Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آپ ہیں کہ کچھ واضح نہیں کرتے

December 20, 2013December 20, 2013 0 1 min read
Mohammad Asif Iqbal
Elections
Elections

تمام ہی مقامات پر جموری نظام میں الیکشن کا مقصد عوام کی رائے جاننے اور پسند و نا پسند کی بنیاد پر کسی صوبہ و ملک کی حکومت تشکیل دینا ہوتا ہے۔ عام طور پر مروجہ نظام کے تحت اکثریت اور اقلیت میں لوگوں کی رائے شماری کی جاتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں ایک شخص کامیاب تو دیگر ناکام ٹھہر تے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مختلف جماعتوں کی موجودگی میں کوئی ایک جماعت اکثریت حاصل نہیں کرپاتی کیونکہ رائے دہندگان کسی ایک جماعت کے حق میں واضح فیصلہ کرنے میں ناکام ٹھہرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی واقعہ حالیہ دنوں چار ریاستوں میں ہونے والے صوبائی الیکشن کے دوران شہر دہلی میں ہوا۔ دہلی میں موجود سیاسی جماعتوں میں کانگریس اور بی جے پی اس دوڑ میں سرفہرست تھیں، اس کے باوجود حکومت بنانے میں وہ ناکام رہیں۔ دوسری جانب گزشتہ سال مخصوص تحریک کے پس منظر میں ایک نئی سیاسی جماعت “عام آدمی پارٹی”منظر عام پر آئی جو درحقیقت اُس تحریک کے بانیوں سے فکری و عملی “ظاہری دوری “کے نتیجہ میں پیدا ہوئی جس تحریک کے آغاز میں بی جے پی کا کیڈر بڑی تعداد میں سرکردہ تھا۔اور یہ وہی بی جے پی ہے جو درحقیقت ایک مخصوص نظریہ کو فروغ دینے میں اُن افکار و نظریات کا ماحاصل ہے جسے عرف عام میں ” سنگھ “کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دہلی کی موجودہ غیر مستحکم صورتحال جہاں سابقہ برسر اقتدار جماعت کے ڈھل مل رویہ کا نتیجہ ہے وہیں بڑ بولے پن،اندرونی خلفشار، لاء اینڈآڈرکا فقدان اور عوام کے بنیادی حقوق کی ادائیگی میں غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کے برخلاف اے اے پی کو عوام کا حد درجہ تعاون بی جے پی اور کانگریس پر عوام کے بے اطمینانی کا فطری نتیجہ ہے۔ معاملہ یہ نہیں ہے کہ اے اے پی اس بنا پر عوام میں مقبول ہوئی کہ اس نے گزشتہ دنوں دہلی یا کسی اور صوبہ میں حکومت تشکیل دی ہو،عوام اُن کی خدمات سے خوش ہوں،ان کو پسند کرنے لگے ہوں اور ان بنیادوں پر انھیں دہلی میں غیر متوقع ووٹ اور سیٹس حاصل ہو گئیں۔ برخلاف اس کے حالات اس بات کے شاہد ہیں کہ دہلی و ملک میں عوام دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رویوں سے مطمئن نہیں ہیں۔اور یہی وہ مفروضہ ہے جس کو عوام نے ثابت کیا ہے۔دہلی کے نتائج نے جہاں یہ ثابت کیاکہ عوا م جو ملک کے کسی بھی صوبہ سے تعلق رکھتے ہوں، وقتاً فوقتاً برسر اقتدار آنے والی متذکرہ دو سیاسی پارٹیوںسے حد درجہ متنفر ہیں۔ وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عوام متبادل کی تلاش میں ہیں۔ اس کی زندہ مثالجموں کشمیر، مغربی بنگال، بہار، پنجاب، اڑیسہ اور تمل ناڈو میں متبادل سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں کی شکل میں موجود ہے۔

متذکرہ ریاستوں کے علاوہ بھی دیگر ریاستوں میں مثلاً آندھرا پردیش، جھارکھنڈ وغیرہ میں،عوام نے مختلف ادوار میں متبادل تلاش کیے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ ان دو سیاسی جماعتوں سے عوام ناراض کیوں ہیں؟ ہمارے خیال میں اس بے اطمینانی کی وجہ یہ رہی ہو کہ دونوں ہی پارٹیوں کے فکری سوتے شاید ایک ہی جگہ سے جا ملتے ہیں۔ نتیجتاً عوام کو تو یہ ایک دوسرے سے کبھی ڈرا کر اور کبھی دھمکا کر حکومت بنانے میں کامیاب رہتے ہیں لیکن درحقیقت ملک اور عوام کے بنیادی مسائل تک کو حل کرنے میں یہ دونوں ہی پارٹیاں گزشتہ ستر سالہ عرصہ میں سنجیدہ نظر نہیں آئیں۔ مسائل میں سرفہرست اقلیتوں کے مسائل ہیں تو وہیں دوسری جانب دلت سماج کے مسائل بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتے۔ ہندوستان میں فی الوقت 17.7%دلت ہیں تو وہیں مسلمان تقریباً 20فیصد ہیں۔ان دو مذاہب کے ماننے والوں کے علاوہ عیسائی، سکھ، بودھ، جین و دیگر اقلیتیں بھی ہیں جن کی آبادی تقریباً 6 % ہے، دیکھا جائے تو یہ تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ مسائل سے دوچار یہ طبقہ ملک میں تقریباً 44 % فیصد ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ موجودہ دو سیاسی پارٹیاں سرمایہ دارانہ نظام کی نہ صرف قائل بلکہ اس کے فروغ میں بھی سرکرداں ہیں۔

Hindustan
Hindustan

نتیجہ میں ملک کی غریب عوام سرمایہ دارانہ نظام کی مار برداشت کر رہے ہیں اور حکومت ہے کہ خواب خرگوش میں کھوئی ہوئی ہے۔ 2011- 12 کے پلاننگ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں ہندوستان کے گائوں میں 25.7%اور شہروں میں 13.7%آبادی blow powerty lineپر زندگی گزارنے پر مجبور ہے،جہاںزندگی حد درجہ تنگ ہوچکی ہے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ یہ خط افلاس کیا ہے؟دیہاتی علاقوں کے لیے کمیشن نے یومیہ27.2روپے طے کیے ہیں تو وہیں شہری علاقوں کے لیے 32روپے۔ خط افلاس کے اس پیمانہ پر ایک لمحہ کے لییغور فرمائیں تو آپ جواز تلاش کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔ مخصوص مسائل کے علاوہ دیگر اور بے انتہا مسائل ہیں جن میں عوام مبتلا ہیں لیکن سابقہ تمام حکومتیں عدم دلچسپی کا ہی اظہار کرتی رہیں ہیں۔

اس پورے پس منظر میں محسوس ہوتا ہے کہ برسراقتدار طبقہ شاید یہی چاہتا ہے کہ مسائل برقرار رہیں، اسی میں ہماری عافیت ہے۔ کیونکہ یہی وہ آسان نسخہ ہے جو شناخت برقرار رکھنے میں معاون ہے لیکن اگر ایسا ہے! جو واقعہ بھی ہے تو پھر ان پارٹیوں کی یہ سوچ ملک اور شہریوں کے حق میں مثبت نہیں کہلا ئی جا سکتی ہے اور انھیں وجوہات کی بنا پر عوام متبادل کی تلاش میں سرکرداں رہے ہیں لیکن جو متبادل موجود ہیں یا محسوس ہوتے ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو اپنے غیر واضح رویہ کی بنا پر عوام کو مطمئن نہیں کر پاتے۔ کچھ یہی حال فی الوقت دہلی میں “آپ”پارٹی کابھی نظر آرہا ہے۔

چالیس پہلے کے واقعہ کو بھی یاد کرتے چلیں! واقعہ یہ ہے کہ سیاست ہندوستان کے ہر دور میں نہایت پیچیدہ رہی ہے۔ ہندوستان کی پیچیدہ سیاست میں جہاں ایک جانب متشدد تنظیموں، تحریکوں اور افکار و نظریات کا اہم کردار ہے وہیں دوسری جانب کمیونسٹ نظریہ بھی کچھ کم اہمیت نہیں رکھتا۔ اسی پیچیدہ سیاست کا ایک دور سن 1973-74ء کا تھا،جب گجرات اور بہار میں طلباء نے سنگھرش سمیتی کے نام سے کانگریس کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ متشدد نظریہ جس کو عموماً “سنگھ”کے نام سے جانا جاتا ہے نے مارچ 1974ء میں ایک اہم فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ جے پی تحریک کی تائید کا تھا۔ جئے پرکاش نارائن (بمعروف جےـپی) بہار کے ایک پرانے سوشلسٹ تھے۔ عوام میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ 1954 میں سیاست کو خیر آباد کہہ کر ونوبھاوے (ونوبا، پرانے گاندھیائی لیڈر تھے) کی سرودیہ تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔

خراب معاشی صورتحال اور کرپشن کی وجہ سے جنوری 1974ء میں گجرات میں بڑی بے چینی پائی جاتی تھی۔ آواز اٹھانے والوں میں طلباء آگے تھے۔ سنگھ کی طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP)اس تحریک میں شامل تھی۔ اس وقت سنگھ کے سیاسی بازو “جن سنگھ”نے قیمتوں میں اضافہ کے خلاف مہم کو اس تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی۔وہیں بہار میں چلائی جا نے والی اسی طرح کی طلبہ تحریک میں ودیارتھی پریشد آگے اور نمایاں تھی۔ دسمبر1973ء میں پریشد نے سوشلسٹ یوتھ ونگ کے ساتھ مل کر بہار میں گجرات کی طرح کا اجیٹیشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طلبہ تحریک میں سنگھ بہت زیادہ لگی ہوئی تھی۔ پٹنہ میں اس کے پرچارک گووند اچاریہ ودیارتھی پریشد کے کام پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ فروری 74ء میں قائم چھاتر سنگھرش سمیتی میں پریشد پوری طرح شریک تھی۔ مختلف پارٹیوں بشمول پریشد کی طرف سے جے پی سے اپیل کی گئی کہ وہ اس تحریک کی رہنمائی و قیادت کریں۔ بلا خر وہ اس پر راضی ہو گئے۔ جے پی کی قیادت میں ودیارتھی پریشد اور سنگھ کا رکنان نے تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔1975ء میں اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی لگا دی اور آر ایس ایس کو ban کردیا۔ پابندی کے وقت اس کی شاکھائوں کی تعداد10ہزار تھی۔جب پابندی ختم کی گئی تو 1978ء میں یہ تعداد 13ہزار ہو گئی۔

کیرالہ، کرناٹک، راجستھان، اترپردیش اور بہار میں سنگھ کا کام نسبتاً تیزی سے پھیلا۔ اسی دور میں سنگھ کا ایک اور اہم سیاسی فیصلہ جن سنگھ کو ختم کرکے جنتا پارٹی میں ضم کر دینے کا تھا۔ جن سنگھ کو 30اپریل 1977ء میں تحلیل کر دیا گیا۔ جنتا پارٹی کی حمایت سنگھ نے کی تھی۔ بعد میں اس تجربہ کے ناکام ہو جانے پر 15اپریل1980ء کو بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) کے نام سے ایک نئی پارٹی بنائی گئی (صفحہ:22ـ23، آرایس ایس ایک مطالعہ، Cosmos Books, new delhi)۔ ہندوستان کی یہ وہ مختصر اور پیچیدہ سیاسی جدوجہد ہے جس نے عام آدمی کو ہمیشہ کنفیوژن میں مبتلا کیا ہے۔ 74ء میں جے پی تحریک جو دراصل عوامی سطح پر ایک شخص جئے پرکاش نارائن اور ان سے وابستہ افراد نے بڑے پیمانہ پر شروع کی تھی اور بعد میں نتائج کے لحاظ سے پہلے جن سنگھ، پھرجنتا پارٹی اور اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں سامنے آئی۔ پوری جے پی تحریک اور اس کے نتائج سے واضح ہو تا ہے کہ پس پردہ عزائم، منصوبے اور مقاصد”مخصوص گروہ “کے کچھ اور ہی تھے، جو پوری جے پی تحریک کے رخ کو موڑنے میں کامیاب رہے۔ دہلی کی موجودہ تحریک کو اگر ایک لمحہ کے لیے گزشتہ جے پی تحریک سے منسلک کرکے دیکھا جائے تو ایک عام آدمی بھی بہت آسانی سے مستقبل کے نتائج اخذ کر سکتا ہے۔

اس پوری گفتگو میں دہلی کی موجودہ “اے اے پی “پارٹی لیڈران کا پہلے لوک پال بل کے لیے اننا ہزارے کی حمایت، بعد میں اپنی مخصوص پہچان بناتے ہوئے موجودہ لوک پال اور اننا سے اختلاف، سیاسی پارٹی کا قیام جوابتدا میں تحریک کا مقصد ہی نہیں تھا کے باوجود پارٹی کی تشکیل، دہلی الیکشن میں عوام کا غیر متوقع تعاون ملنا، دہلی اسمبلی میں کوئی بھی پارٹی حکومت نہ بناسکے اس پوزیشن میں “آپ”کودہلی میں پیش کرنا،بطور ملک کی راجدھانی دہلی کی موجودہ غیر مستحکم صورتحال پر قومی و بین الاقوامی میڈیا کی نظر، اے اے پی پارٹی کے عوام سے بے تہاشہ وعدے کرنے کے باوجود کانگریس کی بلا شرط اور “آپ” کی تمام شرائط مان لینے کی صورت میں بھی حکومت بنانے سے گریز اور آئندہ 2014ء پارلیمانی الیکشن کی تیاریاں، ان تمام باتوں سے اہل ملک ایک بار پھر کنفیوژن کا شکار ہیں اور “آپ”ہیں کہ کچھ واضح نہیں کرتے۔

Mohammad Asif Iqbal
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Tags:
Community democratic system elections Hindustan Mohammad Asif Iqbal party public اقلیت الیکشن جماعت عوام ہندوستان
Previous Post قسطنطنیہ مسلمانوں کی سلطنت کا درالحکومت ہے جہاں عدالت لگی ہوئی
Next Post اضلاع کی خبریں 19/12/2013

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close