غالب کا دور ہے نہ مومن کا دور ہے
انسان اب کہا ں،یہ تو قصہّ ہی اور ہے
نوٹو ں سے دل کی دھڑکن بحال کیجئے
موبائلوں پہ ،عشق نا ٹک،ارسال کیجئے
سب کھو گئے ہیں مو سم،چاھت کی رت کہاں
ا ٹھا خمیر جس سے ،انسا نیت کا بت کہاں
ان کو بھی اپنی ذات کا عر فا ن ہو گیا
بر سو ں کا تھا جو سا تھی ،مہمان ہو گیا
جاتے ہیں دور کیو ں،گھر میں ہی دیکھ لیں
اپنے پرائے سب کے ،با طن ہی د یکھ لیں
ملتا ہے ہر بشر اپنی ضرورت کے واسطے
سب منز لیں ہیں کھو ٹی، ا لجھے ہیں راستے
اس سادگی پہ اب نہ قر با ن جا ئیے
بے ر حم ہے حقیقت،بس ما ن جا ئیے

شاعرہ: مسز جمشید خا کوانی
