Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

جہیز۔۔۔ اصلاح معاشرہ میں بڑی رکاوٹ

February 14, 2017 0 1 min read
Dowry
Dowry
Dowry

تحریر : ارم فاطمہ
چل چل کے پھٹ چکے ہیں قدم اس کے باوجود اب تک وہیں کھڑا ہوں جہاں سے چلا تھا میں دنیا کی دیگر اقوام اور ان کی تہذیبیں ترقی کی منازل طے کرتیں ہوئیں زندگی کے ثمرات سے فائدہ اٹھا رہی ہین اور ہم اپنے اسلاف کی تابندہ روایات اور کامیابیوں کولے کر آج بھی اس مقام پر کھڑے ہیں کہ جہاں دنیا کے بہترین مذہب اسلام کی سہل اور آسان تعلیمات کو بھلا کرغیروں کی معاشرت اور ثقافت کے رنگوں سے اپنے معاشرے کو تنزلی کی سمت دھکیل رہے ہیں۔ ہم کیسے انسان ہیں؟ برسوں سے ہر سمت سے اٹھتی اصلاح معاشرہ کی آوازوں میں آواز ملا دیتے ہیں مگرایک قدم آگے بڑھ کرخود اپنے عمل سے معاشرے کی دیمک زدہ دیوار کو تھام کر سہارا نہیں دیتے۔ کہتے ہیں بے عمل کوشش اس خالی برتن کی طرح ہوتی ہے جو آواز تو کرتا ہے مگر جب تک اس کو قدم بڑھا کر پانی سے نہ بھرا جائے یہ کسی کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ صالح معاشرہ افراد کے باہمی سلوک اور ایک دوسرے کے لئے رواداری کے جذبات سے وجود میں آتا ہے۔ اس عمل پر قرآن پاک میں پھر کئی مقامات پر مدد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ارشاد ہوتا ہے: ”اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے ہم تمہاری مدد کریں گے ار تمہارے قدموں کو استقامت بخشیں گے“۔ مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے یہ چاہتے ہین کہ معاشرے کی برائیوں کے خاتمے کی ابتداءدوسرے کی ذات اور اس کے گھر سے ہو۔ ہر طرح کی تبدیلی کا آغاز کوئی اور کرے۔ یہ خیال شاید ہی کسی کو آتا ہو کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا فریضہ ہم پر بھی عائد ہوتا ہے۔

اسلام نے نہایت سادہ انداز میں ضابطہ حیات پیش کیا مگر ہم نے اپنے خود ساختہ تصورات اور خواہشات کی حرص میں زندگی کو نہایت مشکل سے مشکل بنا دیا ہے۔اب نکاح کو ہی لے لیجیے۔ نکاح ایک ایسا معاملہ ہے جس کے پاس ایک پیسہ بھی نہ ہوتب بھی وہ نکاح کر سکتا ہے اور سنت پوری کر سکتا ہے مگر آج معاشرے میں اس سے جڑی اور جا بجا پھیلی رسموں کو دیکھ کر لگتا ہے یہ محض ایک سنت کے بجائے نمود و نمائش کا ذریعہ ہے۔ اس سے جڑی ایک لعنت اور سماجی برائی جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہ ہے جہیز کی پھیلتی وبا جس کے قدم اس قدر گہرائی تک گڑھے ہیں کہ اس نے ہر احساس کو مادیت پرستی اور حرص میں چھپا دیا ہے۔ ولیمہ سنت ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ قرآن اور سیرت رسولﷺ، سیرت صحابہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جہیز اور اس کے تمام اخراجات جن کا بوجھ لڑکی کے والدین پر پڑے وہ جائز نہیں اس لئے برصغیر کے سوا کہیں یہ تصور موجود نہیں۔ عرب معاشرے میں لڑکی اور اس کا ولی ہونے والے شوہر اور داماد سے خطیر رقم کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ رواج آج بھی خلیجی ممالک میں موجود ہے۔ ہندوستان میں ہندو معاشرے میں جہیزکا تصور ملتا ہے۔ ان کے نزدیک شادی کے بعد لڑکی کا خاندان سے رشتہ باقی نہیں رہتا اس لئے شادی کے موقعے پر ہی کچھ دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے اسے وراثت میں حصہ نہیں ملتا۔ اسلامی شریعت میں ماں کو اپنی اولاد سے، بیٹی کو اپنے باپ ے ترکہ میں سے اور بیوی کو اپنے شوہر کے ترکہ میں میراث ملتی ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں نے ہندو معاشرے سے متاثر ہو کر جہیز کی غلط رسم کو اختیار کر لیا اور دوسری طرف عورتوں کو وراثت کے حق سے محروم کرنے لگے۔ ان غیر اسلامی رسوم اور خرافات کا نتیجہ ہے کہ آج کے دور کے مسلمان دور جاہلیت کے عربوں کی طرح لڑکی کی پیدائش پراس فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اس کی جہیز کی تیاری میں کیسی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

ہم عام طور پر دیکھتے ہیں مذہب میں اختلاف ہونے پربات بحث و تکرار اور بعض اوقات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے یہ لوگوں کی دین سے محبت کا ثبوت ہے مگر جہاں بات ان احکامات کی آتی ہے جس کا تعلق ضمیر سے ہے جیسے رشوت، اسراف،جھوٹ،بد دیانتی،خیانت ہے وہاں لوگ ایسے جواز پیدا کر لیتے ہیں کہ یہ مذہب کے علمبردار منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ جہیز کا لین دین اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ہم سبھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ معاشرے کی بدترین برائی ہے لیکن پھر بھی یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہم اپناتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ اس کے شکنجے میں جکڑے زندگی کو مشکل سے مشکل بناتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے خلاف آواز نہیں بلند کرتے۔جواز دیتے ہیں !
1۔ قرآن و حدیث میں جہیز لینے سے کہاں منع کیا گیا ہے ؟
2۔ لوگ اپنی بیٹی کو خوشی سے دیتے ہیں اور اس صورت میں لینے میں کیا برائی ہے ؟
3۔جہیز دراصل تحفہ ہے۔تحفہ لینا سنت ہے۔
4۔شادی کے دن کھانا کھلانا مہمان نوازی ہے اور یہ جائز ہے۔
5۔ اس رسم کو مٹانا ناممکن ہے۔ اور جب سبھی ایسا کر رہے یں۔ جہیز لے رہے ہیں اور ہم بھی لے رہے ہیں جہیز تو کون سا برا کام کر رہے ہیں۔ یہ محض ان کی کم علمی اور جہالت ہے کہ قرآن مین اس بارے میں احکامات نیں ملتے۔ وہ قرآن جو زندگی کے ہر مرحلے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے وہاں عائلی زندگی اور اس کے احکانات نہ ملتے ہوں بات غورو فکر کی ہے اور سب سے بڑھ کررسالت ماآب? کی زندگی کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ سورہ النساءکی آیت 92 کا ترجمہ ہے :”اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاو ¿۔ لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے“۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ لڑکی کے باپ کی مشکل یہ کہہ کر آسان کر دی جائے کہ آئیں چلیں سادگی سے نکاح کر لیتے ہیں۔ اس سے بڑی مدد اور کیا ہو سکتی ہے لیکن وہ یہ جانتے ہیں چاہے مجبوری سے یا معاشرے میں عزت بنانے کی خاطر جو کچھ وہ اپنی بیٹی کو دیں گے وہ بالاخر ان کی امانت ہے کیونکہ وہ بیٹے کے باپ ہیں۔

Society
Society

معاشرے کے ہر فرد کی سوچ اس قدر مادیت پرست ہو چکی ہے کہ ہر خاندان ، لڑکی اور اس کے گھر والوں کی دینی عادات اور اخلاق و عادات کو نظر انداز کر کے اپنے بیٹا کا رشتہ وہیں جوڑنا چاہتے ہیں جہاں جہیز کے نام پربڑی رقم مل سکے۔ اس سودے بازی میں بدنام صرف لڑکے والے ہی نہیں ہین یہ سودا لڑکی والے بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ بیرون ملک جاب کا لالچ، گرین کارڈ ہولڈر لڑکی ، خود کا اپنا بزنس سیٹ کروانے کا لالچ، یا پھر اپنے بزنس میں شراکت داری یہ تمام آفرز معاشرے کو لالچ کی سمت دھکیل رہے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ نادار گھرانوں کی سلیقہ شعار لڑکیوں کی بڑی تعداد بن بیاہی اپنی عمر کی منزلیں ماں باپ کی چوکھٹ پر ہی گذار دیتیں ہین کیونکہ ان کے والدین جہیز نہیں دے سکتے۔ بعض لڑکیاں اپنے باپ کی عمر کے مردوں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں یا پھر ذہنی دباو ¿ کا شکار ہو کر بے راہروی کا شکار ہو جاتیں ہیں۔کبھی غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ فرار ہو جاتیں ہیں اور ان کے استحصال کا شکارہوتیں ہیں۔ کوئی ان کی ذہنی کیفیت اور کرب کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو کبھی الفاظ کی شکل میں طنز اور نشتر کی صورت ان کے دل پر لگائے جاتے ہیں تو کبھی ہر سمت سے اٹھتے سوال اور چبھتی نظریں انہین اپنے آپ کو مجرم سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہیں اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ موت کے دامن میں پناہ ڈھونڈ لیتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک جہیز کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر باپ اپنی بیٹی کو اپنی خوشی سے کچھ نہ کچھ دینے کا حق رکھتا ہے۔اسے ہدیہ یا تحفہ سمجھ کر ہنسی خوشی قبول کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو کہا تھا ہمیں لڑکی کے سوا کچھ نہیں چاہیے جو آپ دیں گے اپنی بیٹی کو دیں گے۔ یہ بھی ایک طرح کا دھوکہ اور فریب ہے۔جو معاشرے میں عام ہے۔ اس پر عمل کرنے والے ڈھونڈتے ہی ایسے گھرانوں کو ہیں جہاں آس ہوتی ہے بہت کچھ ملے گا۔

یہ سوچنے کی بات ہے ہدیہ اور تحفہ عین شادی والے دن ہی کیوں مانگا جاتا ہے۔کبھی فہرستیں بنا کر دی جاتیں ہیں کبھی اس شرط پر رشتے بنائے جاتے ہیں کہ ابھی شادی ہو جائے تب بعد میں سارے مطالبات پورے کر دیے جائیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ مان باپ اپنی خوشی اور استظاعت کے مطابقدے دیتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی مقصد ہوتا ہے کہ کہیں سسرال میں ان کی بیٹی کوطعنے سننے کو نہ ملیں مگر یہ بھی ان کی سادہ لوحی ہے۔جہیز کی آس پوری ہونے تک ان کی لاڈلی بیٹی کو کیا کیا سن کربرداشت کرنا پڑتا ہے۔یہ صرف ان کا دل ہی جانتا ہے تبدیلی کا عمل خود سے شروع کریں۔ اس تبدیلی کا راستہ یہ ہے کہ بارش کے پہلے قطرے کی مانند آپ اپنے گھر کی شادی اسلامی شریعت کے مطابق کریں۔ یہ مثال آپ کے خاندان والوں اور دوست احباب کو سوچنے پرمجبور کر دے گی کہ اگر آپ معاشرے کے رواجوں سے ہٹ کرراہ بنانے کی ہمت کر سکتے ہیں تو پھرمعاشرے کا ہر فرد جہیز کے خلاف اپنی زبان سے اور عمل سے جہاد کا آغاز کرے اور ایسی تمام شادیوں کا بائیکاٹ کریں جہاں یہ غیر اسلامی رسوم اورحرام کام کیے جاتے ہیں انقلاب کا راستہ خود بخود کھل جائے گا۔ جہیز کو مٹانے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ لوگ اتنے بزدل ہیں ایک طرف تو اقرار کرتے ہیں کہ جہیز لینا اور دینا غلط ہے لیکن عمل کے وقت ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی ایک بات معاشرے کے زوال اور انحطاط کا سبب ہے کہ ابتداءکون کرے ؟ اس سلسلے میں مولانا حسین احمد مدنی کا ایک واقعہ نظر سے گذرا۔ ”ایک بار مولانا ٹرین سے سفر کر رہے تھے ساتھ نشست پر ایک سوٹ میں ملبوس صاحب تشریف فرما تھے۔کچھ بات چیت ہوئی ان صاحب کو مولانا کچھ دقیانوس سے لگے اس لئے زیادہ بات نہ ہو سکی۔ان صاحب کو بیت الخلاءکی حاجت ہوئی مگر دروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پر رومال رکھ لیا اور واپس سیٹ پر آ کر بیٹھ گئے۔ کئی مرتبہ ارادہ کیا مگر ہمت نہ ہوئی۔

اب مولانا حسین احمد اٹھے اور لوٹا لے کربلا جھجک اندر داخل ہو گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ ان سوٹ والے صاحب نے مولانا کی بے حسی پر منہ بنایا۔ دس پندرہ منٹ بعد مولانا باہر آئے اور ان سے کہا واقعی آپ کا جانا بہت مشکل تھا۔ اندر بے حد غلاظت تھی مگرآپ کی ضرورت دیکھ کر میں رہ نہ سکا میں نے اچھی طرح صفائی کر دی ہے اب آپ اطمینان سے جا سکتے ہیں“۔ بات یہی ہے ہر شخص معاشرے میں پھیلی غلط روایات کو دیکھ کر منہ بناتا ہے ان کے غلاظت سے ناک پہ رومال رکھتے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کراپنی خدمات پیش نہیں کرتا کہ میں غلاظت کو ختم کرنے کے لئے پہلا قدم اٹھاتا ہوں۔ اتنا بڑا کام اور اس کی تکمیل ایک آدمی کے بس کی بات نہیں۔ یہ احساس کہ معاشرے کو تبدیلی کی ضرورت یے مگر لوگ یہ نہیں جانتے کہ تبدیلی کس طرح لائی جائے اور اس کے لئے کیا کرنا چاہیے۔بہت سے افراد اداروں سے توقع لگائے بیٹھے ہیں یا پھر کسی غیبی امداد کے منتطر ہیں۔ قرآن کریم احادیث اور سیرت رسول پاکﷺ کی سند کے بعد کیا کوئی دلیل شادی بیاہ کی فضول رسموں اور جہیز کے حق میں باقی رہ جاتی ہے۔ اول تو اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا چاہیے اور پھر معاشرے میں اصلاح کا کام شروع کریں تو حالات میں بہتری ضرور آئے گی۔ جب آپ کسی کی بیٹی کے لئے زندگی میں آسانی کی راہ کھولیں گے وہیں کوئی اور آپ جیسا آپ کی بیٹی یا بہن کے لئے پہلا قدم اٹھائے گا اور تبھی پھر شاید وہ وقت بھی آئے کہ باپ کی نگاہیں بیٹی پر پڑیں تو تفکرات اور پریشانی کے بجائے اس کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ ہو تب زندگی کتنی آسان ہو جائے گی اور معاشرہ بہتری کی راہ پرگامزن ہوگا۔

Iram Fatima
Iram Fatima

تحریر : ارم فاطمہ

Share this:
Tags:
life optimization Qur'an Society World اصلاحِ جہیز دنیا رکاوٹ زندگی قرآن معاشرہ
Netanyahu
Previous Post نیتن یاہو بدھ کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے
Next Post طنز و مزاح یا تنقید، شرعی نقطہ نظر سے
Father Scolding to Child

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close