Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

محکمہ KESCکی سینچری اور کراچی کے اندھیرے..؟

September 14, 2013 0 1 min read
KESC
KESC
KESC

شہر کراچی جو نہ صرف وطنِ عزیز پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں بھی کئی حوالوں سے اپنا ایک منفرد مقام اور حیثیت رکھتا ہے، یہ شہر کسی زمانے میں عرس البلاد اور منی پاکستان جیسے القابات سے بھی نوازا گیا اور آج بھی اکثریت اِسے اِن ہی القابات سے پکارنا اور یاد کرنا اپنے لئے باعث اطمینان سمجھتی ہے، مگر اِن دنوں شاید اِس شہر میں وہ چیزیں اور وہ باتیں باقی نہیں رہی ہیں جن کی بنیاد پر اِسے اِن خوبصورت القابات سے نوازا گیا، مگر پھر بھی اہلیانِ کراچی اپنے شہر کے حالات سے مایوس نہیں ہوئے ہیں اور آج بھی یہ پُراُمید ہیں کہ عنقریب اِن کے شہرمیں امن و سلامتی اور سکھ و چین کا بول بالا ہوگا اور اِن کا شہر ایک مرتبہ پھر اپنی تمام تر اچھائیوں اور خصوصیات کے ساتھ ایک نئے جوش اور جذبے کی بیداری کو لئے مُلک و قوم اور دنیا اُبھرے گا۔

اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ساری دنیا پر چھا جائے گا اور اپنے القابات عرس البلاد اور منی پاکستان کی پاسداری اور اِس کے تحفظ کے لئے اُس حد کو چھولے گا، جس کا کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا ہے، آئیں ہم سب اپنے شہر کراچی، جِسے میں اور آپ منی پاکستان اور عرس البلاد جیسے خوبصورت القابات سے یاد کرتے ہیں، اِسے پھر سے امن وشانتی اور محبت و اُخوت اور اتحاد ویکجہتی کا گہوارہ بنانے کے لئے اپنا اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں اور اپنے اِس شہرِ کراچی کو ہم سب مل کر ایک مرتبہ پھر اُس مقام پر پہنچا دیں، جس مقام کو چندہ نادیدہ قوتیں اپنی سازشوں سے اِس سے چھین چکے ہیں۔

بہرحال خبریہ ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نام سے ایک چھوٹے سے ساحلی قصبے میں بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 13 ستمبر 1913 میں ادارہ کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا اور 13 ستمبر 2013 کو اِس ادارے نے اپنے 100 سال مکمل کرکے اپنے قیام کی سینچری پوری کرلی ہے، یقینا اِس کی موجودہ نجی انتظامیہ نے اِس پر جشن اور خوشیاں بھی منائی ہوں گیں اور اِس موقع پراِس کی انتظامیہ نے اپنے ادارے کے ملازمین کے ساتھ ساتھ صارفین بجلی یعنی عوام کو بھی سبز باغ اور سُنہرے خواب دیکھانے جیسے طرح طرح کے خوش اور غمزدہ کر دینے والے عزم اور عزائم بھی دھرائے ہوں گے اور یہ بھی کہا ہوگا کہ ادارہ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے اور عوام کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔

جلد ہی شہر کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنا دیا جائیگا، ہر گھر میں درست بلنگ کا بل بھیج کر اِسے روشنیوں سے منور کر دیا جائے گا، مگر یہ سب کچھ فوراََ نہیں ہوسکے گا، اِس کے لئے ملازمین کو اپنی تنخواہیں بڑھانے اور ملنے والی دیگر مراعات کی کٹوتی پر کسی قسم کا بے جامطالبہ اور مطالبات نہ کرنے کی قربانی دینے ہوگی، اور عوام کو چوری کی بجلی سے اجتناب برتنے کے ساتھ ساتھ کئی کئی گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ کے باوجود بھی اضافی بجلی کے بلوں کی ادارئیگیوں کا بوجھ بھی برداشت ناکر ہوگا تاکہ اِس عمل سے محکمہ کے ای ایس سی کی انتظامیہ کو ہفتہ، پندرہ روزہ اور ماہوار ملنے والے اربوں کا منافع بڑھے، یوں ملازمین اور صارفین بجلی کی اِن قربانیوں سے ارادہ اور اِس کی انتظامیہ مضبوط اور مستحکم ہوگی۔

Load Shedding
Load Shedding

اَب یہ اور بات ہے کہ اِس کی نجی انتظامیہ نے محکمہ کے ای ایس سی کے سو سال کا جشن کیوں بنا لیا، جبکہ اِس کی نجی انتظامیہ کو تو اِس ادارے کواپنی تحویل میں لئے صرف آٹھ یا دس سال ہی ہوئے ہیں، اگر دیکھا جائے تواِس کی نجی انتظامیہ نے شہرِ کراچی کو اندھیروں میں ڈبونے کا جو کارنامہ سرانجام دیاہے، ایساکام کو اِس ادارے نے اُس وقت بھی نہیں کیا تھا، جب یہ ادارہ قومی تحویل میں تھا۔

یعنی جب یہ ادارہ قومی تحویل میں تھاتو تب اِس ادارے نے شہرِ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنائے رکھا تھا، مگر یہ ادارہ نامعلوم کیوں دورِ آمر(پرویز مشرف کی حکومت میں) گورکھ دھندکے ذریعے نجی تحویل میں چلا گیا..؟تو تب ہی سے اِس ادارے نے شہر کراچی کو اندھیرے میں ڈبو کر اِس سے اِس کے لقب عرس البلاد سے محروم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

اگرچہ متذکرہ خبرمیں اہلیانِ کراچی والوں کے لئے خوشی سے زیادہ مایوس کن عنصر زیادہ غالب رہا کہ محکمہ کے ای ایس سی کی سینچری کے سوسال میں سے اُن نوے سالوں کو نکال دیا جائے جب یہ ادارہ قومی تحویل میں تھا اور اِس عرصے کے دوران اِس نے ا پنے نام کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی لاج رکھتے ہوئے اپنے شہر کراچی کو صحیح معنوں میں روشنیوں کا شہر بنائے گا، مگر آج جب کہ یہ ادارہ نجی تحویل میں چلا گیا ہے، اِس ادارے کی انتظامیہ نے شہر کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے کے بجائے اندھیروں اور وحشتوں کا شہر بنانے میں زیادہ مہارت کا مظاہر کیا ہے۔

آٹھ ، دس سالوں میں اِس کی نجی انتظامیہ کے ای ایس سی کو کوڑیوں کے دام خرید کربھی ایک یونٹ اضافی بجلی بھی خود سے پیدا نہیں کر سکی ہے اور اِس کے باوجود بھی اِس کی نجی انتظامیہ ہے کہ اِس کا عوام کو زائد بلنگ دے کر بھی پیٹ نہیں بھر رہا ہے، یعنی یہ وہ ادارہ ہے جس کی نجی تحویل میں جانے کے بعد کارکردگی صفر ہو کررہ گئی ہے، اِس نے اپنے صارف کو مختلف بہانے بنا کر تنگ کرنے اور دوسری جانب حکومت کوبھی بے وقوف بنا کر اربوں اور کھربوں بٹور نے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے۔ آج اِس کی نجی انتظامیہ دیدہ دانستہ اہلیانِ کراچی کو کہیں بجلی چوری کے نام پر زیادہ بلنگ سے لوٹا رہی ہے، تو کہیں بوگس بلنگ سے اور زیادہ تر تو طویل لوڈشیڈنگ کر کے بھی زائد بلنگ سے رقم بٹورنے کا نہ روکنے والاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

Karachi
Karachi

آج جب کہ محکمہ کے ای ایس سی اپنے قیام کے سوسال مکمل کر چکا ہے تو اِس کی موجودہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ کارکردگی کا محاسبہ کرے اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو ٹھیک کر کے شہرِ کراچی اور عوام کو ٹھیک طرح خدمت کرنے اور شہر کو کم سے کم بجلی سے زیادہ سے زیادہ روشن رکھنے اور ہرصارف کے آنگن کو منور کرنے کے اقدامات کا بھی عہد کرے۔ ورنہ حکومت سے عوام کا یہ مطالبہ ہو گا کہ حکومت محکمہ کے ای ایس سی کی نجی انتظامیہ کو لات مارے اور اِس سے محکمہ کے ای ایس سی کو اپنی تحویل میں لے وہ خود شہر کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانے کے انتظامات کرے اور اِس شہر کا کھویا ہوا لقب عرس البلاد واپس دلائے۔

اگرچہ ہماری نئی حکومت نے اپنے سودن مکمل کر لئے ہیں مگر پھر بھی میں اپنی اِس حکومت کو نومولود حکومت ہی کہوں گا، کیوں کہ آج کل ہماری حکومت کئی نئے تجربات کے مراحل سے گزر رہی ہے، اِن میں سرِ فہرست کراچی سمیت مُلک بھر سے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور مُلک کو درپیش توانائی، مہنگائی، کرپشن اور بے روزگاری جیسے مسائل اور اِن کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے تجربات شامل ہیں جبکہ اِن تمام باتوں کے باوجود دوسری طرف اِن دنوں ہماری نومولود وفاقی حکومت اور ہمارے کاروباری دماغ رکھنے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی ایک یہی کوشش ہے کہ مُلک میں خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں کی جلد از جلد کارکردگی کو متحرک اور فعال بخش بنانا کر اِنہیں منافع بخش اور سونے کے انڈے دینے والے ادارے بنا دیئے جائیں۔

اگر یہ اِس سے بھی حکومت کے متعین کردہ پروفٹس اور گولڈن ایگس( منافع اور سونے کے انڈے) دینے کے اہداف کو نہ پہنچ سکیں تو پھر اِنہیں بلاکسی دوٹوک اورحیل وحجت کے نجی اور پرائیویٹ سیکٹرز کے حوالے کر دیا جائے، اِس سلسلے میں اِن دنوں وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرتی ہوئی متحرک دکھائی دے رہی ہے۔

اگرچہ یہ ہمارے بزنس مائنڈ وزیراعظم کے نزدیک کسی حد تک مفید عمل تو ہو سکتا ہے ،اور اِس طرح اِن کی نظر میں اِس عمل سے بہتر نتائج بھی نکلیں گے، مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو یہ سب کچھ کرنے سے قبل اُن محکمہ کے ای ایس سی سمیت دیگر نجی اداروں کی موجودہ کارکردگی کا بھی ضرور جائزہ لے لینا اور موازانہ کر لینا چاہئے جو قومی تحویل سے نجی سیکٹر میں چلے گئے ہیں کہ اِن دنوں اِن اداروں کی کارکردگی اِس وقت کیا اور کیسی ہے اور اُس وقت کیا اور کیسی تھی..؟جب یہ قومی تحویل میں تھے، اور اَب جب کہ یہ ادارے نجی تحویل میں ہیں تواِن کی کارکردگی عوام اور خواص کی نظر میں کیا اور کیسی ہے..؟ آج مُلک میں محکمہ کے ای ایس سی جیسے کچھ ایسے ادارے موجود ہیں، اگر اِن کی کارکردگی کو دیکھا جائے تواِن کی کارکردگی نجی اداروں میں چلے جانے کے باوجود بھی غیر اطمینان بخش ہے، یعنی آج بھی اگراِن اداروں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو اِن کی کارکردگی (جب یہ ادارے قومی تحویل میں تھے ) اُس وقت سے بھی کئی گنا زیادہ غیر اطمینان بخش ہی کیا بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

Nawaz Sharif
Nawaz Sharif

لہذا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کسی قومی ادارے کو نجی تحویل میں دینے سے پہلے یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ اِن کے جلد بازی میں کئے گئے فیصلے سے ادارے کی ساکھ اور عوام کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے، کہ آیا یہ ادارہ نجی تحویل میں جانے کے بعد کیا اُس معیار کی خدما ت دے پائے گا، جس کی اِس سے توقع کرکے اِسے نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے، یہ صرف منافع کمانے اور سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہی بنا رہے گا۔

جیسے اِن دنوں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نجی تحویل میں جانے کے بعد مالکان کو منافع اور سونے کے انڈے دینے والا ادارہ بن گیا ہے، جبکہ حقیقی معنوں میں اِس کی کارکردگی صفر ہے۔

تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم
azamazimazam@gmail.com

Share this:
Tags:
karachi KESC load shedding پاکستان سینچری کراچی
M A Tabassum
Previous Post غربت، کرپشن اور کمر توڑ مہنگائی
Next Post گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد عہدے سے مستعفی، ایوان صدر کو استعفیٰ موصول
Ishrat-ul-Ebad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close