
٥فروری ،آن لائن جیو اردو، نے کراچی سے اپنے نمائندے کے حوالے سے خبر دی کے کہ ،ایک برطانوی خاتون صحافی مریم لیوون ریڈلی نے کہا کہ خود کش حملے اور دھماکے طالبان کا نہیں بلکہ شر پسند دںاور اسلام دشمنوں کا کام ہے یہ باتیں انہوں نے کراچی میں جامعیہ بنوریہ عالمیہ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی…. ایسا لگتا ہے موصوفہ کوئی برائے نام صحافی کا لیبل لگائے کسی اور مشن پر پاکستان کا دورہ کر رہی تھی ،اُس کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قطعی دنیا کے حالات سے بے خبر ہے یا پھر کسی کے لئے کسی کے ایما پر یہ اول فول کہ گئی ….. جبکہ طالبان سے متعلق خبریں دنیا بھر کے میڈیا میں سر فہرست ہوتی ہیں اور پھر پاکستان میں ہر دھماکے اور خود کش حملے کے بعد اعلانیہ طالبان یہ زمہ داری قبول کرتے ہیں۔
یہ بی بی صحافی کہتی ہیں کہ یہ کام طالبان کا نہیں …بندہ پوچھے او بی بی پھر یہ مذاکرات کیوں کیسے اور کس لئے؟اب بات مذاکرات کی تو اس بارے میں بھی ھالات بند گلی میں ،٦ فروری کو پہلا اجلاس ہوأ جس میں آگے بڑہنے کے لئے اپنے اپنے ابتدائی مطالبات رکھے ،اجلاس میں حکومتی کمیٹی کے عرفان صدیقی نے کہا کہ (١) بات چیت آئین پاکستان کی متعین حدود اورتقاضوں کے اندر ہونی چاہئے،(٢)بات چیت کا دائرہ شور ش زدہ علاقوں،افراد،ایشوز،اور قیام امن سے متعلقہ معاملات تک محدود رہے گا اور اس کا دائرہ پورے ملک پر محیط نہیں ہو گا ( ٣)مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ امن و سالامتی کے منافی تمام کاروائیوں کا سلسلہ فوری بند کر دیا جائے ( ٤)طالبان کی اس کمیٹی کے علاوہ نو رکنی کمیٹی بھی قائم ہے واضح ہونا چاہئے کہ دونوں کمیٹیوں کا دائرہ کار کیا ہے کیا ہمیں اس کمیٹی سے بھی بات کرنا ہوگی ،نیز مذاکرات مختصر مدت میں ختم ہوں۔
طالبان کمیٹی نے اپنے تحفظات ریکارڈ کراتے ہوئے تین مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا (١)حکومتی کمیٹی کا دائرہ کار ،مینڈیٹ اوراختیار کیا ہے ،(٢)یہ کمیٹی طالبان کے مطالبات منوانے کے لئے کس قدر صلاحیت رکھتی ہے،(٣) کمیٹی چاہتی ہے کہ وزیر آعظم ،چیف آف آرمی سٹاف،اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ وہ اپنے مشن کے لئے پوری طرح وا ضح ہو سکیں۔
اجلاس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں کمیٹیوں نے اتفاق کیا ہے کہ دونو اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینا بند کر دینا چاہئیے اور مذاکرات کا عمل طویل نہیں ہونا چاہئیے…. عرفان صدیقی نے کہا کہ افہام و تفہیم اور خیر سگالی کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں یوں لگتا تھا کہ ہم دو نہیں ایک ہی کمیٹی ہیںاور ہمارا ایک ہی منشور اور ایک ہی مقصد ہے۔صدیقی صاحب آپ نے ٹھیک ہی کہا کہ ہم دو نہیں بلکہ ایک ہی کمیٹی کے ارکان ہیں آپکا منشور ایک ،مقاصد ایک یہ تو محض دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے کہ یہ دو کمیٹیاں ہیں ورنہ تو یہ اندر خانے ایک ہی ہے ،دنیا کو بتایا جائے گا کہ ہم نے افہام و تفہیم سے امن قائم کر لیا ہے ،مگر یہ خواب، خواب ہی رہے گا۔
طالبان حمائتوں اور طالبان کا اسرار ہے کہ جنگ مسلے کا حل نہیں، تو پھر بھارت سے کیوں دو جنگیں لڑی گئیں، اس سے بھی اسی فارمولے کے تحت ہاتھ ملائے جائیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں وہاں بھی ….مگر طالبان حمائتی اور ملبس طالبان حکومت اور عوام کو ڈرا رہے ہیں اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات نہ کئے تو …..جنگ سے ایسی آگ لگے گی جو بجھائے نہ بجھے گی، چنانچہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں اگر ایسا نہ ہو تو پتہ نہیں کیا آسمان گر پڑے گا…. زرہ غور کریں ایک سابق چیف آف آرمی فراماتے ہیں اپریشن کا دباؤ ڈالنے والے در اصل نواز حکومت گرانا چاہتے ہیں …مولانا سمیع الحق کہتے ہیں ایسی آگ لگے گی جو سب کچھ ہی جلا دے گی ،دوران مذاکرات ہی پشاور کے قصہ بازار کے ہوٹل میں خود کش حملہ ،کراچی میں حملے…طالبان نے ان کی زمہ داری قبول نہیں بلکہ ایک تنظیم …پھر خانیوال میں واقع ہوأ دو دشت گرد زخمی حالت میں گرفتار اور تیسرے نے خود اڑا دیا …دیگر گروپ اپنی اہمیت یا قیمت بڑھانے کے لئے پر تشدد کاروائیاں کریں گے اور خدشہ ہے کے مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں دوسری طرف مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجدنے واضح کیا ہے آئین کے تحت مذاکراتی عمل نا منظور ،ترجمان طالبان شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے جنگ اور مذاکرات کا مقصد صرف نفاذ شریعت ہے ،چئیر مین عمران خان نے امریکی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ خدشہ موجود ہے کہ جوں ہی مذاکرات شروع ہونگے تو بڑے دھماکے اور دشت گرد حملے ہونگے اور مذاکرات بند کرنا پڑے گا ، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ طالبان کی جانب سے نفاذ شریعت کے مطالبے سے اتفاق نہیں کرتے۔
مگر پہلی شرائط جو طالبان کی طرف سے آئی ہیں وہ اتنی سخت ہیں کہ اگر حکومت منظور کرتی ہے تو یہ میز پر طالبان کی فتح ہوگی چاہئے یار لوگ کچھ بھی تعبیر و تشریح کریں، کیونکہ جو اور جتنی شرائط ہونگی وہ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول سے ہٹ کر…یہ مذاکرات نہیں کہ طالبان کی طرف سے کڑی شرائط جو طاقت ور کمزور پر مسلط کرتا ہے …پہلے دن ہی مولانا عبدالعزیز خطیب لال مسجد نے آئین کے دائرے میں مذاکرات سے انکار کر دیا ،اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ اپنی مرضی کی شرائط کے تحت مذاکرات کریں گے ورنہ……
دراصل بنوں میں پاک فوج حملے کے نتیجہ میں ٢٠ جوانوں کی شہادت کے بعد طالبان کا حملے کی زمہ داری قبول کرنا اور حکومت کو با مقصد مذاکرات کی دعوت دینا یہ اہم پتا تھا جو کھیلا گیاجس کا مطلب یہ بھی ہے کے طالبان بہتر اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایسے وقت میں یہ اہم کارڈ تھایہ حکومت کی کمزوری کہ وہ برقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے کھیلا گیا، اور حکومت کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ،یہ تو محض طالبان کی حکمت عملی تھی ورنہ تو یہ ٢٠ فوجی جوانوں کی ہلاکت تھی اگر ٢٠٠،سو بھی ہوتے تو بھی ایسا کوئی منصوبہ نہیں کہ طالبان کی طاقت کو ریاستی طاقت سے کچلا جائے کہ…..، جبکہ طالبان اپنے ساتھی کی ہلاکت کا بلا تاخیر بدلہ لیتے ہیں، مگر عسکری قیادت سابقہ اور موجودہ اپنے جوانوں کو مروا رہی ہے جو پانچ ہزار سے زائد ہے مگر…..
تحریر:ع.م. بدر سرحدی
