Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جہاں انصاف نہ ہو

December 2, 2014April 30, 2015 0 1 min read
Masjed
Masjed
Masjed

تحریر:مسز جمشید خاکوانی

کسی بیماری کو ختم کرنے کے لیئے ضروری ہوتا ہے کہ پہلے اس کی صحیح تشخیص کر لی جائے وجہ معلوم ہو جائے تو علاج سہل ہو جاتا ہے۔ جب مجھ سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں خواتین کے مسائل پہ لکھوں۔ تب میں سوچتی ہوں جب تک خواتین ہیں مسائل کیسے ختم ہو سکتے ہیں، حالانکہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ،آج کل خواتین اور معصوم بچیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے گینگ ریپ اور ذیادتی کیس واقعی ایک شرمناک مسلہ ہے لیکن ہر مسلئے کے پیچھے ایک مسلئہ بھی ضرور ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ ازل سے یہ مسائل موجود ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک خاتون منہ اندھیرے مسجد میں نماز پڑھنے جا رہی تھی راستہ سنسان تھا اور ہر طرف تاریکی تھی ایک شخص نے خاتون کو اکیلا پایا تو شیطینیت نے اسے گھیرا۔اس نے خاتون کو بے

بس کر کے ہوس پوری کی اور بھاگ نکلا مظلوم خاتون نے چیخنا چلانا شروع کر دیا عورت نے اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھا تھا اتفاقاً وہاں سے ایک آدمی گذر رہا تھا عورت نے بدحواسی میں اسے ہی اصل مجرم سمجھ لیا جمع ہونے والے لوگوں سے کہا اسی آدمی نے مجھے بے آبرو کیا ہے ۔لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاتون سے پھر دریافت کیا، کیا واقعی یہی اصل مجرم ہے ؟…….انہوں نے پھر یہی بات کی تو آپ ۖنے ضروری عدالتی کاروائی کے بعد فوراً اس آدمی کے لیئے سزا کا حکم سنا دیا ۔اس واقعے کی خبر آناً فاناً مدینہ میں پھیل گئی ۔دوسری طرف اصل مجرم کا حال ملاحظہ کیجیئے…….جب اسے خبر ملی کہ اس کے کیئے کی سزا ایک بے قصور کو مل رہی ہے تو اس کے ضمیر نے اسے ملامت کی یہاں تک کہ ضمیر کی خلش اسے بارگاہ رسالت میں لے آئی اس نے حضور ۖ کی خدمت میں حاضر ہو کر اقرار کیا کہ اصل مجرم میں ہی ہوں ۔حضور نبی کریم ۖ نے اس بے قصور شخص کے لیئے کلمات خیر ادا فرمائے اور اصل مجرم کے لیئے سزا سنا دی۔

ہمارے ملک کے قانون کے مطابق عدالت کا فیصلہ ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی کیس کی پیروی کے دوران ماضی میں اس سے ملتے جلتے کیس کو بطور ثبوت پیش کیا جائے تو اکثر محض یہ ثبوت ہی اس نئے کیس کی کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے یعنی قانون میں گذشتہ فیصلوں کا اتنا احترام موجود ہے کہ ان فیصلوں کو بطور سند پیش کیا جائے تو ان کے مطابق فیصلہ کر دیا جاتا ہے ۔جب ملکی قانون میں عدالتی فیصلے کو اتنا باعزت مقام حاصل ہے حالانکہ یہ قوانین عام انسانوں نے بنائے ہیں تو اللہ کے رسول کے فیصلوں کا کتنا بڑا اور مستند مقام ہونا چاہیئیے جن کی زبان سے نکلا ہر لفظ وحی ہوتا تھا
دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک خاتون کی حرمت کو پامال کرنے میں صرف اس خاتون کے بیان کو بنیادی اہمیت دی گئی
خاتون کے حق میں فوری انصاف کے تحت فیصلہ ہوا اور جلد از جلد سزا پر عملدرامد کیا گیا۔

اسلام عورت کو وہ تمام حقوق دیتا ہے جن سے کسی معاشرے میں بہتری لائی جا سکتی ہے لیکن صد افسوس کہ مردوں نے وہ تمام حقوق صرف اپنے حق میں استعمال کے لیئے رکھ چھوڑے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ عورت گھر کے کام بھی کرے ان کے بچے بھی پالے بلکہ انکی کفالت بھی کرے ۔یہ ایک عجیب رحجان چل پڑا ہے کہ عورت اگر سودہ گھرانے سے ہے تو اپنے والدین سے لے کر شوہر کو پالے ورنہ جس طرح کمائے بس لے کے ضرور آئے ۔اور یہ رحجان نچلے طبقے میں بہت پایا جاتا ہے ۔میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ میرے گھر کام کرنے والی ایک جوان عورت جس کے تین بچے بھی تھے دو گھنٹے میں کام ختم کر کے چلی جاتی لیکن گھر وہ شام کو پہنچتی۔میں سمجھتی شائد کسی اور گھر میں بھی کام کرتی ہوگی۔ایک بار اس کے ساتھ کام کرنے والی عورت اس کا پوچھنے آئی تو میں نے کہا دو تین بار اس کا شوہر بھی پوچھنے آیا تھا یہاں سے تو وہ چلی جاتی ہے

پھر شام تک کہاں ہوتی ہے کسی اور گھر میں کام کرتی ہے کیا؟وہ بولی کام نہیں کرتی ۔اسٹیشن پر جاتی ہے وہاں اسے گاہک مل جاتا ہے کیا مطلب؟ اگر ایسی ہوتی تو میرے گھر جھاڑو برتن کیوں کرتی ؟ وہ بولی بی بی تم مہینے کے مہینے تنخواہ دیتی ہو وہ تو اس کے شوہر کا نشہ پانی ہو جاتا ہے ۔باقی گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں ایک بجلی کا بل ہی پورا نہیں پڑتا بچوں کی دوا دارو،دودھ کتنے خرچے ہیں ۔مہنگائی نے کیا حال کر دیا ہے اب یہ دھندہ نہ کریں تو کیا کریں،دنیا دکھاوے کو کسی گھر کا جھاڑو برتن بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ محلے والے کرائے کے گھر سے جوتے مار کے نکال دیتے ہیں ۔تو شوہر کیا کرتا ہے؟ وہ ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھتا ہے اور بچے سنبھالتا ہے

جب بیوی گھر پہنچتی ہے بچے اسے سونپ کر سیر سپاٹے اور جوا کھیلنے نکل جاتا ہے ۔ساری غریبوں کی بستی میں اب ایسے ہی گذارہ ہوتا ہے ۔آج ہی انجم نیاز نے اپنے کالم میں لکھا ہے ۔کرنال سے آگے دہلی کی طرف بڑھیں تو ایک چھوٹا سا گائوں آتا ہے جہاں ٹرک ڈرئیور قیام کرتے ہیں اس گائوں کا نام poonj pura ہے۔رفعت حسین آجکل بھارت کے دورے پر ہیں انہوں نے نوٹ کیا کہ اس گائوں کے مرد کوئی کام نہیں کرتے بس گھر میں بیٹھ کر بچوں کی دیکھ بھال کر لیتے ہیں ان کی عورتیں ہی کفالت کرتی ہیں کیسے ؟اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
چنانچہ اس قصبے میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد سے زیادہ ہو چکی ہے۔

Poverty
Poverty

غربت نے اس خطے کو دھرم، ایمان سے دور کر دیا ہے ۔لیکن ہم تو مسلم ہیں ہم سے حیا کا دامن کیوں چھُوٹا ؟اس لیئے کہ ہم نے دوسرے کا منہ لال دیکھ کر اپنا منہ تھپڑوں سے لال کر لیا ،میڈیا کے تھرو ملنے والی نت نئی ترغیبات نے ہم سے صبر و قناعت چھین لی ،رہی سہی کسر حکمرانوں نے نکال دی ہر شئے کو غریب کی پہنچ سے اتنا دور کر دیا کہ اب جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیئے غریب کو جسم بیچنا پڑتا ہے چاہے وہ خون کی صورت میں ہو ،گردوں کی صورت میں یا آبرو کی صورت ۔۔۔لاہور کے ایک صاحب کا کہنا ہے پاکستان جسم فروشی کے حوالے سے بھارت بنتا جا رہا ہے ۔جانے کہاں گئی وہ مائیں جو باوضو ہو کر اپنے بچوں کو دودھ پلایا کرتی تھیں کہاں گئے وہ باپ جو اپنے بچوں کے منہ میں حرام کا ایک نوالہ نہیں جانے دیتے تھے۔

افسوس ہم نے بھارت کی ہمعصری بھی کی تو کس معاملے میں ؟غربت تیزی سے روایات کو نگل رہی ہے ۔دولت صرف چند ہاتھوں میں ہے ۔جب مائیں بھی کمانے نکل پڑتی ہیں تو بچوں کی تربیت کون کرے؟نانیاں دادیاں متروک ہو چکیں،کسی کو معلوم نہیں ہوتا بچے کدھر ہیں کیا کر رہے ہیں ؟بس دھڑا دھڑ بچوں کی خواہشات پوری کرنے میں لگے ہیں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی میں سب اندھے راستوں پر بھاگے جا رہے ہیں ۔نہ کوئی دعا کرنے والا رہا ہے نہ اب دعائیں قبول ہوتی ہیں ماتھوں پہ سجدوں کے نشاں ہیں پر نیتوں میں کھوٹ دل کالے ہو چکے ہیں ۔

غریب قرض پہ قرض لیتے جاتے ہیں پھر وہ قرض جان یا جسم دے کر اتارنا پڑتا ہے ،درجنوں گھروں میں میں نے قرض کے عوض گروی رکھی لڑکیاں اور عورتیں دیکھی ہیں ۔نہ کبھی قرض اترتا ہے نہ جان چھٹتی ہے یہ جو ابھی مسیحی میاں بیوی زندہ جلائے گئے ہیں یہ بھی تو قرض کا شاخسانہ تھا جس کو مذہبی انتہاپسندی کا رنگ دے کر دنیا بھر میں جگ ہنسائی کرائی گئی ۔

فیس بک پہ ایک پیج دیکھا یقین نہیں آتا تھا کہ انسان اتنا بھی گر سکتا ہے ،گھروں میں سوئی ہوئی عمر رسیدہ خواتین کی تصاویر جن بے چاریوں کو علم ہی نہیں ہوگا کہ وہ جگ میں تماشہ بن چکی ہیں ۔موبائل کیمروں سے کھینچی گئی یہ تصاویر آخر گھر کے ہی کسی فرد نے کھینچی ہونگی ۔اور یہ سب کام صرف پیسہ کمانے کے لیئے کیئے جا رہے ہیں ۔نوعمر لڑکوں کو آلہ کار بنایا جاتا ہے کہ وہ قسم قسم کی وڈیو بنا لائیں جن سے جتنی زیادہ سنسنی اور دہشت پھیلے اتنی اس کی مانگ ہوتی ہے ۔جہالت انہیں عقل سے شعور سے عاری کر دیتی ہے ،زیادتی کے واقعات کیوں نہ معمول بنیں اس میں نہ تفتیش ہوتی ہے نہ سخت سزا ۔زیادتی کے شکاری اور شکار حکومت سے ملنے والا پیسہ مل بانٹ کر کھاتے ہیں ،معمولی سزا کے بعد سودا برا نہیں ۔جب سے پیسے ملنے لگے ہیں عزت اور جان اور بھی سستی ہو گئی ہے یقین نہ ہو تو اعدادوشمار اٹھا کے دیکھ لیں ۔یہی وجہ ہے کہ جس کاروبار میں قانون کے رکھوالے بھی شامل ہو جائیں وہاں انصاف کیسے ملے ؟اور جہاں انصاف نہ ہو وہ معاشرہ قائم کیسے رہے ؟

کتنی ہی قومیں برباد کی گئیں ،انہی جرائم کے طفیل ،قوم لوط کا جرم کیا تھا ؟ عاد اور ثمود کی قومیں ،لیکن ہم تو ہر وہ جرم کر رہے ہیں جو ان سب قوموں کی بربادی کا سبب بنا ،پھر بھی اللہ سے جزا کے طلبگار ہیں۔غالباً 1834میں بھی ایسا ہی دور تھا کوئی تہذیب باقی نہیں رہی تھی کائو بوائے کلچر عروج پہ تھا بات بات پہ گولی مار دینا ،گالی کے بغیر بات نہ کرنا عدم تحفظ ، عدم برداشت کے ایسے ہی مظاہرے دیکھنے کو ملتے تھے ،بہت قتل و غارت کے بعد آخر ایک فوج کے ریٹائر میجر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ جیسے چاہے لیکن اس معاشرے کو سدھارے ۔تب اس نے یورپ کو سدھارا جو آج مہذب معاشرے کہلاتے ہیں۔میں نے بہت عرصہ پہلے یہ پڑھا تھا تفصیلات مجھے یاد نہیں ،لیکن یہ کہیں نہ کہیں سے مل سکتی ہیں ۔ہمیں تو سدھرنے کے لیئے کسی غیر کی ضرورت نہیں ہمارے نبی ۖ کی تعلیمات اور اور قران مجید ہی ہمارے لیئے کافی ہے لیکن کوئی سدھرنا چاہے بھی تو……….!

Mrs Khakwani
Mrs Khakwani

تحریر:مسز جمشید خاکوانی

Share this:
Tags:
discover disease embarrassing justice problems women انصاف بیماری دریافت شرمناک عورت مسائل
Previous Post کراچی: سلینڈر دھماکے میں ایک شخص جاں بحق، چھ افراد زخمی
Next Post نائیجیریا: میڈوگوری میں 2 خودکش دھماکے، 10 افراد ہلاک

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close