Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امتیازی سلوک

July 11, 2014July 11, 2014 0 1 min read
Shahid Shakeel
Pakistan
Pakistan

حقیقت کو جھٹلانے یا اُس سے منہ پھیر لینے سے سچائی نہ چھپتی ہے اور نہ دبتی، ہمارے ملک میں اگر کوئی انگریز نیکر پہن کر یا کوئی گوری مختصر لباس میں نظر آئے، سر عام بوس وکنار کیا جائے یا ہماری آنکھوں کے سامنے حرام غذا کھائے تو ہمارا کیا رد عمل ہو گا؟ سب یہ ہی کہیں گے کہ اِس غیر ملکی کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں یہ ہمارے معاشرے میں بے شرمی اور غلاظت پھیلا رہا ہے اور ایک غلیظ، بے شرم ،بے حیا یا گندہ فارنر ہے اسے فوری ملک بدر کیا جائے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہاتھا پائی کی نوبت آجائے کہ تم ہمارے ملک میں اپنے ملک کے غلیظ کام نہیں کر سکتے لہذٰا یہاں سے دفع ہو جاو ٔاور یہ گندگی یہاں مت پھیلاؤ، تو اُس غیر ملکی پر کیا بیتے گی۔

وہ یہی سوچے گا کہ کتنی تنگ نظر اور سنگ دل قوم ہے لیکن اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو اُس غیر ملکی کو اپنے ملک کے کام کسی دوسرے ملک اور بالخصوس اسلامی ملک میں کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور اُس ملک کے ماحول ، نظام اور رنگ ڈھنگ کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے ،یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا جیسا دیس ویسا بھیس۔اسی کی دہائی تک تو جرمنی میں کوئی اودھم یا کسی قسم کی افراتفری اتنی شدت سے نہیں پھیلی تھی جتنی کہ آج ہے ،لیکن رفتہ رفتہ تارکینِ وطن کی آمد کہ بعد انہوں نے اس ملک کے قوانین کو از سرِنو نامنظور کیا اور اپنی مرضی کی زندگی یا جیسا وہ اپنے ممالک میں کرتے تھے کرنے لگے تو جرمنوں کو یہ سب ناگوار گزرا اور انہوں نے تمام غیر ملکیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔

آٹھ اپارٹمنٹ پر مشتمل رہائشی بلڈنگ کے ایک اپارٹمنٹ میں ایک نیا غیر ملکی مقیم تھا جو ہر شام کھانا بناتے ہوئے لہسن کا بے ردیغ استعمال کرتا جس کی بو تمام بلڈنگ میں پھیل جاتی اور ہمسایوں کو ناگوار گزرتی کئی بار اسے سمجھایا کہ کھانا بناتے ہوئے کچن کا دروازہ بند رکھا کرو اور دروازے کے نیچے کوئی کپڑا وغیرہ بچھا دیا کرو تاکہ تمھارے کھانے کی بو بلڈنگ میںنہ پھیلے اور دوسرے رہائشی اس سے متاثر نہ ہوںلیکن وہ سنی ان سنی کر دیتا تو مجبوراًہمسایوں نے پولیس کو فون کیا اور اس غیر ملکی کو جرمانہ کیا گیا تب اسے سمجھ آئی کہ وہ اِس ملک میں اپنی مرضی یا کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جس سے دیگر لوگ متاثر ہوںاور معقول انتظام کیا۔جرمنوں کو غیر ملکیوں سے اور بھی بہت شکایات رہیں جیسے کہ وہ رات گئے لاؤڈ میوزک سنتے ہیں،صفائی کا خیال نہیں رکھتے ،بہت اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہیں یا بچوں کی تربیت ٹھیک سے نہیں کرتے انہیں کھلا چھوڑ رکھا ہے یا ان پر تشدد کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ،کچھ لوگوں کی ان غلطیوں سے دیگر غیر ملکیوں کانام بھی بدنا م ہوا اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ پورے ملک میں غلیظ غیر ملکی کا نعرہ لگنا شروع ہو گیا ہر درودیوار پر لکھا گیا ” ان غلیظ غیر ملکیوں کو اس ملک سے باہر نکالا جائے۔

حکومتوں کی حکمت عملی ،نئے قوانین اور ثقافتی روابط سے رفتہ رفتہ تمام معاملات حل کر دئے گئے اور کسی کو شکایت نہ ہوئی ،لیکن آج جو مسائل ان تار کین وطن کے بچوں کو ردپیش ہیں وہ گزشتہ سالوں کے مسائل یا معاملات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس ہیں کیونکہ یہ بچے یہاں پیدا ہوئے تعلیم حاصل کی یہ کہنا مناسب ہے کہ ان بچوں کے والدین غیر ملکی ہیں لیکن یہ بائی برتھ جرمن تو ہیں لیکن ان کے ناموں اور جلد کی رنگت نے ان کیلئے بے شمار مسائل کھڑے کر دئے ہیں۔

German
German

جرمن اور غیر ملکیوں کے بچے ایک ساتھ کنڈر گارڈن سے اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں کئی بچے کنڈرگارڈن کے بعد پرائمری اور سیکنڈری سکول کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ حاصل کرتے ہیں کیونکہ سب کا تعلق ایک ہی محلے یا علاقے سے ہوتا ہے روزانہ صبح ساتھ سکول جانا ایک ہی کلاس اٹینڈ کرنا کھیل کود ، لڑائی جھگڑا اور جان پہچان کے بعد دوستی بھی ہو جاتی ہے ، سکینڈری سکول ختم ہونے سے چھ ماہ قبل سب بچے اپنی مرضی ، خواہش اور جس پروفیشن میں دلچسپی ہو اسکا کورس کرنے کیلئے جگہ تلاش کرتے ہیںجہاں انہیں تین سال کورس کرنا ہوتا ہے ،اور تین سال بعد اکثر وہ فرمز جہاں کورس کیا جاتا ہے انہیں مستقل جوب دے دیتی ہیں ایسا کم ہی ہوا کہ تین سال بعد فرم نے انہیں کورس کرنے کے بعد نکال دیا ۔آج کل یہ موضوع جرمنی میں نہایت شدت اختیار کر گیا ہے کہ جو مارکس لے کر ایک جرمن سکول سے فارغ ہوا تھا وہی یا اس سے بہتر مارکس ایک غیر ملکی نے بھی حاصل کئے دونوں نے ایک ہی فرم میں کورس سیکھنے کی درخواست دی ، انٹر ویو کیلئے دونوں کو مختلف اوقات میں مدعو کیا گیا لیکن اچھے مارکس ہونے کے باوجود اس غیر ملکی کو کورس کرنے کی جگہ نہیں دی گئی ۔ چند ہفتوں سے جرمنی کے مختلف شہروں میں یہ خبر ہیڈلائین بنی ہوئی ہے کہ ” علی یا ٹومی ” ۔دونوں میں سے کس کا انتخاب کیا جائے؟۔

فرمز مالکان ایپلیکیشن فارم پر علی نام یا اس کی تصویر دیکھتے ہیں تو اس کی درخواست مسترد کر دیتے ہیں حالانکہ اس کے مارکس اچھے ہوتے ہیں ٹومی کے پاس کچھ نہیں ہوتا لیکن وہ نام اور سفید رنگ سے جرمن ہے اس لئے اسے کورس کی جگہ یا جوب دے دیا جاتا ہے جو کہ سراسر نا انصافی ،غیر ملکیوں سے نفرت اور خلافِ قانون ہے ،اِس موضوع پر ایک چھوٹا سا مضمون پیش خدمت ہے۔” علی یا ٹومی ”۔ایک رپورٹ کے مطابق تارکین وطن خاندانوں کے نوجوان لوگوں کو واضح طور پر جرمنی میں بہت سی تربیتی کمپنیز کی طرف سے صرف نام کے خلاف امتیاز برتا جاتا ہے تقریباًایک ہزار ٹھ سو کمپنیز سے پیشگی معلومات کیلئے ایک ٹیسٹ لیا گیا ہے۔

اٹھارہ سالہ ایمان ہنوور کے ایک سکول کی طالبہ ہے اور اس پیچیدہ مسئلے سے آگاہ ہے ،اِس سال اُس نے سکینڈری سکول پاس کرنے اور اچھے مارکس کا سرٹیفیکیٹ لینے کے بعد سکول چھوڑا ہے اس کا کہنا ہے ۔ ” میں نے چالیس سے زائد ایپلی کیشنز مختلف فرمز میں مختلف کورسز کے لئے بھیجی ہیں کئی فرمز میں پینٹر یا رنگ روغن کرنے کے علاوہ اوفس مینجمنٹ کیلئے بھی درخواستیں دی ہیں لیکن ابھی تک کسی تربیتی کورس کیلئے جگہ نہیں ملی ” ۔کیونکہ اس کے والدین پولینڈ اور عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ، ایمان کا کہنا ہے یہ سن کر کہ آپ مکمل جرمن نہیں ہیں اسلئے آپ کو جگہ نہیں دی جا سکتی ،بہت دکھ اور برا محسوس ہوتا ہے۔

لڑکی کے تجربات اینٹگریشن اور مائیگرینٹس کی ماہر کونسل کی تحقیق کے نتائج کے عین مطابق ہیں ، کونسل کے مطابق انہوں نے ایک ہزار سات سو چورانوے کمپنیز کو دو درخواستیں بھیجیں ، ایک لڑکے کا جرمن اور دوسرے کا ترکی نام تھا ۔نتیجہ۔درخواستیں موصول ہوتے ہی انہیں تقسیم کر دیا گیا ، ترکی لڑکا اچھے مارکس کا حامل تھا لیکن کمپنی نے اس سے کم مارکس والے جرمن لڑکے کو انٹر ویو کیلئے مدعو کیا ایڈوائزری کونسل کے ریسرچ ڈائریکٹر جان شنائیدر نے انٹرویو میں بتایا اسلامی نام والوں کو کئی بار درخواست بھیجنا پڑے گی جبکہ جرمن نام والے کو ایک بار ، انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں ترکی درخواست دہندگان کو انٹرویو کیلئے بہت کم دعوت دی جاتی ہے یا کئی دفعہ مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور اسکی درخواست موصول ہونے کا جواب تک نہیں دیا جاتا اگر جواب دیا جاتا ہے تو اس امید وار کو کورس سے مسترد کیا ہوتا ہے، چھوٹی کمپنیز میں امتیازی سلوک بدتر ہے ، عام طور پر ترکی لڑکے چھوٹی کمپنیز میں موٹر مکینک کے کورس کیلئے درخواست بھیجتے ہیں لیکن کئی لڑکے اور لڑکیاں اوفس جوب کے لئے بھی ،لیکن وہاں کورس کرنے کی آسامی خالی ہوتے ہوئے بھی انکے ناموں کو مد نظر رکھ کر مسترد کیا جاتا ہے اور جگہ کسی جرمن نام والے کیلئے خالی رکھی جاتی ہے، اس کے برعکس بڑی کمپنیز میں امتیازی سلوک بہت کم ہے یا سرے سے موجود نہیں ، خاص طور پر اوفس جوب میں امتیازی سلوک کی رپورٹ موجود نہیں ، شنائیدر کا کہنا ہے کہ کمپنیز میں زیادہ سے زیادہ بین الثقافتی صلاحیت کی اشد ضرورت ہے مزید براں درخواستیں نام اور تصویر کے بغیر گمنام بھیجی جانی چاہئیں جیسے دوسرے چند یورپی ممالک میں رائج ہے اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ نام اور تصویر کے بغیر ہر درخواست دہندہ کمپنیز کیلئے مساوی ہو گا صرف اسکی تعلیم اور مارکس کو ہی مد نظر رکھ کر انٹر ویو لیا جائے گا اور سلیکشن ہو گی۔شنائیدر کے اس بیان کو سننے اور پڑھنے کے بعد لوگوں کا کافی رد عمل سامنے آیا ہے۔

Education
Education

کچھ اسے درست اور کچھ سراسر بے بنیاد گردان رہے ہیں فی الحال یہ مسئلہ برلِن میں زیر بحث ہے جسے مکمل ہونے میں وقت درکار ہے آج سے پینتیس سال قبل جوب سینٹر ” ایمپلائمنٹ اوفس ” والے دفتروں میں سارا سار دن مکھیاں مارا کرتے تھے کیونکہ سب لوگ بر سر روزگار تھے اور کوئی جوب کی تلاش میں ان کے پاس نہیں جاتا لیکن آج اسی اوفس کے لوگوں کے پاس سر کھجانے کی فرصت نہیں کہ تین میلین بے روزگاروں کو کہاں سے جوب مہیا کریں ؟ ۔صبح سات سے دن بارہ بجے تک پبلک سروس اور بارہ بجے سے شام پانچ بجے تک فائلوں میں سر کھپاتے ہیں لیکن کسی کو جوب مہیا نہیں کر سکتے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کے سبب بے روزگاری میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے جو کہ وقت اور حالات کو مد نظر رکھا جائے تو درست ہے۔

سکولز میں نسل پرستی رحجان ” ۔گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے سے پہلے سکول کا آخری دن تھا جرمن زبان سکھانے والی ترکی نژاد جرمن ٹیچر عائشہ سکول کے آخری دن پر خوش تھی وہ جلدی سے ایک طالب علم کے سرٹیفیکیٹ کو فائل میں ڈال کر بند کرنا چاہتی تھی جو اسی سکول میں اگلی کلاس میں جارہی تھی کہ اچانک ایک صفحے پر اس کی نظر پڑی ، عائشہ نے کہا کہ پڑھنے کے بعد مجھے ایک شاک لگا اور ایسا محسوس ہوا کسی نے سر پر ہتھوڑا مار دیا ہو ، عائشہ نے بتایا کہ اس صفحے پر لکھا تھا کہ لڑکی کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ ان کی لڑکی عائشہ کی کلاس اٹینڈ کرے وہ چاہتے تھے کہ ٹیچر جرمن ہو نہ کہ ترکی ،عائشہ نے رنجیدہ لہجے میں کہا کہ مجھے ان لوگوں کی ذہنیت اور سوچ پر نہایت افسوس ہوا لیکن کچھ کر نہیں سکتی ، حالانکہ نسل پرستی سکولز میں ممنوع ہے غیر ملکی ٹیچرز اور خاص طور پر ترکی ٹیچرز کو ترک مافیا جیسے الفاظ سے پکارا جاتا ہے کئی والدین اکثر گمنام طریقوں سے ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہ ” ہم ایک غیر متشدد جرمن خاندان ہیں ” کئی بار سکولز ایڈمنسٹریشن تک ان معاملات اور ناروا سلوک کا تذکرہ کیا لیکن سب ہمیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ، سب جانتے ہیں کہ نسل پرستی سکولز میں ممنوع ہے اور کوئی بھی اس سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا اسکے باوجود ہمیں ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جرمن سکولز کے ایک نیٹ ورک کونسل کی ممبر نے بتایا کہ ہم سب جانتے ہیں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کئی اساتذہ بھی طالب علموں کے خلاف امتیازی برتاؤ کرتے ہیں ، کلاس یا سکولز گراؤنڈ میں غیر ملکی زبان بولنے پر پابندی عائد ہے لیکن پھر بھی کئی طالب علم اور حتیٰ کہ اساتذہ بھی ایک دوسرے سے یا طلب علموں سے غیر ملکی زبان میں مخاطب ہوتے ہیں۔

انیس سالہ انیلا نے بتایاکہ وہ اپنے مارکس کے بارے میں شش و پنج میں مبتلا تھی اور اپنے جرمن ٹیچر سے سوال کیا تو اس کا جواب تھا تمہیں منفی چار نمبر ملیں گے اگر تم اپنا سکارف اتار دو گی تو پلس تین نمبر پاؤ گی ، انیلا کا کہنا ہے یہ جواب سن کر وہ مزید پریشان ہو گئی کافی دیر سوچتی رہی کہ جو ٹیچر نے کہا اس پر عمل کروں یا نہ کروں لیکن کچھ دیر بعد فیصلہ کر لیا کہ اپنا سکارف نہیں اتاروں گی بھلے مجھے فیل کر دیا جائے ،اور میرے اس فیصلے پر مجھے تین کی بجائے چار نمبر پلس دئے ،وہ ان باتوں کو سکول ایڈمنسٹریشن تک پہنچانا چاہتی تھی لیکن عمل نہیں کیا کہ کہیں اسکا ٹیچر اسکے لئے واقعی کوئی مسئلہ نہ پیدا کرے ۔ یہ بھی نسل پرستی کی کیٹا گری میں شمار ہوتا ہے ، افہام وتفہیم کی کمی منفی نتائج اور خوف کا عالم پیدا کرتی ہے اکثر منفی سوال و جواب میں غلط فہمیاں ہوتی ہیں ، سکول نیٹ ورک کونسل کی ممبر کا کہنا ہے اس حساس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے ہیمبرگ میں قائم کمیٹی کو مطلع کیا گیا ہے جس میں تمام سکولز نیٹ ورک کے ممبران شرکت کریں گے ،اساتذہ کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنے یا مدد حاصل کرنے کا پروگرام تشکیل دیا جائے گا مثال کے طور پر اساتذہ کی تربیت کس سٹیٹ انسٹی ٹیوٹ میں بین الثقافتی پروگرام کے تحت ہوئی اور یہ کہ تعصب اور امتیازی سلوک سے نمٹنے کیلئے کیا اقدام کئے جائیں۔

اینٹی ڈسکری مینیشن ایجنسی اپنی حالیہ رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ سکولوں میں امتیازی سلوک کے بارے میں طالب علم اپنے حقوق سے لاعلم ہوتے ہیں انہیں واقعات رونما ہونے کے بعد رابطے اور مشاورتی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے علاوہ ازیں اساتذہ کو مزید بیداری کی ضرورت ہے عام طور پر سکولز میں امتیازی سلوک نہیں ہوتا لیکن رونما ہونے کے بعد اسے احسن طریقے سے حل کرنے میں روکاوٹیں پیش آتی ہیں کیونکہ مختلف ممالک کے والدین اکثر سکول سسٹم کو سمجھ نہیں پاتے انہیں مزید جرمن کلچر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کئی تارکین وطن اپنے کلچر کو یہاں روشناس کرانے یا اپنے ممالک کے تعلیمی نظام کو مد نظر رکھ کر سوچتے ہیں اور اسی وجہ سے بچوں میں دو کلچر کو سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے ، ہمیں اپنا سکول سسٹم تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اساتذہ کی کارکردگی ، بین الثقافتی ، تعلیمی تحقیق کی شمولیت اور مساوی سلوک ایکٹ کو صحیع طریقے سے استعمال کرنے پر زور دینا ہے اور نسل پرستی کو روکنے کی کوشش کرنی ہے اس کی حمایت میں سب کو شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ہم نہیں چاہتے کہ نسل پرستی اور امتیازی سلوک بار بار ملک میں خاص موضوع بنا رہے بلکہ ملٹی کلچر کو قبول کیا جائے لیکن ریاستی قوانین پر بھی عمل درامد ہوں۔گزشتہ دنوں یہ خبر بھی عام ہوئی کہ ایک سکول ٹیچر نے توہین آمیز الفاظ میں کہا ” تم ترکی لوگ خصوصاً سکارف پہننے والے صرف صفائی کا کام کر سکتے ہو” ۔اس بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس ٹیچر کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

نسل پرستی اور امتیازی سلوک پورے یورپ میں پھیل چکا ہے اس کا صرف ایک ہی حل ہے ” جیسا دیس ویسا بھیس ” تارکین وطن کو چاہئے کہ اپنے کلچر کے ساتھ ساتھ مغربی کلچر کو بھی قبول کریں خاص طور پر بچوں کو سکھایا جائے کہ دوسرے ممالک یا کلچر سے تعلق رکھنے والے افراد سے بداخلاقی نہ کریں نہیں تو یہ بات بھی سچ ہے جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے ،علاوہ ازیں مغرب میں پیدا ہونے والے بچوں کو انکی عمر کی ایک حد تک آپ انہیں سمجھا سکتے ہیں ، کیونکہ ان کا مستقبل مغرب سے وابستہ ہے اسلئے ان پر زور زبردستی یا دباؤ ڈالنے سے انکی زندگی اور مستقبل میں روکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے سوچنا یہ ہے کہ ہم کیسے ان پیچیدہ اور حساس معاملات کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟۔

Shahid Shakeel
Shahid Shakeel

تحریر : شاہد شکیل جرمنی

Share this:
Tags:
country discrimination germany laws pakistan Shahid Shakeel Society امتیازی سلوک جرمنی قوانین معاشرے ملک
Sarwar Siddiqui
Previous Post ہاتھی اور سفید ہاتھی
Next Post وزیراعظم کا جاری کردہ پی سی بی کے نئے آئین کا نوٹیفیکشن معطل

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close