کوئی منزل نہ راستہ کوئی
زندگانی ہے یا سزا کوئی
اس بھرے شہر میں ہمارے لئے
اجنبی ہے نہ آشنا کوئی
چھوڑ کر ہجرتوں کے صحرا میں
لے گیا گھر کا بھی پتا کوئی
اپنی تنہائیوں کی بستی میں
ہم نے دیکھا نہ دوسرا کوئی
جانے والوں کے نقشِ پا ساحل
عمر بھر ڈھونڈتا رہا کوئی
تحریر : ساحل منیر
