Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

شیخ محمد ابراہیم المعروف صائم چشتی

September 12, 2015September 12, 2015 0 1 min read
Allama Saem Chishti
Allama Saem Chishti
Allama Saem Chishti

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ، دبئی
ارض پاکستان، ہر دور میں اہل کمال سے مزین رہی ہے ۔علوم وفنون کا ہر شعبہ مادرِ وطن کے نامور سپوتوں سے جگمگاتا رہا ہے اور کرہء ارضی کا ہر گوشہ ،پاک سرزمین کے انہی باکمال وبے مثال لوگوں سے چھلک رہا ہے ۔خدمت انسانی ہو یا فلاح معاشرہ ،علم وعمل کے یہ پیکر ہرشعبہ ء زندگانی میں اپنی قابلیت وکاملیت کے جھنڈے گاڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ایسے ہی بے مثل وبے نظیر لوگوں میں ایک گراں منزلت نام حضر ت علامہ صائم چشتی اعلی اللہ مقامہ کا ہے جنہوں نے تفسیر قرآن،شرح حدیث ِنبوی ،تحقیق ،ترجمہ ،تبلیغ دین ،ادب اور نعتیہ شاعری میں بھرپور طریقہ سے اپنی بلند پایہ شخصیت کو منوایا ہے۔

پیدائش وتعلیم
آپ ٢٥دسمبر،١٩٣٢ء میں ایک مذہبی گھرانے میںپیدا ہوئے ۔محمد ابراہیم نام رکھا گیا ۔آپ کے والد کا نام شیخ محمد اسما عیل تھا ۔آپ کا آبائی قصبہ گنڈی ونڈنزد سرائے امانت خان،تھانہ جھبال ، تحصیل ترنتارن ،ضلع امرتسر تھا ۔آپ نے قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم والد بزرگوار سے حاصل کی ۔تعلیمی لحاظ سے آپ ذہین اور محنت پسند تھے ۔رات دیر تک مطالعہ کرنے کی عادت کم عمری سے تھی ۔ پرائمری تعلیم گنڈی ونڈ میں مکمل کی اور جامعہ رضویہ مظہر الاسلام ،فیصل آباد میں سید منصور شاہ سے صرف ونحواور علوم متداولہ کا آٹھ سالہ کورس ،دو سال میں مکمل کیا ۔١٩٧٠ء میں مولانا غلام رسول رضوی سے دورہ حدیث کیا ۔علوم دینیہ کے علاوہ طبیہ کالج سے طب یونانی میں ڈپلومہ حاصل کیا۔

ازدواج واولاد
١٩٤٨ء میں آپ نے بی بی غلام فاطمہ سے عقد کیا جن سے تین صاحبزادے محمدلطیف ساجد،شفیق مجاہد اور توصیف حیدر اور تین صاحبزادیاں متولد ہوئیں ۔آپ کی اولاد بھی آپ ہی کے نقش قدم پر ہے اور آپ کے انمول ورثہ کی حفاظت کرتے آپ کے افکار کی ترویج واشاعت میں کوشاں ہے۔

حج بیت اللہ
آپ ١٩٧٨ء کو پہلی مرتبہ حج بیت اللہ کو تشریف لے گئے اور بارگاہ رسالت ۖمیں حاضری دی۔

Bazm e Saem International
Bazm e Saem International

تصانیف
آپ کی تمام گرانقدر تصانیف منفرد اور امتیازی حیثیت کی حامل ہیں ۔آپ کی تحقیق وتحریر کا سفر ”محمد کا در ،چھوڑ کر جانے والو ”سے شروع ہو کر ”ن والقلم ”تک ہے ۔آپ کی تحقیق،محققین کے لئے مستند حوالے کا درجہ رکھتی ہے ۔آپ کی معرکة الآرا تصانیف میں البتول ،مشکل کشا،ایمان ابی طالب ،شہید ابن شہید،گیارہویں شریف ،المدد یا رسول اللہ ، خطبات چشتیہ سرفہرست ہیں ۔محتاط اندازے کے مطابق آپ کی کل نثری وشعری کتب پانچ سو کے قریب ہیں جن میں نعت ومنقبت ،سیرت وسوانح،تاریخ وتحقیق ،تراجم اور لغت کی کتب شامل ہیں ۔ آپ نے کئی اداروں کا کام تنہا سرانجام دیا ۔آپ کی پنجابی کتب کی فہرست ڈاکٹر شہباز ملک نے پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام چھپنے والی ”پنجابی کتابیات ” میں شامل کی ہے۔

شاعری
آپ فیصل آباد کی سرزمین سے نعتیہ ادب کے افق پر جلوہ افروز ہوئے ۔جس وقت انہوں نے نعتیہ کلام کا آغاز کیا اس وقت فیصل آباد میں نعت گوئی کی روایت کم کم تھی ۔ آپ نے سینکڑوں مجموعہ ہائے نعت کا گلدستہ بارگاہ نبوی میں پیش کیا جن میں نعت ،قصائد ،مناقب،دوہڑے ،رباعیات کے مجموعے شامل ہیں ۔آپ نے نعت گوئی کے لئے تحریک کے طور پہ کام کیا جس باعث آج فیصل آباد ”شہر نعت ” کہلاتا ہے ۔ آپ ہی کے کلام کی ادائیگی نے خان نصرت فتح علی خان کو بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔کلام صائم نے صدائے نصرت اور صدائے نصرت نے کلام صائم کوجاوداں کرد یا۔

آپ کے مجموعہ ہائے کلام میں نور دا ظہور،نوائے صائم (چار حصے)،ہے کعبہ وی جھکدا محمد ۖدے در تے ،روح کائنات ،جان کائنات ،نور ای نور ،نور دے خزینے ،صائم دے دوہڑے ،صائم دیاں رباعیاں ،کعبے دا کعبہ ،جلوے ،نظارے ،میخانہ ،نور دا چشمہ ،کربلائی دوہڑے ،زینب دا وِیر،خاتون ِجنت قابل ذکر ہیں۔

Khasaes e Ali r.a
Khasaes e Ali r.a

تراجم
آپ نے دقیق ترین عربی وفارسی کتب کے اردو زبان میں ترجمے کئے جن میں تفسیر کبیر (فخر الدین رازی)،تفسیر خازن (خازن بغدادی )،تفسیر ابن عربی (شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی )،فتوحات مکیہ (شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی )،کتاب النفس والروح ( فخر الدین رازی )،خصائص نسائی فی فضائل مرتضوی (امام نسائی )،مسالک الحنفاء والدین مصطفٰی ۖ(جلال الدین سیوطی )،الریاض النظرہ فی مناقب عشرہ (محب طبری )،

دفع الوسواس فی قال بعد الناس (علی قاری )،الشرف المئوبد لآل محمد (امام نبھانی )،مناجات غزالی (امام غزالی )،سیرت نبویہ (قاضی دھلان مکی )،قصیدہ امینیہ (سید امین شاہ )،قصیدہ بردہ شریف منظوم (امام بوصیری)،روضة الشہداء (حسین واعظ کاشفی )،فتاویٰ شاہ رفیع الدین ( شاہ رفیع الدین )،ہدیة المہدی (علامہ وحید الزمان ) ،یک روزہ (اسماعیل دہلوی )،کتاب المغازی (علامہ واقدی) ،مثنوی نور ہدایت (علامہ حامد الوارثی )،سیرت دحلانیہ (قاضی احمد بن زین دحلان مکی )،اسنٰی المطالب فی نجات ابوطالب(قاضی احمدبن زین دحلان مکی) شامل ہیں ۔آپ نے تقریباََساٹھ عربی کتب اور آٹھ فارسی کتب کا اردو زبان میں ترجمہ فرمایا۔

آپ کی ترجمہ نگاری
ترجمہ نگاری اصناف ادب میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔قرآن پاک کا نزول عربی زبان میںہو اتو دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ۔احادیث نبوی شریف کے تراجم دنیا کی کئی زبانوں میں ہوئے ۔تبلیغ اسلام میں ترجمہ نگاری کی اہمیت مسلم ہے ۔فی زمانہ عربی وفارسی زبانوں کی طرف عدم توجہ کے باعث لاتعداد کتب عام لوگوں کی پہنچ سے دور تھیں اوراس امر کی اشد ضرورت تھی کہ ان کے تراجم اردو زبان میں ہوں۔

Saem Chishti Road, Faisalabad
Saem Chishti Road, Faisalabad

حضرت صائم نے اس اہم کام کا ذمہ لیا اور تن تنہا گرانقدر کام کیا ۔آپ نے ان کتب کا نتخاب کیا جن کے نہ صرف تراجم پہلے نہیںہوئے تھے بلکہ اصل کتب بھی پاک وہند میں دستیاب نہیں تھیں ۔ ان میں تفسیر ،حدیث، تاریخ،سیرت ،تصوف اور ادب کی عظیم کتب شامل ہیں ۔آپ کے تراجم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے سہل نگاری کے ساتھ ساتھ اصل کتاب کے متن کو ترجمہ سے قریب تر رکھا ہے جس باعث اصل مضامین کمی بیشی کا شکار نہیں ہوئے ۔آپ نے آیات مبارکہ اور احادیث شریف کے ساتھ کتب کا عربی متن بھی شامل کیا ہے تا کہ قارئین اصل عبارت کے ساتھ ترجمے کا موازنہ کر سکیں اور علمائے کرام اصل عبارت سے استفادہ کر سکیں ۔اس انداز نے نہ صرف ترجمہ عوام تک پہنچایا ہے بلکہ اصل کتاب بھی محفوظ ہو کر اگلے زمانوں تک کے لئے مفید ہو گئی ہے ۔آپ اردووپنجابی نظم و نثر کے بے تاج بادشاہ ہیں ۔آپ کی جملہ کتب چشتیہ کتب خانہ ،ارشدمارکیٹ، جھنگ بازار ، فیصل آباد سے دستیاب ہیں۔

زبان خلق
سابق وفاقی وزیر،ممتاز عالم دین مولانا کوثر نیازی ،صائم صاحب کی لاجواب تصنیف” ایمان ابو طالب ”کی تقریظ میں رقمطراز ہیں،
حضرت علامہ صائم چشتی کی کتاب ”ایمان ابو طالب ”یقیناان کے لئے ذریعہء نجات ثابت ہو گی ۔یہ عاشقان رسول اور محبان آل رسول کے لئے ایک انمول تحفہ ہے ۔ اس موضوع پر اولین وآخرین میں سے آج تک کسی نے ایسی جامع علمی تصنیف پیش نہیں کی ۔

آپ نے١٩٦٢ء میں سید محمد امین علی شاہ صاحب کے قصیدہ امینیہ کاا ردو ترجمہ کیا جس کے بارے میں سید محمد امین علی شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ میں عربی عبارت پڑھتا تھا اور علامہ صائم صاحب اس کا فی البدیہہ ترجمہ کرتے جاتے تھے ۔سید امین اس قصیدہ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں ،

Rozatush Shohada
Rozatush Shohada

”حضرت صائم چشتی مد ظلہ العالی کا تہ دل سے ممنو ن و مشکور ہوں کہ جنہوں نے نہایت فصاحت وبلاغت کے ساتھ عارفانہ وعاشقانہ ترجمہ سپرد قلم فرمایا اور میرے ارادہ ونیت میں میرا ہاتھ بٹایا اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ عاشقانہ ترجمہ ،بے نظیر ولاجواب ہے ،
ہر لفظ خوب تر ہے ہر اک شعر خوب تر طرزِ بیاں شگفتہ وشفتہ وپراثر آپ کے ترجمہ میں جو سوز وگداز ہے اس کا اندازہ قارئین خود لگائیں اور مزید خوبی یہ ہے کہ آپ کا اردو ترجمہ ،عربی کے وزن وبحر کے عین مطابق اور وہی طرز ادا ہے ”۔

حضرت علامہ صائم چشتی نے شیخ الاکبر محی الدین ابوبکر محمد بن علی الطائی کی تصوف پر معرکة الآرا ء کتاب ”فتوحات مکیہ ”کا اردو ترجمہ کیا جو چھ جلدوں میں چھپ چکا ہے ۔ آپ کا یہی ترجمہ انڈیا میں اعتقاد پبلشنگ کمپنی نے شائع کیا ۔دیباچہ لکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی کہتے ہیں ،

”فتوحات مکیہ ان امتیازی اوصاف کی بنا پر ہر دور میں علماء وصوفیاء کی توجہ کا مرکز رہی ہے ۔۔درسگاہوں اور روحانی تربیت گاہوں میں اس کی باقاعدہ تدریس ہوتی رہی ہے ۔برصغیر کے قارئین بھی اس کی لطافتوں سے آشنا ہیں لیکن وہ طبقہ جو عربی زبان سے کما حقہ واقف نہ تھا احسا س محرومی کا شکار رہا ۔چاہت کے باوجود اور محبت کے بے پناہ جذبات کے باوصف زبان کی غیریت سد ِراہ رہی ۔
ضرورت تھی کہ اس عظیم علمی اور روحانی سرمائے کو اردودان اصحاب کے لئے پیش کیا جائے ،بحمد اللہ یہ سعادت ہمارے دوست اور کرم فرما جناب علامہ صائم چشتی کو حاصل ہوئی ۔فتوحات مکیہ کا ترجمہ ایک بہت بڑی جرات ہے ۔اس کے لئے ایک ایسے انسان کی ضرورت تھی جو علم وادب کی وادیوں کا راہی اور تصوف ودین کے نشیب وفراز سے آگاہ ہو ۔

Kulliyat e Saem Chishti
Kulliyat e Saem Chishti

علامہ صائم چشتی پنجابی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں ۔اردو نظم ونثر میںان کا قلم بے تکان کئی مشکل مراحل سے گزرا ہے ۔چشتی نسبت سے اور ذاتی میلان کی وجہ سے ان میں تصوف رموز واوقاف سمجھنے کی صلاحیت ہے ۔انہوں نے نظم ونثر میں متعدد کتابیں تالیف کی ہیں جن میں فنی مسائل سے لے کر علمی وادبی نگارشات سب شامل ہیں ۔فقہ،تاریخ ، سیر میں ان کے قلم سے کئی الجھے ہوئے مسائل پر ضغیم کتب تحریر ہوئی ہیں ،عمر بھر کے تجربے اور گداز کے بعد انہوں ے یہ بیڑا اٹھایا ہے کہ شیخ اکبر کی نمائندہ کتاب ”الفتوحات مکیہ ”کو اردو قالب میں ڈھال دیا جائے ۔علامہ صائم چشتی کا ترجمہ رواں ہے ۔الفاظ کے انتخاب میں نہایت احتیاط سے کام لیا گیا ہے”۔

کتاب مستطاب ”البتول ”پہ تبصرہ کرتے الحاج اختر سدید ی رقمطراز ہیں ، ”البتول ”سیرت فاطمہ الزہرا کے موضوع پر ایک جامع اور بسیط کتاب ہے جو محقق تاریخ اسلامیہ الحاج صائم چشتی کی محققانہ کاوشوں کا ایک تاریخی وتحقیقی شاہکار ہے ۔ اس سے قبل اس موضوع پر متعدد کتب لکھی جاچکی ہیں لیکن ان میں اور اس قلمی شاہکار میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ان کتابوں کے مطالعہ سے طبیعت سیر نہیں ہوتی لیکن ”البتول ‘ ‘ کے مطالعہ سے قاری مطمئن ہو جاتا ہے ،اس لئے کہ اس تصنیف میں سیرت فاطمہ الزہرا کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔فاضل مصنف نے اس کتاب کی تکمیل کے لئے دنیائے قلم وقرطاس کا کونہ کونہ چھان مارا ہے ۔کوئی روایت ،کوئی حدیث اور کوئی قرآنی آیت ایسی نہیں چھوڑی جس میں سیرت کا کوئی پہلو موجود ہو اور صاحب تصنیف نے اسے اپنے شاہکار ”البتول ”کی زینت نہ بنایاہو ۔اس موضوع سے متعلق تمام احادیث وروایات اور آیات قرآنی اس میں تفسیر وتشریح کے ساتھ محفوظ ہیں ۔

الحاج صائم چشتی نے اس تصنیف کو ہر لحاط سے جامع ونافع بنایا ہے ۔اس کتاب کا ہر باب اسلام کی تاریخ کا اک نیا باب ہے ۔آپ نے سیرة النسا ء کو اس انداز سے مرتب کیا ہے جس سے آقائے نامدار ،حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات ،حسنین کریمین ”حسن وحسین ”کے حالات وواقعات مخدومہء کربلا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سوانح حیات اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تاریخ حیات مرتب ہوتی چلی گئی ہے ۔اس حسن ترتیب کے پیش نظر ”البتول ”ایک عظیم تاریخی دستاویز ہے جس سے عام قارئین سے لے کر علمی، ادبی، تاریخی ،مذہبی اور تدریسی اداروں تک یکساں استفادہ کر سکتے ہیں۔

Saem Chishti
Saem Chishti

”البتول ”کی اسلامی اور تحقیقی اہمیت کے قطع نظر اگر اسے اصلاح خواتین کے پہلو سے دیکھا جائے تو ”البتول ”ایک راہنما کی حیثیت رکھتی ہے ۔بنت رسول ،سیدة النساء فاطمہ الزہرا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ طلوع حیات سے غروب آفتاب تک مستورات کے لئے مشعل تابندہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ سیدہ نے بچپن کس طرح گزارا ۔اپنے عظیم والد کی خدمت عظیم کا فریضہ کس طرح ادا کیا یعنی ایک بیٹی کی حیثیت سے اپنے فرائض کس طرح انجام دیئے پھر ایک ماں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں کس طرح پوری کیں اور ایک بیوی کی حیثیت سے کس طرح خدمات انجام دیں ،”البتول ”میں سیدہ کی زندگی کے ان پہلوئوں پر بھی مکمل روشنی ڈالی گئی
ہے۔

بہر نوع ”البتول”سیدہ کی حیات اقدس پر مشتمل تاریخ وسیر کی ایک مکمل تحقیقی دستاویز ہے جس کا ایک ایک حرف راہبر وراہنما کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس کا مطالعہ ہر مسلمان کے لئے بلا لحاظ عقیدہ ومسلک ضروری ہے ۔ اسی لاجواب کتاب پہ تبصرہ کرتے محترم حفیظ تائب نے ریڈیو پاکستان لاہورکی نشریات میں ٦ جولائی١٩٧٩ء کو کہا ، زیر تبصرہ کتاب ”البتول ”کا موضوع سیرت سیدةالنساء حضرت فاطمة الزہرا ہے ۔اس کتاب کے مصنف الحاج صائم چشتی ہیں جو نعت گو شاعر کی حیثیت سے زیادہ معروف ہیں ۔ ان کی اردو ، پنجابی کی نعت ومنقبت کے کئی مجموعے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں اور ان کی کئی نعتوں کو قبولیت عام کی سند حاصل ہو چکی ہے ۔

ان کی نعت ومنقبت کے مجموعوں کے نام ہیں ،نور دا ظہور ،نوائے صائم چار حصے ،ہے کعبہ وی جھکدا محمد ۖدے در تے ،روح کائنات ،جان کائنات ،نور ای نور، نور دے خزینے ،صائم دے دوہڑے ، صائم دیاں رباعیاں ،کعبے دا کعبہ ،جلوے،نظارے ،میخانہ،نور دا چشمہ،مناقب قادری ،مناقب چشتیہ ،کربلائی دوہڑے ،زینب دا وِیر،خاتون جنت ، شاہنامہ بغداد ،تاجدار علی پور ،تاجدار چورہ شریف وغیرہم ۔

Al Batool by Saem Chishti
Al Batool by Saem Chishti

صائم چشتی جامعہ رضویہ کے فاضل ہیں اور انہیں سیرت اہلبیت سے خصوصی شغف ہے ۔اب تک نثر میں ان کی شہید ابن شہید دو حصے ،مشکل کشا ،ایمان ابو طالب ، گیارہویں شریف اور البتول شائع ہوچکی ہیں۔

بارہ سال قبل انہوں نے بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مقدسہ پر ایک کتاب ”خاتون جنت ”لکھی تھی جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔پنجابی سننے والے تو بہت ہیں مگر ان کے پڑھنے والوں کی تعداد بہت محدود ہے۔چنانچہ صائم چشتی صاحب نے وسیع تر ابلاغ کے نقطہء نظر سے کتاب ”خاتون جنت ”کو اردو نثر میں ڈھالنا شروع کیا ۔

ابو نصر کی کتاب فاطمہ بنت محمد ،عربی کتاب الزہرا اور علامہ راشد الخیری کی اردو تصنیف ”الزہرا ”سے بھی استفادہ کیا اور تفسیر وحدیث اور تاریخ وسیرت کی متعدد کتابوں سے بھی سیدة النساء العٰلمین کی حیات مقدسہ کے متعلق جس قدر مواد بھی فراہم ہوااسے اس کتاب ”البتول ”میں نہایت خوبصورتی سے سمو دیا ۔اس کتاب کا محرک صائم چشتی کا یہ جذبہ تھا کہ سیدہ پاک کی زندگی بہو بیٹیوں ،بیویوں اور مائوں کے لئے کامل ترین نمونہ ہے اور شاید اس کے مطالعہ سے قوم کی بہو بیٹیاں اپنی اصلاح پر مائل ہو جائیں اور ایک اسلامی معاشرہ وجود میں آجائے ۔

Khatoon e Jannat by Saem chishti
Khatoon e Jannat by Saem chishti

کتاب کے دیباچے ”نشان منزل ”میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میرا یہ کتاب لکھنے کا ایک خاص مقصد یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن ردائے زہرا کا سایہ تلاش کرنے والی بیبیاں سیدہ زہرا کے حضور سرخرو ہوکر حاضر ہوں ۔ اس کتاب میں سیدہ پاک کی ولادت باسعادت ،بچپن ،جوانی،نکاح،ازدواجی زندگی اور وفات حسرت آیات کے تمام کوائف کتب سیرت کے حوالوں سے قلمبند کئے گئے ہیں۔
مختلف مکاتب فکر میں موجود کچھ غلط فہمیوں کے ازالے کی بھی اپنی سعی کی گئی ہے ۔تحقیقی مواد کو مصنف کے شاعرانہ اور خطیبانہ ذوق نے بوجھل نہیں ہونے دیا ۔قرآنی آیات ،احادیث اور اشعار کے استعمال نے عبارت کی دلکشی میں بہت اضافہ کیا ہے ۔کتاب کا انداز سادہ مگر دلنشیں ہے۔

تین سو بیس صفحات کی یہ خوبصورت اور پکی جلد والی کتاب چشتی کتب خانہ ،جھنگ بازار ،فیصل آباد نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت صرف اٹھارہ روپے رکھی ہے جو آج کے حالات میں بہت ہی کم معلوم ہوتی ہے ۔قیمت کم رکھنے کا باعث مصنف اور ناشر کا یہ جذبہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب زیادہ سے زیادہ بہو ،بیٹیوں اور امتیوں تک پہنچ جائے ۔اللہ رب العزت ان کے اس جذبے کو قبول فرمائے ۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس کتاب کو امت مسلمہ کے لئے مشعل ہدایت بنائے اور جناب صائم چشتی کے لئے توشہء آخرت بنے ، آمین ۔

تفسیر خازن کی تقریظ میں ڈاکٹر احسن زیدی لکھتے ہیں،
”بعض شخصیات خالق کائنات کی خصوصی رحمتوں کا مرکز ہوتی ہیں ۔وہ پھلجھڑی کی طرح روشنی کے پھول برسا کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں ۔علامہ صائم چشتی ایسی ہی محترم شخصیت ہیں ۔ قدرت نے ان کی ذات میں کئی خوبیاں جمع کر دی ہیں ۔وہ اردو اور پنجابی میں قادر الکلام شاعر ہیں ۔فارسی اور عربی زبانوں میں انہیں ماہرانہ دسترس حاصل ہے ۔تفسیر اور تاریخ ان کا پسندیدہ جولان گاہ ہے ۔

علامہ صائم چشتی کے علمی ذوق اور دینی شغف نے ہماری مشکلات کا جائزہ لے کر کچھ اہم کتب کو اردو میں ڈھالنے کا قصد کیا ہے ۔انہوں نے اس مقصد کے لئے جن کتب کا انتخاب کیا ہے وہ اپنی عالمگیر شہرت کے سبب دینی حلقوں میں مقبول عام کا درجہ رکھتی ہیں ۔ان میں فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر ،شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تفسیر ابن عربی اور فتوحات مکیہ اور امام علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی خازن کی تفسیر خازن ،خاص طور پر اہل علم کی توجہ کا محور رہی ہیں ۔

Manqabat by Saem Chishti
Manqabat by Saem Chishti

علامہ صائم چشتی عربی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور دینی علوم کے ساتھ ان کے گہرے شغف نے ان کے لئے ترجمے کی منزل آسان کر دی ہے۔انہوں نے ترجمے کے لئے سادہ اورعام فہم زبان استعمال کی ،ان کی اس سعی جمیلہ کی بدولت اردو جاننے والے قارئین کے لئے ان موتیوں تک رسائی ممکن ہو گئی جو عربی زبان کے غلاف میں مخفی تھے اور جن سے کسب فیض کرنااُن کے لئے محال کار تھا ۔

آپ پہ تحریر کردہ کتب
حضرت صائم چشتی پر ہونے والی تحقیق وریسرچ کے حوالے سے دو کتب اردو زبان میں ” علامہ صائم زندہ ہے ”از علامہ سید محمد یونس شاہ کاظمی اور دوسری’ ‘ میرے محسن ”از محمد مقصود مدنی اور انگریزی زبان میں محترمہ ریحانہ کوثر عینی نے تحریرکی ہے ۔فیصل آباد کے علماء کے تذکرہ پہ مشتمل کتاب ”روشن ستارے ”میںآپ کی شخصیت کے حوالے سے تحقیقی مضمون شامل ہے ۔

تحقیقی مقالہ جات
پنجاب یونیورسٹی نے آپ پر دو تحقیقی مقالہ جات ”علامہ صائم چشتی بحیثیت نعت گو شاعر ”برائے ایم اے اردوازنواز ش رباب اور دوسرا ”علامہ صائم چشتی ،فکر تے فن ” برائے ایم اے پنجابی از آمنہ احمد منظور کئے ہیں ۔

ان کتب اور مقالہ جات کے علاوہ آپ کی شخصیت اور علمی وتحقیقی کارناموں پر ملک کے مقتدر اخبارات وجرائد،روزنامہ جنگ،نوائے وقت ،پاکستان،امن اور فیصل آباد کے مقامی اخبارات روزنامہ عوام ،غریب،پیغام،ڈیلی رپورٹ،سعادت اور شیلٹر وغیرہ میں مضامین شائع ہو چکے ہیں ۔علاوہ ازیں ماہنامہ ،شام وسحر ،لکھاری ،گہراب، سوک، سانجھان اور دیگر رسائل میں آپ کی شخصیت اور فن کے حوالہ سے مضامین چھپ چکے ہیں ۔

مر جائوں تو کفن پہ بھی لکھنا علی علی
یہ عظیم مفکر اسلام ،مفسر قرآن ،محدث ،محقق ،ماہر لسانیات، استاد شاعراور زندہ ادیب ٢٢جنوری٢٠٠٠ء ،١٤شوال المکرم وصال فرما گئے ۔حضرت صائم چشتی نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ جب ان کا انتقال ہوجائے تو ان کے جسد کوغسل وکفن دے کر خاک ِکربلا معلی سے ان کے کفن پہ مولائے کائنات،اسد اللہ الغالب ،سیدنا امیر المومنین علی ابن ابی طالب کا مقد س اسم گرامی تحریر کر کے اس وقت تک نہ اٹھایا جائے جب تک کہ فضا، خوشبوئے ولایت سے معطر نہ ہو جائے ۔

Saem Chishti
Saem Chishti

آپ کی وصیت پر ایسا ہی کیا گیا اور آپ کے کفن پر ِکوئے سید الشہداء کی خاک سے شاہ ِولایت کا اسم اعظم نقش کر دیا گیا ۔کچھ ہی دیر میںانتہائی مقدس ومطہر قسم کی خوشبو نے پورے ماحول کو اپنی مہک سے معطر کر دیا اور نورانی ومتبرک ہستیوں کی توجہات والتفات محسوس کئے جانے لگے ۔صلوٰة وسلام کے ورد میں آپ کا جنازہ اٹھا۔آپ کے استاد مولانا غلام رسول صاحب نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔انہیںان کی قائم کردہ جامع مسجد سیدناحیدر کرار ،غلام محمد آباد،فیصل آبادکے صحن میں سپرد لحد کیا گیا ۔

کلام صائم
حضرت صائم کے عالمی شہر ت یافتہ ،معرکة الآراء کلام میں سے منتخب کلام اہل ذوق کی نظر ہے ۔

مخدومہ ء کائنات
طیبہ ،طاہرہ،عابدہ،زاہدہ،بنت خیر الوریٰ ،سیدہ فاطمہ
سیدہ ،صالحہ ،راکعہ ،ساجدہ ،نور ِشمس ُالضحیٰ ،سیدہ فاطمہ
راضیہ ،مرضیہ ،صائمہ،عاصمہ،نیرّہ،انورہ،ناظمہ،ناصرہ،
زاکیہ،ازکیہ،اکرمہ،اعظمہ،عکس ِظلّ ِخدا،سیدہ فاطمہ
کاملہ ا،کملہ ،صادقہ،اصدقہ،عالمہ،فاضلہ،راحمہ،راشدہ
شاہدہ،شافعہ،قاسمہ،آمنہ،عذرا،خیر النساء ،سیدہ فاطمہ
ہادیہ ،مہدیہ ،جیّدہ،ناصحہ،مکیّہ،مدنیہ،قرشیہ ،سرورہ
مشفقہ،محسنہ،ذاکرہ،زاہرا،حافظہ،حامدہ،سیدہ فاطمہ
قائمہ،دائمہ ،ماحیہ،ماجدہ،خازنہ،حاکمہ،صابرہ،شاکرہ
حاذقہ،قائدہ،احسنہ،افضلہ،وارثہ،پارسا،سیدہ فاطمہ
واعظہ ،واصفہ،شافیہ،کافیہ،رہبرہ،فائقہ،واقفہ،عارفہ
عالیہ،اشرفہ،قاطعہ،ساطعہ،عاقلہ،اطہرہ،سیدہ فاطمہ
امجدہ، اجملہ، مخلصہ، تارکہ، ثابتہ، ثاقبہ، خاشعہ ، خالدہ
اُن کے القاب صائمہوں کیسے بیاں ،خرد سے ماوریٰ ،سیدہ فاطمہ

عطا سراپا جناب زہرا
کرم کا مخزن ،سخا کا مرکز ، عطا سراپا ، جناب ِزہرا
نبی کی صورت ،نبی کی سیرت ،نبی کا نقشہ ،جناب زہرا
رسول اعظمۖ کی پیاری دختر ،شہید اعظم کی پاک مادر
جناب شیر خدا کی بانو ،جناں کی ملکہ ،جناب زہرا
سراپا رحمت ،سراپا راحت ،سراپا عفت ،سراپا عصمت
رسول اکرم ۖکے دل کی ٹھنڈک ،بتول وعذرا جناب زہرا
ہے غیر ممکن کہ اُن کے در سے کوئی سوالی بھی آئے خالی
قسیم جنت ، قسیم کوثر ، قسیم دنیا ، جناب زہرا
تمام حوریں کنیزیں ان کی ،غلام ان کے سبھی ملائک
مگر چلاتی ہیں خود ہی چکی ،بغیر شکوہ جناب زہرا
فدا ہے صائم غلام ان پر ، درود ان پر ، سلام ان پر
ہیں میرا دونوں جہاں میں واللہ ،فقط سہارا جناب زہرا
بنتِ محمدمصطفٰی ۖ
فاطمہ ، بنت ِ محمد مصطفٰی ۖ فاطمہ ،روح ِرسول ِدوسرا ۖ
فاطمہ ،شان ِرسول ہاشمی فاطمہ ،جان ِرسول ِہاشمی
ملکہء ملک ِسخاوت ،فاطمہ منبع نور ہدایت ،فاطمہ
مطلع چرخ ِکرامت ،فاطمہ مرجع ِانوار درجت ،فاطمہ
حلّہء تطہیر حق بر دوش او آمدند حسنین ،در آغوش او
فاطمہ ،سر جلوہء تقدیس است رشک ِمریم،غیرتِ بلقیس است
فاطمہ ،نور ِنگاہ ِمصطفٰی ۖ خانہء او جلوہ گاہ ِمصطفٰی ۖ
فاطمہ ،ام شہیدانِ وفا فاطمہ ،ناز ِجنابِ مرتضٰی
من نہ دانم، عز وشان ِفاطمہ کعبہء من، آستان ِفاطمہ
من فقیر و بے نوا و پرخطا اُوکریمہ ،اُو رحیمہ ،راحمہ
من سراپا جرم وعصیاں ،اُو بتول من غریبم ،اُو قسیمہء رسول ۖ
ذرّہء ناچیز من، اُو آفتاب من کجا ،اُو کجا عالی جناب
ملکہء فردوس اُو ،من رُوسیہ اُو کرم ،من سرتاپا جرم وگنہ
بہر لطف ِمصطفٰی ،بہر خدا رحم کن یا سیّدہ، بر حالِ ما
لطف ِتو بالاتر از وہم وخیال رحم کن بر صائمِ آشفتہ حال

شان زہرا کی
بڑھے گی تا ابد شان ِعلیٰ ، ہر آن زہرا کی
کہ ہے مدحت سرائی کر رہا قرآن، زہرا کی
کھڑے ہو کر تھے استقبال کرتے مصطفٰی ۖان کا
خدا ہی جانتا ہے کس قدر ہے شان ، زہرا کی
نبیۖ کے گھر کی ہر نعمت ، وہی تقسیم کرتی ہیں
ہے گویا سب خدائی ،ہر گھڑی مہمان، زہرا کی
نگاہوں کو جھکا لو اہل ِمحشر ! یہ ندا ہو گی
سواری خلد میں جائے گی جب ذیشان ، زہرا کی
بپاس ِپردہ ،ملک الموت کے انکار کرنے پر
خدا نے قبض فرمائی تھی خود ہی جان، زہرا کی

جبھی تو کٹ کے بھی کربل میں سر اونچا رہا ان کا
کہ تھی شبیر میں غیرت علی کی آن ، زہرا کی
بیاں کیا شان ہو بنت ِنبیۖ کی تجھ سے اے صائم
تھے چکی پیستے حور وملک رضوان ، زہرا کی

Dr Syed Ali Abbas Shah
Dr Syed Ali Abbas Shah

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس شاہ،دبئی

Share this:
Tags:
doctor dubai life pakistan Qur'an پاکستان دبئی ڈاکٹر سید علی عباس شاہ قرآن
DMC Korangi Karachi
Previous Post ایڈمنسٹریٹر کی ہدایت پر بلدیہ کورنگی کا تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری
Next Post لاکھوں عیلان کردی فریاد کناں ہیں
Little Alan

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close