Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ڈرامہ اور پاکستانی ووٹرز

May 6, 2018 0 1 min read
Voters
Voters
Voters

تحریر : شیخ خالد زاہد

ہماری ناقص سمجھ کیمطابق کسی خاس مقصد کو اداکاری یا صداکاری کے ذرئیعہ لوگوں تک پہنچانے یا سمجھانے کو ڈرامہ کہتے ہیں، عام فہم میں اکثر سنا گیا ہے کہ یہ کیا ڈرامے بازی لگا رکھی ہے۔ بہت ساری معاشرتی اصلاحات کی طرح ڈرامہ بھی یونانیوں نے ہی شروع کیا ہے۔ کچھ عمومی تبدیلیوں سے ڈرامہ ہی ناٹک یا تھیٹر بن جاتا ہے، یہ تینوں ہی براہراست ہوا کرتے تھے مگر اب سب کچھ کیمرے کی آنکھ محفوظ کرتی ہے اور پھر ناظرین کی نظر کیا جاتا ہے جس کی وجہ بہتر سے بہتر پیش کرنا ہے۔ یونانی اپنے خداؤں کے پیغامات کو عوام کے ذہن و دل میں منتقل کرنے کیلئے ڈرامے کا سہارہ لیا کرتے تھے اور یہی ڈرامے کی ابتدائی شکل تھی۔ ڈرامہ دراصل مختلف ذہنوں کے تخیلات کا مجموعہ ہوتا ہے ، کوئی بھی ڈرامہ کسی ایک فرد کی کوشش اور محنت سے اس انجام تک نہیں پہنچ سکتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ تمام کام ایک فرد کے ذہن میں نمو پائیں اور وہ انہیں تنہا ہی پیش کرنے کھڑا ہوجائے لیکن پھر بھی اکیلا وہ ڈرامہ کر کے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرواسکتا۔ کسی بھی قسم کی میڈیا کی عدم دستیابی کے باعث معاشرے کو درپیش ظاہری اور پوشیدہ مسائل کا چرچا براہ راست کیا جاتا تھا اورباقاعدہ ڈرامے میں مباحثہ بھی ہوتا تھا ، یقیناًاس سے بہتر اس وقت میں کوئی اور طریقہ نہیں ہوسکتا تھا ۔ ڈرامہ دراصل معاشرے کو ان عوامل سے اجتماعی سطح پر آگاہی فراہم کرتاہے جو یاتو معاشرے میں سرائیت کر چکے ہوتے ہیں یا پھر کرنے والے ہوتے ہیں۔ معاشرے تہذیب و تمدن کے لحاظ سے پرورش پاتے ہیں اور ترقی اور تنزلی معاشرے پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی رہی ہے۔

تفریح کے محدود ذرائع کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ ڈرامہ عوامی سطح پر خوب پھلتا اور پھولتا چلا گیا۔ لکھنے والے اپنی سوچ اور سمجھ دوسروں میں منتقل کرنے لگے ، اداکاری کا شوق رکھنے والے اپنا شوق پورا کرتے چلے گئے ، اسطرح سے اور بہت سارے لوگ کسی ڈرامے کاایک حصہ ہونے کے باعث اپنی اپنی روحانی تشفی کرتے چلے گئے، تاریخ کے اوراق میں جھانکتے ہیں تو جسطرح کی تصاویر دیکھائی دیتی ہیں انہیں محسوس کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کتنے منظم طریقے سے بیٹھتے تھے اور ان اداکاروں کا کتنا احترام کرتے تھے جو ڈرامہ انکے روبرو پیش کر رہے ہوتے تھے اور ان اداکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کیا کرتے تھے۔ لوگوں تک بہت بہترین طریقے سے پیغام پہنچادیا جاتا تھا اور لوگ اس پیغام کو لے کر اپنی اپنی راہ لیتے تھے۔ ان ڈراموں کی افادیت اور شہرت کو مد نظر رکھا جاتا تھا اور ان ڈراموں کو پیش کرنے کیلئے باقاعدہ خوبصورت تھیٹر بنائے گئے ، اشاروں سے ابتداء پانے والے یہ ڈرامے ، اپنی ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہوئے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں۔ وقت بدلتا چلا گیا معاشرے تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے ترقی کو پر لگ گئے اور پذیرائی کے عمل کہ بغیر ہی ڈرامے چلتے چلے جا رہے ہیں لیکن اس بات سے قطعی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ یہ معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں کو بھرپور طریقوں سے اشکارا کر رہے ہیں جن پر عام طور پر بات کرنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

ڈرامہ تحریر ہونے کے بعد کرداروں کا محتاج ہوتا ہے ، کرداروں کے مل جانے پر ڈرامہ کرداروں پر سوار کرنا پڑتا ہے لادا نہیں جاسکتا ورنہ دیکھنے والے کسی اثر اور تاثر لئے بغیر ہی لوٹ جائینگے ۔ معاشروں نے اپنے اپنے مزاج کی عکاسی اور ترویج کیلئے اسٹیج، تھیٹر، ڈراموں اور پھر فلموں کو بطور موئثر ہتھیار استعمال کیا اور کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسطرح سے دنیا کی مختلف تہذیبوں نے ایک دوسرے کو سمجھا ۔انگریزی زبان کے مشہور ڈرامہ نویس شیکسپئر کے نام سے انگریزی زبان جاننے والوں کے علاوہ دیگر زبانیں جاننے والے بھی شیکسپئر کے ڈراموں کے دلدادہ ہیں۔ یقیناًہر زبان میں ہی آغا حشر اور شیکسپئر رہے ہونگے اور آج بھی ہونگے۔

پاکستان کے وجود میں آنے کہ بعد ہماری خوبصورت اور سحر انگیز چیزوں کی فہرست میں ڈرامے تقریباً سرفہرست تھے جسکے دلدادہ ہمارے پڑوسی ملک والے ابھی تک ہیں اور آج بھی اس کی تعریف کرتے نہیں چوکتے۔ یہ ڈرامے کہانی نویس سے لیکر کرداروں تک ہر ایک کی بہترین کاوشوں اور محنت کا نتیجہ ہوا کرتے تھے۔ڈرامے لکھنے والے کیا خوب لکھا کرتے تھے ، ان لکھے ہوئے کرداروں کو فنکار جیسے اوڑھا نہیں بلکہ ڈرامے کی تکمیل تک کیلئے اپنی روح کی جگہ اس لکھے گئے کردار کو اپنے جسم میں اتارلیتے تھے، آج بھی ان ڈراموں کو دیکھوتو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ ہمارے اپنے گھر میں ہی یہ سب ہورہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے ڈراموں کے بغیر ہمارے معاشرے آگے نہیں بڑھ سکتے اور نا ہی ہمارے معاشرے اپنی ترتیب طے کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں آج بھی کسی حد تک اقدار کی پاسداری کرتے ڈرامے نشر کئے جا رہے ہیں جہاں ادب ، لحاظ اور شرم ابھی باقی ہے ، لیکن کیا کیجئے کہ نسل نو مغرب سے اتنی مانوس ہوتی چلی جا رہی ہے کہ انکی بے حیائی اور بے نوائی کو اپنے سر پر سوار کر لیا ہے ، اب ان معاملات کا تذکرہ بھی ڈراموں کے ذریعہ کر کے نسلوں کے درمیان ہمیشہ رہنے والے فاصلے کو پاٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ کسی حد تک تو ناقابل برداشت ہے ۔ ڈراموں کی نوعیت دیکھ کر میڈیا ہاؤسسز کو چاہئے کہ وہ ڈرامہ پیش کرنے سے پیشتر عمر کا تعین کر لیں، تاکہ والدین اور گھر کے دیگر بڑوں کو اس بات کا اندازہ ہوجائے گے انکو کیا کچھ دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ ان عوامل کا سد باب بھی ہمیں ہی کرنا ہے جو ہمارے معاشرے میں بے راہ روی کی ترویج پر گامزن ہے ۔ ادب بھی اب کمرشلائز ہوتا جا رہا ہے ، لکھنے والے اپنے خاندان کی افزائش اور نمود و نمائش کی خاطر اپنے احساسات و جذبات میں ترمیم کرلیتے ہیں۔ اگر آج منٹو اور عصمت چغتائی زندہ ہوتے تو انہیں قطعی اس بات کا طعنہ سننے کو نہیں ملتا کہ لحاف اور کالی شلوار جیسی تحریریں کیوں لکھی ہیں۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں ہم کہیں وہ چیزیں معاشرے کے حوالے نا کردیں جس کا یہ معاشرہ محتمل نہیں ہوسکتایا ہم اپنے گھر میں ان چیزوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔

آجکل پاکستانی میڈیا ہاؤسز ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامے پیش کر رہے ہیں جو مکمل طور پر معاشرے کی عکاسی کررہے ہیں اور معاشرے کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ قابل ذکر میڈیا ہاؤسز میں اے آر وائی نیٹورک، ہم نیٹورک، جیونیٹورک، ٹی وی ون اور دیگر نمایاں کردار ادا کرر ہے ہیں۔ اس بات کا تذکرہ کئے بغیر اس مضمون کو مکمل نہیں کیا جاسکتا کہ آج ڈرامے کا صحیح حق ہم نیٹورک والے ادا کررہے ہیں۔ انکے پاس کہانی لکھنے والے اور انکی لکھی ہوئی کہانی کو اسی طرح سے سمجھ کر عوام تک پہنچانے والے بہترین لوگوں کی ٹیم ہے جن کا ہر ایک ڈرامہ کہانی سے لیکر لوکیشن تک کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے اور جسے کہتے ہیں کہ کہانی کی روح کو بھانپ لینے کی صلاحیتوں سے بھرپور ہیں ، یہاں بے نام کرداروں کو نام مل رہے ہیں اور لوگ آگے بڑھ رہے ہیں، ہم نیٹورک نے ہم لفظ کی بلکل صحیح ترجمانی کی ہے ۔ ہم بطور ادب سے تعلق رکھنے والے ہم نیٹورک کے شکر گزار ہیں کہ وہ اس بات خاطر میں رکھے بغیر کہ انکی پیشکش انکے لئے کیا لیکر آئے گی وہ پیش کرتے چلے جا رہے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک ڈرامہ ہم نیٹورک پر دستیاب ہوتا ہی چلا جا رہا ہے۔ یوں تو ہمارے پڑوسی بھی ڈرامہ سازی کے ماہر ہیں مگر انکے ڈرامے تو کسی اور دنیا کے ڈرامے لگتے ہیں، گوکہ ہمارے معاشرے کی اکثریت انہیں کے ڈراموں سے فیضیاب ہوکر اپنے گھروں کو برباد کرنے کے ہنر سیکھ رہے ہیں۔

قارئین کو یہ سوچ آنی چاہئے کہ عنوان کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے جنہوں نے مطابقت پیدا کرلی وہ آگے نا پڑھیں لیکن وہ ضرور پڑھیں جو موضوع اور مضمون میں باہمی ربط پیدا نہیں کرسکے ہیں۔ ہم پاکستانی ڈراموں کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اپنی عملی زندگیوں میں ان ڈراموں کو محسوس بھی کرتے ہیں اور ان کی مدد سے جو کچھ سیکھتے ہیں ان پر عمل درآمد کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اسٹیج سجنے کا دور شروع ہونے والا ہے یعنی انتخابات ہونے والے ہیں اب ہر روز کئی کئی اسٹیج لگینگے اور ہمارے سیاسی اداکار (بقول شیکسپئر کے دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اداکار ہیں) اپنے اپنے فن کے جوہر دیکھائینگے اور ایسے ایسے سہانے خواب دیکھائینگے ایسے ایسے وعدے لینگے اور کرینگے کہ کیا کہا جائے۔ عوام ان اسٹیجوں پر کھڑے لوگوں کو سنے گی تالیاں بجائے گی اور اپنے گھر جا کر بغیر کسی سے کچھ کہے سو جائے گی۔ اس قوم پر براہ راست ہونے والے ڈرامے اپنا تاثر نہیں چھوڑتے یہ خاموشی سے بندکمروں میں بیٹھ کر دیکھے جانے والوں ڈراموں کو کہیں زیادہ سمجھتے ہیں اور ان سے سیکھتے بھی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان پر ہر قسط کے خاتمے کہ بعد بھرپور تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ دیکھئے اب کی دفعہ ہمارا ووٹر کس ڈرامے کی تربیت کا اثر لیتا ہے اور کسے بہترین ایوارڈ دلوانے میں اپنا حقیقی اور سچا حق ادا کرتا ہے۔ یاد رہے یہ ڈرامے ہی ہمارے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
drama messages Pakistani Sh. Khalid Zahid Society Voters پاکستانی پیغامات ڈرامہ معاشرے ووٹرز
Imran Khan
Previous Post الجواب ابو الا اجتماعات
Next Post میرے خلاف فیصلے کو اسمبلی میں لے جا کر بدلنا ہو گا، نواز شریف
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close