپشن نظام
Captain (R) Safdar
Previous Post ن لیگ کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور
Next Post سی این جی اسٹیشنز کو نئے گیس کنکشن دینے کی پابندی ختم
CNG Station

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close