Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کوئی نیا نام جمہوریت کو دے دیں

December 9, 2017 0 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : شیخ خالد زاہد
طاقتور کو اسکی طاقت کا اندازہ اسوقت ہوا جب اسکے عمل پر کوئی ردعمل نہیں کیا گیا، کچھ نا کہنے کی وجہ کچھ بھی ہو یا ردِعمل ظاہرنا کرنے کی وجہ کچھ بھی ہوعمل کرنے والا طاقتور ہو گیا اور مظلومیت بڑھتی چلی گئی ۔ اسکی مثال ہمارے گھروں میں عام دیکھائی دیتی ہے آپ اپنے بچے کو اگر پہلی دفعہ میں کسی غلط بات سے نہیں روکینگے تو وہ اپنے آپ میں طاقتور ہوتا چلا جائے گا اور آپ ہنستے مسکراتے کمزور ہوتے چلے جائینگے۔ یہ بلکل سادہ سے انداز میں سمجھائی گئی بات ہے ، ہم سب ایسا ہی کرتے ہیں اور پچھتاوے گردنوں میں لٹکائے ہنستے مسکراتے گھومتے رہتے ہیں۔

دنیا بادشاہت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہے اور بادشاہ یا ملکہ بننے کی خواہش ہردل کے کسی نا کسی پنہاں گوشے میں دبی بیٹھی رہتی ہے۔بادشاہت میں طاقت کا منباء ایک فرد اوراسکا خاندان ہوتاہے ، دنیا نے ترقی کے ساتھ ساتھ اس خاندانی حکمرانی سے جان چھڑا لی ۔ آج چند ممالک کے علاوہ بادشاہت صرف محلات یا ایک مہر کی حد تک محدود کر دی گئی ہے۔ بادشاہت کی ایک شاخ فوجی حکمرانوں کی صورت میں بھی ابھر کر آئی جسے آمریت کا نام دیا گیا اس نظام کو چلانے کیلئے فوج کا جرنل ہی ملک کا سربراہ ہوتا ہے ۔ایسی مثالیں اکیسویں صدی تک دیکھی جاتی رہیں۔ اسلام سے قبل بادشاہت ہی تھی مگر مذہب اور مذہبی پیشوا کا کردار کلیدی ہوا کرتا تھایعنی کلیساء بہت طاقتور تھا ۔ ان سارے نظاموں میں طاقتور صرف اقتدار کرنے والوں کے پاس ہی ہوا کرتا تھا ۔ اسلام کا ظہور ہوا گویہ دنیا میں علم اپنی روح کیساتھ دنیا میں ظاہر ہونا شروع ہوا ۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کے سفر پر گامزن کیا اور مساوات کے نظام کو نافذ کرنے کی سعی شروع کی اور اللہ کی مدد سے ساری دنیا ایک قلیل عرصے میں اس روشنی سے منور ہوگئی۔ خلافت راشدہ کا قیام عمل میں آیا ، حاکم اور محکوم کا فرق ختم ہوگیا ۔ دنیا کو ایک نیا نظام حکومت جسے حقیقی جمہوری طرز حکومت بھی کہا جاسکتا ہے۔ جس میں علم ، ذہانت اور کردار کی بنیاد پر حکمران چنے جاتے ہیں اور دنیا اسے خلافت کے نام سے جانتی ہے۔

لیکن انسانیت کے دشمنوں کو یہ بات کہاں گوارا ہوسکتی تھی کہ حاکم اور محکوم کا فرق ختم ہوجائے اسلیئے خلافت کے برعکس جمہوریت نامی طرز حکومت کومتعارف کرایا۔یہاں تھوڑی سی جمہوریت کی وضاحت کرتے چلیں ،سادہ لفظوں میں اس کا جواب یہ ہے کہ عوام اپنے حکمران ووٹوں کی مدد سے خود چنیں۔ بظاہر تو یہ بات بہت بھلی معلوم ہوتی ہے کہ عوام بہتر سمجھتے ہیں کہ انکے مسائل کون اچھی طرح سمجھتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ان مسائل سے کس طرح سے نمٹا جائے گا۔ یہ معاملہ وہاں تک تو ٹھیک ہے جہاں وسائل کی دستیابی اور انکی تقسیم کا عمل واضح ہونے کیساتھ ساتھ یکساں ہو، جہاں کسی علاقے یا صوبے کے حقوق مسخ نا کئے جائیں، جہاں مردم شماری جیسی اہم معلومات کو اپنی مرضی سے مرتب نا کیا جائے، جہاں عدل و انصاف کیا جاتا ہو۔ وہاں تو جمہورت اپنی اصل روح کیساتھ نافذ العمل کی جاسکتی ہے۔ جمہوری طرز حکومت کو بہت فروغ ملا کیوں کہ اس میں عوام کو حکمرانوں کو چننے کا اختیار حاصل ہوتا ہے ۔ یعنی خلافت کے بلکل منافی نظام حکومت جس میں عوام جس میں اکثریت ان پڑھ اور جاہلوں کی ہوتی ہے رنگ و روشنی سے مرعوب ہوکر روٹی ، کپڑا اور مکان کی چاہ میں ان سے کوئی بھی انکو اپنے حق میں کر لیتا ہے اور پھر کبھی بھی ان کی ضروریات کی تکمیل نہیں ہونے دیتا۔وہ سمجھ چکا ہوتا ہے کہ ان میں نا تو اتنی سکت ہے کہ وہ خود سے اپنی ضروریات کیلئے عملی طور پر کچھ کرسکیں اور نا ہی یہ مجھ تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایک نظام جسے صدارتی نظام سے جانا جاتا ہے اور اس نظام کی اعلی ترین مثال آمریکہ میں نافذ العمل ہے۔اس بات پر دنیا کے بڑے بڑے قانون دان، اسکالر ز، فلاسفرز اور حکمران اس بات کی گواہی دے چکے ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو دنیا کو مشکلات سے نکال سکتا ہے ،دنیا کو راہ راست پر لانے کیلئے جو کردار نظام خلافت نے ادا کیا دنیا آج بھی اسکی معترف ہے۔ دنیا کہ ترقی یافتہ ممالک نے آج بھی خلافتِ راشدہ کی طرز پر اپنی حکومتی پالیسیاں مرتب دے رکھی ہیں اور سب سے بڑھ حضرت عمر فاروقؓ کے قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔ دنیا آج بھی عمرؓ کے قوانین کی معترف ہے۔یہ طے ہے کہ جب تک آپ کسی بھی نظام کا اطلاق مکمل طور پر نہیں کرینگے وہ نظام کامیاب ہو نہیں سکتا۔ ایک بار پھر اپنے گھروں کی مثال لے لیجئے جہاں والدِ محترم کا حکم کچھ اور ہوتا ہے والدہ کی محبت اسمیں کچھ نرمی کردیتی ہے اور کچھ ہم اپنی عقل و دانش سے بھی کام لے لیتے ہیں یعنی جو حکم گھر کے حاکم کی طرف سے ملا ہوتا ہے وہ نا ہونے کے برابر رہ جاتا ہے ، یعنی نظام والد مکمل طور پر نافذ نہیں ۔ جب نظام اپنی اصل حالت میں نافذ نہیں ہوسکتا تو پھر اس نظام سے حاصل ہونے والے فائدے بھی عارضی ہوتے ہیں۔
پاکستان میں آمریت کا دور دورہ رہا ہے اور جمہوریت نا ہونے کے برابر اس ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے سے قاصر رہی ہے۔

ہماری سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہمیشہ سے بہت اہم رہا ہے، یہ وہ جماعت ہے جو کسی حد تک تو جمہوریت کی روح سے آشنا ہے مگر عمل داری نا ہونے کی وجہ سے بارہا زبوں حالی کا شکار رہی ہے۔اس جماعت کے سربراہ محترم جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب ،جن کی صورت میں پاکستان کو عرصہ دراز کیبعد ایک ذہین ، بہادر اور نڈر سیاستدان میسر آیا تھااور وہ جانتے تھے کہ ملک کو درپیش سنگین مسائل سے نکالنے کیلئے ملک کی آبادی کی اکثریت کو اپنی طرف کرنا ہوگا اور یہ اس اکثریت کی ضرورت تھی (جو آج بھی ہے) روٹی ، کپڑا اور مکان۔ یہ وہ تاریخی نعرہ ہے جو بھٹوصاحب نے پیپلز پارٹی کو بطور دل اور دماغ دیا اور اس نعرہ کی بنیاد پر اس جماعت نے دیگر جماعتوں کی بنسبت اپنی جڑیں عوام میں زیادہ مضبوط کر رکھی ہیں۔ مجھے دکھ بھی ہے کہ یہ وہ سیاسی جماعت تھی جس سے وابسطہ سیاست دان کافی حد تک سیاسی بصیرت رکھتے اور ملک کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

اس جماعت کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو آج تک اپنی جگہ ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے ، مگر جماعت اسلامی کا سب سے بڑا مسلۂ یہ ہے کہ اس جماعت نے اپنا مزاج نہیں بدلا جس کی وجہ سے اقتدار ان سے نالاں ہی رہا ہے ۔ ان جماعتوں کے تذکرہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان جماعتوں کے پاس ایسے ایسے ذہین لوگوں کی موجودگی نے بھی کسی نئے نظام حکومت کو متعارف نہیں کروایااور آج تک جمہوریت کی آڑ میں بدعنوانیوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ووٹ لینے کیلئے اپنے سپورٹروں کو اکسانے کیلئے دوسرے سیاستدانوں کی کردار کشی کی جاتی ہے ، دوسروں پرخوب کیچڑ اچھالا جاتا ہے یو سمجھ لیجئے جو جتنا کیچڑ اچھال پاتاہے وہ اتنا ہی کامیابی کا ضامن سمجھا جاتا ہے ۔ لگتا کچھ ایسا ہے کہ یہ سب کچھ اندرونی طور پر ایک ہی ہوتے ہیں اور آپسی یہ طے کرلیتے ہیں کہ ہم اپنے کان اس طرح کی باتوں پر نہیں دھرینگے جن میں کسی بھی نوعیت کی بے عزتی کا انصر شامل ہوگا۔ یہ بھی ان ہی سیاستدانوں کا سمجھایا ہوا ہربہ ہے کہ عزت تو آنی جانی چیز ہے مگر کرسی نہیں چھوڑنی۔ یہ بات ہر پاکستانی سمجھتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے کہ پاکستان اندرونی طور سے کمزور ہوتا ہے تو دنیا میں کہیں نا کہیں اس کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ہمارے اندرونی خلفشار (چاہے کسی بھی نوعیت کا ہو)سے دنیا کو فائدہ ہی پہنچتا ہے اور یہ بات اٹل حقیقت ہے اس غیر مستحکم صورت حال کو پیدا کرنے میں بھی بیرونی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے امکان کو کبھی بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا نے ترقی کے سارے گزشتہ ریکارڈ توڑ دئیے ہیں مگر کیا دنیا میں سیاست پر کی جانے والی تحقیق کے نتیجے میں کوئی نیا نظام حکومت متعارف نہیں کروایا جس کا بلواسطہ تعلق انسانی زندگی کے معمولات سے منسلک ہے۔جہاں انسان نے زمین سے کائنات کے دوسرے رازوں پر سے پردہ اٹھانا شروع کر دیا ہے چاند کے بعد دیگر سیاروں پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں تو ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ زمین پر جو چیزیں فرسودہ ہوگئیں ہیں ان پر بھی دھیان دیا جائے اور کوئی نیا نظام حکومت متعارف کروایا جائے یا پھر خلافت کو اسکی اصل حالت میں نافذ کیا جائے۔ خلافت کے نفاذ کی بات سے تو ہمارے اپنوں کو بھی تکلیف پہنچی ہوگی مگر ہم جنس پرستی کے حق میں احتجاج کرنے والوں سے تکلیف نہیں ہوتی ۔ جس طرح دنیا میں ہر فرد اپنے حق کی بقاء کیلئے سڑکوں پر نکل رہا ہے تو کیا یہ حق ہم استعمال نہیں کرسکتے۔

کم ازکم کوئی ایسا نظام اخذ کرلیا جائے جس میں اگر عوام اپنے حکمرانوں کو چنے تو ان کی بدعنوانیوں پر ان سے حساب بھی لے سکے اور علاقے میں انکی غیر حاضری پر انکوصفائی بھی پیش کرنی پڑے یعنی یکترفہ جمہوریت کو دوطرفہ جمہوریت سے تبدیل کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ چاہے جمہوریت کا نام تبدیل کرکے بدعنوانیت ہی رکھدیں۔

دنیا کو اگر اس بات کی سمجھ آجائے کہ اسلام ایک آفاقی دین ہے اور اس میں نجی زندگی کے معاملات سے لے معاشرتی ، معاشی، قانون اور سیاسی تمام پہلوؤں کو بہت وضاحت کیساتھ موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جب اسلام کوقدرت نے پسندیدہ مذہب قرار دے دیا اور حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ تا قیامت کیلئے موقوف کردیا تو پھر نظام خلافت ہی وہ نظام حکومت ہے جو دنیا کو دائمی امن سے روشناس کروا سکتی ہے ۔ ذرا سوچیں تو سہی کہ امریکہ میں صدارتی نظام حکومت کیوں ہے کیونکہ یہی وہ دنیا کا بنایا ہوا نظام ہے جسے خلافت سے نکال کر بنایا گیا ہے کیونکہ اگر خلیفہ بنا دیتے تو کس طرح اسلام سے دور رہ سکتے تھے۔ دنیا آخر حقیقت سے کب تک منہ چھپاتی رہے گی شائد جب تک کہ ہم مسلمان اپنے اسلام کی پاسداری کا عملی مظاہرہ دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
country democracy problems Rule Sh. Khalid Zahid system World جمہوریت حکمران دنیا مسائل ملک نظام
Nawaz Sharif
Previous Post کھاتا ہے تو لگاتا ہے بھی ہے
Next Post عوام نے وال پیپر بدل دیا
Pakistani Peoples

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close