Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

طلاق ثلاثہ میڈیا اور مسلمانوں کا لائحہ عمل

October 16, 2016October 16, 2016 0 1 min read
Divorce
Divorce
Divorce

تحریر: ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
ہندوستان میں باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ ان دنوں دیکھ رہا ہے کہ سارا ہندوستانی میڈیا بس اس بات کوپیش کرنے میں لگا ہوا ہے کہ ہندوستان میں طلاق ثلاثہ کو لے کر مسلم عورتوں پر بہت ظلم ہورہا ہے۔ مظلوم عورتوں نے جب اپنی فریاد سپریم کورٹ تک پہونچائی اور سپریم کورٹ نے جب حکومت سے سوال کیا کہ وہ ان عورتوں پر ہورہے ظلم کے مداوے کے لیے کیا کر رہا ہے تو حکومت نے ان عورتوں کی تائید میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کردیا کہ وہ ایسا کوئی قانون بنائے گی جس کے ذریعے نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کے تمام طبقات کی عورتوں پر مظالم نہ ہوں۔ لا کمیشن نے مسلمانوں سے رائے طلب کرنے کے لیے سوال نامہ جاری کیا کہ وہ اپنی رائے دیں جس پر مسلم پرسنل لا بورڈ نے ایک آواز میں یہ کہہ کر لا کمیشن کے سوال نامے کا بائیکاٹ کردیا کہ ہم حکومت کے حلف نامے اور لا کمیشن کے سوال نامے کو شریعت میں مداخلت تصور کرتے ہیں اور اسے اس سازش کا پیش خیمہ کہتے ہیں جس کے ذریعے حکومت مسلمانوں پر یکساں سیول کوڈ لانے کی کوشش کر رہی ہے حکومت نے واضح کرنے کی کوشش کی کہ حلف نامہ کا سیول کوڈ سے کوئی تعلق نہیں لیکن میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں ایسا ماحول گرم کیا جارہاہے کہ مسلمان عورتوں پر طلاق ثلاثہ کے ذریعے ظلم ہورہاہے اور اسے فوری روکنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔ جو لوگ گھر میں بیٹھے نیوز چینل دیکھ رہے ہیں یا اخبار پڑھتے ہیں انہیں انداز ہو رہا کہ میڈیا کے مختلف گروپوں کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کا ایک اچھا مسئلہ مل گیا ہے اور اسے خوب نمک مرچ لگا کر اچھالا جارہا ہے۔

اس کے لیے ہر چینل طلاق ثلاثہ کی تائید اور مخالفت میں کچھ بولنے والوں کو مدعو کر رہا ہے اور مسلم پرسنل لا اور علماء و قضائت طبقہ کو راست نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا جارہا ہے کہ بولو آپ کیا کہتے ہیں اس بات پر کہ طلاق ثلاثہ یعنی بہ یک وقت زبانی’ ایس ایم ایس یا واٹس اپ پیغام کے ذریعے طلاق دے کر عورتوں کو جس طرح مسلم طبقے میں ظلم سے دوچار کیا جارہا ہے یہ درست ہے یا غلط۔ سوال کرنے والے پروگرام اینکرز میں سے اکثریت اس بات سے واقف نہیں ہے کہ اسلام میں طلاق ثلاثہ کی حقیقت کیا ہے۔ تین طہر میں طلاق کیا ہے اور طلاق کے بعد اگر حلالہ کے ذریعے سابقہ بیوی سے نکاح کے صورت نکالی جائے تو اس کے امکانات کیا ہیں۔ بس سیدھے سوال کیا جارہا ہے اور تائید میں کہا جارہا ہے کہ پاکستان ‘ ایران’ بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں طلاق ثلاثہ کو غلط قرار دیا جارہا ہے تو ہندوستان کے علماء کیوں اس کی تائید کرتے ہیں۔ میڈیا جو کل تک پاکستان کو ہندوستان کا نمبر ایک دشمن کہہ رہا تھا آج وہ مثال دے رہا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اس کی تقلید کرنی چاہئے جب کہ ہندوستانی علماء نے کہہ دیا ہے کہ ہماری شریعت قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور ہمیں اپنی شریعت پر عمل پیرا ہونے کے لیے کسی اسلامی ملک کی مثال لینے کی ضرورت نہیں ہے اور علماء نے واضح کردیا کہ جس پاکستان کی بات کی جارہی ہے وہاں ناموس کی خاطر عورتوں پر مظالم کی بدترین مثالیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔میڈیا نے اب تک کی جو تصویر بنائی ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مسلم پرسنل لا کے بشمول ہندوستان کے علماء کا وہ طبقہ جو یہ بات مانتا ہے کہ جہالت اور دیگر اسباب کی وجہہ سے کوئی مسلمان مذکورہ انداز میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ طلاق ہوجاتی ہے لیکن اس کے بعد عورت پر جو مظالم معاشی حالات کے پیش نظر ہورہے ہیں اس کے لیے ہمارا مسلم سماج جہاں زکوة اور بیت المال کا نظام مستحکم ہونا چاہئے وہ کیا کر رہا ہے۔

اب تک کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو میڈیا مسلم پرسنل لا کی اس معاملے میں طویل مدتی انفعالیت اور مسلم طبقے میں سماجی و عائلی مسائل کے حل کے لیے شرعی پنچایت اور قضائت نظام کی کمزوری کو واضح کرچکا ہے۔ اور ہندوستان میں مسلکی اعتبار سے بھی طلاق ثلاثہ معاملے میں بعض مسالک کے متضاد رویے کو بھانپ کر ہندوستانی مسلمانوں کو آپس میں بانٹنے کی سازش میں کامیاب لگتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم دانشور طبقہ’علمائے کرام اور ہندوستان کا عام مسلمان اس معاملے کو کیسے حل کرے۔ سب سے پہلی یہ بات ہے کہ اس معاملے کو میڈیا کے ٹیبل پر کم سے کم لانے کی کوشش کی جائے۔ ہندوستان کے ان تمام دانشوروں سے کہا جائے کو وہ کسی میڈیا چینل پر بات کرنے جارہا ہے تو وہ چینل والے سے پہلے پوچھ لے کہ وہ اسلامی شریعت کو کس حد تک جانتا ہے ۔ طلاق کے معاملے میں اس کی معلومات کیا ہیں اور وہ ہمیں اپنی بات صاف طورپر پیش کرنے کا کس قدر موقع دے گا۔ دیکھا یہ جارہا ہے کہ میڈیا کے بعض بدنام گھرانے علما اور پرسنل لا بورڈ سے متعلق بعض احباب کو مدعو کررہے ہیں اور انہیں مکمل طور پر اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں۔ حقوق نسوان کی علمبردار بعض خواتین کو بلایا جارہا ہے اور وہ کہہ رہی ہیں کہ یوپی بہار اور دیگر تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ریاستوں میں عورتوں پر یکبارگی طلاق کی بے شمار مثالیں ہیں جن کی جانب علما اور مذہبی ادارے کچھ نہیں کرتے ۔ اس لیے عورتوں کو اپنے تحفظ کے لیے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ رہا ہے۔

Divorce
Divorce

اس سوال کے جواب میں علما کہہ رہے ہیں کہ طلاق ثلاثہ سے متاثرہ عورتوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اور حکومت سوچے سمجھے پروگرام کے تحت اس معاملے کو ہوا دے رہی ہیں۔ ایک گوشے سے کہا گیا کہ موجودہ حکومت کو جہاں مسلمانوں کے کسی معاملے سے دلچسپی نہیں ہے وہ اچانک مسلم عورتوں کی اس قدر ہمدرد کیسے بن گئی ہے ۔ سوال کرنے والے سے پوچھا گیا کہ کیا یہ یوپی الیکشن سے قبل مسلمانوں کو اپنی جانب متوجہ دکرنی کی ایک چال تو نہیں یا یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی طرف ایک قدم تو نہیں۔ اس سارے معاملے کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے وہ مسلم طبقے کے لیے کچھ اچھی نہیں ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھلے ہی لا کمیشن کے سوال نامے کے بائیکاٹ کرنے کا متفقہ اعلان کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کی اس معاملے میں ایک آواز کو حکومت تک پہونچا دیا ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ ‘ہندوستانی مسلمانوں کے تمام مسالک اور ہندوستان کے تمام شہروں میں موجود نظام قضائت کے لیے یہ وقت عمل کا ہے باتوں کا نہیں کہ وہ اٹیک اس دا بیسٹ ڈیفنس کے طور پر حقوق نسواں’عورتوں کے مظالم پر آواز اٹھانے والی تنظیموں اور عمومی طور پر سارے ہندوستان میں یہ اعلان کردے کے کن کن عورتوں پر طلاق ثلاثہ کی وجہہ سے ظلم ہوا ہے وہ آکر بتا دے ۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ ہندوستان کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں میں کتنے فیصد مسلم خواتین کو اس طلاق ثلاثہ معاملے سے نقصان پہونچا ہے۔

ان عورتوں کی معاشی اعتبار سے باز آباد کاری کی جائے اور سماجی اعتبار سے ان کی شادی اور تحفظ کی بات کی جائے۔ سارے ہندوستان میں جوابی طور پر ایک تحریک کے طور پر شعور بے داری عام کی جائے کہ وہ کونسا طبقہ ہے جو تین طلاق معاملے کو اتنی آسانی سے لے رہا ہے جب کہ بنیادی طور پر تھوڑا بہت اسلام جاننے والا مسلمان بھی یہ جانتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وصلم نے یہ واضح کردیا کہ اچھی باتوں میں سب سے نا پسندیدہ عمل طلاق ہے۔ اس طرح کی طلاق یا مسلمانوں کے دیگر عائلی مسائل کو سب سے پہلے شرعی پنچایتوں میں پیش کیا جائے۔ مسلم پرسنل لا بورٹ’جمعیت علمائے ہند اور اوقاف کے تحت کام کرنے والے قضائت نظام کے لیے اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہر شہر اور بڑے بڑے ٹائونس میں شرعی پنچایت نظام کو مستحکم کیا جائے۔جس میں قاضی وقت’مفتی’عالم’مسلمان وکیل اور سماجی کارکن ہوں جو دونوں فریقین میں پہلے افہام و تفہیم کرائے اور بات نا بنے تو شرعی طریقے سے طلاق یا دیگر امور کے فیصلے کیے جائیں اور دونوں فریقین کو لازمی کیا جائے کہ وہ شرعی پنچایت کے فیصلے کوایسا ہی مانے جیسا کہ کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہیں۔ہندوستان کے بعض شہروں میں شرعی پنچایت کا نظام ہے لیکن اسے مسلکی اختلافات میں الجھا کر کمزور کیا گیا ہے اس کے لیے بین مسلکی شرعی پنچایت بنائی جائے تو بھی بہتر ہوگا۔ لیکن موجودہ صورتحال کے حل اور لوگوں کے سامنے اچھی تصویر پیش کرنے کے لیے یہ کام از حد ضروری ہے اور اسے فوری عمل میں لایا جائے۔

عمومی طور پر جب بین مذاہب کا سروے کیا جاتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی سب سے کم شرح ہے ۔مسلمانوں کے تعدد ازدواج معاملے کو بھی لایا گیا کہ مسلمان مرد زیادہ شادیاں کرکے عورتوں پر ظلم کر رہا ہے تو واضح کیا جائے کہ تعدد ازدواج کی اکثر مثالیں عورت کو تحفظ دینے کے لیے ہیں نہ کہ نفسانی خواہشات کی تکمیل یا پہلی عورت پر ظلم کرن کے لیے۔ سماج پر یہ بھی واضح کردیا جائے کہ مسلمانوں میں زنا کاری سب سے کم ہے جب کہ دیگر سماج میں جہاں تعدد ازدواج پر پابندی یہ وہاںزنا کاری اور عورتوں پر مظالم کس قدر زیادہ ہیں۔ تمام شہروں اور دیہاتوں میں جلسوں کے انعقاد کے ذریعے اس بات کو عام کیا جائے کہ اسلام دین فطرت ہے جہاں اس نے شادی بیاہ اور زندگی کے تمام امور میں آسانی رکھی ہے وہیں اس نے میاں بیوی میں علٰحیدگی کی ناپسندیدہ صورت میں بھی طلاق کا احسن طریقہ طویل وقفہ والا رکھا ہے۔ میڈیا کے مباحث میں مسلمانوں کی طرف سے بات کرتے ہوئے کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ اگر حکومت مسلم عورتوں کے مظالم کو کم کرنے کے لیے کسی قسم کی قانون سازی کرتی ہے تو اس کی نوعیت کیا ہوگی۔کیوں کہ جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ ہندوستان میں ہر قسم کا قانون رکھنے کے باوجود جرائم کی تعداد کم نہیں ہوتی تو اس معاملے میں قانون سازی کے بعد طلاق دینے والے مرد کو کیا سزا ہوگی یا اسے کیسے طلاق جیسے عمل سے روکا جائے گا۔ جب کو وہ شراب کی نشے میں یا کسی اور وجہہ سے طلاق دے رہا ہو اسے کس قانون کے تحت پابند کیا جائے گا کہ وہ طلاق نہ دے۔ لیکن اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا کہ حکومت آخر کس قسم کی قانون سازی لانا چاہتی ہے۔ جب کہ اس کے ماننے والے بھی تو ہوں۔

Muslim Intellectuals
Muslim Intellectuals

میڈیا کے اس یک طرفہ حملے کے جواب کے طور پر مسلم دانشوروں کو متحد ہونا ہوگا اور انہیں میڈیا کے سامنا کرنے سے قبل اپنے آپ کو علمی اعتبار سے مکمل تیار ہوکر جانا ہوگا یا یہ کہہ دیا جائے کہ ہم میڈیا کے ذریعے اس معاملے پر بات کرنا نہیں چاہتے ۔ یہ کام ہندوستانی علماء اور پرسنل لا بورڈ کا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے۔ علمائے کرام کی جانب سے کہا گیا کہ اس معاملے کے حل کے لیے مسلمانوں کے اس طبقے کی شعور بیدار ی کی جائے گی جو کم علمی’دین سے دوری کے سبب اس قسم کی حرکت کر رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مسلم دانشور طبقے کو کئی طرف سے جاگنے کی ضرورت ہے۔ پہلے یہ کہ دانشور طبقہ میڈیا کا مہرہ نا بنے اور اس طبقے سے ہوشیار رہے جو مسلمانوں کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ارنب گو سوامی کے ایک سوال پر جب ایک مسلم دانشور نے کہا کہ طلاق کا احسن طریقہ تین مہینوں میں الگ الگ طلاق دینے کا ہے تو اسلامی شریعت سے ناواقف ارنب گوسوامی نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ کیا طلاق ای ایم آئی ہے جو قسط وار دی جاتی ہے۔ یہ بات کسی نے نوٹ نہیں کی جب کہ ایک مباحثے میں کہا گیا اور یوٹیوب پر یہ ویڈیو موجود ہے۔

مسلمان میڈیا پر اپنی شرائط اور سامنے والے کے اسلامی شریعت سے واقفیت کی بنا بات کریں۔ دوسرے یہ کہ اسلامی شریعت کو بہتر طور پر پیش کرنے کے لیے اپنا کوئی میڈیا ہائوز ہو یا کسی ہم خیال چینل سے بات کی جائے۔ این ڈی ٹی وی کے راوش کمار نے نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے اس معاملے پر اچھی بات کی ہے۔ چنانچہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم دانشور طبقہ اس طرح کے پلیٹ فارم سے اپنی بات واضح کرے۔ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے سارے ملک میں اس تعلق سے شعور بیداری مہم چلائی جائے۔ مسلمانوں کا سنجیدہ طبقہ جو انگریزی میں لکھ سکتا ہے اور بول سکتا ہے وہ اس پہلو کو اپنی تحریروں سے واضح کرے۔ سیاسی سطح پر حکومت کے خلاف جوشیلے بیانات دینے کے بجائے حکومت سے پوچھا جائے کہ مسلم عورتوں کے مظالم پر مگر مچھ کے آنسو بہانے والی حکومت مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کیا کرے گی کیوں کہ طلاق کی بنیادی وجہہ معاشی بدحالی ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ ہندوستانی مسلمان مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اور اس بات پر دورائے نا رکھتے ہوئے کہ ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں یا نہیں اجتماعی طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشی ‘سماجی’سیاسی ترقی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں اور حکومت سے اپنے اختیارات کا مطالبہ کریں۔ جو لوگ قانون جانتے ہیں وہ حکومت اور سپریم کورٹ تک اپنی آواز پہونچائیں کہ جب دستور ہند مسلمانوں کو اپنے مذہب پر چلنے کی مکمل آزادی دیتا ہے تو مسلمانوں کو شادی بیاہ اور طلاق جیسے معاملے میں حکومت یا سپریم کورٹ کی ہدایت کی کیوں ضرو رت ہے۔

Supreme Court
Supreme Court

اس معاملے کو لے کر سپریم کورٹ میں جوابی عرضی داخل کی جائے اور سپریم کورٹ سے پوچھا جائے کہ مسلمانوں کے لیے ہندوستان میں دستوری تحفظ ہے کہ نہیں۔ مسلم دانشور اور پرسنل لا بورڈ ان انفرادی گروپوں سے بھی نمٹے جو یہ تصویر پیش کر رہے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان عورت کے ساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔ مختلف چینلوں پر جو خواتین بات کرتی نظر آرہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ سے متاثرہ عورتوں کے لیے کوئی نظام نہیں ہے۔ اس جانب بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ ایک اور اہم پہلو جسے نشانہ بنایا جارہا ہے وہ فوری توجہ طلب ہے کہ ایس ایم ایس ‘واٹس اپ یا کسی اور ذریعے سے جب کسی عورت کو طلاق نامہ ملتا ہے تو اس کا فیصلہ کیسے کیا جائے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ۔ جب کہ فقہی سوالات میں یہ سوال بھی پیش ہوا کہ کسی خاتون کے مرد کا فون اس کے دوست نے لے لیا اور اس فون سے طلاق بھیج دی گئی۔ مرد کو پتہ ہی نہیں کہ اس کے فون سے طلاق نامہ گیا اور عورت جب قاضی یا عالم کے پاس جاتی ہے تو اس کے طلاق کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ نئے زمانے کے اس طرح کے مسائل پر اجتہاد کی ضرورت ہے۔ جب کہ اللہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وصلم کے زمانے کی دو مثالیں احادیث میں ملتی ہیں کہ ایک میں ایک صحابی نے تین طلاق دی تھی لیکن اللہ کے رسول کے پاس کہا تھا کہ ان کا انداز تاکید کا تھا اور وہ پہلی طلاق کا ہی انداز تھا جس پر طلاق واقع قرار نہیں دی گئی اور ایک معاملے میں تین طلاق پر آپۖ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا جس سے علما نے یہ بات اخذ کی کہ جب طلاق واقع ہوئی تب ہی آپ ۖ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

ان حالات میں الیکٹرانک ذرائع یا پوسٹ کے ذریعے دی گئی طلاق کے واقع ہونے کے سلسلے میں عورت کے تحفظ کے لیے کیا پہلو ہیں ان کی وضاحت مظلوم عورتوں کے علاوہ حقوق نسوان کی علمبردار خواتین اور تنظیموں کو کرنی ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دین سے دوری کے سبب یہ تمام باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے دعوت دین اور لوگوں میں شریعت کی پابندی کے لیے ایمانی محنت کو عام کرنا بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے موجودہ حالات مسلمانان ہند کے لیے ایک طرف امتحان ہیں تو دوسری طرف ایک موقع ہیں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرلیں۔ دین کی دعوت کو عام کریں۔ مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوکر ہم متحد ہوجائیں۔ اور فطری زندگی کے سکون کے لیے تڑپ رہی انسانیت کے سامنے ایسی تصویر پیش کردیں کہ نہ صرف شادی بیاہ اور طلاق بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اسلامی تعلیمات ہی سب کے لیے سکون کا باعث ہیں۔ میڈیا نے جو واویلا مچایا ہے اس کا سنجیدگی سے جواب دیا جائے اور سیاسی و مذہبی طور پر مسلمان متحد ہوں تو ہی وہ اپنے مسائل کا حل کرسکتے ہیں۔

Dr Mohammad Aslam Farooqi
Dr Mohammad Aslam Farooqi

تحریر: ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد تلنگانہ اسٹیٹ

Divorce
Divorce
Share this:
Tags:
divorce muslims strategy تعلیم طلاق لائحہ عمل مسلمانوں میڈیا
Chaudhry Rehmat Ali
Previous Post چودھری رحمت علی اور صحافت کے عظیم لوگوں کی ذمہ داریاں
Next Post گجرات کی خبریں 15/10/2016
Gujrat

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close