Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دیسی لبرل یا کاٹھے انگریز

November 4, 2016 0 1 min read
Liberalism
Liberalism
Liberalism

تحریر: فہیم افضل
انگریز نے ہندوستان پر اپنی من مرضی کی حکومت کی اور سالہا سال سے اس خطے میں قائم تہذیب کو تار تار کر دیا اس رنگیلی تہذیب کے زیر اثر ایک نئی قوم پروان چڑھی جو دکھنے میں تو دیسی لگتی ہے مگر افکار، نظریات کی رو سے باطنی طور پر انگریز ہے دراصل انگریز نے اس بر صغیر کو دو چیزیں تحفے میں دیں ایک تو بیورو کریسی کا نظام جبکہ دوسری لبرلزم یعنی لبرل طبقہ جو بناوٹ میں تو دیسی ہے مگر فکری آمیزش کی وجہ سے اس میں غیر اسلامی و غیر تہذیبی عنصر عام نظر آتا ہے انگریز تو اس خطے سے چلا گیا مگر یہی دو ابتلائیں ہمارے ملک کیلئے چھوڑ گیا جن کی وجہ آج شاید ایک قوم کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو رہا ہے چونکہ قوم ہمیشہ نظریات سے بنتی ہے اور نظریہ ایک سوچ، ایک فکر کا نام ہے مگر جس ملک میں مختلف نظریات، مختلف سوچ ہو وہاں متحدہ قومیت کی فکر محض باتوں تک ہی محدود رہتی ہے۔

ہم یہ جانتے ہیں کہ ملک پاکستان کے حصول کی بنیادی دو قومی نظریہ ہے یعنی بر صغیر پاک و ہند کا بٹوارا بھی قومیت اور نظریات کی بنیاد پر ہوا لیکن یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کہ ہندو، مسلمان کے علاوہ بر صغیر میں دیگرمذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے جو بعد ازاں اپنے نظریات کی بناء پر دو بڑی قوموں میں سے ایک ساتھ منسلک ہوگئے جس بناء پر قومیت کی بنیاد وطنیت کی بنیادوں پر استوار ہوئی مگر نظریات اور فکر کا تضاد بد ستور برقرار رہا انگریز ی کلچر کی رنگینیوں کے رسیا اپنی تہذیب سے دور ہوئے یوں اس طبقے نے ہمیشہ معاشرتی اقدار کی نفی کرتے ہوئے اپنی اذہانی کیفیات کے مطابق آزادانہ سوچ اور آزادانہ ماحول کا ڈنڈھورا پیٹنا شروع رکھا یہ طبقہ نہ تو مشرقی افکار کے زیر اثر رہا اور نہ ہی مغربی افکار کے تابع رہا بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ دیسی بھیس میں یہ کاٹھے انگریز ہی رہے جنہوں نے قیام پاکستان نے بعد اپنی سازشوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے معاشرے کے نوجوان طبقے کو ذہنی آزادی و آزاد خیالی کے سبز باغ دکھا کر ان کے اذہان کو منشتر کیا اور اپنے نفوس کی ہوس پوری کرنے کیلئے معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی کی روش کا آغاز کیا۔

آج تک ملک میں جہاں کہیں مذہب یا قدیم مشرقی تہذیب کا معاملہ ہو یہ طبقہ اکثر سازشوں اور شور شرابوں میں سر فہرست نظر آئے گاکبھی یہ طبقہ مختاراں مائی کے معاملے پر ستیزہ کاری کرتا دکھائی دے گا اور کبھی ملالہ یا قندیل بلوچ کے معاملے پر موم بتیاں اٹھائے ملک کو بدنام کرنے کیلئے صف آراء نظر آئے گا آج کل انہی افکار کو فیشن کا نام دے کر معاشرے کا بیڑہ غرق کرنے کیلئے کاٹھی انگریزی سو چ کی متحمل آنٹیاں سر گرم ہیں جو بے حیائی ، غیر اخلاقی ، غیر اسلامی منفی روایا ت کو فیشن اور جدت کا نام دے کر ہزاروں سال پرانی تہذیب کا قتل عام کرنے پر تلی ہوئیں ہیں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر خدانخواستہ مذہبی حلیہ میں ملبوس کوئی شخص ارتکاب جرم کر بیٹھے تو بس اسلامی تہذیب پر نکتہ چینی کرنا ان کا جیسے اولین مشن ہوجاتا ہے آج اگر دیکھا جائے تو نوجوان نسل انہی کاٹھے انگریزوں کی افکار کے تابع ہو کر اپنی تہذیب سے دور ہو رہے ہیں بے حیائی ، سڑکوں گلیوں میں ناچ گانے کو برا نہیں سمجھا جاتا یہاں تک مرد عورتوں کا محافل میں گپیں مارنا ،ایک دوسرے پر بہبودہ باتیں کرنا ایک دوستانہ تعلق سمجھا جا تا ہے اس سوچ کو پروان چڑھانے والے کاٹھے انگریزوں کے زیر سایہ چلنے والے تعلیمی ادارے ہیں جو تعلیم کے نام پر ہماری تہذیب ،ثقافت و تمدن کو ختم کرر ہے ہیں آج بڑے بڑے غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت سے شاید ہی کو ئی بے خبر ہو ماڈرن کلچر کے نام پر پاکستانیت ،اسلامیت اور انسانیت کی انقلابی افکار کو ختم کیا جا رہا ہے۔

English
English

جبکہ دور حاضر میں انگلش کا بھوت تو ہماری قوم پر ایسا سوار ہے کہ اب ہم اردو سے ہی واقف نہیں اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہو گی کہ اردو ہماری قومی و سرکاری زبان ہو نے کے باوجود ہمارے سرکاری اداروں میں خط و کتابت انگریزی میں ہو رہی ہے حال ہی میں عدلیہ نے اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کے احکامات صادر کئے اور جج صاحب نے فیصلہ بھی اردو میں پڑھ کر سنایا اب حقیقی طور دیکھا جائے تو یہ ایک لطیفہ ہی نظر آئے گا کہ ماتحت عدالتوں میں اب بھی فیصلہ جات انگریزی میں تحریر کئے جارہے ہیں ہمارے تعلیمی نظام میں بھی اردو کے حوالہ سے دلچسپی تقریباً معدوم ہوتی جا رہی ہے ہماری نوجوان نسل کو اپنی ثقافت ، تہذیب کے بارے میں شاید اب پتہ ہی نہیں ہے زبانوں کا فطرت سے بڑا گہرا تعلق ہے “ایک دانشور کا قول ہے کہ کوئل اپنی زبان بولتی ہے اسلئے آزاد رہتی ہے مگر طوطا کسی کی زبان بولتا ہے اسلئے قید کر لیا جاتا ہے ” اب اگر ہم بغور جائزہ لیں تو یہ ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ ہم نے اپنی زبان ، ثقافت چھوڑ دی اسلئے ہم آزادی ہوتے ہوئے بھی نظریاتی غلام بنے ہوئے ہیں اور یہ غلامی جو ہم پر مسلط ہوئی ہے۔

انہی لبرل یعنی کاٹھے انگریزوں کا ہی کارنامہ ہے جو ہماری تہذیب ، ہماری زبان ، ہماری افکار سے نفرت کرتے ہیں جو خود انگریز کے ذہنی غلام ہیں اور دوسری قوم کو بھی اس غلامی کی قید میں جھونکنا چاہتے ہیں مجھے ایک دفعہ لاہور نیشنل سکول آف آرٹس جانے کا اتفاق ہوا جب وہاں گیا تو یقین کریں حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا تہذیب کے منافی سرگرمیاں ، بنات حواکے بے شرمیاں ، ابنان آدم کی بے باقیاں دیکھ کر احساس ہوا کہ ہم آزاد کب ہوئے ہیں ؟ ہماری تہذیب کے اثرات کہاں ہیں ؟ کیا یہ وہ قوم ہے جس سے یہود و ہنود تھر تھر کانپتے تھے ؟ کیا یہی وہ قوم ہے جن کے ایمان کی پختگی کی مثالیں دی جاتی تھیں ؟ میں تھوڑا آگے بڑھا تو دیکھا یہ پارک میں کونے میں لڑکے ،لڑکوں کا ایک جھتا گروپ کی شکل میں بیٹھا ہوا تھا سب کے ہاتھ میں منشیات سے پُر سگریٹ تھے جو بڑے اطمینان سے سوٹے لگائے جا ر ہے تھے یہ منظر کم نہ تھا کہ دیکھا کس طرح لڑکے لڑکیاں آپس میں گلے مل رہے ہیں ،تالیاں بجا رہے ہیں ،گانے گا رہے ہیں اور غلامی نما اس آزادی پر کیسا فخر کر رہے ہیں تو احساس کے سمند ر میں ڈوب گیا اور دل سے گہری آہیں نکلی کہ دیسی لبرل اپنے مذمو م مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہو رہا ہے جو ہماری آن ہماری تہذیب کو زندہ درگور کر رہا بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی مجھے ایک دوست نے بتایا جو لاہور کے ایک پوش علاقے میں رہتا ہے کہ بھائی صاحب آپ صرف اتنا دیکھ کر غمزدہ ہو رہے ہیں LUMS یونیورسٹی کا چکر لگائیں تو پاکستان میں آپ کو یورپ نظر آجائے گا یہی نہیں پوش علاقوں میں ڈانس پارٹیاں ،رنگین محافل رقص و سرور کے نشے میں دھت پروانے کس کس طرح کے غیر اخلاقی کارنامے سر انجام دے رہے ہیں۔

آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے اسی تفکر میں ایک مجاہد میرے خیال سے گزرے جو اسی موضوع پر عرصہ دراز سے اپنا قلم چلا رہے ہیں میرا مطلب یہاں ملک نے نامور کالم نگار اوریا مقبول جان صاحب ہیں جو دیسی لبرل اور کاٹھے انگریزوں کی ہولناک آزاد خیال رنگیلی تہذیب کا اصل چہرہ قوم کو دکھانا چاہتے ہیں شاید اب یہ در د میں بھی محسوس کر رہا ہوں جب آپ کی نوجوان نسل کے حالات یہ ہوں گے تو آپ ان سے اعلیٰ اخلاق ،ادب کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں جہاں ایک باپ اپنی بیٹی کو غیر محرم کے ساتھ دیکھ کر نادم نہ ہو بلکہ اپنی بیٹی کے دوستانے پر فخر کرے تو کیا آپ سمجھتے ہیں وہ معاشرہ سلطان صلاح دین ایوبی ، رابعہ بصری جیسی شخصیات دے گا عمران خان صاحب کی جماعت تحریک انصاف کی داستان زبان زد عام ہیں مگر کیا کوئی یہ بھی سوچ رہا ہے کہ یہ صاحب سیاسی امو ر پر مجاہد نظر آرہے ہیں مگر تہذیب و اخلاقی امور پر کس فکر کے تابع ہیں تعجب ہے مجھے ایسے لیڈروں پر جو باتیں تو مسلمان خلفاء کی کرتے ہیں مگر اپنے سامنے ہونے والی بے حیائی پر آنکھیں موندے بیٹھے ہیں واہ صاحب ، بنت حوا کو نچوا کر آپ کس تہذیب و تمدن کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں ؟ کیا یہ ایک مسلمان لیڈ ر کا وطیرہ ہے ؟یہ کہاں کا انصاف ہے کہ باتیں آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کریں اور وکالت آپ لبرل غیر اسلامی اور مغربی تہذیب کریں ؟ کرپشن اپنی جگہ ، اختیارا ت اپنی جگہ ،کیا تہذیب کے لٹیروں کا محاسبہ کرنا آپ کا فرض نہیں ؟ یا یہ کہہ لیا جائے آپ تو خود اسی تہذیب کی غلامی رہے ہیں۔

Pakistan
Pakistan

لبرل نظام سے آپ نے تربیت پائی ہے ؟تو بھلا اچھے پاکستانی بنانا آپ کا مشن کیسے ہو سکتا ہے ؟ ضروری ہے کہ مشرقی تمدن کے تحفظ کیلئے آپ کوئی اقدام کریں یہ بے حیائی کا کلچر دے کر آپ کیا سمجھتے ہیں ملک کیلئے اچھا کریں گے عمران خان صاحب بات تو کرتے ہیں کہ نیا پاکستان بننا چاہیے جہاں لبرل اپنی مرضی سے بے حیائی کر سکیں جبکہ پرانے پاکستان کی یہ بات نہیں کریں گے کیونکہ پرانا پاکستان تہذیب ، ثقافت اور مشرقی اقدار کی بنیاد پر حاصل کیا گیا جو لبرل کاٹھے انگریزوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھائے گا اب اس قوم سے کوئی پوچھے آج کے ان لیڈروں کے بچے پرورش انگریز کے ماحول میں پاتے ہیں فکر و طرززندگانی انگریزی اور یہاں باتیں مشرق کی کرتے ہیں تعلیم انگریز سے حاصل کی ماحول انگریز کا پایا اور سیاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کر رہے ہیں آج ہرتقریباً ہر گھر میں ایک فساد بر پا ہے والدین بچوں کی نافرمانی کا شکوہ کرتے ہیں۔

بے ادب افراد بہتات ہو چکی ہے ، نہ کوئی عور ت کے تقدس اور بزرگوں کے احترام روش باقی رہی ہے اور نہ ہی مثالی معاشرے اور مثالی انسانوں کا وجود ہی باقی رہا ہے آپ کس آزادی کی بات کر رہے ہیں ؟ بھئی آپ آزاد نہیں غلام ہو رہے ہیں تہذیب کے غلام ،فکر کے غلام اورنفسیات کے غلام ہمارا میڈیا ، ہمارے لیڈر لبرل کاٹھے انگریز اسلام دشمن عناصر کے آلہ کار ہیں ہماری مائیں آج اپنی اولادوں کی تربیت کرنا بھول چکی ہیں جس کی وجہ سے لبرل غلام میڈیا ہماری نسل کی تربیت کر رہا ہے ماڈرنائزیشن کے نام ہم اپنا ہی بیڑا غرق کر رہے ہیں ہماری نظروں کا محور امریکہ یورپ ہے ذرا نظریں قریب لے آئیں اور چائنہ کی طرف دیکھیں کہ کئی سوسال گزر جانے کے باوجود ان کی زبان کا وجود قائم ہے ان کی تہذیب و ثقافت معدوم نہیں ہوئی کیا چائنہ نے ترقی نہیں کی ؟ کیا چائنہ میں انقلاب نہیں آئے ؟ کیا وہاں تحریکیں نہیں چلیں ؟ اب غور کریں انقلابات ، تحریکوں کے باوجود ان کی تہذیب پر ذرّہ برابر بھی فرق نہیں پڑاتو ہم اپنی تہذیب کو چھوڑ کے دوسروں کی افکا رکے تابع ہو گئے اور مطالبہ آزادی کا کر رہے ہیں ؟ بات کوئی بنتی نظر آرہی سیاست اپنی جگہ ۔۔۔ میرا ماننا ہے کہ غیر ت اللہ کی عظیم نعمت ہے جو مرد اور عورت کو یکساں عطا کی گئی۔

بس اگر یہی غیرت انسانی جسم زندہ رہے تو انسان اخلاقیات کی بلندیوں کو حاصل کر لیتا ہے جہاں سے ایک مثالی معاشرہ کا قیام عمل میں آتا ہے یاد رکھیں کائنات نظام مدار کے تحت قائم کی گئی ہر چیز کا ایک مدار ہے جب بھی کوئی چیز اپنے مدار سے باہر نکلتی فنا ہو جاتی ہے جس کے اثرات کائنات کے سارے سسٹم پر مرتب ہوتے ہیں عورت کیلئے جدو جہد منع نہیںمگر اس طرح بے پردہ ہو کر اپنے جسم کی نمائش کرکے کیا عزت ملے گی ؟ میرا یقین ہے کہ اقدار بنات حوا کی پاسبان عورت نے ہر دور میں اپنی عزت اور تقدس کا مرتبہ پایا ہے بات سوچ کی ہے اگر ہم نے آج اپنی سوچ کو نہیں بدلا اور اپنی تہذیب ،تمدن ، و ثقافت کے ورثے کی حفاظت نہ کی توہم ہمیشہ غلام ہی رہیں گے جب ہم نے اپنی تہذیب ، زبان کا تحفظ کر لیا تو شعور خود بخود ہماری چوکھٹ پر آئے گا پھر معاشرے سے کرپشن ، بد عنوانی بھی ختم ہو جائے گی مگر ہم اپنی تہذیب ،مشرقی افکار سے دور ہیں تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے آزادی حاصل کر لی ؟

Fahim Afzal
Fahim Afzal

تحریر: فہیم افضل

Share this:
Tags:
English pakistan systems انگریز بیوروکریسی تہذیب نظام
IMF
Previous Post عالمی ادروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد
Next Post یہ ہوتا تو ایسا ہوتا
Imran Khan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close