لیہ (ایم آر ملک )ڈی پی او لیہ غازی صلاح الدین نے گزشتہ روز ڈی پی او آفس لیہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں بتایا کہ مورخہ04-06-2014اورنجی چینلز پر نشر ہونے والی خبر جس میں علاقہ تھانہ چوبارہ میں پولیس ملازمین کا ایک شخص پر تشددکرتے ہوئے ظاہر کیاگیا۔اس خبر کا فوری ایکشن لیتے ہوئے وہ تھانہ چوبارہ پہنچے ۔DSPشمس الدین خان بھی ہمراہ تھے تھانہ پہنچنے پر افسرمہتمم تھانہ اور تھانہ پر تعینات اہلکاران سے مُبینہ وقوعہ کے متعلق معلومات حاصل کیں جس کے مطابق اس طرح کا وقوعہ علاقہ تھانہ چوبارہ میں ہونانہ پایاگیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق متاثرہ شخص یٰسین کھوسہ کا بھی کسی قسم کا معاملہ انکوائری ، درخواست پنڈنگ نہ پائی گئی تاہم وقوعہ کی بابت تھانہ چوبارہ میں رپورٹ درج کرلی گئی ۔نجی چینلز پر نشرہونے والی ویڈیوحاصل کرکے دیکھی گئی جس میں دکھائے گئے متاثرہ شخص اور پولیس اہلکاران کی شناخت نہیں ہورہی تھی تاہم ویڈیوکی کاپی فرانزک سائنس لیبارٹری بھجوائی گئی اورتمام ذرائع سے اس بات کی تشہیر کی گئی کہ ایساکوئی شخص متاثرہے تو میڈیایاپولیس کے پاس آکر بیان ریکارڈ کرائے ڈی ایس پی شمس الدین کی سربراہی میں حقائق کے تعین کیلئے انکوائری کمیٹی ترتیب دی جاچکی تھی جس پر سرعت سے عمل کرتے ہوئے ڈی ایس پی نے شواہد اکٹھے کرکے معاملہ کی تحقیقات شروع کردی تھی جس پر کافی حد تک پیش رفت ہوچکی تھی تاہم متاثرہ شخص عبدالقادر کے میڈیاکے سامنے آنے پر ڈی پی او نے فوری کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے متاثرہ شخص کو اپنے دفترطلب کرلیا اورمتاثرہ شخص سے وقوعہ کی بابت تفصیلی دریافت کی ڈی پی او کی ہدایت پر متاثرہ شخص کی تحریری درخواست پر محمدنوازجپہ اے ایس آئی سمیت چارکانسٹیبلان پر مقدمہ نمبر142تھانہ چوبارہ میں درج کرلیاگیا ہے۔
وقوعہ میں ملوث اہلکاران کو معطل کر دیا گیا نیز انھوں نے کہا کہ ڈی ایس پی شمس الدین کی زیرنگرانی مقدمہ کی تفتیش انصاف کے تقاضوں کو پوراکرتے ہوئے میرٹ اور حقائق پر کی جائے گی اُنہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی شمس الدین کی زیرنگرانی مقدمہ کی تفتیش عمل میں لائی جارہی ہے اور وقوعہ میں ملوث 4پولیس کانسٹیبلان متذکرہ بالا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وقوعے کا مرکزی کردار محمدنواز جپہASIجوکہ بحوالہ رپٹ نمبر08مورخہ01-06-2014کو 4یوم رخصت اتفاقیہ پر روانہ ہوا اوروقت مقررہ پر واپس حاضر نہ آیا جس کی غیرحاضری کی بابت رپٹ نمبر10مورخہ05-06-2014درج روزنامچہ کی گئی۔

