Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دوحہ بین الافغان کانفرنس

July 14, 2019 0 1 min read
Afghan Doha International Conference
Afghan Doha International Conference
Afghan Doha International Conference

تحریر : قادر خان یوسف زئی

امریکا اور افغان طالبان کے ساتویں دور کے دوران اہم ترین پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب غیر سرکاری سطح پر ذاتی حیثیت میں کابل انتظامیہ کے اہم اراکین سمیت بااثر افغان خواتین سے افغان طالبان کے سیاسی دفتر نے مذاکرات کی حامی بھرلی اور ساتواں دوحہ قطر مذاکراتی دور کو دو دن کے لئے موخر کرکے بین الاافغانی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 53رکنی افغان وفد نے طالبان کے17رکنی وفد سے دو روزہ مذاکرات کئے اور مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے مذاکرات میں بڑی اہم پیش قدمی کا عندیہ دیا ،جرمنی و قطر کی کوششوں سے ہونے والی اس بین الافغانی کانفرنس سے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی یکم ستمبر تک انخلا کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ زلمے خلیل زاد چین کے دورے کے بعد پاکستان میں افغان سیاسی رہنمائوں کے بھوربن فارمیٹ اور دوحہ میں جرمنی فارمیٹ کے تحت ہونے والی پیش رفت کے بعد افغان طالبان کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد چار نکاتی معاملات پر حتمی منظوری حاصل کریں گے اور ڈیڈ لائن مکمل ہونے تک تمام فریقین کے لئے قابل قبول معاہدہ طے پا نے کی امید کی جاسکتی ہے۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دوحہ بین الافغانی امن کانفرنس کی قرارداد میں کہا گیا کہ” دوحہ میں شہر میں 07 اور 08جولائی کو امن کی خاطر بین الافغانی کانفرنس کے شرکاء افغانستان میں صلح کے لیے جرمنی اور مملکت قطر کی کوششوں کی اہمیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بین الافغانی اجلاس کی میزبانی اور سہولت فراہم کرنے کی وجہ سے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔اسی طرح کانفرنس کے شرکاء اقوام متحدہ،خطے کے ممالک اور خاص کر امریکا سے مذاکرات اور بین الافغانی اجلاس کے لیے سہولیات فراہم کرنے والے ممالک کے مشکور ہیں،جنہوں نے افغان تنازع کے حل کی خاطر امکانات مہیا کیے اور ہمیں امید ہے کہ سب فریق مستقبل میں ایسی تعاون کو اس طرح انجام دینگے،جو ہمارے ملک اور ملت کی بھلائی کے لیے ایک حقیقی صلح تک پہنچنے کا سبب بن جائے۔یہ کہ طویل بحران کے بعد افغانستان میں پائیدارامن کے آمد کے لیے حالات سازگار ہوچکے ہیں، تو اسی ہدف تک پہنچنے کے لیے ہم دوحہ بین الافغانی کانفرنس کے شرکاء درج ذیل امور پر متفق ہوئے۔کانفرنس کے شرکاء کی نظر سے گفتگو اور افہام وتفہیم کے ذریعے کانفرنس کے شرکاء ملک کے آج اور کل کے متعلق مشترکہ درک تک پہنچ سکے اس راہ میں موجود رکاوٹوں کو دور کریں۔اسی وجہ سے ہم بالاتفاق گفتگو جاری کرنے کی ضرورت پر اصرار کرتے ہیں”۔

جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کئی نکات کا ذکر کیا گیا ہے تاہم ان نکات پر اتفاق رائے میں یقینی طور پر اس امر کو خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے کہ افغان طالبان کے وفد نے جہاں53رکنی سے دو روز تک سیر حاصل مذاکرات کئے تو ان میں کابل انتظامیہ کے تین اراکین کے علاوہ سرکاری حکام سیاسی و سماجی طبقے سے وابستہ اہم مرد حضرات کے علاوہ با اثر خواتین بھی شامل تھیں۔ ان خواتین میںڈاکٹرحبیبہ سرابی( ڈپٹی چیئرپرسن افغان ہائی پیس کونسل و ایڈوائزر افغان صدر و چیف ایگزیکٹووسابق گورنر بامیان) جمیلہ افغان (خواتین کے حقوق کے لئے معروف سماجی کارکن) ، فوزیہ کوفی (سابق رکن افغان پارلیمنٹ و انسانی حقوق کی چیئرپرسن جوواحد خاتون تھی جو ماسکو کانفرنس میں بھی شریک ہوئیں تھی) ، ڈاکٹر انار کلی کور ھنریار (سابق رکن آزاد انسانی حقوق کمیشن و ممبر پارلیمنٹ و سکھ کیمونٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون)، ، لیلی جعفری (خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم افغان و افغان ہائی پیس کونسل کی رکن)،زینب موحد،ر افغان ویمن نیٹ ورک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میری اکرامی قابل ذکر ہیں جو افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے خواتین کے حقوق کی بابت اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔دوحہ بین الافغانی کانفرنس میں شریک خاتون مندوب اور افغان ویمن نیٹ ورک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر میری اکرامی نے کہا کہ ‘یہ صرف معاہدہ نہیں ہے، یہ بات چیت شروع کرنے کی بنیاد ہے۔’میری اکرامی نے کہا کہ ‘اچھی بات یہ ہے کہ اس پر دونوں فریق رضامند ہیں۔’ ڈاکٹر حبیبہ سرابی نے مشترکہ اعلامیہ کا دری زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے مستقبل کے لئے ضروری مسائل پر متفق ہیں۔کانفرنس امن کے ایجنڈے میں کامیابی ملی ۔قطر سے افغانستان واپسی پر تمام خواتین کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور کامیاب مذاکرات پر مبارکباد دی گئی۔

جب سے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ابھی تک کابل انتظامیہ کوساتواں دور میں شامل نہیں کیا گیا ، جس کے بعد کابل انتظامیہ سے وابستہ کئی گروہ بلخصوص خواتین، اقلیتوں کے حقوق و اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے افغان طالبان سے مذاکرات کی ضرورت کو ابھارا جاتا رہا ہے ۔ ماضی میں افغان طالبان کے دور میں عالمی میڈیا میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بڑی شدت کے ساتھ افغان طالبان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ واضح رہے کہ افغانستان میں جب افغان طالبان کا اقتدار رہا تو خواتین کے حوالے سے پشتون روایات میں ثقافتی عنصر بھی پایا جاتا تھا جسے لبرل و سیکولر طبقہ جبر و ظلم سے تعبیر کرتا رہا ہے۔ خاص طور پر طالبات کے اسکولوں میں تعلیم کے حوالے سے بھی افغان طالبان پر سخت تنقید کی گئی کہ افغان طالبان بچیوں کے اسکولوں میں تعلیم کے شدید مخالف ہیں ۔خواتین کے حقوق کے حوالے سے افغان طالبان کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دین اسلام میں خواتین کو جتنی آزادی اور حقوق حاصل ہیں ، وہ ان کا احترام کرتے ہیں اور طالبات کی تعلیم کے کبھی مخالف نہیں رہے۔ بلکہ اسکولوں پر حملوں کی شدید مخالفت بھی کرتے رہے ہیں لیکن افغان طالبان کے اس موقف کو نہیں مانا جاتا بلکہ جدت پسندی ، سیکولر ازم اور لبرل سوچ کو خواتین کے حقوق کا ضامن سمجھا جاتا رہا ہے۔ کئی یسے واقعات ثابت ہوچکے ہیں کہ افغان طالبان مخالف گروپس نے اسکولوں کو نشانہ بنایا، درسی کتابوں میں خرد برد کی ، اسکولوں کو جلایا ، پانی کے ذخیرے میں زہر ملایا ۔ اسکولوں کو چیک پوسٹوں میں تبدیل کیا ۔ جبکہ افغان طالبان نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ افغان طالبا ن بچیوں کی تعلیم حاصل کرنے کے مخالف ہیں۔

خیال یہی کیا جارہا تھا کہ افغان طالبان ماضی میں ہونے والے کچھ سخت واقعات میں خواتین کو مذہبی سزائوں کے حوالے سے سخت گیر موقف کی وجہ سے مذاکرات میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کیونکہ افغان طالبان سعودی عرب ، ایران کی طرح شرعی سزائوں کی حد قائم کرتے تھے۔ بلکہ اب بھی کئی اسلامی ممالک میں خاص طور سعودی عرب میں شرعی سزائیں دی جاتی ہیں ، یہاں تک کہ ایران میں بھی سخت گیر سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان حالات میں اگر افغانستان جو اسلامی روایات و پختون ثقافت کا گہوارہ رہا ہے ۔ ان پر اسلامی شعائر کی قدغن ناقابل تفہیم ہے۔ جب ماسکو و قطر میں افغان امن تنازع کے حوالے سے افغان طالبان پر خواتین صحافیوں کو انٹرویو دینے پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے لگا تو افغان طالبان نے واضح کیا کہ افغانستان میں امن کے حوالے سے عالمی برداری کو اپنا موقف دینا ناگزیر ہے اس لئے انہیں افغان طالبان کا موقف دیا جاتا ہے ۔ اس میں جنسی تفریق کا کوئی تعلق نہیں ۔ بین الاافغانی مذاکرات کے حوالے سے پہلی کوشش کابل انتظامیہ کی طویل فہرست کی وجہ سے موخر ہوئی تھی ، کیونکہ تاثر دیا جارہا تھا کہ افغان طالبان اور کابل انتظامیہ کے درمیان سرکاری سطح پر دوحہ مذاکرات شروع ہونے والے ہیں ، تاہم افغان طالبان نے طویل فہرست اور کابل انتظامیہ کی جانب سے دیئے جانے والے تاثر کو رد کردیا ۔

مشترکہ اعلامیہ میں بھی افغان طالبان کا واضح موقف سامنے تھا کہ ” اسلامی اصولوں کے مطابق تعلیم، کام، سیاسی، معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کے شعبے میں حقوق نسواں کا اطمینان اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔”جرمنی فارمیٹ کے تحت بالاآخر افغان طالبان نے کابل انتظامیہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے ذاتی حیثیت میں مذاکرات پر حامی بھرلی اور واضح بھی کردیا کہ افغان وفد کی حیثیت غیر سرکاری ہوگی۔تاہم یہ مذاکرات بھی انتہائی اہم ثابت ہوئے اور افغان طالبان نے گفت و شنید کے ذریعے افغان عوام و عالمی برداری میں پھیلائے جانے والی کئی غلط فہمیوں کو دور کیا۔ جس میں خواتین کی شمولیت اور انہیں مطئمن کرنا سب سے اہم و قابل ذکر پیش رفت ثابت ہوئی اور افغان وفد میں شامل با اثر خواتین نے اعتراف کیا کہ افغان طالبان ” بدل” چکے ہیں۔

شرکا نے افغانستان میں کسی بیرونی عناصر کی مداخلت و خواہش کے پیش نظر حکومت بنانے کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور عزم کا اعادہ کیا کہ افغان طالبان پورے افغانستا ن پر کسی بھی مملکت کی خواہش کے مطابق اقتدار کے تاثر کو غلط قرار دیا ۔ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی ماسکو کانفرس میں میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک بیانیہ دے چکے ہیں کہ ‘ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا’۔تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔مشترکہ اعلامیہ میں بھی لکھا گیا کہ” ملک میں پائیدار و باعزت امن کے ساتھ افغانستان تمام طبقات کا مشترکہ گھر ہے۔افغان عوام جس نے گذشتہ تاریخ اور خاص کر چالیس برسوں کے دوران اپنے دین، ملک، ثقافت اور خودمختاری کے لیے بیدریع قربانیاں دی ہیں۔ تمام عالمی، علاقائی اور ملکی فریق ہماری ملت کے عظیم اقدار کے احترام کو قائل ہوجائے۔اس لیے کہ آئندہ افغانستان ایک بار پھر جنگوں اور بحران کا شاہد نہ رہے۔ بین الافغانی افہام وتفہیم اور ملک کے مختلف طبقات کے درمیان آگاہی ایک مبرم ضرور ت ہے۔ عالمی، علاقائی اور تمام ملکی فریق کو اس سلسلے کی حمایت کی دعوت دیتی ہے اور اس کی تقویت سب کی بھلائی سمجھتی ہے”۔

دوحہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور مسودے کو امریکی صدر کی منظوری دیں گے۔ جس کے لئے صدر ٹرمپ کے معاون خصوصی زلمے خلیل زاد چین کے دورے کے بعد امریکا جائیں گے۔ قوی امید کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر بھی دوحہ مذاکرات میں طے پائے جانے والے نکات کی حتمی منظوری دے دیں گے۔ جس کے بعد یکم ستمبر سے قبل افغان سیاسی سطح پر مزید پیش رفت کے بعد انتقال اقتدار کے فارمولے پر حتمی فیصلے پر اپوزیشن رہنمائوں اور کابل انتظامیہ سے معاہدہ کو آخری شکل دی جاسکی گی ۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان سات دور ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک ان کا ایک بھی مشترکہ بیان جاری نہیں ہوا ہے تاہم امریکا واپسی کے بعد ضمانت کا مرحلہ مکمل کرانے کے بعد امریکی افواج کے انخلا کا اعلان و نئے سیکورٹی معاہدہ منظر عام پر لائے جانے کی توقع ہے جس کے بعد ممکنہ طور پر امریکی کانگریس کا رویہ عالمی توجہ کا مرکز بنے گا ۔

دوحہ بین الافغانی مذاکرات میں فریقین کے درمیان ذیل نکات پر اتفا ق رائے پایا گیا ہے۔ الف۔ افغانستان میں اسلامی نظام پر اتفاق۔(ب)پائیدار امن کے آغاز کی شرائط کو عملی کرنے۔(ج) امن معاہدے پر عملدرآمد اور اس کی نگرانی۔(د) بنیادی تاسیسات، دفاعی اور دیگر ملی تنصیبات جو تمام افغانوں کی ملکیت ہے،صلح کے اتفاق کے بعد ان کی ضروری اصلاح، حفاظت اور تقویت کرنا۔(ھ) افغان مہاجرین اور جنگ کی وجہ سے ملک میں گھربارچھوڑنے والے خاندانوں کو اپنے اپنے علاقوں کی طرف دوبارہ روانگی۔(و) امدادی ممالک سے امن کے معاہدے کے بعد امداد نئی تعاون اور تعلقات کی شرائط پر۔(ز) افغانستان کے حوالے سے عالمی کانفرنس میں عالمی ضمانتوں کیساتھ افغان صلح کے اتفاق پر تائید۔(ح) عالمی کانفرنس میں خطے، ہمسائیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے افغانستان میں عدم مداخلت کے وعدے اور اتفاق پر اصرار کرتا ہے۔(ہشتم) ہم امن کے حوالے سے تمام کوششوں اور ان میں سے05 اور 06 فروری کو ماسکو میں منعقد ہونیوالی کانفرنس کی قراداد کی تائید کرتے ہیں اوریک زبان ہوکر اسلامی کانفرنس، اقوام متحدہ، سیکورٹی کونسل، یورپی یونین اور تمام ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں، کہ امن کے حوالے سے دوحہ بین الافغانی کانفرنس کے فیصلے کو تائید اور اس کی حمایت کریں۔

کانفرنس میں ڈاکٹر عمر زاخیلوال ، احمد ناصر ، پرویز شامل، عبدالحق عمرائی،محمد ذکی دریابی، ایمامدین کمال،امین الدین مظفری،اوکتائی شران،حیدر دوست،صادق اللہ توحیدی، عبدالرحیم بادشاہ ،عنایت اللہ ،فرہاد اللہ فرہاد، سد حمدگیلانی،حیات اللہ جعفری، شہزدہ نادر نعیم،خالد نور، عبداللہ قلورق،شاہ گل رضائی،مرتضیٰ شریت،ساجد محمدی، محمد حکیم ، مرتضیٰ سریت،ارفعان شکیب،محمد عامر ستانگزئی،ڈاکٹر رانگین ۔ محی الدین مہدی ، تہمور شاران،محمد ارشاد مانوی،محمد صالح سلجوقی،سیف اللہ نورستانی،گیرت بہار،عبدالقدوس عبداللہ،ارشاد احمدی،جمال الدین بابر،عطا الرحمن سلیم ،عزیز الدین محمد،قربان علی، عبدالقہار حلیمی،محمد ہادی ، منصوری نادری،لطف اللہ نجف زادہ،عبدالسلام ضعیف،عبالہادی رافع،لیلیٰ جعفری،فوزیہ کافی،حبیبہ سرابی،جمیلیہ افغانی،میری اکرمی،انار کلی ہنریار، زنیب موحدافغان مندوبین شامل تھے۔

دوحہ بین الافغانی کانفرنس کے حوالے سے ایک تاثر آرہا ہے کہ افغان طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کو ” پر تشدد” کاروائیوں کو ختم کرنے کو تسلیم کیا ہے تاہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے افغان طالبان نے کہا کہ پرتشدد کاروائیوں کا تاثر دیئے جانا غلط ہے ۔ وہ عام شہریوں کے خلاف نہیں بلکہ افغانستان پر قابض اُن قوتوں کے خلاف مسلح مزاحمت کررہے ہیں جنہوں نے بزور طاقت افغانستان پر قبضے کی کوشش کی۔ انہوں نے یوناما رپورٹ کا بھی حوالہ دیا کہ70فیصد عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ذمے داری افغان سیکورٹی فورسز و غیر ملکی افواج کی جانب سے فضائی حملے وبے گناہ افغان عوام کو نشانہ بنانا رہا ہے ۔ مشترکہ اعلامیہ میں افغان وفد نے اس امر کو تسلیم کیا کہ ”جنگ میں ملوث فریق دھمکیوں، انتقامی خطرات اور جنگی ادبیات کے بجائے اپنے سرکاری بیانات میں نرم لہجہ استعمال کریں ”۔ افغان وفد نے دوحہ مذاکرات کی باقاعدہ توثیق کرکے ایک اہم رکائوٹ کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ فریقین نے دوحہ مذاکرات کو افغانستا ن میں جنگ کے خاتمے کے لئے موثر و مثبت قدم قرار دیا ۔افغان طالبان ماضی میں دیئے گئے کئی بیانات میں عوامی مفاد عامہ کے منصوبوں اور عام شہری مقامات سمیت مسجد مدارس ، اسکولوں اور بازاروں پر بے گناہ شہریوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دے چکا ہے اور افغان طالبان مزاحمت کاروں کو اس حوالے سے احکامات بھی دیئے گئے کہ وہ مفاد عامہ کے منصوبوں اور عام شہریوں کی حفاظت بھی کیا کریں ۔ افغان وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ” افغان طالبان ملک کے تمام علاقوں میں عام المنفع تنصیبات و تاسیسات مثلا دینی اور مذہبی مراکز، صحت کے مراکز، بازار، پانی کے ذخائر اور کام کی جگہوں کی سیکورٹی کی ضمانت دیتی ہے۔خاص کر تعلیمی تاسیسات مثلا اسکول، مدارس، یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کا احترام کیا جائے گا ۔” فریقین کے درمیان افغان طالبان کا دیرینہ مطالبہ بھی مشترکہ اعلامیہ میں شامل کرکے اصولی موقف کو امریکا اور کابل انتظامیہ پر باور کرایا کہ حکومت کی جیلوں میں زیر حراست و اسیر عمررسیدہ، معذور اور بیماریوں قیدیوں کا غیرمشروط پر رہائی دی جائے۔

دوحہ بین الاقوامی کانفرنس کے حوالے سے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ تمام تر تحفظات کے باوجود امن کے لئے مسدود رائیں کھل رہی ہیں ۔ اگر اس مرحلے پر افغانستان میں امن کے حل میں رکائوٹیں آئی تو جنگ میں شدت بڑھ جائے گی ۔ افغان طالبان اور امریکا تنازع کے حل کے ساتھ ساتھ افغانستان میں مستقبل کی حکومت کا سیاسی ڈھانچہ کس شکل میں نکلتا ہے اس کے خدوخال دھیرے دھیرے واضح ہوتے جا رہے ہیں ۔ افغان طالبان کی مزاحمت اور امریکا کا افغانستان سے انخلا ایک صبر الزما و طویل ترین جنگ کے بعد امن کا اہم مرحلہ ہے۔روس ، جرمنی، چین اور قطر نے جس طرح پاکستان کے ساتھ مل کر دیرینہ مسئلے کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لئے کوششیں کیں ہیں اس کے مثبت نتائج سے خطے میں شامل تمام ممالک کو یکساں فایدہ ہوگا ۔افغان طالبان نے افغان وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قطر میں طے پائے جانے والے معاہدے کے مطابق قیدیوں کی رہائی سمیت دیگر نکات پر عمل درآمد کے لئے اب اپنا کردار ادا کریں ۔ خطے میں امن کے لئے اہم بنیادی معاملات حتمی شکل اختیار کرچکے ہیں ۔ لہذا افغانستان میں جنگ کے سائے ختم کرنے کے لئے غیر ملکی افواج کو فوری انخلا کے لئے ٹائم فریم کا اعلان کردینا چاہیے تاکہ افغانستان میں جنگ بندی ہوسکے اور باقی تصفیہ طلب معاملات افغان عوام خود بیٹھ کر حل کر سکیں۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
Afghan Taliban america Qadir Khan Yousafzai افغان طالبان امریکا انتظامیہ دوحہ کانفرنس
Fawad Chaudhry
Previous Post حکومت کی جانب سے جج ارشد ملک کی حمایت پر فواد چوہدری کو تحفظات
Next Post 2019 کے کرکٹ ورلڈ کپ کا نیا عالمی چیمپئن کون ہو گا
Cricket World Cup

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close